- 15 hours ago
Video 🤗🤗
Category
🐳
AnimalsTranscript
00:10গনগোর বরসাথ
00:12হাসমান মাপনি পরাণ্য বাসমারা হাসমান মোটি পারের গোমড্কর গরজ রহিতি
00:21মানো ধরতি পর তুট পরেনেকে ত্যার হার
00:25बिजली की चमक जब जब आस्मान को चीर दी, पूरा जंगल पलभर के लिए सफेद उजाले में नहा उठता और
00:32पिर अगले ही शन और भी भयावनांदकार में डूप जाता।
00:37शाम धल चुकी थी और अंधेरा अब तेजी से चारों और फैल रहा था।
00:43तेज हवा पेडों को जगजोर रही थी, सूखे पत्तों की सरसराहट किसी अंजानी आहट सी लग रही थी, कीचर से
00:51लथपत रास्ते पर बैल गाड़ी के पईए धीरे धीरे धस्ते जा रहे थे, और बेचारे बैल हर कदम पर रुक
00:58रुक कर आगे बढ़ रहे थे, मानो उन्ह
01:01भी इस तूफानी रात की गरगडाहट और अंधेरे का डर सता रहा हो, हे भोलिनात, कैसी गंगोर बरसात बरसाती है,
01:12घर पहुचना भी दुभर हो गया है, अरे ये कीचर भी न, बस, अब हिम्मत रखो रे बैलो, थोड़ा और,
01:22अभी हमें गाउं पहुचना है, काश मैं मे
01:26मेले में इतनी देर तक नहीं रुखता, अरे चलो रे, थोड़ा और जोर लगाओ, ये कीचर भी बस नहीं छोड़ता,
01:35अरे बापरे, ये बिजली तो सिर पर ही गिरी लगती है, मेले की वो भीविलग किसी सपने जैसी लग रही
01:42है, यहां तो बस डर ही डर है, ये कैसी रात ह
01:48बारिश रुखने का नाम ही नहीं ले रही, अरे भोले नात, कहीं ये वही रास्ता तो नहीं, जहां की कहानियां
01:57लोग सुनाते हैं, दिल धक-धक कर रहा है मेरा, काश अब जल्दी कोई आसरा मिल जाए
02:14बारिश अब और भी तेज होती जा रही थी, बूंदें इतनी वेक से गिर रही थी, कि चहरे पर पड़ते
02:20ही हलकी सी चोट का एहसास होता था
02:23आस्मान में बिजली बार-बार चमक रही थी और बादलों की गड़गडाहट से धर्ती जैसे काँप उठती थी, चारों और
02:32सन्नाटा पसरा हुआ था, न कोई इनसान, न कोई आवाज
02:37बस बारिश की लगातार ध्वनी और दूर कहीं से आती जंगली जानवरों की डरावनी आवाजें
02:46सुजीत का दिल जोर-जोर से धळकने लगा, उसने इस रास्ते के बारे में कई डरावनी कहानिया सुनी थी
02:53दिन में ये रास्ता सुरक्षित लगता था, मगर इस तूफानी रात में सब कुछ भयानक रूप ले चुका था
03:02तभी अचानक उसे दूर कहीं से मंदिर की घंटी की आवाज सुनाई दी
03:08अजीब बात ये थी कि वो आवाज बारिश के शोर के बीच भी साफ और गूंचती हुई सुनाई दे रही
03:15थी
03:16सुजीत ने ध्यान से सुना, हाँ, ये निश्चित ही किसी मंदिर की घंटी थी
03:23अरे, ये आवाज, ये तो मंदिर की घंटी जैसी लग रही है
03:30हाँ, बिल्कुल
