00:00اس عملی حال کے سامنے مسجد ہے الفلاح
00:02وہاں کے میرے دوست ہیں
00:03کہنے لگے آگے نا ایک موچی بیٹھتا ہے
00:06جوتیاں گانٹنے والا
00:07وہ کہنے لگے میرے دوست میں نے اسے دعا یاد کرا دی
00:10بسم اللہ علیہ دینی و نفسی و ولدی و اہلی و مالی
00:14وہ جوتیاں بھی گانٹا رہتا ہے
00:15اور اپنی فصل اپنے گھر بیوی بچے
00:18مال اسباب جو بھی سفید پوشی میں
00:21ایک آن بکری ایک آن چوبی ہے
00:23اس کا تصور کرتا رہتا ہے
00:25وہ جوتیاں بھی گانٹا رہا
00:26اور تصور کر کے اپنے مال اسباب اور چیزوں کا پڑھتا ہے
00:31کہا کہ مجھے خود اس نے بتایا
00:33کہ میرے پاس جب میں اپنے گاؤں گیا
00:35تو بندے آئے
00:36اس نے کہا تمہیں فصل کہوں ہو گائی تھی
00:38یہ سامنے ہو گائی تھی
00:39کہلے کے سچی بات تو یہ ہے
00:41ہم تیری فصل کو لوٹنے آئے تھے
00:44ہمیں کہیں نظر نہیں آیا تھا
00:45اور ہم اندھے ہو گئے
Comments