00:00كيسي جنومِ چراغِ دل جلا بیٹھے ہیں
00:03جو تھا نصیب اسے خود ہی گوا بیٹھے ہیں
00:07تلاشِ یار میں ہم خود کو مٹا بیٹھے ہیں
00:11ہم اپنی ذات سے بھی ہاتھ اٹھا بیٹھے ہیں
00:14وہ ایک خواب تھا جس کو حقیقت جانا
00:18اسی فریب میں سب کچھ لٹا بیٹھے ہیں
00:21تری گلی کا سفر تھا کہ عبادت جیسا
00:24اسی یقین میں زمانے کو بھلا بیٹھے ہیں
00:29جو بات سچ تھی لبوت تک نہ آسکی ہرگز
00:33ہم اپنے اندر کئی راز چھپا بیٹھے ہیں
00:37نہ کوئی نقش رہا نہ پہچان باقی ہے
00:40ہم اپنے آپ کو کس طرح پہ گوا بیٹھے ہیں
00:44کبھی جو شور تھا دل میں وہ تھم گیا یک سرب
00:49اپنی دھرکنوں کو بھی سنا بیٹھے ہیں
00:52کسی کی یاد نے ایسا اثر دکھایا ہے
00:55ہم اپنی نین کو آنکھوں سے اڑا بیٹھے ہیں
00:59یہ کیسا کرز محبت تھا جس کو چکانا تھا
01:03ہم اپنے حال کو ماضی بنا بیٹھے ہیں
01:07اس جنوں کے سفر میں ہم اتنا ہارے ہیں
01:10کہ اپنی ذات سے بھی رشتہ گوا بیٹھے ہیں