03:32पर इतनी तेज बारिश में कौन बजा रहा होगा इसे
03:35सुजीत ने बैलों को उस आवास के दिशा में मोड दिया
03:39कुछ दूरी तै करने के बाद उसे घंटे पेडों के बीच एक बहुत ही पुराना शिव मंदिर दिखाई दिया
03:47मंदिर पत्थरों से बना था और देखने में काफी जरजरव प्राचीन लग रहा था
03:53पर अजीब बात ये थी कि उसके भीतर से हलकी सी रोशनी जिल मिला रही थी
03:59सुजीत ने अपनी बैलगाडी मंदिर के पास रोकी और उस सुकता वड़र के मिले जुले भाव के साथ जल्दी से
04:07मंदिर के अंदर चला गया
04:10मंदिर बाहर से जितना पुराना लग रहा था अंदर उतना ही सवच और शान्त था
04:17Shivaling کے سامنے
04:19اگربتیاں جل رہی تھی
04:20اور چاروں اور دودھ اور چندن
04:23کی ہلکی سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی
04:26ایسا لگ رہا تھا
04:27جیسے کسی نے ابھی ابھی
04:29پوجا کی ہو
04:29مگر وہاں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا
04:34کوئی ہے یہاں
04:35کرپیا باہر آئیے
04:38میں راستہ بھٹک گیا ہوں
04:41بارش بہت تیز ہو رہی ہے
04:44راستہ کیچڑ میں
04:45ڈوب گیا ہے
04:48بیل بھی تھک گئے ہیں
04:51اگر تھوڑی دیر
04:52یہیں رک جاؤں تو
04:53کوئی آپتی تو نہیں
04:56عجیب ہے
04:58مندر میں روشنی جل رہی ہے
05:01اگر بتیاں بھی سلگی ہیں
05:04پھر کوئی دکھ کیوں نہیں رہا
05:06کچھ دیر بعد مندر کے پیچھے والے کمرے سے
05:09ایک وردھ سادھو پرکٹ ہوئے
05:12جنہوں نے گیروے
05:13وستردھارن کر رکھے تھے
05:15ان کی لمبی سفید داڑھی
05:18چھاتی تک لٹک رہی تھی
05:19اور ماتھے پر
05:21ٹرپنڈ کا گاڑھا چن نہ بنا تھا
05:24ان کی آنکھوں میں
05:26گہری شانتی تھی
05:27پر چہرے پر کسی گہری
05:29چنتہ کی چھایا
05:30ساف جھلک رہی تھی
05:32کون ہو تم بیٹا
05:34اس طوفانی رات میں یہاں کیسے آپ پہنچے
05:38مہراج میں پاس کے گاؤں سے لوٹ رہا تھا
05:41میلا دیر تک چلا گیا
05:42اس لیے دیر ہو گئی
05:44راستے میں اتنی بھائنکر بارے شروع ہو گئی
05:46کی کچھ سوجائی نہیں
05:49تب ہی مندر کی گھنٹی کی آواز
05:51سنی اور یہاں چلا آیا
05:53وہ کچھ شنوں تک
05:54سجیت کو نیہارتے رہے
05:56مون اور ستھر
05:59پھر دھیرے دھیرے
06:01شانت سور میں بولے
06:04اس سمیں جنگل میں
06:05رکنا اوچت نہیں ہے
06:07یہ جگہ دن میں بھلے شانت لگے
06:09پر رات میں
06:10اس کا روپ بدل جاتا ہے
06:13ہر آواز کا یہاں
06:14کوئی نہ کوئی عارت ہوتا ہے
06:16اور ہر سنناٹی میں
06:18کوئی چھپا ہوا سور
06:20بیٹا
06:21اگر تم نے باہر کی گھنٹی سنی ہے
06:24تو جان لو
