00:00حضرت رابیہ بسرے کی ولادت کے بعد
00:02گھر میں غربت کا یہ عالم تھا
00:03کہ ذرا سا تیل بھی نہیں تھا
00:05چراغ جلانے کے لئے
00:07کپڑے کا معمولی سا ٹکڑا بھی نہیں تھا
00:09کہ اللہ کی ولیہ کو لپیٹنے کے لئے
00:13رابیہ بسرے
00:14آپ کی والدہ نے شوہر سے التجا کی
00:18کہ ہمسائے سے تھوڑا سا تیل مانگ کے لائیں
00:21وہ گئے مگر ہمسائے کا دروازہ
00:23بند پا کر خالی لوٹ آئے
00:25اسی غم کی حالت میں نید آ گئی
00:28خام میں میرے حضور کی زیارت ہوئی
00:32آپ فرما رہے تھے
00:34لڑکی کے پیدائش سے غمگین نہ ہو
00:36یہ تیری بیٹی سردار ہے
00:39اور اس کی شفاعت سے میری امت کے
00:41ستر ہزار افراد بخشے جائیں گے
00:44رابیہ بسریہ
00:45اے خوش نصیب
00:47بسرہ کے امیر عیسیٰ
00:51عیسیٰ ذروان کے پاس جا
00:53جو بسرہ کا اس وقت گورنر ہے
00:55اس کے پاس جا
00:56کہے تو ہر رات مجھ پر
00:58سو دفعہ دروت بھیجتا ہے
01:00اور شب جمعہ میں
01:02چار سو بار بھیجتا ہے
01:04نشانی یہ ہے
01:05پیچھلی جو جمعیرات گزری ہے
01:07کیا وجہ ہے
01:08تو نے مجھ پر دروت چار سو نہیں بھیجا
01:11اب اس کے عوض
01:12یہ تیرا کفارہ ہے
01:15تیرے پاس یہ بندہ آ رہا ہے
01:17رابیہ بسریہ کا والد
01:19اس کو چار سو دینار دے دے
01:23رابیہ بسریہ کے والد
01:24بیدار ہوئے تو روتے اٹھے
01:26یہ سارا واقعہ پیغام
01:28ایک کاغذ پر لکھا
01:30صبح ہوئی
01:31رکا لے کر
01:32امیر بسرا
01:33عیسیٰ کے پاس چل دیئے
01:36دربان کی ہاتھ رکا بھیجا
01:38امیر کی خوشی کا
01:39ٹھکانہ نہ رہا
01:41ہاں
01:42عربی میں امیر گورنر
01:44کو کہتے ہیں
01:44ٹھکانہ نہ رہا
01:46حضور نے مجھے یاد فرمائے
01:48میں حضور کی نظر میں ہوں
01:50میں آقا کی توجہ میں ہوں
01:53اور میرا درود پہنچتا ہے
01:56اور حکم دیا
01:57کہ جتنے بھی دنیا کے لوڑ ہیں
02:00دس ہزار دینار
02:02اسی وقت فقرہ اور درویشوں میں
02:04تقسیم کر دو
02:06اور رکا لانے والے کو
02:08چار سو دینار دو
02:09اور اسے بڑی عزت سے میرے پاس لاؤ
02:12میں اس کی زیارت کروں گا
02:14اس کے قدموں کو بسہ دوں گا
02:16ہمارا درود پہنچتا ہے
02:18حضور کی بارگاہ میں
02:21ہاں پہنچتا ہے
02:22آقا کی بارگاہ میں
02:24ہمارا درود پہنچتا ہے
02:26ایک اور واقعہ سنیں
02:28ایک شخص نے تین ہزار دینار
02:31قرض لیا
02:31کاروبار ٹھوپ گیا
02:33قرضہ لوٹانے کے قابل نہ رہا
02:36قرضہ نہ ملنے پر قرض کھانے
02:39عدالت میں مقدمہ کر دیا
02:40قاضی نے مقروض کو
02:43ایک ماہ میں قرضہ واپس کرنے
02:45کا حکم دیا
02:46اب تین ہزار دینار
02:48اس کی حالت اتنی
02:50کہ وہ تو ایک سال میں بھی
02:52ادا نہ کر سکے
02:53جبکہ جج قاضی نے کہا
02:56کہ اس کو فوراً ایک مہینے میں
02:58صف پریشان
02:59اور اس کو حضور کے یہ الفاظ
03:03روشنی بن کر
03:04دل میں اور دماغ میں
03:06اتر گئے
03:07کہ جس بندے پر
03:08مسئیبت و پریشانی آئے
03:10مجھ پر قصرہ سے
03:12درود و سلام پڑھے
03:15کیونکہ درود و سلام
03:17مسئیبتوں اور پریشانیوں کو
03:19لے کر جاتا ہے
03:20اور رزق بڑھاتا ہے
03:22چنانچہ مسجد کے گوشے میں
03:24بیٹھ کر
03:24آجزی اور انکساری
03:26زاری سے درود پڑھنا
03:28شروع کیا غم کے ساتھ
03:30ستائیس دن گزر گئے
03:32کچھ نہیں ہوا
03:33پر اس کی آس امید نہ ٹوٹی
03:36اس کا یقین نہ ٹوٹا
03:38آس امید نہ ٹوٹی
03:41یقین کی زندگی کے ساتھ
03:43سفر طے کرنا ہے
