- 6 weeks ago
Speaker: Syed Muzaffar Hussain Shah
Topic: WAJAHAT-O-IKHLAQ SYEDNA USMAN GHANI (R.A)
Released by: FAIZAN-E-ASHRAF
Year: 2005
Topic: WAJAHAT-O-IKHLAQ SYEDNA USMAN GHANI (R.A)
Released by: FAIZAN-E-ASHRAF
Year: 2005
Category
📚
LearningTranscript
00:00کہ سیدہ مقید و آپ کے رکھانے تھی ان کی طبیعت بڑی ناساز ہوگی
00:04سکان نے فرمایا سمان تم میری بیٹی کا خیال رکھو
00:08کیونکہ تم میری بیٹی کا خیال رکھ رہے ہیں اس سے بڑی کونسی بادت ہے
00:12فرمایا تم میری بیٹی کا خیال رکھو ہم جا رہے ہیں لیکن جب بدر فتح ہوا
00:18جب مسلمان بدر سے نوپے اور سکان نے مال غریمت تخصیم کیا
00:23تو مال غریمت کی تخصیم گندر سکان نے حل دسمان غریم کو بھی حصہ دیا
00:29صحابہ نے جب دیکھا تو سکان نے فرمایا درسل یہ بھی کوئی عبادت میں لگا ہوا تھا
00:33میری حکم کی تعمیر میں لگا ہوا تھا میری بیٹی کی خدمت میں لگا ہوا تھا
00:37تو سکان نے جہاں پر جنگ بدر کا حصہ گدر اور صحابہ کو دیا
00:41وہی پر سکان نے صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غریم کو بھی حصہ بڑا تھا
00:45یہ آپ کی فضیت اور آپ کی شان کے گوہ کے بڑے عظیم دریشے ہیں
00:50اللہ تعالیٰ نصب کے اعتبار سے یہ کہ آپ دیکھیں
00:55تو جس طرح کے میں نے آپ کے سانے ارس کیا
00:57کہ سیدنا عثمان غریم عزید ورائم
01:03قبولہ خاندام معذر
01:06قبیلہ معذر
01:08امیہ
01:09کہ پشت پر پہنچ کر وہ سرطان عثمان غریم کے مصبے مبارک کے پاس داکت
01:14آپ کا سلسلہ مبارک جل جاتا ہے
01:17حضرت عثمان غریم عزید ورائم عزید ورائم
01:20میرے آخری صلی اللہ علیہ وسلم نے جن سعادتوں سے
01:23بحابت فرمایا
01:24اور نمازہ ہے
01:26اس کو کون بیان کر سکتا ہے اللہ اکبر
01:28نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ میں موجود ہے
01:31اپنے نمبر پر جلگت کی
01:32کہ ایک شخص سامنے سے گزر
01:34سرطان فرمایا
01:35دیکھو
01:36وہ اپنے مو پر مخابر ڈال کر
01:38جو شخص جا رہا ہے
01:39اس کا دور بڑا فترہ کے دور ہوگا
01:42اس کے دور میں ہوگا یہ
01:43کہ
01:44ظالم اس کے سب کی طرف بڑھیں گے
01:47اور یہ اس وقت مظلوم ہوگا
01:49اور اگر یہ چاہے گا
01:51تو سب کچھ کر سکے گا
01:52لیکن یہ کرے گا کچھ نہیں
01:54حضرت مرہ کے انکام کہتے ہیں
01:56کہ میں سرطان کی اس تخریر کو سنگا تھا
01:58میں دور کے ہو گیا
02:00کہ وہ نقاب کو
02:01اس شخص جائد ہو رہا ہے
02:02میں آگے پہنچا
02:03جب ان کے چہرے سے میں نے نقاب ہنایا
02:05وہ حضرت عثمان حمید تھے
02:07میں نے سرطان سے کہا
02:09کہ حضور
02:09آپ عثمان کے لارے میں فرما رہے تھے
02:12سرطان نے فرمایا
02:13ہاں
02:13میں اسی کے بارے میں کہا تھا
02:15اللہ علیہ ورزت نے آپ کو حیاء کا پیکر کیسے بنایا
02:17اور اللہ نے آپ کو
02:19شہر اور عظیت
02:20حیاء کے طور پر کیسے عطا فرمائی
02:22ربِ قیل فرماتا ہے
02:23اور احادیث کے اندر موجود ہو
02:25کہ جس کے اندر حیاء نہیں
02:26اس میں ایمان نہیں
02:28جس میں حیاء نہیں
02:29اس میں ایمان نہیں
02:30حدیث سے بات میں آیا
02:32سرکار فرماتے ہیں
02:33کہ میرا رب غیرتی ہے
02:35اور غیرت کو پسند کرتا ہے
02:37میرا رب حیادار ہے
02:40اور حیادار شخص کو پسند کرتا ہے
02:42روایت میں آتا ہے کہ حبتِ
02:44نبی احباد صلی اللہ علیہ وسلم
02:45اپنے حجرے مخدسہ میں بیٹھے ہوئے تھی
02:48بارباد کا
02:49کہہدن شریف
02:50آپ کی بندری سیور پر تھی
02:53دروازے پر دستک ہوئی
02:56کانکان
02:57عمر مہنین نے پوچھا
02:59تو سیدہ سنگی کے گمت کی
03:00سلطان صلی اللہ علیہ وسلم
03:02کہا کہا کہ خزون سنگی کھائے ہیں
03:03سلطان نے کہا بھیج دو
03:04سلطان اسی طرح بیٹھے رہے
03:06سندھی کہا پھر بیٹھ جائے
03:07دروازے پر پھر دستک ہوئی
03:09سلطان نے فرمایا کون
03:11کہ اوگر
03:13سلطان نے فرمایا جاؤں
03:14جب اندر آئے
03:15سلطان اسی طرح بیٹھے رہے
03:17پھر دروازے پر دستک ہوئی
03:19کون
03:20کہا کہ خزون سمار آئے ہیں
03:23سلطان نے اپنے نشست کو تبدیل کیا
03:25اور اپنے تہدن کو جو پڑنی سے اوپر تھا
03:28اس کو نیچے کیا
03:29اور سلطان بیٹھ گئے
03:31معاملہ ہوا
03:32گفتگو ہوئی
03:33حضر سمار تشید لے گئے
03:35ساری صحابہ تشید لے گئے
03:37میری ماں اممین
03:38سید آئیشہ صدیق خالدی اطاہہ پر انہارے
03:41سلطان کی بارکہ میں ارز کیجئے
03:42حضور
03:42یہ کیا معاملہ ہے
03:44کہ جب میرے والد آئے
03:45آپ کا تحبہ مبائے
03:47پنیلی کے خلیق تھا
03:48آپ نے اسے صحیح نہیں کیا
03:50اور نشست کے اسی طرف آکھ رہے
03:53اسی طرح عمر آئے
03:54تو کیفیت یہی نہیں
03:56حضور یہ چاہت اللہ
03:57کہ جب اسلام آئے
03:58تو آپ نے اپنی مشیس کو تبدیل کر دیا
04:00سلطان نے فرمایا
04:01آئیشہ
04:02میں اس بندے سے
04:03حیاء کیسے نہ کروں
04:05جس سے خدا حیاء کرتا ہے
04:07یہ مقام
04:08سید رسولان غدیب
04:10ذنب الرعیم
04:10رضی اللہ تعالیٰ منہ
04:12وہ اللہ تعالیٰ منہ کو آپ نے عطا فرمایا
04:14آپ نے عدد
04:15اور تعظیم کے ایک تعلیم ذکہ مقی ہے
04:19حب رسول
04:20اور سلطان علیہ السلام کے