06:26وہ ہر کسی کو نہیں بلاتی
06:28مگر مہراج آپ کہہ رہے ہیں
06:29کہ وہ گھنٹی
06:30ہر کسی کو نہیں بلاتی
06:33اس کا کیا مطلب ہے
06:35سادھو نے ایک گہری سانس لی
06:37ان کی آنکھوں کی شانتی
06:39اب گمبھیرتہ میں بدل گئی
06:42کچھ پل تک
06:43وہ مون رہ کر
06:43سجیت کو دھیان سے دیکھتے
06:45رہے
06:46مانو اس کے بھیتر
06:48کچھ کھوج رہے ہوں
06:49پھر دھیرے سے بولے
06:54بیٹا
06:56آج کی رات یہی مندر میں رکھ جانا
06:58باہر توفان ابھی تھمنے والا نہیں ہے
07:00مگر میری بات دھیان سے سن
07:02آدھی رات کے بعد
07:03اگر کوئی آواز سنائی دے
07:05چاہے کوئی پکارے
07:07روئے یا تمہارا نام لے
07:37کسی بھی حالت میں
07:39اس نے منہی من سوچا
07:40کہ شائع گرات میں
07:41یہاں جنگلی جانور آ جاتے ہوں گے
07:43اس لیے سادھو مہاراج
07:45اسے ڈرا کر
07:46ساوڑھان کرنا چاہ رہے ہیں
07:49سادھو نے اسے پاس کے
07:51ایک کونے میں بیٹھنے کے لیے کہا
07:53پھر وہے اندر چلے گئے
07:55اور تھوڑی دیر میں
07:56ایک تھالی میں کچھ تازے پھل لے کر لوٹے
08:08لو بیٹا
08:09یہ کچھ تازے پھل کھالو
08:12راستہ لمبا تھا
08:13شریر کو آرام اور بھوجن دونوں کی ضرورت ہے
08:18باہر توفان ہے
08:20اس لیے آج یہیں ٹھہر جاؤ
08:23بھگوان شیف کی شرن میں ہو
08:26چنتہ مت کرو
08:28سب ٹھیک رہے گا
08:29سجیت نے شانتی سے پھل کھائے
08:32اور پانی پیا
08:34سادھو مہاراج نے
08:36اسے ایک پرانی چٹائی اور کمبل دیا
08:38تاکہ وہ آرام کر سکے
08:41سجیت نے شدہ سے بھگوان شیف کو پرنام کیا
08:44اور مندر کی ایک کونے میں جا کر لیٹ گیا
08:49تھکان کے مارے اس کی آنکھیں
09:19دھیرے دھیرے بند ہونے لگیں
09:21وہ آواز دھیرے دھیرے تیز ہوتی چلی گئی
09:25سجیت بیٹا باہر آجا
09:29دیکھ میں یہاں ہوں
09:31درمت میں تیری ماں ہوں
09:34تو اتنی دیر سے لوٹا نہیں
09:36میں تجھے ڈھونڈتی ڈھونڈتی یہاں تک آگئی
09:40بیٹا بس ایک بار باہر آجا
09:43دیکھ تیری ماں تجھے بلا رہی ہے
09:47میرے پاس آجا سجیت
09:49تو مجھے پہچانتا ہے نا
09:52میری آواز سن
09:53میں تجھ سے ملنے آئی ہوں بیٹا
09:56سجیت
09:58میری بات سنو بیٹا
10:00میں بڑی مصیبت میں ہوں
10:02کوئی مجھے یہاں سے لے جاؤ
10:04ورنہ میں بچ نہیں پاؤں گی
10:07تو تو میرا سہاسی بیٹا ہے نا
10:09بس ایک بار باہر آجا
10:11مجھے تیری ضرورت ہے
10:14دیکھ
10:15میں یہیں تیرے مندر کے باہر کھڑی ہوں
10:17تھنڈی بارش میں بھیگ رہی ہوں
10:20جلدی آ بیٹا
10:21مجھے بچا لے
10:23سجیت کی آنکھیں اچانک کھل گئیں
