- 5 weeks ago
Speaker: Syed Muzaffar Hussain Shah
Topic: WAJAHAT-O-IKHLAQ SYEDNA USMAN GHANI (R.A)
Released by: FAIZAN-E-ASHRAF
Year: 2005
Topic: WAJAHAT-O-IKHLAQ SYEDNA USMAN GHANI (R.A)
Released by: FAIZAN-E-ASHRAF
Year: 2005
Category
📚
LearningTranscript
00:00أما أدو فعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:09بسم الله الرحمن الرحيم
00:21محمد رسول الله
00:29والعليل معه وشده على الكفار
00:38رحماه بينهم
00:41أعطو بالله صدق الله العظيم
00:45ببركة الله ملائكة
00:54يا أيها الذين لا أعروا صنزوا عليه وسلموا تسليما
01:05محمد صبی صلاة والسلام عليك يا رسول الله
01:14الصلاة والسلام عليك يا حبيب الله
01:22محمد صلاة والسلام عليك يا حبيب الله
01:25انشاءاللہ اس فرن میں آپ جب میں اللہ کا ذکر کریں
01:28جو اتنے ازاد آپ کو عجب السلام ملے گا
01:30اس لئے ان کو ذہن رکھیے
01:34کیونکہ
01:35وہ ایک عمر تو آرام میں جدا جاتی ہے
01:39لیکن
01:40زندگی کا حاصل
01:41رب کریم کی یاد ہے
01:44آج
01:46عرب اپنے فرشتوں پر
01:48کے سامن اپنے بندوں پر عشق رہا ہوگا
01:52کہ دیکھو میرے بندوں کے سامنے یہ ٹھنڈی ہوا
01:55اور یہ سر بھی ان کے پاؤں کی بیڑی نہ بن سکیں
01:59اور وہ میرے محبوبوں کا ذکر کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں
02:03یہ انتحان ہے
02:05لیکن ثابت قدم رکھنا ہے
02:08انشاءاللہ
02:09ایسی محافظ کی برکت سے ہمارے خاتمہ بھی الخیر ہوگا
02:13اور یہ محافظ ہمارے لئے ذریعہ مجادہ میں
02:16اس تصور کے ساتھ محمد سے پڑی ہے
02:18الصلاة والسلام علیکہ
02:21یا نبی اللہ
02:29الصلاة والسلام علیکہ
02:33یا رحمتا للعالمين
02:38الصلاة والسلام علیکہ
02:41یا رحمت اللہ
02:42هو الحبیب الذي ترجى شفاعته
02:47لكل هول من الاحوال مقتحبی
02:55یا اقرم الخلق معنی من نلوذو به
03:00سواج عند حلول حادث عممی
03:07وابیدون مستسخى الغمار بوجهه
03:14ثمان يتاما عصمت للقرامل
03:24مولای صلی و سلیم دائما سمدا
03:32علا حبیبك خیر الخلق كلهمی
03:45اللہ کی حمد و صلاة
03:47نبی مکرم
03:50نبی معظم
03:53صلی اللہ علیہ و علیہ و صحبہ
03:56و بارک و سلیمہ کی بارگاہ مقدسان
04:02حدیتہ من توحطن
04:05تعظیما تقریما
04:06اجلال و عدد کے ساتھ
04:11صلاة و قسلیم پیش کرنے کے بعد
04:16معزز و مقدر
04:17سامعین اکرام و رفقان ملت
04:20گران قدر حضرات
04:26تمام تعریف
04:28اور تمام ترمحاسن و مکارین
04:31صرف اور صرف اللہ وحدہ لا شریف کے لیے
04:35الحمدللہ