04:22نباہ مبارس کے لکھلے ہوئے فرمودات پر
04:25سلطان کے انتخاب پر آپ پورا اتنئے
04:28اللہ تعالیٰ
04:30محبت کارم یہ ہے
04:31تعظیم کے علامت یہ ہے
04:33کہ جمعہ قدر ہے
04:34میرا آقا علیہ السلام
04:36اپنے
04:37مسجد سے لباہر لکھلے
04:39عثمانی غیم
04:40سلطان علیہ السلام کے پاؤں کی خدم گر رہے
04:42ایک دو تین چاہو
04:44سلطان علیہ السلام
04:45سلطان علیہ السلام کے پاؤں کی خدم پہنچے
04:46تو وہاں تک سارے خدم گئے
04:52تھے کہ حضور آپ کا وجود
04:55خدا کی کتنی بڑی میں بچے
04:56ہمیں کفر و شرک سے
04:58مجاد ملی آپ کی وجہ سے
05:00حضور آپ کا جو جو قدم
05:03مسجد سے
05:04آپ کی کھر کی طرف پڑھنا ہے
05:06میں نے اسے شمال کیا ہے
05:08آپ خدا کی نیوت ہے
05:09اس کی شکر کے لیے
05:11میں آپ کی ہر قدم پرے گناہ مزار کروں
05:13آپ کی ہر قدم پر
05:16اے گناہ مزار کر اللہ
05:17یا حضرت عثمانی غیم
05:18زنورائے نظیر کا
05:20عناہ وردہ ورنہ کی
05:21محبت اور اقلام کا یہ عالم ہے
05:23اور تعظیم کا کیا عالم ہے
05:25صحیح کی کتابات میں موجود ہے
05:27کہ اس وقت
05:28مسئلہ کے خلافت پر جنب کر ہوئے
05:31تو ممبر کے وہ تین زینے
05:34آپ نے سب سے اوپر والے زینے پر
05:36اپنے مشک بنائی
05:38کیونکہ
05:39ممبر کے تین زینے
05:41پہر زینے پر ستار بیٹھتے تھے
05:44دوسرے پر سیدھنا صدی کے اندر
05:46اور تیسرے پر سب سے نیشے
05:48سیدھنا فاروق کے عظم بیٹھے
05:50جب آپ آئے
05:51تو آپ نے سوچا
05:52کہ میں کا حکم بیٹھوں
05:53آپ سب سے اوپر بیٹھے
05:55اور لوگوں سے کہا
05:57کہ تم نے دیکھا
05:58کہ میں نے پہلے
06:00دوسرے اور تیسرے زینے پر
06:02کیوں نہیں بیٹھا
06:03بات در سے یہ تھی
06:04کہ دوسرے زینے پر
06:06سیدھنا صدی کے بر بیٹھتے تھے
06:08میں نے وہ زینہ
06:09اس لیے انتخاب نہیں کیا
06:10کہ کوئی یہ نہ سمجھے
06:12کہ میرا مقام
06:12کوئی بکر کیسا ہے
06:15تو جس صدی کے بر بیٹھے
06:17میں اس لیے نہیں بیٹھا
06:20یہ عدب اور تازین
06:21نکھا جا رہی ہے
06:22یہ دانچین منڈ خوری
06:24اپنے باپ سے یہ
06:24گھا تھا پی رہتے ہیں
06:25یہاں صحابہ دیکھیں
06:26تازین کیسی لقم کر رہے ہیں
06:28کہ عدب جو ہے
06:29یہ سارے
06:30عبادتوں کا محصہ ہے
06:32عدب جو ہے
06:33یہی خدا کی بارگاہ میں
06:35ہر شہ کو
06:35امانی نامہ دینے بارا ہے
06:37آپ نے فرمایا
06:38کہ میں اس لیے پر اس لیے نہیں بیٹھا
06:40کہ یہاں پر صدی کے بر بیٹھتے تھے
06:42اس لیے نہیں بیٹھا
06:43کہ اگر میں بیٹھتا
06:44تو لوگ تصور کرتے
06:45کہ میرا مقتباب بکر کی طرح ہے
06:47فرمایا میں دوسری زیبے پر نہیں بیٹھا
06:49اس لیے نہیں بیٹھا
06:51کہ وہاں پر عمر بیٹھا کرتے تھے
06:52کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھے
06:54کہ عمر جہاں پر بیٹھا ہے
06:56میں وہاں پر بیٹھوں
06:57لوگ یہ سمجھے
06:58کہ میری عزت
06:59اور عمر کی عزت برابر ہے
07:01میرا مقام
07:01اور عمر کا مقام برابر ہے
07:03فرمایے نہیں
07:04میں اس زدہ پر برخلاں ہوں
07:06جہاں پر ستار دیتے تھے
07:07اس لیے کہ جہاں پر برابری
07:09تسلاحی پیدا نہیں ہوتا ہے
07:14حضرت عثمان حریر
07:16یہ شان دی
07:18کہ یہ برابری کی بات
07:20تو عمت عمت میں جنے گی
07:22نبی کے سامنے
07:23تو کسی خزیر کے ذہن میں
07:25یہ خیال آسکتا ہے کہ نبی برابر ہوتا ہے
07:27کسی مومن کے ذہن میں
07:29یہ خیال ہے
07:31کبھی نہیں آسکتا
07:32آپ نے فرمایا میں خیال پیدا ہو سکتا تھا
07:35دوسرے اور تیسرے زیرے پر
07:37کیونکہ وہاں پر ابو بکر اور عمر کی بات تھی
07:40میں نے وہ دونوں زیرے استعمال نہیں کیے
07:42اس لیے کہ تہیے ایسا نہ ہو
07:44کہ لوگ مجھے کہے کہ میرا مرتبہ
07:46ان کے برابر ہے
07:46نہیں وہ میرے سواب ہیں
07:48میرے بزرد ہیں
07:49میں ان کے برابر نہیں
07:50میں اس خدا پر بیٹھا
07:51جہاں پر ستار دیتے ہیں
07:53اس لیے کہ یہاں پر تو سوالی بھی پیدا ہوتا
07:55اپنا بری کا
07:56اس لیے میں نے اس رشید کو پر یہ منتقل فرمایا
07:59تو یہ عدد
08:01اور تازیم کا مقام ہے
08:03حضرت سیدنا عثمان غلی
08:05زنو رہے رضی اللہ ہوتا ہے
08:07وہ عطا ہونا کا
08:08اگر حضرت سیدنا
08:15اگر حدیبیہ کی طرح ہم چلے
08:21اور چھے ہجری کی طرح ہم چلے
08:23کہ جب میرے عطا علیہ السلام نے
08:27کل بھی اس کا ذکر فارو کے عظم دی
08:28یا انہیں گزران
08:30کہ سکار نے خواب دیکھا
08:32کہ میں
08:34اپنے
08:35چودہ سو صحبہ کے ساتھ
08:38مقام
08:40مدینہ سے ہوتا ہوا
08:43میں نے مکہ مکرمہ کا تباف کیا
08:45اور وہاں پر میں نے عمرہ کیا
08:47سکار نے چودہ سو صحبہ کو لیا
08:49اور سکار روانہ ہوئی
08:52حدیبیہ
08:53جو مکہ کے قریبے جگہ ہے
08:56وہاں پہ جب سکار پہنچے
08:57کفار مشرقین نے اپنی پولس سے ظاہر کی
09:00کہ اس سال ہم آپ کو
09:02مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے
09:04اس لیے
09:05کہ اس سال ہم آپ کو برا کرنے نہیں دیں گے
09:09آپ آئیتہ سال آئیتہ
09:11سکار روانہ السلام کے صحبہ میں کیا رفت ہوگی
09:14کل حدیت عمر کے یوم میں آپ نے سناف کیا
09:18اب دیکھئے
09:19اب بات یہ آئی
