Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Nohay# Famous Pakistan nohakhawan# Mir Hassan Mir 2026

Category

🎵
Music
Transcript
00:15Abbas, Hay Abbas, Abbas, Hay Abbas, Abbas, Hay Abbas, Abbas,
00:27Hay Abbas, Hay Abbas, –
00:36Hay Abbas,
00:38سرچوم کے عباس کا کہتے رہے سرور،
00:43بتیس برسوار دیئے چار برس پر،
00:49سرچوم کے عباس کا کہتے رہے سرور،
00:54۱۪۪ برس مار دیئے چار برس پر
01:00اک مشکِ سکینہ کے لیئے مازو کٹا کر
01:06۱۪ برس مار دیئے چار برس پر
01:11سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
01:16۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
01:23ارلا شالیِ گوڈی میں صدا دیتی ہے زخرا
01:28اس شیر کا خون بہ گیا پاڑی سے زیادہ
01:34آفاس کا احسان ہے یہ آل نبی پر
01:40۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
01:45سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
01:50۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
01:56آئے بازو کو کلم دیکھ کے کہنے لگے مولا
02:02یہ ہاتھ میرے ہاتھ میں بابا نے دیا تھا
02:08پر پھر سوئے نجف دیکھ کے گویا ہوئے سر
02:14۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
02:19سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
02:25۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
02:31شفیر پہ صدقے ہوا شفیر کا بندہ
02:36یا فاطمہ زغرا میرا مقبول ہو حدیہ
02:42کہتی ہے بقیعہ میں یہ آفاس کی مار دیئے
02:48۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
02:53سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
02:58۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
03:04سادات کی اب کون بجھوئے گا بھلا پیاس
03:10ایک کرز لگا زی سے گرے خوک پہ آبا
03:16یہ سنتے ہی خیموں میں ببا ہو گیا میرے سر
03:21۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
03:27سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
03:32۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
03:45۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
04:01سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
04:06۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
04:12مجلس میں کبھی نام جو آباس کا تھا
04:18یہ کہتے ہوئے اٹھتا تھا شعبیر کا بیٹا
04:23۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
04:35سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
04:40۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
04:46رو رو کے صدا دیتی تھی یہ فالنے والی
04:52آفاس ہوئی آج سے جھوڑی میری خانی
04:57ارتھا شعب پا خیمہِ گلسوم کے اندر
05:03۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
05:09سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
05:14۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
05:20اور کیا نغر پہ گزری ہے یہ کہتی تھی سکینہ
05:25کیوں خون میں ڈوبا ہے عالم میرے چچا کا
05:31شہ بیٹی کو کہتے رہے سینے سے لگا کر
05:37۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
05:42سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر
05:48۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
05:54زینب کو غریبی کی خبر کیسے سناتے
05:59مارے گئے آفاس یہ کس دل سے بتاتے
06:05۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
06:17سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر جمع
06:22۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
06:27اے لاشے کی طرح ہاتھوں پہ پر چم کو اٹھا کر
06:33۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
06:52سر جمع کے آفاس کا کہتے رہے سر جمع
06:58۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
07:03۱۪ تیس برس مار دیئے چار برس پر
Comments

Recommended