Skip to playerSkip to main content
  • 10 minutes ago
ग्वालियर की ऐतिहासिक इमारत मोती महल ने देखे कई दौर, कभी महल, कभी विधानसभा तो कभी बन गया सरकारी विभाग.

Category

🗞
News
Transcript
00:00ڈالیر کی ایک احتحاصک امارت جس نے کئی دور دیکھے
00:04ہر دور میں اس کا استعمال بھی الگ الگ ہوا
00:07کبھی یہاں سنگیت سنائی دیا تو کبھی دفتر لگے
00:10کبھی نیتاؤں کا جمگڑ دکھا تو کبھی آدھنک تک نہیں
00:13یہ امارت ہے گوالیر کا احتحاصک موتی محل
00:16جو اپنے اب تک کے جیونکال میں
00:19گلام بھارت آزاد بھارت اور اب آدھنک بھارت کا گواہ بن کر کھڑا ہے
00:25گوالیر کے احتحاصک موتی محل کا نرمان ہوا تھا سن 1827 میں
00:30تب بھارت انگریزوں کی گلامی تلے دبا تھا
00:33گوالیر میں سندھیا راجونش کی ریاست تھی
00:36جس کے مہاراجہ تھے جیاجی راو سندھیا
00:38مہاراجہ جیاجی راو سندھیا نے یہ موتی محل
00:41اپنے نئے آواز کے لیے بنوایا تھا
00:43اس دور میں راج پروار کے ساتھ
00:46وہ گوالیر کے گورکھی محل میں رہا کرتے تھے
00:49نیا محل بن کر تیار ہوا
00:51محل کے ٹھیک سامنے ایک سندر تال بنوایا گیا
00:53جسے آج بیجہ تال کے نام سے جانا جاتا ہے
00:58مدی پردیش پراتت و ابحاق کے ڈپٹی ڈائریکٹر
01:01پی سی محبیہ بتاتے ہیں
01:02کہ مہاراجہ جیاجی راو سندھیا نے یہ محل بنوانے کے بعد
01:06کبھی آواز کے لیے استعمال نہیں کر پایا
01:08اس دور میں یہ محل اپنے سچوالے اور نتے سنگیت کے لیے
01:12استعمال ہوا کرتا تھا
01:14ٹھیک سامنے بیجہ تال میں
01:16سبھی خاص افسروں پر سنگیت سبھائیں ہوا کرتی تھیں
01:18اس محل میں
01:19وہ میٹنگ ہال ہے جہاں وہ خاص لوگوں سے ملاقات کرتے تھے
01:23اور دربار ہال آکرشن کا آج بھی کینڈر ہے
01:26جہاں سندھیا مہاراجہ دربار لگا کر
01:28چنتہ سے روبرو ہوا کرتے تھے
01:31محبیہ بتاتے ہیں
01:32کہ بھارت کی آجادی کے بعد
01:33موٹی محل ایک اعتحاسک بھومکہ میں بھی نظر آیا
01:36جب بھارت آجاد ہوا
01:37اور 1948 میں مد بھارت پرانت بنا
01:40تو موٹی محل میں ہی
01:41ویدھان سبھا کا گھٹن اور سنچالن ہوا
01:43اس کے بعد کئی ورسوں تک
01:45یہاں سرکاری ویبھاغوں کے دفتر بھی سنچالت ہوئے
01:47ورطمان میں اسی پرسر میں
01:49سمارٹ سٹی کا مکھیالہ سنچالت ہے
01:51موٹی محل میں چھوٹے بڑے
01:53چھے سو سے زیادہ کمرے تھے
01:54جو آج پوری طرح بند ہیں
01:56حالانکہ آج بھی اس کے پانچ کمرے
01:58میٹنگ ہال اور دربار ہال
01:59پراتت ویبھاک کے آدھی ہی نے
02:10جہاں رادہ کرشن کی لیلاؤں پر
02:12آدھارت پینٹنگز ہیں
02:13اور سونڈ رنگ کی بہترین کلاکاری ہے
02:16موٹی محل کا اتحاس
02:18اپنے آپ میں کئی پہلووں سے جڑا ہے
02:20یہاں آجادی سے پہلے
02:22سنگیت سبھاؤں کا کینر تھا
02:23تو ریاست کا سچوالے بھی رہا
02:25ورسٹ پترکار دیو شریمالی کہتے ہیں
02:28کہ یہ موٹی محل ان برلے امارتوں میں شمار ہے
02:30جس نے اپنے آپ میں نہ صرف اتحاس کو سنجھویا
02:33بلکہ ایک لمبا اتحاس بھی دیکھا ہے
02:35جب اس کا نرمان ہوا
02:37تب سندیا راجونس کی ریاست تھی
02:38اس محل کو سندیا راجونس نے
02:40سچوالے کے طور پر اپیوک کیا