10:26وہ چونک کر اٹھ پیٹھا
10:29اس کے چاروں اور سنناٹا پسرا تھا
10:33پر وہ آواز
10:34اب اور سپشٹ سنائی دے رہی تھی
10:38عجیب بات یہ تھی
10:40کہ وہ آواز کسی اور کی نہیں
10:43بلکہ اس کی اپنے ماں کی آواز جیسی لگ رہی تھی
10:47یہ آواز
10:50ماں کی لگ رہی ہے
10:53لیکن ماں یہاں کیسے ہو سکتی ہے
10:56نہیں
10:58یہ سچ نہیں ہو سکتا
11:00وہ تو گاؤں میں تھی
11:03پر اگر سچ میں وہ ہیں
11:05تو میں کیسے اندر بیٹھا رہا ہوں
11:08ہے شیف شنکر
11:10اب میں کیا کروں
11:13باہر جاؤں یا نہیں
11:16سجیت کا دل سور زور سے دھڑکنے لگا
11:20مانو اس کی چھاتی سے باہر نکل آئے گا
11:24ڈر اور جگیاسا
11:26دونوں اس کے من میں ایک ساتھ ہمڑنے لگے
11:31سجیت اٹھ کھڑا ہوا
11:32اور دھیرے دھیرے مندر کے دروازے کی اور بڑھنے لگا
11:38اس کا ہاتھ دروازے کی اور بڑھ رہا تھا
11:41جبکہ من بھیتر سے کہہ رہا تھا
11:43شاید باہر
11:46اگر ماں ہے
11:47اور اگر سچ میں انہیں مدد چاہیے
11:49تو میں کیسے نہ جاؤں
11:52تب ہی اچانک
11:53کسی نے اس کا ہاتھ کس کر پکڑ لیا
11:58سجیت سہر اٹھا
12:00پیچھے مڑا تو دیکھا
12:02سادھو مہراج اس کے پیچھے کھڑے تھے
12:06ان کی آنکھوں میں گہری گمبیرتا
12:08اور ایک انکہا ڈر جھلگ رہا تھا
12:12رکو بیٹا
12:13ایک قدم بھی باہر مت رکھنا
12:16میں نے تمہیں پہلے ہی چتاونی دی تھی
12:20جو آوازیں باہر سے آتی ہیں
12:22وہ انسان کی نہیں ہوتی
12:25چاہے وہ تیری ماں کی ہی کیوں نہ لگے
12:29مہراج پر وہ تو سچ میں میری ماں کی آواز تھی
12:32وہ ہی پکار رہی تھی مجھے
12:34کہہ رہی تھی کہ وہ مصیبت میں ہے
12:38اگر سچ میں وہ ہیں تو میں انہیں ایسے
12:41کیسے چھوڑ دوں
12:43وہ تیری نہیں ہے
12:46یہ چھایا تمہارے من کو پڑھ لیتی ہے بیٹا
12:50یہ اسی کی آواز نکالتی ہے
12:52جس کے لیے تیرے دل میں سب سے گہرا پریم ہو
12:56یہ جانتی ہے کہ تیرے من میں اپنی ماں کے لیے
12:59کتنا سنے ہیں
13:01اس لیے اسی کا روپ دھارن کر کے تجھے بولا رہی ہے
13:06کئی آتری اس کے اس چھل میں پھس چکے ہیں
13:10اور پھر کبھی لوٹے نہیں
13:13سجید بیٹا
13:14تو مجھے کیوں نہیں سن رہا
13:17سسکیوں کی آواز ہوا میں گھلتی ہے
13:20میں بہت درد میں ہوں
13:22تیری ماں ہوں میں
13:24دیکھ
13:25میں یہیں باہر ہوں
13:27بارش میں بھیگ رہی ہوں
13:29رونے کی دھیمی
13:31ٹوٹی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے
13:34مجھے اکیلا مت چھوڑ بیٹا
13:36بس ایک بار باہر آجا
13:39اگر تُو نہیں آیا