04:42آفیت و استقامت کے ساتھ
04:47محر و حرام کی مقدس ساتھیں
04:53جو انوان
04:57درس کے اعتبار سے ہے
04:58والحمدللہ جانی ہے
05:01اور ہم
05:05اس مہینے کی خصوصیت سے
05:09تعلیمات اسلامیہ کو
05:11سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں
05:13اور پاکان اممت
05:17اپنے اصلاف
05:19اپنے قابل کی
05:20متبرک
05:24اور معزم
05:27جو ان کی سیدت ہے
05:29اس سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
05:34اور یقینا
05:37مومنین کے لیے
05:39اسی شہر کے اندر رب کریم نے
05:41ان کے قلب کا اتنے نام اور سکون رکھا ہے
05:47پاکان اممید میں
05:48اللہ رب العزت نے
05:50اسی شہر کو بیان فرمایا
05:57کہ خبردار
06:00تمہارے
06:02پریشان دل
06:03مزترب دل
06:05تمہارے دل و دماغ
06:06اگر پریشان ہو جائے
06:08تو اس کا سکون ہم نے مال میں نہیں رکھا
06:12اس کا سکون
06:13مادی شیعہ میں نہیں رکھا
06:15بلکہ فرمایا
06:16ہم تمہارے خالق ہیں
06:17ہم تمہارے بنانے والے ہیں
06:20تو ہم جانتے ہیں
06:21کہ تمہارے لئے سکون کس شہر ہے
06:24تمہارے لئے نفع کس شہر ہے
06:26تمہارے لئے نحسان کس شہر ہے
06:28تو رب کریم نے فرمایا
06:30اور سب سے بلی نیابت ہی
06:31دل و دماغ کا سکون ہے
06:33جس شخص کے پاس
06:34دل و دماغ کا سکون نہیں
06:36مال کا انبہار بھی ہو
06:38تو وہ گوریاں کھا کر سونے کی کوشش کرتا ہے
06:41لیکن اسے نیند نہیں آتی
06:43دل و دماغ کا سکون نہ ہو
06:45پریشانی
06:46جب دامہ انگید ہو جائے
06:47تو وہ ہر چیز
06:49جو دنیا بھی مظاہر محمد ہے
06:50وہ اس کے قدموں میں پڑی ہوئی ہے
06:52لیکن وہ اس کے دل و دماغ کا قرار
06:54نہیں بن سکتی
06:55اور رب کریم فرماتا ہے
06:57کہ اگر تمہارے دل و دماغ کا قرار
06:59کوئی شہر بنے گی
07:00تو
07:02تطمئن بالقلوب
07:03وہ ہماری یاد ہے
07:04جس سے تمہارے دلوں کا اثمان ملے گا
07:08یہاں پر حسوئی نے
07:10اس کی تشریعہ توزی کو بیان کیا ہے
07:13کہ خدا کی ذکر سے کیا مرا
07:17کہ خدا کی ذکر سے مرا
07:18ذکر کہتا ہے یاد کو
07:21تو خدا کی یاد
07:24دلوں کو قرار دیتی ہے
07:26اجمعان دیتی ہے
07:28تو ہر وہ چیز
07:29جس سے خدا کی یاد آئے
07:32وہ خدا کا ذکر ہوتا ہے
07:34اللہ کے مبین
07:35اللہ کے انبیاء
07:37یہ خدا کا ذکر ہے
07:39اس لیے کہ ان کی یاد
07:41خدا کی یاد ہے
07:43انہیں یاد کرنا
07:44خدا ہی کو یاد کرنا ہے
07:46تو انبیاء اکرام
07:48صحابہ اکرام
07:49صلحہ اکمت
07:50صدیقی
07:51شہدہ
07:52مبین
07:52ان کا ذکر خیر کرنا