02:42دیش آزاد ہونے تک دربار بھی
02:44اسی محل میں لگایا جاتا تھا
02:46اور سچوالے کے کام ستہ اور سنچالن بھی
02:49یہیں سے ہوا کرتے تھے
02:50دیکھیں بالکل یہ صحیح بات ہے
02:53کہ یہ ایسے برلے امارتوں میں سے ایک ہے
02:55موٹی محل
02:56جس نے مطلب ایک لمبا اتحاس
02:59اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
03:00جب اس کا نرمان ہوا
03:02گوالیر میں سندیا راجاؤں کا راج تھا
03:04اور جب سندیا انہیں پہلے محل بنوایا
03:07اپنا جیویلاس پہلے اس سے پہلے گوھر کی محل میں راہ کرتے تھے
03:10اور سیکیٹری ایٹ وہیں تھی
03:11پھر اس کا نام بھلے ہی انہوں نے موٹی محل رکھا تھا
03:14لیکن اس کو محل کی طرح استعمال کرنے کے لیے نہیں کیا گیا تھا
03:17اس کو بنایا گیا تھا اسی ایک سیکیٹری ایٹ کے لیے
03:20تو سندیا جو راج پریوار تھا
03:22اس کی سیکیٹری ایٹ اسی میں لگتی تھی
03:24اور دیش آجاد ہونے تک
03:26مہاراج اسی میں اپنا دروار لگایا کرتے تھے
03:28اور اس کی سچوالے بھی اس میں
03:30جو سردار اور جو سنچالن ہوتا تھا
03:32ستہ اور راج کا سنچالن اسی سے ہوتا تھا
03:34جب دیش آجاد ہوا
03:36تب اس کی بھومی کا پوری طرح بدل گئی
03:38جو پندرہ اگست کو پہلا
03:40راج کی دھوج پہرایا گیا
03:44بھارت کا
03:44وہ یہی پہرایا گیا
03:46اور تب ان کی جو راجہ تھے
03:48ان کی بھومی کا بدل گئی
03:49وہ راج پرمکھ بنا دیئے گئے تھے
03:51اور اس کے بعد مدی وارت پرانت جو بنایا گیا
03:53وہ اس کی راجدھانی گوالیر تھی
03:55اور مدی وارت پرانت کی جو پہلی سرکار
03:57چونی ہوئی تھی
03:58وہ اسی
04:02موتی محل پریسر میں
04:04جو راجہ کا دروار ہے
04:06راج دروار میں
04:07وہیں بیٹھی
04:08اور وہیں سے پھر جو ہے
04:10لگوک 56 تک یہ
04:12یہاں ایکٹ کرتی رہی
04:131956 میں جب پنرگٹھن آیوگ بنا
04:16اور راجیوں کو نئے طریقے سے بنایا گیا
04:18تو یہ علاقہ
04:19مدی پردیس میں چلا گیا
04:20تو اس طرح سے
04:21اس نے مدی پردیس کی بھی
04:22مدی پردیس کے بھی
04:24سیرسست سارے عدکاری
04:25جو گوالیر چمبل میں بیٹھتے تھے
04:27چاہے ٹرانسپورٹ کمیشنر کا آفیس ہو
04:28ایکسائیز کمیشنر کا آفیس ہو
04:30ریوینیو وارڈ کا
04:32چیئرمین کا آفیس ہو
04:33یا پھر
04:34سی ایل آر کا آفیس ہو
04:36اس کے علاوہ
04:37سنبھاگی اس طرح کے
04:37سارے عدکاری
04:38یہیں بیٹھتے تھے
04:40ابھی کچھ دن پہلے
04:41جب یہ کنڈم گوشت کر دی گئی
04:43تب
04:43اس کو جو ہے
04:45عدکاریوں کے دفتر
04:46الگ الگ بن گئے
04:47لیکن ابھی بھی
04:48جو سمارٹ سٹی بنانے کا کام ہے
04:49وہ سمارٹ سٹی کا آفیس
04:51اسی بلڈنگ میں چل رہا ہے
04:52تو ایک بڑی
04:53لمبا اتحاس
04:54اس بھون کا بھی ہے
04:56اور بابن کی آنکھوں کا بھی ہے
04:57جس سے انہوں نے
04:58یہ سب دیکھا ہے
04:59آج جب
05:00ڈیجٹل انڈیا
05:01اور عدنگ بھارت کا دور ہے
05:03تب موتی محل پریسر
05:04کی ایک الگ بھومکہ ہے
05:05موتی محل پریسر کے ایک حصے میں
05:07گوالیر سمارٹ سٹی کا مکھیالہ ہے
05:09جہاں
05:10عدنگ تقنیق کے ساتھ ہی
05:12گوالیر کی احتیاسک
05:13وراثت کو بچانے کے لیے
05:15کام کیے جا رہے ہیں
05:16بلکہ
05:17اسی پریسر میں