13:40تو میں بچ نہیں پاؤں گی سجید
13:44مہاراج چھوڑ دیجئے مجھے
13:47وہ میری ماں ہے
13:49ان کی آواز میں پہچانتا ہوں
13:51آپ سمجھ نہیں رہے
13:53وہ مصیبت میں ہے
13:55مجھے ان کی مدد کرنی ہی ہوگی
13:59کرپیا
13:59جانے دیجئے
14:02میں انہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتا
14:05وہ مجھے پکار رہی ہے
14:07مہاراج
14:08یاد رکھنا
14:10اگر تُو باہر گیا
14:13تو تیرا نام بھی
14:14ان میں شامل ہو جائے گا
14:17سادھو نے جھٹکے سے
14:18سجید کو واپس اندر کھیچ لیا
14:20اور زمین پر بٹھا دیا
14:23پھر وہ سیدھے شیولنگ کے سامنے
14:25جا کر پدماسن میں بیٹھ گئے
14:27اور اوچے سور میں منتر جپنے لگے
14:29اوم نمہ شوائے
14:33اوم تریمبکم یجانہے
14:35سگندھم پشٹی وردھنم
14:37اوم نمہ کال بھیروائے
14:40اوم ہونجوں سہر ادھرائے نمہ
14:44ہر ہر مہا دیو
14:47رکشامی رکشامی
14:50مہا کال دیو
14:54پندیت
14:55تم کتنا بھی منتر جاپ کر لو
14:58مجھے نہیں روک پاؤں گے
15:00میں پھر آنگی
15:01باہر باہر آنگی
15:04جب جب کوئی اس مندر میں قدم رکھے گا
15:07میں اسے پکاروں گی
15:12تم مجھے باندھ نہیں سکتے
15:15میری چھایا ہر دشاں میں فیلی ہے
15:18ہر ہوا میں میرا نام گونجتا ہے
15:21اوم نمش شباہ
15:23ان کے منتروں کی گونج پورے مندر میں بھیل گئی
15:27سگندھم پشٹی وردھ
15:28دیوارے مانو اس دھونی سے کام پھٹی
15:30اوم نمہ کال بھیروائے
15:31دھیرے دھیرے باہر کی آواز دھیمی بڑھنے لگی
15:36مگر پوری طرح سے تھمی نہیں
15:39رکشامی رکشامی
15:40سادھو نے منتر جاپ جاری رکھا
15:43ان کے ماتھے پر پسینے کی بوندے چمکنے لگی تھی
15:47اور پورا مندر
15:49ایک عجیب
15:50رہسے مئی ارجہ سے بھر گیا تھا
15:55سجید در کے مارے کانپ رہا تھا
15:58اس کا دل
15:59تیزی سے دھڑک رہا تھا
16:02اب ڈار مت کرنا بیٹا
16:05وہ شکتی اب لوٹ گئی ہے
16:08اس مندر کی رکشہ سویم بھولے ناتھ کرتے ہیں
16:12تم اب نشچنت ہو کر سو جاؤ
16:16میں یہیں بیٹھا رہوں گا
16:18کچھ دیر بعد باہر کی ساری آوازیں ایک دم تھم گئیں
16:23اب بس بارش کی لگاتار گرتی بوندوں کی آواز رہ گئی تھی
16:29سجید کانپتے ہوئے واپس اپنی چٹائی پر لیٹ گیا
16:34مگر اس کی آنکھوں میں نیند کہاں تھی
16:36وہ پوری رات جاکتا رہا
16:40ہر آہٹ پر اس کا دل سہم اٹھتا تھا
16:44جب صبح کی پہلی کرن مندر کے اندر پہنچی
16:48تو سجید دھیرے دھیرے اٹھا
16:51اور باہر نکل آیا
16:54بارش اب تھم چکی تھی
16:58لیکن مندر کے چاروں اور زمین پر
17:00عجیب سے پیروں کے نشان بنے ہوئے تھے