07:54یہ خدا ہی کا ذکر ہے
07:56اس لیے اور ذکر کے اندر
07:58وہ جوش
07:59وہ بنولا
08:00وہ چاشی
08:00وہ حلاوت
08:01وہ لذت پیدا نہیں ہوتی
08:03لیکن جب ہم اپنے اقابل
08:05اور اپنے مسلم
08:06پیشوا کا ذکر کرتے ہیں
08:08تو قلب
08:09اور دماغ میں
08:10ٹھنڈک
08:11ایسا محسوس ہوتی ہے
08:12لگتا ہے کہ
08:13جسم میں سیر و خون بڑھ گیا
08:16تو یقین
08:16یہ اسی اتمناء
08:18قلب کی
08:19درید ہے
08:21آج جس حصلی کا ذکر کرنے
08:23ہم جا رہے ہیں
08:26ان کو تو خدا نے
08:31فضیلت کے تمام
08:32ابواف سے ان کو حصہ تا ہوا
08:36اور شرف و نیابت کے اندر
08:39وہ اپنی فضیلت میں
08:41اپنا ثانی نہیں رکھتے
08:44اللہ تعالی جو کردار حیاء
08:46مقام سے آپ کو نمازہ ہے
08:50دنیا
08:51حیاء کے بعد
08:52حیاء کی پہچانت آپ ہی کو جانتی ہے
08:55حیاء کا مجسمہ
08:57آپ ہی کو پسند کرتی ہے
08:59آپ کی شخصیت مبارکہ
09:01بارگاہ خدا بندی کے اندر
09:03اتنی معزز ہے
09:05اتنی برگزیدہ ہے
09:06کہ حضرت آدم سے لے کر
09:08نبی عبار صلی اللہ علیہ وسلم تک
09:11ایک لاکھ چوبیس دار
09:12کم و بیش
09:13جتنے انبیاء اکرام آئے ہیں
09:16ان میں
09:17ان کی امت میں
09:18کسی کوئی اشرف حاصل نہیں ہوا
09:20کہ اس نبی نے
09:22کسی امتی کے
09:23نکاہ میں
09:24اپنی ایک سے زیادہ بیٹیاں دی ہو
09:27لیکن
09:27جی شخصیت کا ذکر کرنے
09:29ہم جا رہے ہیں
09:30حضور خریفہ السعود
09:32حضرت عثمان غریز النورعین
09:33رویطاہ تعالی عنہ و ارداغو اللہ
09:35میرے آقا
09:36تو ان پر ایسا فدا ہے
09:38کہ میرے آقا فرماتے
09:39لو کارا
09:40اربعون اگن تک
09:41لذب وچتو
09:42بابا اخرى
09:44لے عثمان کے حدر میرے پاس
09:45چالیس میٹیاں بھی ہوگی
09:47تو میں ایک کے بعد دگریں
09:49عثمان کے نکاہ میں دے گئیتا
09:50آپ کو یہ شرح حاصل ہوا
09:53کہ آپ کے نکاہ میں
09:56نبی پاک شمال علیہ وسلم کی
10:00ایک سیدہ
10:02رقیہ
10:03اور ایک سیدہ
10:05رضی اللہ علیہ وآلہ رحمہ
10:07یہ دو رو آپ کے نکاہ میں آئیں
10:09اس کی مرکت سے
10:11اور اس شرح سے
10:12آپ کے لقب
10:14غنی سے حد کر
10:16زنرین ہو گیا
10:17یعنی دور دو نوربالا
10:19نبی حبات صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:21اولاد ممارکہ
10:21اور آپ کی کوئی ایک لقبے جگر
10:23ان کے نکاہ میں آئیں
10:25تو آپ ان کے مقابات کے اندر
10:26جہاں اپن اضافہ ہوتا رہا ہے
10:29وہاں پر ایک اضافہ
10:30یہ بھی ہوا
10:31کہ آپ کے نکاہ میں مقابات
10:32زمین ورین ہو گیا
10:35حدث سیدہ
