Skip to playerSkip to main content
  • 38 minutes ago
भारत के साथ-साथ विदेशों में भी अधिक से अधिक लोग उमर खालिद की किताब खरीदें और पढ़ें. उमर खालिद की मां सबीहा खानुम

Category

🗞
News
Transcript
00:00...supervisor man, or a legislator, or a examiner,
00:04but we don't think that we will read thousands of people who will read it.
00:11This book has been a very happy time,
00:17but with this, it is a very big time
00:21that our lives have not yet.
00:24They have written this book in the past.
00:27ڈالکھ سلاکھوں کے پیچھے ہیں ہمیں یہ کتاب جب ملی اور ہم نے اس
00:32کو پڑھنا شروع کیا اور دیکھا تو سب سے پہلے میرے ذہن میں جو
00:38چیز آئی وہ وہ حالات تھے دو ہزار سولہ کے جبکہ عمر کے خلاف
00:45پورا ایک باویلا مچا تھا ہم سب کو یاد ہوگا کہ کس طرح میڈیا
00:50میں اس وقت عمر کے انڈرگراؤنڈ ہونے کا اور پھر ارسٹ ہونے کا
00:57اور وہ جو ایشو تھا بار بار ایسا لگتا تھا کہ شاید پورے ہندوستان
01:02میں یا دنیا میں کوئی نیوز ہی نہیں ہے دکھانے کے لیے صرف اور
01:06صرف عمر خالد عمر خالد اور عمر خالد حالانکہ ان کے ساتھ اور
01:10نام بھی تھے لیکن وہ ان کے نیریٹیف تو زیادہ سوٹ نہیں کرتے تھے
01:14اس لیے وہ نام اب نہیں ہے اور عمر خالد کا نام جو ہے وہ آج بھی
01:19ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سے وہ میڈیا کے جو ایک نیریٹیف
01:24سیٹ کر رہے ہیں تو دوہزار سولہ کا وہ بہت مشکل وقت
01:29اس مانے میں بھی تھا کہ وہ پہلا انگاؤنٹر تھا ہم لوگوں کے لیے
01:34ان حالات کا پہلی دفعہ ہم نے یہ سب چیزیں بیس کی تھی خود عمر
01:39نے بھی اور پوری فیملی نے بھی عمر کی پہنے اور سب لوگوں کے لیے
01:44ایک نیا ایک تجربہ تھا کہ کس طرح سے پولیس اور میڈیا کے
01:48تھرو عمر کو جو نام دیا جارہا تھا جس طرح پیش کیا جارہا تھا
01:52وہ ہم کو معلوم ہے ان حالات میں پھر وہ عرسٹ بھی ہوا اور عرسٹ
01:58کے بعد جب عمر کو ریلیز ہو کر آئے یہ وہی سال ہے جبکہ انہیں
02:02اپنی تھیسس کمپلیٹ کر کے سبمنٹ کرنی تھی تو جو بوٹ کے چہری کے
02:08چکر اور پولیس کا اور سب چیزوں کا ایک ذہنی طور پر جو پریشر ہوتا ہے
02:13ان حالات میں عمر نے اس تھیسس کو کمپلیٹ کیا اس تھیسس کو لکھتے وقت
02:18جن لوگوں نے بھی جس طرح اس کی حیرت کی میں ان کی بھی شکر گزار ہوں ان
02:23حالات میں وہ تھیسس کمپلیٹ کرنے کے بعد سبمیشن کا معاملہ تھا
02:27وہ بھی جو ہے منع کر دیا گیا لیکن پورٹ کے انٹرونشن سے وہ تھیسس
02:32سبپٹ ہوئی جو آج کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں میں نے یہ
02:37بات کہی تھی کہ یہ کتاب ہم راقی سے جسنے نہ پڑھیں کہ وہ جیل میں
02:43ہے بلکہ وہ ایک جو کتاب ہے وہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سرمایہ
02:48بھی ہے ایک ایسٹ ہے ہمارے لیے ہم یہ سوچ کر اس کتاب کا پڑھیں
02:53اور آج اللہ کا شکر الحمدللہ کہ بہت ہزاروں لوگوں نے اس
02:57کتاب کو خریدا ہے ہزاروں لوگ اس کو پڑھ رہے ہیں اور میں
03:01سمجھتے ہوں کہ کہیں نہ کہیں عمر کو جاننے اور پہچاننے کا
03:05ایک نیا موقع ہے ان کے لیے کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو
03:09یہ میڈیا کا نیریٹیو ہے اس کے ذریعے سے معاصل میں عباب میں عمر
03:14کی جو تصویر ہے اس کو ہم سوچ بھی نہیں سکتی کس طرح میں اگر آپ کو
03:19اندر کی بات بتاؤں تو خود میری عمر کی بہنوں کی جو
03:24فرینڈز ہیں ان کے رشتدار ان کو کہتے ہیں کہ جب انہیں یہ
03:28پتا چلتا ہے کہ یہ عمر کی بہن کی فرینڈ ہے تو ان کو
03:32ڈاٹھتے دھمکاتے ہیں کہ حبتار اس دھر میں مر جاؤنا لیکن جن
03:35لوگوں نے عمر کو قریب سے دیکھا ہے جو جانتے ہیں وہ اس کو
03:38سپورٹ بھی کرتے ہیں وہ اس کے بہت ڈیفینڈ کرتے ہیں وہ سب یہ
03:43معلوم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ہر کوئی اتنا قریب سے نہ
03:46فیملی کو نہ عمر کو جان سکتا ہے لیکن یہ موقع ہے اس
03:50کتاب کے ذریعے سے کہ ہم اس کو جانیں اس کے خیالات کو
03:54جانیں وہ کس لیے کھڑا ہوا وہ کس کی بات کر رہا تھا وہ ہم
03:59دیکھیں یہ کہ آدھیواسیوں کی بات وہ کرتا ہے وہ آہ آہ سوسائیٹی
04:04میں دبے کچھلے لوگوں کی بات مائنورٹیز کی بات جن کو
04:07سپریس کیا جا رہا ہے ان کے لیے اس نے آواز اٹھائی اور یہی اس کا
04:10سب سے بڑا جرم بن گیا اور اسی وجہ سے وہ آج سلاکھوں کے پیچھے
04:14ہے خود عدالتوں کی جو آہ رویہ ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہیں کہ
04:20کس طرح سے ایک چھ سال کا وقت پا ایک لمبہ ٹائم ہے بہت بڑا وقت
04:26ہے مجھے یاد ہے کہ جب عمر کا آریسٹ ہوا تھا تو کسی نے ہمارے
04:31سامنے یہ بات کہی تھی کہ شاید یہ دو سال کے لیے اندر چلے
04:34جائے اور اس وقت ایسا لگا تھا کہ دو سال مطلب یہ فیل ہو رہا
04:39تھا کہ دو سال تو بہر بڑی مدد ہے لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ
04:42چھ سال کا رمبہ وقت گزر گیا اور ابھی بھی بچاہ سے کوئی امید
04:47کی کرنگذر نہیں آ رہی ہے ہمیں بھروسہ ہے عدالتوں پر لیکن عدالتوں
04:52کے روئیے بھی ہمارے سامنے ہیں کہ کیا کس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے
04:57عمر کی یہ کتاب جو ہے میں چاہوں گی کہ ہندوستان میں اور ہندوستان
05:02سے بھی باہر زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو خریدیں بھی اس کو بڑھیں بھی
05:06اور اس سے بہت سارے نتیجے اخص کریں
Comments

Recommended