00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:03ایک تصویر کا آپ تصور کریں
00:06اس میں ایک سیاہ فارم سودانی بچی ہے
00:11وہ کہت زدہ علاقے میں
00:14تقریباً اس میں جان ختم ہو گیا
00:16وہ ہڈیوں کا پنجر بن چکی بھی ہے
00:18اس کی ایک تصویر ایک فوٹوگراف لیتا ہے
00:24وہ فوٹوگراف لے گئے
00:26اس کا تلق ساؤتھ افریقہ سے ہے
00:28کیون کارٹر نام ہے اس کا
00:29وہ تصویر لے کے اپنے ملق آجاتا ہے
00:33اور اس تصویر کو اس نیت سے
00:35وہ ایک بڑے اخبار میں پرنٹ کرواتا ہے
00:38یہ نائنٹی تھری کی بات ہے
00:39اس وقت سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا
00:41وہ پرنٹ کرواتا ہے
00:42تاکہ دنیا کو سودان کے کہہ زدہ
00:45سوڑا منظر پیش کرنے کے لیے
00:48وہ تصویر بے انتہا وائرل ہو جاتی ہے
00:51پورے برڈ میں
00:51اور اس کے بعد
00:53اس اخبار میں
00:56لوگ اس تفسار کرتے ہیں
00:58کہ اس بچی کا بعد میں کیا بنا
01:01بچ گئی
01:02یا وفات پا گئی
01:04یا اس کو طبیعی امداد ملی کیا
01:06لیکن اس کے بارے میں ابھی
01:07پھر وہ اخبار اس سے اس تفسار کرتی ہے
01:10اس فوٹو گرامتا جس نے وہ
01:11فوٹو شوٹ کی تھی
01:13تو اس کو بھی اس کے بارے میں زیادہ
01:16معلومات نہیں ہیں
01:16اب ایک اس کو اوارڈ بھی ملا بہت بڑا
01:19وہ دنیا میں بہت مشہور ہوا
01:21اور انہوں نے اس کا اصحاب لگایا
01:24کہ یہ سوڈان کے جو اصل حالات ہیں
01:26تصویر نے
01:27لوگوں کے سامنے پیش کی ہیں
01:29اور لوگوں نے ایک دم
01:31سوڈان کی طرف توجہ دی
01:32اپنے سوڈان کی حالات
01:3393 کا قہد بڑا سخت تھا
01:35بہت اس میں موتیں ہوئی تھی
01:37اب
01:39تصویر بھی چھپ گئی
01:40اب یہ زیادہ
01:40کلیر نہیں کرسکرا
01:42اس کو جو فوٹو گرافر ہے
01:43کیونکہ سچا انسان تھا
01:45جو اوٹ بولنے
01:46ہمارے پاکستانین جیسا ہوتا
01:47تو چکر ایک دم دے دیتا
01:48کہ یار وہ وہاں
01:49میں نے امداد دی تھی
01:50یا جو ایسے
01:51جیسے بھی آپ کہہ لیں اس کو
01:53اب ایسا ہوتا ہے
01:55کہ ایک
01:56سمجھیں
01:58پریس کانفرنس ہوتی ہے
02:00اس میں ایک
02:02فوٹو
02:02ایک یعنی رپورٹر
02:03اس کو سوال کرتا ہے
02:05کیونکہ سچا انسان تھا
02:06آپ نے ادھر تصویر جب اتا رہی ہے
02:09تو اس کے بعد
02:11آپ نے بچی کو
02:11ریسکیو نہیں کیا ادھر سے
02:13اب وہ بکھلا ہٹ کا شکار ہو گیا
02:15سچا انسان تھا
02:15جھوڑ بولتا
02:16چکر دیتا
02:17ایک منٹ میں
02:17اپنی اتنی بڑی ککنٹرہ
02:19برسی سے بچ جاتا
02:20اس کا جواب نہیں دی
02:21وہ کہتا
02:22یار میری فلائٹ تھی
02:23میں وہاں ٹھہ دی سکتا
02:25میرے پاس ٹائم نہیں تھا
02:26اب اس کے بعد
02:27وہ فوٹو گرافر کہتا ہے
02:29کہ ادھر
02:31ایک گد جو بیٹھی ہوئی تھی
02:33اس کا گوشت نوچنے کے لیے
02:35اور ایک گد اور تھی ادھر
02:36اس گد کے ہاتھ میں
02:38کیمرہ تھا
02:40وہ اس کی تصویر کو نوچنا چاہتی سی
02:42اس نے نوچی اوال لیا
02:44پورے ورڈ میں
02:45لیکن اب یہ چیز ہے
02:47کہ وہ جو
02:49کیون کارٹر ہے
02:50وہ اتنا حساس انسان تھا
02:52کہ وہ ایسا ڈپریشن میں گیا
02:54کہ اس نے تھوڑے عرصے بعد
02:55تیتی سال کی عمر میں
02:56خودکشی کر لی
02:59اور خودکشی بھی
03:00اس نے عجیب طریقے سے کی
03:01ایک وین کے اندر
03:03اس نے اس کا جو اگزاسٹ ہوتا ہے
03:06اس کو آپ پائپ لے کے
03:07اس نے وین کے اندر دے دیا
03:09اور اپنے آپ کو محصور کر لیا
03:10گاڑی کے اندر
03:11یہاں تک کہ وہ کاربن مونو اکسائیڈ سے
03:14اس ریپورٹر کی موت ہو گئی
03:16یعنی وہ
03:17سمجھے تنقید کا شکار
03:19پہلے اس کو وارڈ ملا
03:20بعد میں وہ سخت تنقید کا شکار ہو گیا
03:22لیکن میں اپنا تفسر آپ کو پتاتا ہوں
03:24کہ میں اس کو ایک سچا انسان سمجھتا ہوں
03:26اس کو اتنا حساس تھا
03:27جب وہ غلطی کا حساس ہوا
03:29تو اس نے اس کی خودکشی کو
03:30ہم اپریشیٹ نہیں کر سکتے
03:32لیکن اس کے حساس کو ہم کر سکتے ہیں
03:34کہ اس میں اتنا حساس
03:35اس کی کا حساس ہوا
03:36اپنی غلطی کا
03:37کہ اس نے یقین کرے ہیں
03:39اپنی سمجھے
03:40اپنی زنگی ختم کرنی
03:42اس واقعے کے پیچھے
03:43پس یہ چھوٹا سا واقعہ تھا
03:46اب یہ ہے کہ سچا بھی انسان تھا
03:48یہ بھی چھوٹا سا جھوٹ بول کے
03:50وہ اپنے پوری کنٹریورسی سے
03:51نکل سکتا تھا
03:58اسی ٹائم
03:59بچی کیا
03:59بچی کی اس کو
04:00رسکیو کرنا چاہیئے تھا
04:02شکریہ بہت میرے بہت
04:04اسلام علیکم
Comments