09:21کافروں نے کہا کہ ہاں یہ ہو سکتا ہے
09:23کہ آپ
09:25اپنے کسی نمائندے کو
09:27کسی شخص کو ہمارے پاس بھیجیں
09:30اور وہ شخص
09:31ہم سے ملاقع کریں
09:33معاملات کریں
09:34اور تمام معاملات
09:35قبول پائیں
09:36ان کی تاریخ میں بھی ہے
09:38اور ہماری تاریخ میں بھی ہے
09:39لیکن عجیب بدبخت ہے
09:41کہ ان اخلاص کی باتوں کو بھی
09:43وہ نفات کی طرف لے جاتے ہیں
09:44اور اپنے تمام
09:46کالے کرتوزوں کو
09:48ایمان کا رمض لیتے ہیں
09:49جن کا انتخاب سرکار و خود سرمائے
09:51جن کو حیرت کی رات سرکار خود رہی جائے ہیں
09:54جن کو محبتش کا لطف سرکار خود نے
09:56اور آج ہو گئے دیا میں
09:58پورے اسلام کی تریمانی کرنے کے لیے
10:00کفار مشرقین کے پاک
10:03میرے آقا جس کو بھیج رہے ہیں
10:04وہ عثمانی خلی
10:07عثمانی خلی کو سرکار نے فرمایا
10:08جاؤ عثمان
10:10جاؤ مکہ
10:10احرام پینا ہوا ہے حضرت عثمان نے
10:13سارے صاحبہ احرام نے
10:14آپ نے بھی احرام پینا ہوا ہے
10:16سرکار نے فرمایا جاؤ عثمان
10:19اور کفار سے بات کر کیا
10:22ابھی کوئی بچوں کا کھیمتوں کھانے
10:23ان کھڑوڑوں کو کہا کہ
10:25اس طرح پولیس نہیں لگی کہ ایسی جاؤ
10:26مرے میں یہاں کوئی پھڑا دے گا
10:28صحیح ہے نا بھئی آپ سے
10:30ہم نے یہ دکا نہیں ہے تو
10:31وہ بھی نہیں تو
10:32تو بھی نہیں بات ختم ہو جائے
10:34تو یہ تو بھی ہے
10:35اس کے تو کبھی سامنے نہیں آگا
10:37عثمان نے یہ کہہ دیتے ہیں
10:38حضور نیہتہ کیسے جاؤں
10:39دس بار آدمی اور میرے ساتھ دے
10:41کہ مکہ میں جاؤں اکیلا
10:44وہ تو پہلے ہمارے خون کے پیاسے
10:46بدر میں ہم نے ان کے باپ دعباؤں کو مانا رہا ہے
10:49ان کے سماؤں کو مانا رہا ہے
10:50ان کے غصاں کو مانا رہا ہے
10:52قریش میں ہم
10:53ہم نے اہل میں ان کا کیا حال کیا ہے
10:55حضور آج تو بدرہ مل جائے گا
10:56اب وہ سارے کام کمان کر دیں گے
10:58حضور میں تو نہیں جا رہا
11:00اس لئے کہ میں نے آپ تک علمہ پڑھا ہے
11:02بس اس بار پر تو ہوں
11:03لیکن جاؤں گا میری
11:04اگر جانے کی بات کرتے ہیں تو سمجھیں
11:07نہیں
11:07سید عثمانِ غلی کو میرے آقا میں ہمیں جاؤ
11:10کہا حضور بالکل
11:12آپ اپنے ملکنی بسوار ہوئے
11:14اکیلے تشریف لے گئے
11:17جب تک دین در مغائی نہیں ہوتی
11:18یہ آگے نہیں آتے
11:20وہاں عثمانِ غلی اکیلے جا رہے ہیں
11:23اپنے ملکنی بسوار ہیں
11:25کیونکہ وہاں پر جسم اور دل کی بات نہیں
11:27وہاں پر فنائیت ہے
11:28وہ مجسمہ عشقِ رسول ہے
11:30اور انہوں نے اپنے آق کو بھلا دیا ہے
11:32انہوں نے موج سے خوف نہیں ہے
11:34انہوں نے کہے دیا
11:35میرے آقا نے کہا جا تو جا
11:36کا شہید بھی ہو گیا
11:38تو تاریخ یہ ہی کہے گی
11:39کہ آقا نے بھیجا تھا
11:41خدا بخشی اس لیے کرے گا
11:43کہ اللہ کے رسول نے بھیجا تھا
11:45اب آقا کر
11:45حضور بسمانے گئے جو گئے
11:47تو یہ نہیں
11:48کہ دشمنوں کے عراقے میں گئے
11:51تو سر جگہ میں گئے ہوں
11:52اور خاموشی کے ساتھ گئے ہوں
11:54کہ زیادہ سباہ کے
11:55کفار مشرقین کا پورا عراقہ ہے
11:57ان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہے
11:58تو یہ آقا مذاکرات پر یہ
12:00ایسی رسم بنائی جائے
12:01تاریخ کی قوام کتابوں کے اندر میرے حسیثوں
12:04یہ بات ترک ہے
12:05کہ جب عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ ہو
12:07اللہ عنہ
12:09مکہ کی حضور میں ناخل ہوتے ہیں
12:12کفار کے بڑے بڑے سرما
12:13اور رواصہ
12:15اپنے اصلے کو صاف کرتے ہیں
12:17اور ان کو ڈرانے کے لیے
12:19حضور پر کھڑے ہیں
12:20عثمانِ غنی نے ان کو یہ نہیں کہا
12:22السلام علیکم
12:23السلام علیکم
12:24کہ مباہت نے نہیں آئی ہے
12:25سلام سے درہ نرم ہو جائے
12:27کچھ جائے چھوڑ دو
12:28نہیں
12:29تاریخ نے لکھا
12:30کہ عثمانِ غنی کا سینہ
12:32آسمان کی طرف اٹھا ہو رہا تھا
12:33اور آنکھیں ان کی آنکھوں میں ڈال کر
12:35آنکھ ان کی صفوں کو چیلتے ہو
12:37مکہ کے اندر آ رہے تھا
12:41موریخی نے لکھا یہ کیا بات تھی
12:43کہ عثمانِ غنی نے یہ معاملہ کی
12:46فرمایت دو باتیں اس کے لکھیں
12:47پہلے تو یہ
12:49کہ وہ صحابی رسول تھے
12:51انہیں ڈر موت کا نہیں تھا
12:53دوسری چیز یہ
12:55کہ آپ کے سامنے لوگ کھڑے تھے
12:57سب آکے
12:58قرضدار تھے
12:59اس لیے کہ یہ
13:00جو سامنے کھڑے تھے
13:02سب کو آپ نے مان لیا ہے
13:04ان میں اتنی حیاء اور غیرت نہیں تھی
13:05کہ وہ آپ سے آنکھ میں آکے بات کرتے
13:07عثمانِ غنی حال کے حال میں مکہ میں داخل ہوئے
13:10آپ مکہ میں آئے
13:12مذاکرہ شروع ہو گئے
13:13کعبہ سامنے ہیں
13:16کعبہ
13:17سامنے ہیں
13:19آپ نے زمزم سامنے ہیں
13:20زمزم کا وکوہ سامنے ہیں
13:22مقام ابراہیم سامنے ہیں
13:24صفہ مربا سامنے ہیں
13:26اس بار میں کھڑے ہیں
13:27کافروں سے باتیں کر رہے ہیں
13:29باتیں چل رہی ہیں
13:32وہاں تو حدیبیہ میں صحابہ ہے نا
13:35وہ افسودہ بیٹھے ہوئے ہیں
13:37شہدان ان کو جباہ کا کیوں پریشوار ہو
13:39کہ حضور ہمیں اس بار کو رشتہ آ رہا ہے
13:43تک کہہ سامنے ہیں
13:44کہ حضور وہ تو مکہ چلے گئے ہیں