10:35عثمان غریر
10:36صلی اللہ علیہ وآلہ رحمہ
10:37اور باب انہ کی
10:37صلی اللہ علیہ وآلہ رحمہ
10:40اور دیکھیں
10:41تو صبر اور قلم کے اندر
10:44بردبانی کے اندر
10:45اللہ نے آپ کو وہ مقام
10:47اطافہ رمایا ہے
10:47کہ آپ کا کوئی ثانی نہیں
10:49مہت اس سیدہ
10:50اس وآلہ رحمہ
10:50میں بحث کرتے ہیں
10:51اور اس تشریح کی طرف آتے ہیں
10:54کہ
10:57نبیوں کو اللہ نے
10:58بے شمال فضیلت تحت فرمائیں
11:00علم ان کی سب سے بڑی فضیلت ہے
11:03لیکن
11:04علم کے بعد
11:07انبیاء کی فضیلت
11:08کا سب سے بڑا خاصة کیا ہے
11:10کہ جو طبیعت مبارکہ
11:12کے اندر ہوتی ہے
11:14علم تو وہ ہے کہ جب وہ بیان کریں
11:16تو لوگ کے سامنے
11:18اس کی قدر و قیمت بتا چلیں
11:19کہ جناب لوگ جس مظلوم کو
11:22برس و دگا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
11:24وہ نگاہ نبوح کی ایک جھلت سے
11:26اس چیز کو جان لیتا ہے
11:28لیکن اس علم سے ہر تک
11:31انبیاء اکرام کی ذات
11:32مخدسہ کے اندر وہ کیا
11:34چیز بنا ہوتی ہے جس کی بنا پر
11:36ہر شخص بڑے سے بڑا دشمن
11:38بڑے سے بڑا جانت
11:40آنے پڑے ہو کر یہ کہہ دیتا ہے
11:42کہ یہ خدا کے نبی ہے ایسا کام
11:44خدا کا نبی ہی کر سکتا ہے کوئی آن نہیں کر سکتا
11:47تو مہدیسیم فرماتے ہیں
11:50وہ چیز ہے
11:52حلم
11:53بردباری
11:55طبیعت میں
11:57طبیعت میں تذبار کی ایسی کیفیت نہیں
11:59کہ جس کی بنا پر
12:02بچکانہ حرکتیں ہونا شروع ہو جائے
12:03بلکہ حلم
12:06بردباری
12:07ایک طبیعت میں ٹھراؤ
12:08یہ نہیں ہے انبیاء اکرام کا
12:11سب سے بڑا زبر ہے
12:12آپ دیکھیں غلام مرزا احمد کالیانی نے
12:15نبوت کا دعوت کیا تھا
12:17لیکن اگر وہ بدوقت اپنے آپ کو
12:19نبی کہہ رہا تھا
12:20تو نبی کے اندر کبھی گاری کے میں
12:23کی عادت نہیں ہوتی نبی کے اندر کسی بردان تشمیح کرنے کی عادت
12:27نہیں ہوتی اس لیے کہ نبی تو خلق
12:29ایک مضبوط پہاڑ ہوتا ہے اب دیکھیں جہاں در مرزا احمد
12:32کالیانی کے خلاق کفر کے فتوے دیئے گئے اور اسے فیر مہرلی شانسا
12:36والے رحمد و ریوان میں جدہ جدہ مرادے پر چیرنج کیا تو جب اس سے
12:40جواب نہ پڑ سکا تو اس نے گلی گالیہ بے رشور کر دی لیکن نبی
12:43پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر آپ دیکھیں تو شاہر آلیہ
12:46ایسی ہے کہ پورے مکہ کے کافر آگ کو تنگ کرنے کے لیے لگے ہوئے اور
12:51صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی ایسی سرحد ہے جس کو کفار مشرقی میں