17:05جیسے کوئی انجانی چیز
17:07رات بھر مندر کے ارد گرد گھومتی رہی ہو
17:11تب ہی سادھو مہاراج اپنی کٹیا سے باہر آئے
17:16انہوں نے چاروں اور دیکھا
17:19اور گہری سانس لی
17:22مانو کسی لمبے سنگھرش کے بعد راہت ملی ہو
17:28دیکھ رہے ہو بیٹا
17:29یہ نشان
17:31یہ اسی چھایا کے ہیں جو پوری رات مندر کے چاروں اور منڈراتی رہی
17:36وہ کوشش کر رہی تھی
17:37کہ تمہیں باہر کھینچ لے جائے
17:39تمہارے مند کے پریم کا استعمال کر کے
17:41تمہیں اپنے جال میں پھسائے
17:44پر بھگوان شیف کی کرپا سے
17:46وہ اس مندر کی سیمہ پار نہیں کر سکی
17:49یہ ریکھائیں اس کی اسفلتا کی نشانی ہیں
17:52وہ اب بھی مکتی نہیں پا سکی
17:54اس لیے ہر توفانی رات میں لوٹتی ہے
17:57کسی نئے من کو بہکانے
18:01مہاراج
18:03یہ چھایا آخر کون ہے
18:06کیوں ہر رات یہاں آتی ہے
18:09اور کیوں مجھے اپنی ماں کی آواز میں بلا رہی تھی
18:13اس کا کیا رہیسے ہے
18:16اس کی پچھلی کہانی کیا ہے
18:20بیٹا یہ چھایا کوئی سادھارن آتما نہیں ہے
18:23کبھی یہ بھی ایک انسان تھی
18:26ایک عورت جو اپنے پتی کی موت کے باگ پاگلپن کی حد تک ٹوٹ گئی تھی
18:31کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دکھ میں اتنی ڈوب گئی
18:34کہ اسے جیتے جی شانتی نہیں ملی
18:37ایک توفانی رات میں اس نے اسی جنگل میں اپنی جان دے دی
18:41تب ہی سے اس کی آتما اس جگہ سے بند گئی
18:44وہ اب بھی اپنے اکیلے پن اور درد سے مکت نہیں ہو پائی ہے
18:49وہ اپنے درد میں سب کو شامل کر لینا چاہتی ہے
18:52وہ جانتی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا پریم قصے ہوتا ہے
18:57اپنے اپنے پن سے
18:59اپنی ماں سے اپنے بچوں سے
19:02اس لیے وہ اسی آواز میں پکارتی ہے
19:04تاکہ جو سن لے وہ خود کو روک نہ سکے
19:08کئی آتری اس کے اس چھلاوے میں پھنس چکے ہیں
19:11اور پھر کبھی لوٹے نہیں
19:14وہی سب اس کی چھایا میں سما گئے
19:16اسی کے دکھ کا حصہ بن گئے
19:19بیٹا اگر میں تمہیں روکا نہ ہوتا
19:22تو صبح تک یہاں تمہارے پیروں کے بھی نشان نہیں ملتے
19:25اور تمہارے بیل وہیں کے وہیں کھڑے رہ جاتے
19:30سجیت کے رونگتے کھڑے ہو گئے
19:32سجیت نے کاپتے ہاتھوں سے سادھو کے چرن چھوے
19:36سادھو مہاراج اگر آپ مجھے نہیں رکھتے
19:38تو پتہ نہیں میرا کیا ہوتا
19:41سادھو مہاراج
19:43آپ نے میری جان بچائی ہے
19:47اگر آپ نہ ہوتے تو آج میں زندہ نہیں ہوتا
19:51میں آپ کا آج جیون رینی رہوں گا
19:55اسے میں کبھی نہیں بھولوں گا