05:18ایک اکتیاد ہونے کمانڈ سینٹر
05:19بھی بنایا گیا ہے
05:20جہاں سے پورے گوالیر کی
05:22نگرانی کی جاتی ہے
05:24دیو شریمالی کہتے ہیں
05:25کہ گوالیر کو
05:26سمارٹ سٹی پروجیکٹ
05:27ہیریٹیج ورگ
05:28اور ہیریٹیج ٹورزم
05:29کے تحت ملا تھا
05:30اور موتی محل
05:31اپنے آپ میں
05:32احتیاسک دھروہ ہے
05:33اس لیے پرتیقاتمک روپ سے
05:35سمارٹ سٹی کا آفیس
05:36یہاں بنایا گیا
05:38دیکھئے
05:39یہ جو ہے
05:40جو گوالیر کو
05:41سمارٹ سٹی کا
05:42پروجیکٹ ملا ہے
05:43وہ ہیریٹیج ورگ میں
05:44ملا ہے
05:45استعبت
05:46پراتت
05:47اور ہیریٹیج ٹورزم
05:49اور چونکہ
05:50گوالیر کا جو
05:51موتی محل ہے
05:52وہ تو سوائم ہی
05:53ایک بڑا ہیریٹیج ہے
05:54اس میں تمام ساری
05:55چیزیں ہیں
05:55ابھی میوزیم بھی
05:56بن رہا ہے
05:57اور تمام ساری
05:58چیزیں ہیں
05:58تو انہوں نے
05:59اپنے پرتیقاتمک
06:00سروپی وہاں سے
06:01شروع کیا
06:01کہ ایک ہیریٹیج
06:10کا انفراشت اچھا
06:11صدارنے کا کام
06:12کریں گے
06:12تو پہلے انہوں نے
06:13موتی میل کے
06:14ایک حصے کو صدار کر
06:15ایک موڈل پرستط کیا
06:16اور اس کے بعد
06:17مہراج باڑا اور
06:18گوالیر کے باقی
06:18ہیریٹیج کو
06:19صدارنے کا کام
06:20کیا جو ابھی
06:21جاری ہے
06:27بلکل یہ
06:28سب سے بڑی بات ہے
06:29سمارٹ سٹی کا
06:30جو پروجیکٹ آیا تھا
06:31اسی کے تحت
06:32وہاں ایک ایسا
06:33سینٹر کھولا گیا
06:34جس میں ایک تو
06:35پورے سہر کے
06:36کمانڈ ایریہ
06:36جو بنایا گیا ہے
06:37اس کمانڈ ایریہ
06:38کے جریعے
06:40جو کیمرے ہیں
06:41سی سی ٹی بھی
06:42کیمروں کے جریعے
06:42پورے سہر کی
06:43بھی نگرانی ہوتی ہے
06:44اس کے علاوہ
06:45اگر کہیں
06:46ٹریفک کا صدار کرنا
06:47ہے کوئی جرورت ہے
06:47تو جو مائک سسٹم
06:49ہے وہ وہیں
06:49سے اپریٹ ہوتا ہے
06:50تیسرا ایک بڑا کام
06:51جو نے کیا
06:52وہ کورونا کال میں کیا
06:54کورونا کا جو
06:54کمانڈ سینٹر
06:55بنایا گیا تھا
06:56وہ یہیں بنایا گیا تھا
06:57اور یہیں سے
06:58پورا سنچالن ہوا
06:59جس سے ہجاروں
07:00نہیں لاکھوں لوگوں
07:00کی جان بھی بچی
07:01تو کہہ سکتے ہیں
07:02کہ مہتی مہل
07:03نے الگ الگ دور میں
07:04الگ الگ روپ میں
07:06کام کیا
07:07بلکل یہ مہتی مہل
07:08ہمیشہ الگ الگ
07:09دور میں
07:10الگ الگ روپ میں
07:11کام بھی کیا
07:11اور لوگوں کو
07:12اس کا لاب بھی دیا
07:14چاہے سمارٹ سٹی سے
07:15لے کر کے
07:15سندیا کال تک
07:16اگر پورا اتحاس دیکھیں گے
07:17تو اس کی بھومی کا
07:19بدلتی رہی
07:20لیکن رہی
07:20جنتہ کے لیے
07:22اپنے پر
07:22اپنا دھیان کی اندرکت
07:23کرنے کے لیے
07:25گوالیر کا
07:26موتی مہل
07:27لگ بھگ دو صدیوں سے
07:28موسم کا
07:28اتحاس جی چکا ہے
07:30الگ الگ
07:31دور دیکھے ہیں
07:31اور ان دور کے
07:33اتحاس کو
07:33خود میں سمیٹے
07:34آگے بڑھ رہا ہے
07:35اپنے جیون کی
07:36دھری میں
07:37نئے آیام
07:38نئے مقام
07:39اپنے نام
07:39درج کرنے کے لیے
07:41گوالیر سے
07:42پیو شریفاستف کی
07:43ریپورٹ
07:43ای ٹی وی بھارت
Comments

Recommended