12:56امور نہیں کیا لیکن آپ دیکھیں کہ میرے آقا کے زمان میں شکایت
12:59کرنی گئے ہیں تو انبیاء کا سب سے بڑا زیور حکمت کے اعتبار سے وہ
13:06حلم ہوتا ہے وہ ان کی مردباری ہوتی ہے وہ انکازی مقام ہوتا ہے
13:11طبیعت مواعقہ کے اندرے ڈھایا ہوتا ہے حضات صحابہ اکرام کو بلخصوص خلقہ
13:17علیہ وسلم نے اپنے باطنی براستے حسین ورحمت فرمائی جہاں پر صدیقیت
13:23قطار سیدنا صدیق اکبر کے سر پر رکھا قدبیت قطار فاروق عاظم کے سر پر
13:28رکھا وحیب اور حلم کی ادولت سرکان عثمان غریب عطا فرمائیت
13:33اب دیکھئے سیدنا عثمان غریب عطا ہوتا رہاں
13:41کہ اگر آپ سرکان کی زندگی کو دیکھیں تو کفار مشرقین میں نبی
13:48اپنی صلی اللہ علیہ وسلم کہ سامنے صرف و صفاہ امین ہونے کا
13:53دعویٰ تو کیا کہ آپ سچی ہیں لیکن جب میرے آخر ربوت کا دعویٰ کیا
13:57اور اعلان فرمایا اس پر انہوں نے کیا نہیں کیا میرے آخر کراہ
14:01لکھا کے بشائے گئے آپ کے جسم پر جانور کو زبا کرنے کے بعد
14:07اس کی اجڑی لاکر آپ کندے پر لگ دی جاتی
14:10کری یوں ہوتا کہ آپ سجیدے کی حالت میں ہوتے
14:13تو آپ کی پیشانی پر گویا کہ آپ خواب پر پیشانی اچھی ہوئی ہوتی
14:17تو آپ کی پس پر بہت بڑا پتھر لاکر لگ دیکھیں
14:20یعنی ایسی غریب حرکتیں وہ وقتاں وقتاں کرتے
14:24تعریف کا میدان کس مسلمان کو یاد نہیں
14:26اللہ رکھا جس نے میرے آقا علیہ السلام پر گویا کہ
14:30سن باری کی گئے حضرت زید کہتے ہیں کہ میں سکار کے ساتھ تھا
14:37کہ اگر آگے پتھر آئے تو مجھے لگ جائے پیچھے پتھر آئے
14:41تو مجھے لگ جائے لیکن وہ ظالم میرے آقا علیہ السلام کی
14:44پائے مبارک کا نشانہ لے پتھر مارتے اور وہ تیز دھار پتھر
14:50حضرت علیہ السلام کی پاؤں ترکتے تو میرے آقا ایک پاؤں
14:54کو پکڑنی کوشش کرتی تو پتھر دوسرے پاؤں پر لگتا
14:56رانی کہتا ہے کہ پوری نالین آپ کی خون سے لہودہار ہوگی
15:01پوری نالین خون سے تر ہوگئی تھی لمریز ہوگئی تھی اور میرے آقا
15:06خوشنم آتے ہیں کہ جتنا مجھے خدا کی راہمیں تنگ کیا گیا
15:10جتنا مجھے خدا کی راہمیں ستایا گیا اتنا کس نے بھی
15:14مجھ ستایا گیا باب دیش یہ تمام ہونے کے باوجود جب میرے آقا
15:19علیہ السلام تائف سے آگے نہیں تھے کیونکہ مکہ سے آگے تائف آئے
15:24تھے کہ تائف والے پڑے دکھے ہیں سمجھ دار ہیں مکہ والے پجروہ
15:29درم تھے ان سے میں باتیں دنگا یہ اگر میری باب کو نہیں مانیں گے
15:34تو مطمیزی نہیں کریں گے اس لئے کہ پڑا لکھا عالمی قریب مطمیزی