13:47ہم تو احرام میں یہی بیٹھے ہوئے ہیں
13:49وہ تو طلاف کر رہے ہوگے
13:52زمزم پی رہے ہوں گے
13:53میرا آگا ہے اس قرآن کے فرمایا
13:55نہیں نہیں
13:56وہ میرا عثمان ہے
13:57وہ میرے بغیر طلاف نہیں کرے گا
13:59اللہ
14:07وہ میرے بغیر حرم کا طلاف نہیں کرے گا
14:12وہاں عثمان غریب طابع کے سامنے
14:15کفار مسئلتین کے ساتھ مزاقہ کر رہے ہیں
14:18حالت احرام میں آپ ہیں
14:20اللہ اکبر
14:22کافر نے تاکہ عثمان دیکھو
14:25تم نے ایک بہت بڑے زنداد
14:26اور آپ کا ایک بہت بڑا نام ہے
14:31ہم آپ سے یہ کہتے ہیں
14:33کہ آپ عمرہ بھی کر لیں
14:36دواف بھی کر لیں
14:37زمزم بھی پی لیں
14:39اور آپ اپنا احرام کھول لیں
14:41اس لئے جو آپ احرام مکمل ہو جائیں
14:44ہاں
14:44آپ کے نبید دعائے میں
14:45ان سے یہ کہہ دیں گے
14:47کہ اس ساتھ
14:47ہم کسی عمرہ کے لئے نہیں چھوڑیں گے
14:50تم آگئے ہو
14:51تمہارے اوپر بڑے حسانات ہیں
14:53ہم تمہیں ڈالت دیتے ہیں
14:55دسمان غریب یہ چیز بھیج میں لینے والے نہیں
14:57آپ نے فضاے صحن
14:59کعبہ میرا سامنے ہیں
15:00اس کی عظمت کو میں سلام کرتā ہوں
15:02مطاق میرا سامنے ہیں
15:04اس کی عظمت کو سلام کرتا ہوں
15:05زمزم میرا سامنے ہیں
15:07اس کی عظمت کو سلام کرتا ہوں
15:08لیکن کعبہ ہے
15:10لیکن پہلے میرے آقا ہے
15:13پہلے ہیں میرے آقا میں
15:14میرے آقا نہیں
15:16تو مجھے کعبے میں جانے کا شوق بھی نہیں
15:18میرے آقا اجادت کریں
15:20کعبہ کعبیر تازین ہے
15:21میرے آقا اجادت نہ دیں
15:23تمہیں کعبے میں نہیں جانتا
15:25بتائیے لوگ کہتے ہیں مدینہ
15:29بڑا ہے یہ مقام
15:30میں نے کہا شہروں کو چھوڑو
15:32بات کرو میرے آقا کی
15:35عثمان اگری نے بتا دیا
15:36کہ تم کیا بات کرتے ہو
15:38کعبہ کی عظمت کو ہم سلام کرتے ہیں
15:40کعبے کو کعبہ بنانے والا میرے آقا
15:42کعبے کی مارکوں کو خدا کی عبادت کی
15:45تجویز کرانے والا میرے آقا
15:46اس لیے کہ بیت المقدس سے جب سطاہ میں
15:48نوح پھیلنا چاہا تو خدا نے کہا
15:50محبوب تیرے چہرے کو آسمان کی طرح
15:52اٹھتا ہوا دیکھ رہا ہوں
15:56تیرا چہرہ بار بار آسمان کی طرح اٹھ رہا ہے
15:59محبوب تیرے چہرے کو
16:00آسمان کی طرح اٹھتا ہوا دیکھ رہا ہوں
16:05محبوب ہم تیرے چہرے کو
16:07ابھی یہاں سے پھیل دیں گے
16:09دوسرے قبلے کی طرح جہاں لوگ نماز پڑھیں گے
16:13پھیلیں گے ہم
16:15کبلا بنائیں گے ہم
16:16مگر کس جگہ کو
16:18فرمائے ترداؤہ
16:20جسے تو چاہے گا
16:22جس میں تیری مرضی ہوگی
16:25عبادت ہماری ہوگی
16:27رضا مصطفیٰ کی ہوگی
16:28سجدہ ہمیں ہوگا
16:30کہ بلے کے انتخاب مصطفیٰ کے لیے
16:32جہاں اور انتخاب کریں گے
16:34وہی جگہ کعبہ بنے گی
16:35وہی جگہ بیت اللہ بنے گی
16:37حضرت عثمان غلی نے
16:38یہاں پر اس بات کا اعلان کر دیا
16:40کہ یہاں پر عاملے چیئے
16:41کہ تمام بابلات موجود ہیں
16:43اور تمام چیزیں موجود ہیں
16:45لیکن حضرت عثمان غلی نے فرمایا
16:47کہ میرے آقا نہیں ہے
16:49سکار نہیں ہے
16:50لہٰذا مجھے
16:52اب نہ کراف کرنا ہے
16:53میں یہ معاملہ کرنا ہے
16:54اب یہ سارے معاملات ہو رہے تھے
16:58کہ مشرقین نے
17:00ایک خبر مشروع کر دی
17:02ایک اعلان مشروع کر دیا
17:06کہ مکہ کے اندر عثمان
17:08کو خطر کر دیا گیا
17:10اور انہیں شہیر کر دیا گیا
17:13جب یہ خبر سکار نے
17:14صلی اللہ علیہ وسلم کو
17:15عدیدیہ کے مقام پر پہنچی
17:16تو آپ نے
17:17ببون کے دخل دی ریچے
17:20تمام چودہ سو صاحبہ
17:21کو جمع کر دیا گیا
17:23اور بہابر کا کون ہے
17:24جو عثمان کے لئے
17:25کساس دے گا
17:27تمام صاحبہ نے
17:28کو حضور حملے کے
17:29کہ عثمان غلی
17:30کو مزاقرات کے لئے
17:31گیشن
17:32ان کو شہیر کر دیا گیا
17:33اور ہم
17:34کافروں کو سوڑے دیں
17:35سکار فرما آگے
17:37کون ہے جو میرے عثمان
17:38کہ یہ
17:38کساس کی بیعت
17:40میرے ہاتھ پر کرے گا
17:41سارے صاحبہ آگے بڑے
17:42اور ایک ایک میں
17:44سکار کے ہاتھ پر گیا
17:45کہ بیعت کرنا شروع کی
17:47اب بیعت مکمل ہو گئی
17:49بابی کہنے لگے
17:50کہ سکار کو انہیں غیب تھا
17:52ایک وہ بھی ایسے ہیں
17:53کہ وہ صاحبہ کی حقیدت
17:56جگہ جگہ پر گیا
17:57کہ دوسری نظر آتی ہے
17:58یہ بھی ایسی ہے
17:59کہ سکار کی حدمتیں
18:01ان کو انہیں غیب اگر آتی ہیں
18:03یہ کہتے ہیں
18:03کہ سکار کو انہیں غیب تھا
18:05تو آپ کہہ دیتے ہیں
18:06کہ اس بارے غنید تو شہید نہیں ہوئے ہیں
18:09وہ تو ذنہ ہے
18:10میں ان کی بیعت دے رہا ہوں
18:12میں نے کہا سکار کو پتا تھا
18:14تو کہا پتا تھا
18:15تو سکار نے بیعت کیوں نہیں
18:17میں نے کہا اس لیے
18:18کہ تاکہ چور دن سگی کے اندر
18:20پر سرولوں پر
18:21تمہارے خانہزار رہائی اینہ کہیں
18:22کہ صاحبہ میں آپس میں نائی ہوا کرتی
18:24یہ تو سکار نے
18:26بیعت سنیئے بھی
18:28تاکہ قرآن کی یہ تشری بن جائے
18:30کہ اشدہو لنے تفارے
18:34کہ یہ کافروں پر شدت کرتے ہیں
18:36آپس میں بڑے رہیم ہیں
18:37وہاں پر اسمان علی کی خون کا مطا لینے چاہیے
18:40مولا علی بھی ہے
18:42ممر بھی ہے
18:43ابو بکر بھی ہے
18:44تمہارے صاحبہ ہیں
