Skip to playerSkip to main content
  • 11 years ago
چار ماہ کی دلہن کو سسرالیوں نے پھندا دیکر ہلاک کردیا ، والدین کا اہل علاقہ کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ ، وزیراعلیٰ سے نوٹس لے کر انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے تفصیل کے مطابق چک نمبر22شمالی کی تعزین کوثر کی شادی چند ماہ قبل چک نمبر350گ ب تھانہ رجھانہ میں سگی خالہ رضیہ کے بیٹے عظیم سے ہوئی ۔ تعزین کوثر اپنی چاربہنوں اور اکلوتے بھائی سے بڑی تھی اس لئے والدین اس سے مسلسل رابطہ میں تھے گزشتہ رات اس نے اپنے والد لیاقت علی کو فون کرکے کہا کہ وہ اسے آکر میکے لے آئے مگر صبح ہونے پر اس کے سسرالیوں نے فون کرکے اطلاع دی کہ اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے جب تعزین کوثر کے گھر والے اس کے سسرال پہنچے تو دیکھا کہ اس کی گردن پر پھندے کا نشان نمایاں ہے پولیس کو اطلا ع دی گئی جس نے لاش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کروایا ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں بھی پھندے سے مارنے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔ مقتولہ کو غسل دینے والی صفیہ بی بی نے میڈیا کوبتایا کہ مقتولہ کے جسم پر چھڑیوں کے نشان بہت تھے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مقتولہ کو پھندا دینے سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ مقتولہ کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کی اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ نوٹس لیکر ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ مقتولہ کو چک نمبر22شمالی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔

Category

🗞
News
Comments

Recommended