15:38نہیں کرتا لیکن جب ٹیمہ ان کا مکہ کے کافروں سے زیادہ شریر آنا
15:43نکلا تو میرے آقا علیہ السلام تائف حدود کو بار کیا ایک باب میں جا
15:47کر سردار میٹ گئے حضرت زید کہتے ہیں کہ میں مٹی لے کر سردار کی
15:51جسم پر لگاتا اور اپنے جسم کے کپڑے بھاڑ کر سردار کی جسم پر پٹی
15:55بانتا یہ گویا کہ سردار کے اور مبارک پر جو زخم تھے سردار مبارک
15:59پر جو زخم تھا پوچھ پر جو زخم تھا میرے آقا علیہ السلام
16:02خدا ذکر میں اور سبر کی باتیں فرما رہے ہیں اسی آر میں صحیح
16:07بخاری شریف حدیث ہے سردار علیہ السلام کے پاس ہوا کا فریشتہ
16:10آیا اور اس میں سردار سے کہا کہ حضور اگر آپ بھی لازت دیں تو میں
16:16طائف کی پوری بسکی کو ہوا میں اڑا کر لے جاؤ اور اسے لیشتوں
16:20نابود کر دوں یہ آخر نے فرمایا یہ غافل ہیں یہ مجھے نہیں
16:24پہشان رہے یہ مجھے نہیں جانتے پہاڑوں پر جس کی حبومت ہے
16:31کیونکہ قرآن کہتا فَلْمُدَبِّرَاتِ عَمْرَا خدا نے اس کائنات کو بنایا
16:35اور اس کی تغیر اس کے معاملات کو فرشتوں کے ہوا لے کر لیا
16:40تو کوئی ہوا کے اوپر نافذ ہے کوئی پہاڑ پر نافذ ہے کوئی سبزے
16:44رن پیدا کرنے پر نافذ ہے کوئی سبزے کو پیدا کرنے پر نافذ ہے
16:48یعنی دلیا کا پورا نظام تو چل رہا ہے یہ فرشتے چلائے ہیں
16:51اور اللہ خود فرمایا ہے فَلْمُدَبِّرَاتِ عَمْرَا
16:54ہم نے کائنات کو بنانے کے بعد اس کی تدبیریں فرشتوں کے حوالے کر دی
16:59تو جب ایک سوا کے ہاں پر ایک جواب دیتا چلو دے بھی بات چلیت ہے
17:02نکلی ہے
17:04تو جب کائنات بنائیں خدا
17:08اور اس کی تدبیر اس کی سیتی
17:11دے دے فرشتوں کے ہاتھوں میں
17:14کہ خدا نے کائنات بنا دیا
17:15اب ماں کے پیل میں اگر بچہ ہے
17:19تو اس کی شکل صورت فرشتہ بنایا گا
17:21اس میں روح فرشتہ بھوکے گا
17:24اس کی تقدیر فرشتہ لکھے گا
17:26سعی بخاری شہرک اندر موجود ہے
17:28کہ جب نطفہ چاند نہینے سے بڑھ جاتا ہے
17:31تو ماں کے رحم میں فرشتہ داخل ہوتا ہے
17:33اور تخدیر لکھ دیتا ہے
17:35کیا لکھتا ہے میرے آقا فرماتے ہیں
17:37جو اس کے ساتھ ہونے والا ہوتا ہے
17:39سب لکھ دیتا ہے
17:40اب مجھے بتاؤ
17:41کہ کل کیا ہوگا
17:42خدا کی سوا کوئی نہیں جانتا
17:44تو یہ تو آن فرشتے
17:46ماں کی شکم میں داخل ہوتا ہے
17:47بچے کی آئندہ کی ساری تقدیلیں لکھ دیتے ہیں
17:50تو بخاری کی سرشت کو پڑھاتے ہو
17:51اللہ ہمیں کیا کہتے ہوئے
17:53بھائی فرشتے کو علم ہے
17:55اللہ بتاتا ہے
17:56جب تو جا کر وہ تقدیل لکھ دیتا ہے
17:58کہ جنا کی بچہ پیدا ہو رہا ہے
