00:00यह कहानी सिर्फ बाढ़ के पानी की नहीं है यह आने वाली उस दस्तक की कहानी है जो शारदा नदी
00:06से बह कर तूफान की तरह इन गावों को जमी दोच कर रही है बता दें कि लखीमपुर खीरी जनपद
00:13में पांस तहसिल छेत्र बाढ़ और कटान से प्रभावित हैं जिसमें
00:18निघासन, गोला, लखीमपुर, सदर, धोरारा और पलिया तहसिल छेत्र सामिल हैं हमारी मौजूदगी समय लखीमपुर खीरी जिले के निघासन तहसिल
00:27छेत्र के अंत्रगत हुलासी प्रवा गावं में है जहां शारदा नदी ने इस गावं को अपने आगोस में ले लिया
00:48है मेरे गावं में लोग काफी परिशान है और बार से जोज रहें ना कोई राहत समागरी ना कोई इसके
01:06बारे हम कोई
01:07ڈیوی خیال نہیں کیا گیا یہاں کے اوپر آ کر کے جو ہے ان لوگوں کا جو ہے حال لیا
01:11جا مجاج برشی کی جائے دیکھیں ایسا ہے باڑھ کے لیے ہم لوگوں نے تین طرح تین طرح کی سٹیٹی
01:18ایڈاپٹ کری ہے پہلا تو یہ ہے کہ پچھلے سالوں کے ایکسپیرینس کے بیسس پہ جن گاؤں میں پانی آ
01:24جایا کرتا تھا ان گاؤں کی سوچی ہمارے پاس تھی تو ان سبھی گاؤں کے جو ہمارے اسثانی ہیں کار
01:31کرتا ہیں آشا ہو گئیں اینم ہو گئیں ان کو ہم لوگوں نے جون کے
01:35مہینے میں ہی ایک دواؤں کا ایک ایسنشل میڈسین کا ایک کیٹوپ لپ کرا دیا تھا کہ اگر اچانک گاؤں
01:41میں پانی آتا ہے تو وہ تو فرسٹ رسپونڈر وہی ہوں گے وہ لوگ کسی کو اچانک ضرورت پڑتی ہے
01:46گاؤں میں تو وہ دوائیں دے سکیں اس کے علاوہ جو ہے ہمارے یہاں سے جو بھی جیسے پانی آتا
01:54ہے یا اپروچ روڈ کہیں بادیت ہو جاتی ہے تو اس دشاں میں ہماری ٹیمیں اس سمبندیت بلوک سے وہ
02:01ٹیمیں بھی جا رہی ہیں جو کہ گاؤ
02:04میں جا کے کیمپ کر رہے ہیں لوگوں کو ڈاکٹرز دیکھ رہے ہیں اور ان کو آوشک دمائے دی رہے
02:09ہیں تیسری ایک اور چیز اس بار نہیں ہم لوگوں نے کری تھی وہ یہ تھی کہ ہم لوگوں نے
02:14گربوتی مہلاؤں کی لسٹ بنائی تھی کیونکہ باد کے سمیں پرسو ایک ایسی چیز ہے جو کہ جب اپنے سمائے
02:20پہ ہی ہونا ہے چاہے باد ہو چاہے کوئی بھی اور calamity ہو تو ایسی ہم لوگوں نے دو سو
02:26دو مہلاؤں کی لسٹ بنائی تھی 13 گاؤں میں جن کو کی اگست ستمبر اور اکٹوبر میں
02:33ڈیلیوری ڈیو ہے اور ان گاؤں میں پانی آ جائے کرتا تھا تو ان مہلاؤں کے ہمارے کرمچاری نیرنتر سمپرک
02:41میں ہیں تاکہ یدی کسی کو بھی آوشکتہ ہو اور گاؤں میں اگر پانی بھی بھرا ہوا ہے تو ناؤں
02:47سے یا پرشاشن کی مدد سے ٹریکٹر وغیرہ سے انہیں ہم لوگ چکس سائکائی پہ لا کے سرچت پرسو کرا
02:53سکیں
02:54کتنے گاؤں یہاں پرخابیت ہوں گے کتنے گاؤں ادھر یہاں غالبن جو ہے آردس گاؤں جو ہے بلکل ندی کے
02:59کنارے کنارے جو بسے ہوئے زیادہ پرخابیت ہیں بار سے
03:01دیکھیں ان کے کہیں نہ کہیں گمبیر آروپ ہیں کہ جلہ پرساشن اور جن پرسینی دنے ان کی سودھ تک
03:07نہیں لیے
03:07سوال یہ کھڑا ہو رہا ہے کہ ایک طرف موسم کی ماں دوسری طرف بیماریوں کا قہر ان پر برپ
03:13رہا ہے لیکن جلہ پرساشن سودھ لینے کو تیار نہیں
03:16دیکھنا دلچسپ ہوگاں ماملے کو لے کر یو پی سرکار اور جلہ پرساشن کیا کاروائی کرتا ہے
03:22ویلیت کمار گپتا ای ٹی وی بھارت لکھیم پرخیری