18:46سکار نے سب سے پینت لے کا
18:48ایک تاریخ رقم کی
18:49کہ جو میرے تربیت کی آفتہ ہیں
18:52وہ آپس میں دوسرے سے دشمنی ہوں گئے
18:54سکار نے بتا دیا
18:55کہ مولا علی عثمان علی دشمن نہیں ہے
18:57نہ عثمان علی کا دشمن ہے
18:59ایک بات یہ تھی
19:00دوسری بات یہ
19:01کہ میرے آخر علی صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:03وحدت کو ظاہر کیا
19:04اور پھر آخر میں میرے آخر نے فرمایا
19:06یہ بہت بڑے استعادت کی بات ہے
19:08کہ جس میں
19:09آج خدا نازی ہو چکا ہے
19:11تمام مسلمانوں سے
19:12کہ جو اس حقوق کے دخت کے نیچے
19:14بیعت لے رہے ہیں
19:15صدی اللہ علی صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:16اپنے ہاتھ اٹھایا
19:18فرمایا یہ میرا ہاتھ ہے
19:21اور میرا عثمان
19:22اس طاقت سے مہنم نہ ہو جائے
19:24فرمایا یہ میرے عثمان کا ہاتھ ہے
19:29فرمایا میں اپنے عثمانوں کی بیعت
19:31خود کرتا ہوں
19:33اور آپ جانتے ہیں
19:34بیعت مردوں سے نہیں ہوتی ہے
19:35بیعت زندوں سے ہوتی ہے
19:37بیعت زندوں سے ہوتی ہے
19:40تو ربیہ پاس صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:41بیعت لے کے یہ اشارہ پر حمد فرمایا
19:43کہ عثمان تو زندہ ہی ہے
19:45لیکن یہاں پر ایک تاریخ ختم کی لائی ہے
19:48کہ اگر کسی ایک مسلمان کو
19:50نقصان پہنچے گا
19:51تو اس کے بدلے کے لئے
19:52سارے مسلمان حاضر ہوتے ہیں
19:54اس لیے کہ مسلمان کی مثال
19:55ایک جسم کی طرح ہے
19:57جسم میں کہیں پر بھی تکریف ہو
19:59تو سارا جسم اس کی تکریف کو محسوس کرتا ہے
20:02حضرت عثمان غنی
20:05زندہ رائے میں یہ پاہو تارانہو
20:06اللہ ہمنا
20:07سیدنا ابو علیہ کہتے ہیں
20:09کہ عثمان غنی کا بڑا وطان ہے
20:11ان کی بڑی عزبتیں ہیں
20:13رابی نے پوچھا حضور کیسے
20:15فرمایا انہوں نے دو جگہ پر
20:17سرکار سے جنت خریدی ہے
20:19دو جگہ پر
20:20سرکار سے جنت خریدی
20:22فرمایا تک
20:23اور ایک روایت میں تو آتا
20:25تین جنگہ پر جنت خریدی ہے
20:26ایک جنگہ تو
20:27جب جنگ تبوک رڑھی جالی ہے
20:30یہ سرکار حیرت کر کے آئے مدینے
20:32تو وہاں پر
20:34مسلمانوں کے لیے پیرے کا پانی نہیں تھا
20:36تو ایک
20:37کنوا تھا
20:38جو یہودی کا تھا
20:40اور وہ پانی دیتا نہیں تھا
20:42وہ کہتا کہ پیسے لاو تو پانی ملے گا
20:44حضرت عثمان غنی اس کے پاس گئے
20:46کہا کمنا پیسہ چاہیے
20:48تو کہا آدھا کنوا بیچوں گا
20:51بارہ ہزار دیرم میں
20:53کتنے
20:54بارہ ہزار دیرم میں
20:56یہ آج کے دن دن دن دن نہیں ہے
20:57یہ وہ دیرم ہے
20:59کہ ایک دن دن دن در سو اونٹ خرید یہ تھا
21:01اور وہ ایک
21:02اونٹ گویا کہ اپنے میار پر
21:04آن دلائے کرنے پانی شہ ہو
21:06اس نے کہا بارہ ہزار دیرم
21:08آپ نے فرمایا کبول ہے
21:10اپنے علام سکار کے بارہ ہزار دیرم میں سکتو
21:12آدھا کنوا سے کیا مرات
21:14کہ ایک دن مسلمان پانی بھریں گے
21:16ایک دن نہیں بھریں گے
21:18لیکن مسلمانوں کی تعداد زیادت سکتا
21:21تو وہ پانی اتنا بھری جاتے تھے
21:22کہ دوسرے دن کوئے میں پانی کم رہ جاتی تھا
21:24تو یہ ہوئی بہت پریشان ہوا
21:26اس نے کہا کہ جناب
21:27اب یہ عادت ہوا بھی رویش میں کہتا ہوں
21:29تو بارہ ہزار دیرم پہلے
21:33سکار نے اران فرمایا تھا
21:34کون ہے
21:35جو اس کوئے کو مسلمانوں کے لیے مفکرے گا
21:38اور خدا کی راہ میں دے گا
21:41میں اس سے بارہ کرتا ہوں
21:43کہ خدا اسے جنرد دے گا
21:44حضرت عثمانِ غلی نے
21:45پہلے بارہ ہزار دیرم دیئے تھے
21:47اب خود تنہا لکھے
21:49اور یہ ہوئی سکار اٹھا
21:50آدھا پنوہ آر کی دن میں بھیجتا ہے
21:53اس نے کہا آٹھ ہزار دیرم
21:55آپ نے کوئی سودے اگنات نہیں کی
21:57آٹھ ہزار دیرم دی
21:58اور چند صحابہ تو ساتھ نے لیا
22:00اور سکار کے پاس پہنچے
22:02اور سکار سے کہا حضور
22:03آپ نے یہ فرمایا تھا
22:05کہ جس نے پہلے روما
22:06خدا کی راہ میں دیا
22:08اسے خدا جنرد نبادہ کرتا ہے
22:10صحابہ سے کہا
22:11اب آپ میری سبھانی سکرو
22:12یہ آدم کا مقام ہے
22:13سالے صحابہ کا حضور
22:15عثمانِ غلی نے
22:16پہلے بارہ ہزار دیرم دیئے
22:18پھر آٹھ دیرم دیئے
22:19اور اس کوئے کو خرید لیا
22:21اب مسلمان اس سے
22:22سبا بھی پانیت دیں گے
22:24اور شاہر بھی پانیت دیں گے
22:26سکار کے حضور
22:27عثمانِ غلی کو اسی میں سکر آیا
22:28فرمائے عثمان نے آج
22:30ہم سے جنت خرید لی
22:32ایک
22:33ایک وہ جنگِ تبوک
22:35جنگِ عصرہ
22:37ستا علیہ السلام علیہ السلام کی
22:39سب سے آخری جہار
22:40آخری جنگ
22:41جو میرے عثمان علیہ السلام علیہ السلام نے
22:43اعلان کیا
22:45کہ یہ بہت پسمانیگی
22:47اور مفنسی کی جگہ ہے
22:49کون اپنے گھر سے کیا نہ آیا تھا
22:51حضرت سنہ صدیق بطورہ دھر اٹھا کر لیا ہے
22:54حضرت عمر کہتے ہیں
22:56اس وقت میرا کاروبار بہت اچھا چلتا تھا
22:58حضرت عمر کہتے ہیں
22:59کاروبار اچھا چلنے کی بنا پر
23:01میں نے جا دیا
23:03اپنے گھر کے سانوان کو میں نے آدھا کیا
23:05اور آدھا سانوان میں نے
23:07لاکر سرطان کی باروں میں پیش کر دیا