19:58بیٹا مجھے نہیں
20:00بھگوان شیو کو کہنا
20:02انہیں کی کرپا سے تمہارے سرکشت ہو
20:05یاد رکھنا
20:06اس چھایا سے بچنے کا ایک ہی اپائے ہے
20:09شردھا اور وشواس
20:12یہ دونوں کبھی مت بھولا
20:15سجیت نے بھگوان شنکر کی مورتی کے پاس جا کر
20:20شردھا سے پرنام کیا
20:23پھر وہ باہر آ کر
20:24اپنی بیل گاڑی کے پاس پہنچا
20:28دونوں بیل سرکشت کھڑے تھے
20:32جیسے رات کی بھیانک گھٹناوں سے انجان ہو
20:35اس نے بیل گاڑی تیار کی
20:39سادھو مہاراج کو انتیم پرنام کیا
20:43اور وہاں سے روانہ ہو گیا
20:46راستے بھر اس کا من
20:48اسی رات کی گھٹناوں میں
20:50اُلجھا رہا
20:52وہ آواز کتنی سچی
20:54کتنی جیونت لگ رہی تھی
20:57اسے احساس ہو رہا تھا
21:01کہ اگر سادھو مہاراج نہ ہوتے
21:05تو شاید آج وہ
21:07زندہ نہ ہوتا
21:10صبح کی سنہری دھوپ
21:12اب پیڑوں کی پتیوں پر چمک رہی تھی
21:15دوپہر تک سجیت اپنے گاؤں پہنچ گیا
21:19گھر پہنچتے ہی
21:20اس کی نظر اپنی ماں پر پڑی
21:24وہ آنگن میں بیٹھی
21:26اپنے چھوٹے بیٹے سے
21:27ہستے ہوئے باتیں کر رہی تھی
21:30ماں کو کچھ نہیں ہوا تھا
21:33وہ بلکل سرکشت تھی
21:38یہ دیکھ کر سجیت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
21:42اس نے دور کر ماں کو گلے سے لگا لیا
21:47ماں حیران ہو کر بولی
21:51ارے یہ کیا حال بنا رکھا ہے
21:53تُو نے سجیت
21:54کامپ کیوں رہا ہے بیٹا
21:56کہیں راستے میں کچھ ہوا کیا
21:59بول نہ پگلے
22:01تُو ٹھیک تو ہے نا
22:03ماں
22:05میں بہت ڈر گیا تھا
22:09رات بھر تمہاری آواز سنائی دیتی رہی
22:13اتنی سچی اتنی قریب
22:16جیسے تم مجھے بلا رہی ہو
22:19میں نے سوچا تم کسی مصیبت میں ہو
22:24اگر سادھو مہاراج مجھے نہ روکتے
22:26تو شاید میں آج تمہارے سامنے نہ ہوتا
22:28سجیت نے اپنی ماں کو رات کی ساری گھٹنا بتائی
22:32اس کی بات سم کر
22:34ماں کی آنکھوں میں
22:35ڈر اور حیرانی دونوں چھلکنے لگے
22:39دھیرے دھیرے یہ خبر
22:40پورے گاؤں میں پھیل گئی
22:42سب کو معلوم ہو گیا
22:44کہ اس جنگل میں رات کے سمیں
22:46کچھ انہونی گھٹتی ہے
22:49تب سے کسی میں بھی
22:51اتنی حمد نہیں رہی
22:52کہ اندھیرہ ہونے کے بعد
22:53اس راستے پر قدم رکھے
22:56اگر کوئی انجان یاتری بھٹک جاتا
22:58تو گاؤں والے
23:00اسے شیو مندر کا راستہ دکھا دیتے
23:02جہاں سادھو مہاراج نیواز کرتے تھے
23:04اب سجیت ہر مہینے مندر جاتا
23:08شدہ سے سادھو مہاراج کے چرنچ ہوتا
23:11اور پوجہ کا سامان
23:13وفحل ارپت کرتا