03:44یہ یاد رکھیے گا
03:46ستائیس دن گزر گئے
03:48کرزہ ادا کرنا ہے
03:50قاضی نے حکم دے دی ہے
03:53اور تین ہزار سونے کے درہم
03:56دونے کے دینار
03:57اس کے پاس ایک دینار ہی نہیں ہے
04:00کہاں سے آئے گا
04:02یقین جانی میں آپ کو ایک بات کہوں
04:04یہ یقین کی دنیا کے ساتھ چلا
04:07تسبیح اور تسبیحانے اور مرشد کے ساتھ
04:10اور روحانی دنیا کے ساتھ
04:12یقین کے ساتھ چلا
04:13اور اس کے یقین کو چھیننے کے لیے
04:16دنیا نے زور لگا دیا
04:17اور اس کے یقین کو کمزور نہ کر سکے
04:21اور اب اس کے ساتھ مددیں کرتا ہے
04:23اور ایسے کرتا ہے جیسے اسی کے ساتھ ہوئے
04:27روحانیت کا سفر یقین سے تہہ ہوتا ہے
04:29آپ سونے
04:30ستائیس دن گزر گئے
04:32کچھ بھی نہ ہوا
04:33اور وہ پریشان
04:35اس نے رات کو خواب میں دیکھا
04:38کہہ رہا
04:38اے بندے پریشان نہ ہو
04:39اللہ کارساز ہے
04:41تیرا کرزہ ادا ہو جائے گا
04:43تم علی بن عیسی وزیر کے پاس جا
04:48اور کہیں مجھے کرزہ ادا کرنے کے لیے
04:50تین ہزار دے
04:51بیدار ہوا
04:52خوش ہوا
04:53مگر اس کے ساتھ یہ خیال آیا
04:56وزیر کے پاس کوئی دلیل نشانی تو ہے نہیں
04:59مجھے کیسے دے گا
05:02بنہیں گیا
05:03رات پھر دیدار ہوا
05:06اور آپ نے فرمایا
05:07علی کے پاس جا
05:09پھر آنکھ کھلی
05:10اور خیال آیا
05:12دلیل تو ہے نہیں
05:13تیسری رات پھر حضور خواب میں تشریف لائے
05:16اور آپ نے فرمایا
05:18علی کے پاس جا
05:20اس وزیر کے پاس
05:21اور اس شخص نے عرض کیا
05:23یا رسول اللہ
05:24صلی اللہ علیہ وسلم
05:26کوئی علامت چاہتا ہوں
05:28کوئی دلیل چاہتا ہوں
05:30آپ نے فرائے وزیر تجھ سے کوئی علامت دریافتر کہہ دینا
05:34اس سچائی کی علامت یہ ہے
05:36کہ تم نماز فجر کے بعد
05:37کسی سے کلام کرنے سے پہلے
05:40پانچ ہزار درود کا توفہ
05:43میری دربار میں بھیجتے ہو
05:45یہ نشانی ہے
05:46اور اس کا تجھے
05:47اور اللہ کے علاوہ کسی کو خبر نہیں
05:53ہاں ہاں
05:54اور سوائے کرامن کاتبین جو فرشتے کندو پہیں
05:58وہ بیدار ہوا نماز فجر قدر کے مسجد سے نکلا وزیر کے پاس پہنچا
06:04وہ اس کو قصہ بیان کیا وہ حرام ہوا اور خوش ہوا
06:08کہ واقعی اس کا کسی کو پتہ نہیں
06:11چنانچہ اس خوشی میں اس نے نو ہزار دینار مکروز کو دیئے
06:16تین ہزار دینار کرجے کے لیے
06:18تین ہزار مکروز کے بال بچوں کے لیے
06:22اور تین ہزار مزید کاروبار کے لیے
06:25ادا کیے
06:26اسے الو ادا کیا
06:27اور کہہ میرے بھائی
06:29میرے دینی اور ایمانی بھائی
06:31خدا رہا یہ محبت کا تعلق نہ چھوڑنا
06:34جب کوئی حاجت آئے
06:35بلا ضرورت
06:37بلا حاجت
06:38کوئی بغیر روک کے
06:39چلے آنا
06:40مکروز سیدھا عدالت میں پہنچا
06:43تین ہزار قاضی کے سامنے رکھا
06:45قاضی نے کہا
06:46تو تو بالکل مفلس
06:48اتنی رقم کہاں سے آئی
06:49اس نے یہ واقعہ سنا
06:51قاضی خاموش سے اٹھے
06:52گھر گئے
06:54تین ہزار لاکر مکروز کے سامنے رکھ دئیے
06:58کہا ساری برکتیں وزیر
07:00نہیں کیوں لوٹ لیں
07:01میں بھی سرکار کا غلام ہوں
07:04تیرا یا کرزہ میں ادا کرتا ہوں
07:06کرز کھا نے جب یہ ماجرہ دیکھا
07:09بولا ساری رحمتیں
07:10تم لوگ لوٹو
07:12میں نے اس کو کرزہ معاف کیا
07:17یاری لگا کے دیکھ تو صحیح
07:20محبت کر کے دیکھ تو صحیح
07:21اور پھر جم جا
07:23سم مستقامو تتنزل
07:25علیہم الملائکہ
07:27آ جم
07:28جل دین آخر