23:09اب پیش کر دیا ہے
23:11جمعے کے دن میرے آخری صلی اللہ علیہ السلام
23:14اعلان فرما رہے ہیں
23:15وسیعت کر رہے ہیں
23:16ترخیب کر رہے ہیں
23:17کون ہے تو خدا کی راہ میں لے گا
23:19حضرت عمر کہتا ہے
23:27مارک کجابے کے
23:28جو اس میں سوار ہو کر جائے گا
23:30اس سوار کے خرچے کے
23:31اس کے گھر کے خرچے کے
23:34سکار پیٹھے گا
23:36سکار پھر کھڑ دو کرنا ہے
23:37کون ہے تو خدا کی راہ میں لے گا
23:39پھر حضرت عمر کجابے کے
23:41اور اس کی حضرت عمر کہتا ہے
23:44ایک ہزار اونڈ مارک پجاوے کے اس کے ساتھ اس حمان کی جو اس میں جائے گا اس کے خرچے
23:49کے اور اس کے گھرانوں کے خرچے کے بھی سرکار پھر بیٹھ گئے پھر سرکار کے کھڑے ہو کر قیام
23:55کیا پھر پر غیب دی کہ کون ہے جا اس دن کے لیے خباتینا ہمیں لے گا اس مارے ذریعے
24:00پھر کھڑے ہوئے اور عرض کی حضور میں ایک ترشید تین ہزار اونڈ
24:06تین ہزار اونڈ مارک پجاوے کے اس کے ساتھ اس حمان کی جو سواری اس میں سوار ہو کر جائے
24:13گا مجھا ہی اس کے خرچے کے اس کے گھر کے خرچے کے ستار نمبر سے اتر کر نیچے لائے
24:19حضرت عثمان غری کو مسجد نبضی میں اپنے سینے سے رنایا اور فرمایا کہ آج کے بعد گواہ ہو جاؤ
24:26میرے عثمان نے اتنی نیکی اور کر لی ہے کہ اب اسے نفری عبادت کی ضرورت نہیں ہے
24:33اب اسے نفری عبادت کی ضرورت نہیں ہے
24:36حضرت عثمان غریز بن نرائن رضی اللہ تعالیٰ و تعالیٰ و تعالیٰ کی شان اخیلت اور مقام یہ ہے کہ
24:42میرے آخر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جو منزلت تا فرمائی آپ کی شہدت چالیس کے ان تک
24:47آپ پر پانی بند کیا دیا
24:49بارہ سال کے قریب آپ نے فتوحات کی تبرستان ایران میں لیشاکو تہران کا علاقہ اسپین کا علاقہ آفریقہ کے
25:00جزائی تمام حضرت عثمان غریز کے دور میں فتح ہوئے ہیں
25:03سب سے پہلے قسطی میں بیٹھ کر بینا لے گانا اور جنگ لڑنا یہ سب سے پہلے زمان غریز کے
25:10دور میں ہوا
25:11کیونکہ حضرت عمر کے دور میں صاحبہ نے یہ کہا کہ حضرت عمر مالیہ نے شام سے خط دکھا حضرت
25:17عمر کو
25:17کہ یہودی اور مسانہ شام کے قریب جن جزیرے ہیں
25:23وہاں پر آہستہ آہستہ آ کر جمع ہو رہے ہیں
25:26تو کل ایسا نہ ہو کہ اس جزیرے پر وہ تفضہ کر لیں اور وہ خیبر والی کہاں ہی چھوڑے
25:32کہ خیبر میں بیٹھ کر یہودی مدینے والے کو پریشان کرتے تھے
25:35تو کلی ایسا نہ ہو کہ یہ جزیرے پر بیٹھ کریں یہ شام والے کو پریشان کریں
25:39حضرت عمر نے فرمایا حضرت عمر مامی صحاب
25:41تمہاری عقل کیا کہتی ہے کیا کرنا چاہیے
25:44کہ حضور راستہ اتنا ہے
25:46کہ خوشکی تو ہے سمندر بیچ میں
25:48ایک طریقہ یہ ہوگا کہ ہم کشتیوں میں مجاہدین کو لے جائیں
25:52اور وہاں پر جنگ ہو
25:53حضرت عمر نے سفی سمن آتے تھے
25:55نہیں میں کسی مسلمان کو موت کے موں میں نہیں ڈالنا چاہتا
25:58اس لیے کہ آپ نے کشتی کی جانت نہیں لی
26:01فرمایا نہیں کشتی کا بیڑا نہیں خیار کیا جائے گا
26:04اور عیسائی جو کرنے کرنے دو
26:07جب مقابلے بنائے میں تو وہ دیکھیں گے
26:09حضرت عمر کی شادت ہوئی
26:10اس بارے غلی نے خلاف پر آئے
26:13یہی سفائش حضرت عمر مانی نے آپ سے کی
26:15کہ حضرت آپ کا کہتے ہیں
26:17آپ نے فرمایا کہیں کی اجازت
26:19بیڑا بنائیے
26:20بینشان اللہ خیر دائے گا
26:22لیکن سنو
26:22عمر مانی سے فرمایا
26:24سنو
26:24اس میں کسی مجاہدین کو زمندرستی نہیں لے جائے
26:28اس میں جتنی فتح ہوگی
26:30سب ان میں تصمی کر دے رہا
26:32کوئی مار مالے عبیبت میں نہیں آئے گا
26:34سب مجاہدین کے ہاتھ میں جائے گا
26:36جو نہ آیا
26:37ایک بات
26:37دوسری باتی کہ جو اپنی مرضی سے جانا چاہے جائے
26:40جو نہیں جانا چاہے نہ جائے
26:43خبردار میں کسی مرضی تصمی کی گئی
26:45حضرت عمر مانی نے کہا کہ حضرت عمر مانی نے کہا کہ حضرت عمر مانی نے ایک بہت بڑی کشتی
26:49تیان کرنا ہے
26:50اور اس میں ملک شام میں درش میں اران کر دیا گیا
26:53کہ کون ہے جو فنا جزیرے پر جہاک میں جائے گا
26:57صحابہ اکرام اس میں جمع ہوئے
26:58اور پیرا
27:00بہری پیرا
27:01جہاد کے لئے حضرت عمر مانی کے دور میں نکلا
27:04اور الحمدللہ
27:05اس جزیرے پر محمدی شہروں نے
27:08وہاں کا طلب محمدی کو نافذ کیا
27:10عیسائیت کے زور کو تڑا
27:12اور وہاں پر بڑا مال
27:14بہا رسیم ہوا
27:15اللہ حبر ایک ایک مجاہد کو
27:18بارہ بارہ ہزار
27:20درہیں ملے
27:21درہ جو ایک ہوتا تھا
27:23اس کی نصال ایک درہ
27:25ایک لاکھ دینار کے برادر تھا
27:27تو ایک ایک مجاہد کو بارہ بارہ حضرت ہوتے لے
27:30تو جتنا علیہ
27:32عثمانی خلی نے فرمایا
27:33کوئی مرکز پر نہیں آئے گا
27:34کوئی مرکز مدینہ میں
27:36وہ مار نہیں آئے گا
27:37جو مجاہد گئے تھے
27:39ان کو دے دیا گیا
27:40اللہ حب اکبر
27:41یہ حضرت عثمانی خلی
27:42ذنورائیہ رضی اللہ حضرت ہے
27:44کہ بارہ سارا اپنے خلافت کی
27:46حضرت عمر سے جو علاقے رہے گئے تھے
27:48آپ نے اس کو ہدا کیے
27:50بس یہ آخری خطوحات تھی
27:57کہ جن کے بعد میں
27:58اتنے فتنے آگئے تھے
28:00کہ آہ جن کے لئے میں کھڑے بھی ہو جاتے
