00:00خون کی مہَسے وَحَق اُٹھے ہیں
00:04خون کے پیاسے جتنے بھی درندے
00:10احتجاز اور مقابلے سے غصے میں آ کر
00:14وہِ سچ کا آئینہ توڑarm göreتے ہیں
00:20پارتوس اور کب تک ختم ہوں گے
00:24ہاں ہاں پار اور کب تک فیلاوگے
00:29سینہ تان کر اور کب تک کھڑے رہیں گے
00:34شانت ہوگی کیا یہ فضاء
00:38مٹے گی کیا یہ ساری آہو فغان
00:43ہندوستان کی سڑکیں لہو سے رنگی ہیں
Comments