Skip to playerSkip to main content
  • 16 minutes ago
राजधानी दिल्ली के नारायणा इलाके से एक दिल दहला देने वाली वारदात सामने आई है। यहां महज एक मामूली सी कहासुनी के बाद 12वीं कक्षा के 18 साल के छात्र सुमित की चाकू से गोदकर निर्मम हत्या कर दी गई। सुमित के दोस्तों के अनुसार, विवाद की शुरुआत महज गाली-गलौच से हुई थी... विवाद इतना बढ़ गया कि सुमित पर चाकुओं से ताबड़तोड़ हमला कर दिया...

Category

🗞
News
Transcript
00:00Rajaani Dillie کے Nairana علاقے سے ایک دل دہلا دینے والی واردہ سامنے آئی ہے
00:05یہاں محض ایک معاملی سی کہہ سنی کے بعد باروی کخشا کے 18 سال کے چھاتر سمت کی چاکو سے
00:11گود کر نرمہ محتیہ کر دی گئی
00:13اس گھٹنا کے بعد سیراکے میں سنسری فیل گئی ہے اور پریوار کا رو رو کر برا حال ہے
00:19پریجنوں کے مطابق مرتک سمت رات کے وقت اپنے دوست امن کے ساتھ باہر گیا تھا
00:25اسے دوران کچھ اگیات لڑکوں کے ساتھ اس کی کسی بات کو لکھ کر بحث ہو گئی
00:28سمت کے دوستوں کے انصار ویواد کے شروعات محض گالی گلاؤ سے ہوئی تھی
00:33ویواد اتنا بڑھ گیا کہ سمت پر چاکو سے تابر دون حملہ کر دیا گیا
00:37کل ہم کمرہ پہ جائے اسے چاؤں پے
00:40چاؤں پے تو اسے دو لڑکا میرے کمرہ پہ گیا
00:42کہا کہ تمہارا لڑکا کو چاکو لگ گیا ہے
00:46میں اتر کے جا کے دیکھ رہا ہوں
00:47تو دو پہل پکڑا تھا دو ہاتھ پکڑا تھا
00:50اٹانک کے ادھر چوپال کا اوٹ سے لے آ رہا تھا
00:53لے رہا تھا اس کے بعد
00:54کہا کہ یہ تھی ہسپیٹل میں دین دیل
00:58میں کہا کہ پہل پہ دکھا لو
00:59کپور ہسپیٹل ہے کہا کہ دین دیل میں بھرتی ہو جائے گا
01:02دین دیل ملا ہے
01:03ڈاکٹر سے میرے کو اس میں جانے
01:06ڈاکٹر نہیں جانے دے رہا تھا
01:07کہا کہ ادھرے تم رہا ہو
01:09چیک ہو کے
01:09ہم ایسی جا رہے تھے
01:17تو تھوڑی بات چیت ہوئی ہماری دوستے
01:19تو اتنے دیرے میں اس نے
01:20گالی والی دی تو ہم نے بھی
01:23سمیت نے بولا بھی
01:23گالی بھائی کیوں دے رہا ہے
01:25تو اسی بات پہ آتا پائی ہو گئی
01:26اس نے چاکو لکال کے مار دیا
01:31چاکو مارنے آلا تھا
01:32پہلے ایک لوگ تھا
01:33پھر اس کا پیچھے سے اس کا بھائی آیا
01:34پھر اس نے بھی مارنے سٹارٹ کر دیا تھا
01:37گمبھیر حالت میں سمیت کو اسپتال لے جایا گیا
01:40جہاں ڈاکٹروں نے اسے مرد خوشت کر دیا
01:42اسپتال میں موجود سمیت کی ماں کا
01:44رو رو کر برا حال ہے
01:45ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی
01:47کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی
01:49وہ ایک سیدھا اور بہت اچھا لڑکا تھا
01:51نرائنہ تھانا پولیس نے
01:53ہتیا کا معاملہ درش کر دیا ہے
01:54اور آس پاس لگے سی سی ٹی وی فٹیج
01:56کھنگا لے جا رہی ہیں
01:57تاکہ ان چاروں آروپیوں کی پہچانگر
01:59انہیں جلد گرفتار کیا جا سکے
Comments

Recommended