28:02تو غدارت میں آگئے تھے
28:04کہ جن کا سلسلہ نہ ہو سکا
28:06اسلام کو جو ترقی ملی تھی
28:08یہ حضرت عثمانی خلی کا آخری دور تھا
28:11جس کے اندر یہ سلسلہ
28:12گویا کہ جاری رہا
28:13اور آپ کی شہادت کے متعلق
28:15جو کتابوں کے اندر مرکوم ہیں
28:1882 سال عمر میں
28:20آپ نے ایام تشریخ
28:21یہ قربانی مالے دن چلتے ہیں
28:24اسی ایام میں آپ کی شہادت ہوئی ہے
28:26چاریس دن تک
28:28آگ پر
28:29میٹھا پانی بند کر دیا گیا
28:32باقی سر پر آئے
28:33مولا کائنات آپ کے پاس آئے
28:35اور کہا کہ حضور
28:37کچھ تو اخیار دینا
28:38آپ تو اگر مومنین ہیں
28:40کچھ تو ہاں کہیں
28:41ہم کوئی فوجی پہنا
28:43تو آپ کے گھر کے قلی بگائیں
28:45آپ نے فرمائے نہیں
28:46میں فوج کو اپنی ذاتی بلکی اطریق سمجھتا
28:50فوج قوم کا انساء ہے
28:52قومی مسئلہ ہوگا
28:53تو فوج کلائے جائے گا
28:55میں اس بات کا قائم میں
28:56کہ میں اپنے لیے
28:58کہ شاہد فیصل پر آنا ہے
28:59تو چھے گھنٹا پہلے سے روڑ بند ہے
29:01کہ جنرل صاحب آ رہے ہیں
29:02وہ چھے گھنٹا پہلے روڑ بند
29:04وہ جانے سے پہلے بعد میں چھے گھنٹا روڑ
29:06پر بارہ گھنٹے تک پر ٹرافیک روڑ رہی ہے
29:09جنرلیل نے کب آنا ہے
29:10یہ کوئی نہیں جانتا ہے
29:11وہ کب جانا ہے
29:12کوئی نہیں جانتا
29:15حضرت عثمانِ حریر نے فرمایا
29:17فوج قوم کا مرسا ہے
29:18میں اپنی حباظت کے لیے
29:20فوج کو نہیں لکھنا چاہتا
29:22یہ الگ بات ہے کہ لکھنا جائز ہے
29:24لیکن میں نہیں رکھوں گا
29:25حضرت مولانی گئے
29:26اپنا فرد مولانی نادا کیا
29:28اپنے دونوں لخت جگر
29:30امام حسن اور امام حسین کو
29:33فرمایا کہ تم
29:34حضرت عثمانِ حریر کے دروازے پر پہراد ہو دی
29:37کہ کوئی شخص اندر داخل نہ ہو جائے
29:40دونوں کو آپ نے وہاں پر کھڑا کیا
29:42اب بتائیے
29:43یہ حقائق ان کی کتابوں میں بھی ہے
29:45ہماری کتابوں میں بھی ہے
29:47تو اگر مولا علی کے دن میں
29:48عثمانِ غلی کے لئے کوئی بغض ہوتا
29:50یہ عثمانِ غلی کو معاذ اللہ و مسلمان
29:52میں نہ سمجھتے
29:53کہ یہ معاملات کبھی
29:54اللہ عیاز و بلدہ
29:55یہ فرمایا کہ درستر
29:56ان کے قبروں کے حساب سے
29:57دن بھی کارا ہو چکا ہے
29:59کہ جس کی بنا پر ان کی زبان سے
30:01حب کے سوا کچھ نہیں کلتا
30:02حقائق ان کی صحیح و عثمانِ غلی کے بدانے پر
30:05حسنائی کریم ہیں
30:07حلق امام حسن
30:08امام حسین
30:09درمانے پر حق پیرا دے رہے ہیں
30:11لیکن ہوا کیا
30:13ان بدبختوں نے یہ کیا
30:14کہ پڑوس کے گھر پر پہلے
30:16پیچھے سے شران آنے کے گھر میں آنے کی
30:20اور آنے کے بعد
30:22انہوں نے یہ معاملہ کیا
30:23کہ پہرا تو سامنے دیا جا رہا ہے
30:25اب انہوں نے حلق عثمانی خرمی کی دیوار میں
30:28اندر شران دن
30:28جب وہ اندر پہنچے
30:30اللہ اکبر
30:32تلوار تو ان کے ہاتھ میں ایسی برحانہ تھی
30:34حدد عثمانِ غلی کی
30:36اہلیہ
30:37سیدہ نائلہ
30:38رضی اللہ تعالیٰ نے
30:40جب دیکھا
30:41تو چیخ مارے
30:42یہ کون ہے
30:43عثمانِ غلی نے کوئی توجہ نہیں کی
30:45آپ قرآن پاک پڑھ رہے تھے
30:47قرآن پاک کھنا ہوئا تھا
30:48قرآن کے دعا کرنے والے آپ ہیں
30:50سبحان اللہ
30:51آپ قرآن پاک ادناوت کر رہے تھے
30:53استغناء ایسا
30:54لاب پروائی ایسی کے کیا ہو رہا ہے
30:57کچھ میں
30:57آپ قرآن پڑھ رہے ہیں
30:59حدد نائلہ نے چیخ ماری
31:00کہ کسی نے گھرمت شران ماری ہے
31:02آپ تسویے کمرے میں
31:03آپ سمجھ گئیں
31:04کہ جناب یہ کوئی قاتل ہے
31:06جو ہمیں بکنگی کی طرف بڑھ رہا ہے
31:08آپ
31:09دورتے ہوئے گئیں
31:10اتنے میں وہ تینوں شخص
31:12حدد عثمانِ غلی کے قریب پہنچ چکے تھے
31:15حدد عثمانِ غلی کو ایک
31:16نے داڑی سے پڑھا
31:18اور کہا
31:19میری طرف دیکھو
31:20حدد عثمانِ غلی نے اس کی طرف دیکھا
31:22اس نے تلوار تلوار کیا
31:24سیدہ نائلہ نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے
31:27تاکہ تلوار کو ہاتھوں میں روکھتے
31:29لیکن تلوار نے
31:30آپ کے مولیوں کو شہید کرتے ہوئے
31:32حدد عثمانِ غلی کی
31:34کنپٹی کے طرف
31:35بڑی تیزی کے ساتھ وہ تلوار پڑھی
31:37اور وہ کنپٹی سے ہوتے ہوئے
31:39خلق کے
31:39نرخے کے لندے جا کر
31:41وہ تلوار پیوست ہو گئی
31:42اور خون کے پھوارے
31:44قرآن کی آیتوں پر پڑھے
31:45پہلے پاکستان کی میوزئیم میں بھی وہ تھا
31:48لیکن ترکی کے میوزئیم کے اندر
31:49وہ اصل قرآن شریف موجود ہے
31:51کہ جہاں پر
31:53قرآن کے
31:55آپ کے خون کے قطرے
31:56جو قرآن کی آیتوں پر پڑھے ہیں
31:58وہ آیت کون چیز تھی
31:59کہ فسیدک فی کہوں اللہ
32:01وہ سمیر علی
32:02کہ بس ان سب کے لیے
32:04خدا کافی ہے
32:05اور وہ سننے والا
32:06اور دیکھنے والا ہے
32:07یہ حضرت عثمانِ غری کی قرآنت ہے
32:10کہ آپ کے خون کے قطرے میں
32:12جس آیت پر گر رہے ہیں
32:13جس آیت کا ترجمہ یہ بڑھنا ہے
32:14کہ بس ان سب کے لیے
32:16خدا کافی ہے
32:17اور خدا دیکھنے والا
32:18اور سننے والا ہے
32:20جب آپ کی شاہدت ہوئی
32:24آپ کی اہلی آباد کے حد اوپر گئی
32:26اور مہین سے
32:29ٹیرس پر کھڑے ہو کر