18:00پر اس کے ساتھ کیا ہوگا
18:01پرسو کیا ہوگا
18:01کس طرح مرے گا
18:02جو اس کے ساتھ ہونا ہے
18:04سعید خاری شکم میں موجود ہے
18:05فرشتہ جا کر اس کو لکھ دیتا ہے
18:07تو یہاں سے پتا چلا
18:09کہ خدا اپنے محلوموں کو
18:10اس طریقہ ہماتا ہے
18:11تو جب آن فرشتے
18:13جو حضرت ازرائیم
18:14حضرت جبریل
18:15حضرت مکائن
18:16حضرت اسرافی کے
18:17لسکر کے سبائی ہیں
18:18خدا ان باتوں سے
18:20انہیں متعلق کر دیتا ہے
18:21تو ان کے صداعوں کو
18:22مقتلعے کیسا نہیں کرتا ہوگا
18:23کہ ان کے صداع مقتلعے ہو
18:25کہ حضرت ہمارے آقا
18:26مقتلعے کیسا نہیں کرتا ہے
18:30اب دیکھیں میری دوست
18:32کہ دنیا کا یہ پورا نظام
18:36جو خدا نے بنایا
18:38اور اس کی سیدھی
18:39اس کی تدریر
18:41فرشتوں کی حوالے کر دی رہی
18:44یعنی اب
18:46سبزہ
18:46اوگے گا خدا کے حکم سے
18:48لیکن اسے پوگائے گا فرشتہ
18:50سمت بڑی گا
18:51پھر اس میں رنگ دے گا فرشتہ
18:53خدا کی دیوی طاقت سے
18:55اس میں رس گا لے گا فرشتہ
18:57خدا کی دیوی طاقت سے
18:58ہم کہہ دیں سنو
18:59اگر اولیاء اکرام کو
19:01اپنے معلومات میں
19:03متصرف ماننا شکھ ہے
19:05تو یہ اس تمام عالم کے اندر
19:07جو فرشتے تدریر کر رہے ہیں
19:08وہ کیسے تو ہی کا تکڑا ہو سکتا ہے
19:10تو جب جس طرح
19:12فرشتے اس عالم کے اندر
19:14کارنات کی تدریر کرتے ہیں
19:16اسی طرح علماء لکھاؤ
19:17کہ جو قلیہ کامل کی روح
19:19اپنے جسم سے بھی کرتی ہے
19:20تو خدا ان فرشتوں کے مددگاروں میں
19:22ان کی روح کو شامل کر دیتا ہے
19:24پھر وہ فرشتوں کے ساتھ
19:25مل کر کائنات کی تدریر کرتے ہیں
19:28وہ اس کے لشکر میں شامل ہو جاتے ہیں
19:30اس لیے
19:31اگر کوئی ان کو
19:32باتِ رسالِ مددگار مانگی
19:34تو شکھ نہیں ہو سکتا
19:35اس لیے
19:36کہ جناب فرشتوں کو
19:37اللہ حضرت نے
19:38جس طاقت پر معلول کیا ہے
19:40ان کو اس کا فعامی
19:41اور مددگار مانگی
19:43بنا دیتا ہے
19:44کارکرانِ قضاء و قدر کے اندر
19:46اولیاء کی روحوں کو شامل کر دیتا ہے
19:48کہ کارکرانِ قضاء و قدر
19:50کہ اتاب رانے والے
19:51نفع کی چیز رانے والے
19:53جو فرشتیں ہیں
19:54ابادل کو کھیج کے لائے ہیں
19:55ہوا کو چلا رہے ہیں
19:57بارش برسا رہے ہیں
19:58پھر سردہ اُڑا رہے ہیں
19:59پھر اس میں رس ڈال رہے ہیں
20:00نفع ڈال رہے ہیں
20:02پھر وہ حکم ہو رہا ہے
20:03پھر اس سے چیزیں اور مددگ رہی ہے
20:05تو یہ سارا نظام
20:06فرشتیں چلا رہے ہیں
20:08تو کارکرانِ قضاء و قدر
