00:00Rewaeyt میں آتا ہے کہ ایک آدمی حضرت بایزید بستامی کے خدمت میں حاضر ہوا
00:04اس کے چہرے پر بے پروائی تھی اور لہجے میں عجیب سی بے نیازی
00:09اس نے کہا حضرت میں نماز نہیں پڑھنا چاہتا
00:12مجھے کوئی ایسا طریقہ بتا دیجئے کہ مجھ پر نماز لازم نہ رہے
00:17مجلس میں بیٹھے لوگ حیران رہ گئے
00:19مگر بایزید بستامی رحمت اللہ علیہ نے غصہ نہیں کیا
00:23وہ مسکرائے اور نہایت سکون سے فرمایا
00:26ضرور لیکن پہلے تمہیں صرف ایک شرط پوری کرنی ہوگی
00:31یہ سن کر وہ شخص خوش ہو گیا
00:33اسے یقین تھا کہ شاید کوئی آسان سا عمل بتایا جائے گا
00:37اس نے فوراں پوچھا وہ شرط کیا ہے
00:40بایزید بستامی نے فرمایا آج کے بعد اللہ کا رزق کھانا چھوڑ دو
00:45آدمی چوک گیا
00:47اس نے کہا یہ کیسے ممکن ہے
00:49اگر میں رزق نہ کھاؤں تو زندہ کیسے رہوں گا
00:52آپ نے فرمایا اچھا پھر اللہ کا پانی بھی مت پینا
00:56اس نے بے اختیار کہا یہ تو اور بھی ناممکن ہے
01:00بایزید بستامی نے سکون سے فرمایا
01:02تو پھر اللہ کی پیدا کی ہوئی ہوا میں سانس لینا بھی چھوڑ دو
01:07اب اس شخص کے پاس کوئی جواب نہ تھا
01:11کچھ لمحوں بعد اس نے آہستہ سے کہا
01:13حضرت سانس کے بغیر تو زندگی ہی ختم ہو جائے گی
01:17بایزید بستامی نے فرمایا
01:19اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو ایک اور شرط پوری کر لو
01:23اللہ کی زمین سے نکل جاؤ
01:25اس کی سلطنت سے باہر چلے جاؤ
01:27پھر جو چاہو کرنا
01:29یہ سن کر اس شخص کا سر جھک گیا
01:32اس نے دھیمی آواز میں کہا
01:34لیکن پوری کائنات تو اللہ ہی کی ہے
01:37میں کہا جا سکتا ہوں
01:39بایزید بستامی رحمت اللہ علیہ نے
01:41اس کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھا
01:44اور فرمایا
01:45جب تمہارا کھانا بھی اسی کا ہے
01:47پانی بھی اسی کا ہے
01:49سانس بھی اسی کی آتا ہے
01:51زمین بھی اسی کی ہے
01:53اور زندگی بھی اسی کا دیا ہوا توفہ ہے
01:56تو پھر تم کس بنیاد پر کہتے ہو
01:59کہ میں اس رب کی عبادت نہیں کرنا چاہتا
02:01یہ الفاظ تیر کی طرح
02:04اس شخص کے دل میں اتر گئے
02:05اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
02:08اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا
02:10کہ نماز اللہ تعالیٰ کو
02:12کسی چیز کی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہیں
02:15بلکہ بندے کو اپنے رب سے جوڑنے
02:17اس کا شکر ادا کرنے
02:19اور اپنی بندگی کا اقرار کرنے کے لیے ہے
02:22وہ خاموشی سے اٹھا
02:24بائزید بستامی کے ہاتھ چومے
02:26اور عرض کیا
02:27آج مجھے معلوم ہوا
02:29کہ میں نماز سے نہیں
02:30اپنی ہی بھلائی سے دور بھاگ رہا تھا
02:33مجھے معلوم ہوا
Comments