32:30آپ نے چیخ لگائے
32:31اور فرمایا
32:32میرم امیرین کو شہید کر دیا گیا
32:34اب لوگوں میں کھربری مجھ گئی
32:36حسنین کریم میں نے دیکھا
32:37کہ وہ قاتل گھر سے جنا گیا
32:39مولا علی کو خبر پہنچی
32:40روایت میں آتا ہے
32:41کہ مولا علی
32:42اپنے گھر سے
32:43اتنا تیز دوڑے ہیں
32:45کہ آپ نے نانیم بھی نہیں
32:46سر پراناوہ بھی نہیں ہے
32:48اور دونتے ہوئے آئے
32:49خبر پہنچی
32:50والا نے پوچھا
32:51کیا ہوا
32:51کہا ہر عثمانِ غریب کو شہید کر دیا گیا
32:54آپ آگے پڑے
32:54حضرت امام حسن درمائنے کے سامنے آئے
32:57آپ نے کھیج کے دھوسا
32:59امام حسن کے سینے پر مانا
33:00اور ایک تھپڑا
33:02امام حسین کے چہرے پر مانا
33:03فرمایا
33:04تم دونوں یہاں پر تھے
33:06اس کے باوجود
33:06امیر مولین کے پاس کون پہنچ رہے ہیں
33:09وہ نے کہا
33:10ہمیں کچھ نہیں پتا
33:12کہ آنے والا کہاں سے آگیا
33:14تو اپنے بیٹوں کے ساتھ
33:15یہ برداؤں کون کرتا ہے
33:17جو اس مخلص کو دل سے جا رہا ہوگا
33:20حضرت اسماری علی کے پاس پہنچے گئے
33:23تو آپ
33:23کجسلِ مبارک
33:25زمین کی طرف تھا
33:26حدیثِ طاق میں آتا ہے
33:27کہ شہید
33:29قیامت کے دن
33:31جو اٹھایا جائے گا
33:33تو جس حالت میں شہید رہا تھا
33:35اسی حالت میں شہید رہا تھا
33:38جو وہ کر رہا تھا
33:40وہ فیل اس کے ہاتھ اور زباہ پر جانے ہوگا
33:42اور جس چیز پر اس کے خون کے قطرے گریں گے
33:46وہ چیز اس کی گوائی دے گی
33:49بدر کے شہدہ کے لیے
33:51بدر کے
33:53ذراعات تو گوائی دے گے
33:54اہت کی گھا دیا
33:56اہت کی شہدہ کے لیے گوائی دے گی
33:58لیکن اے اس آن
33:59آپ کی شہدت کو سلام ہے
34:01آپ کی عظمت کو سلام ہے
34:03کہ جبان خدا کے حضور کھڑے ہوں گے
34:06تلاوت کرتے ہو کھڑے ہوں گے
34:08زبان پر قرآن کی آیت ہوگی
34:10کسی کے خون کی گوائی
34:11کوئی اسلاح دے رہا ہوگا
34:13کوئی زمین دے رہی ہوگی
34:15کوئی مٹی دے رہی ہوگی
34:16کوئی پتھر دے رہا ہوگا
34:17لیکن آپ کی شہدت کی گوائی
34:19خدا کا قرآن دے رہا ہے
34:21لیکن آپ کے خون کے قطرے
34:24اس کلام پاک پر ہترے ہیں
34:25اور وہ آیت پہ رہی ہوگی
34:27کہ جس میں مرحوم ہے
34:32مذرگان دین میں
34:33صوفیہ اکرام نے
34:34فرمایا کہ جو شخص
34:36اس آیت کو
34:37اپنے ورد زبان رکھے
34:39وہ دنیا کی مسابس سے آزاد ہو جائے گا
34:41اس کے دل کو خدا اشارہ کر دے گا
34:44اس کے معاملات میں
34:47خدا فرامانی ڈال دے گا
34:48اس کے اندر سے حرز ختم ہو جائے گی
34:51دنیا کے سامنے ہاتھ بھیرانے والی
34:53یہ آگر ختم ہو جائے گی
34:54وہ دن سے بھی خدا کا بندہ بن جائے گا
34:56فرمایا آیت کی برکت یہ ہے
34:58فسید فیق احمد اللہ
35:00وہ اسمیل عالم
35:00وہ مستقنی ہو جائے گا
35:02اسمانی رہیت اشان دیکھے
35:03کہ جو اس آیت کو پڑے
35:05اس کے اندر خدایی
35:06کانون کے انقلاب پیدا ہو جاتا ہے
35:08اسی آیت پر
35:09آپ کی خورت کی قطریں گرے ہیں
35:11وہ آپ کی جائے
35:12اللہ علیہ ورزت خمی
35:15کہ سیدنا سمانے گری
35:16کہ تاجات میں
35:17اللہ ورزید بنے دی
35:18عطا فرمائے
35:20ان کی شہادت کی
35:21عظمتوں کو
35:22مولا جوری اپنی بارد
35:23نام ورزید بنے فرمائے
35:25ان کے حلم سے
35:27ہمیں حصہ تعطا فرمائے
35:28ان کی سخاوت سے
35:29ہمیں حصہ تعطا فرمائے
35:30ان کے گردباری سے
35:33ہمیں حصہ تعطا فرمائے
35:34کہنے کو تو بہت کچھ ہے
35:36سیدنا سمانے گری پر
35:37کیونکہ یہ میں ایسی شخصیت ہیں
35:39کہ جن کا
35:41جن کی تعریف
35:42نہ ایک موضوع پر ہو سکتی ہے
35:44نہ ایک نشیس پر ہو سکتی ہے
35:46کاش ملی طریقہ اجازت دے گی
35:49تو میں اس پر سے
35:50حاصل کفتگو آپ کے سامنے کرتا
35:52لیکن موسم کی خضاری
35:53اور جسمانی تھکن کی بناپر
35:55یہ چند ہی جملے میں
35:57آپ کی نظر کر سکا
35:58انشاءاللہ زندگی بخیر رہی
36:00کبھی کوئی خاص سیدنا سمانے گری پر
36:02برگرام ہوگا
36:03تو میں آپ کے سامنے
36:04مزید ان باتوں کو بیان کروں گا
36:06جو سیدنا سمانے گری کے نالین کے بچھت سے
36:09میرے دل پر روشت ہوا
36:10اور میں نے جس انداز میں
36:12ان کی صیحت مبارک پر سمجھا
36:14کیونکہ کبھی ہم نے
36:15صحابہ کے ذکر کو
36:16یا صلاح فراملیہ کے ذکر کو
36:18اپنے دلیل کے زور پر بیان نہیں کیا
36:21نہ یہ کہا
36:22کہ ہم نے بڑی محنت کی ہے
36:24نہیں نہیں
36:24یہ صرف سے لیے
36:26کہ ہم نے جو سمجھا
36:27اس کو بیان کیا
36:28محض ان کی رضا کے لیے
36:30دعا کیجئے
36:31قبر میں بھی
36:32حشر میں بھی
36:33قیامت میں بھی
36:34سیدنا سمانے گری کے ساتھ ہمیں
36:36مسئل ہو
36:37اور
36:38یہ مقدس تابعہ
36:40جو
36:41لوگوں کو پکڑ پکڑ کر
36:43سرکار کے دامت سے
36:45موستہ کرا رہا ہوں گا
36:46دعا کیجئے
36:47وہ چشمان کرم
36:48وہ مقدس وجید چہہا
36:50ہماری آنکھیں بھی اس کو دیکھیں
36:52اللہ روبر
36:54جسے دنیا
36:54اسمانے گری کہتی ہے
36:57مرد مقت
36:57ہمیں ان کی شہدت کی مدکسی
36:59حاتمہ بالخیر کی توفیق
37:01نصیب ہو
37:02اللہ حرکہ لعزت
37:03میرا اور آپ کا
37:04حامی و ناصل ہو
37:05وآخر دعوانا
37:07اور الحمدللہ
Comments