20:11جب اس کائنات کے لئے تدبیر کرتے ہیں
20:13تو اولیاء کی روحیں بھی
20:14اس کائناتی کر کر
20:15ان کے معاقی میں شامل ہو جاتی ہے
20:17اور اسی کے بارے میں
20:18علماء نے لکھا
20:19کہ اسی معاقے میں
20:20اولیاء اکرام کے روحوں سے
20:21مدد حاصل کی جاتی ہے
20:23اب دیکھیں میرے دوست
20:25کہ جب
20:28فرشتیں اس کائنات کی تدبیر کرتے ہیں
20:32اور اللہ حقوقعظم میں
20:33اس کائنات کو بنایا
20:35اور اس کی تدبیر
20:37فرشتوں کے سپر کر دی
20:38تو اسی پہاڑ پر
20:42مضبوط فرشتیں جو نافذ تھے
20:43اس میں سے ایک ہوا
20:45کا فرشت کا سکار کے حضور آیا
20:46اور اس کے حضور مجھے اجازت دی دی ہے
20:48کہ میں اس قول
20:50جو آپ کے ذکر سے غافل ہے
20:52آپ کے مطاب سے غافل ہے
20:53آپ کے عظمت سے غافل ہے
20:55یا رسول اللہ آپ حکم فرمائیے
20:57کہ میں ان کو ہوا لڑا کر لے جاؤں
20:59اور اس پوری بسنی کو لے سو نافذ کر دوں
21:01صدی اللہ نے فرمائے
21:02نہیں نہیں
21:02یہ تو نالان ہے
21:03یہ مجھے نہیں نانتے
21:05میں ان کی پسٹوں میں دیکھ رہا ہوں
21:06کہ میرے ماننے والے پہلا ہوں گے
21:09اب پہاڑ کا فرشتہ آیا
21:11تو میں چاہوں
21:12اس نے کہا حضور اجازت دیجئے
21:15کہ میں ان دو پہاڑوں کو لا کر ملا دوں
21:17اور اس بسنی کو ختم کر دوں
21:20صدی اللہ نے فرمائے
21:23یہ نادار ہے
21:24یہ میرے مقام کو نہیں جانتے
21:26میں ان کی پسٹوں کے اندر
21:28ایک قوم دیکھ رہا ہوں
21:29کہ جو میرے ماننے والے ہوگی
21:31میں رحمت بن کر آیا
21:33میں ذہمت بن کر نہیں آیا
21:35الغز
21:36ایسے کئی فرشتے سردار کے پاس آئے
21:38لیکن دیکھئے
21:39اتنا ظلم ہونے کے باوجود
21:41میرے آقا نے بردباری دکھائی
21:43میرے آقا نے قدبو دکھائی
21:45میرے آقا نے حکمت دکھائی
21:46حسنہ دکھائی حلم دکھائی
21:48اب اسی چیز کو جہے میں رکھتے ہوئے
21:50سیدن عثمانی غنی کو دیکھیں
21:52کہ ستاری صلی اللہ علیہ وسلم نے
21:53اپنے سارے صحابہ کو
21:55اپنی باطنی طاقت
21:56بلاست محبت فرمائی
21:58حلم بردباری
21:59صبر کی طاقت
22:00جو سیدن عثمانی غنی کو بھی لی ہے
22:02یہ آپ بھی تخصیص نظر آتا ہے
22:04دیکھئے عثمانی غنی کی شہادت کا واقعہ
22:07کہ جیسے وقت
22:08آپ کے خلاف
22:11خارجیوں نے
22:13غلط پروپرگنڈا کیا
22:15اور باہی آپ کے خلاف مدینی کی گلیوں میں
22:18قتل کرنے کی بھی لے گئی
22:20چاریس دن تک آپ پر
22:22میٹھا پانی بکر دیا گیا
22:24آج میں کمی تاریخ کا
22:25اس آباتیہ نہیں سنا ہوگا
22:27کہ شخص
22:29حکومت کے منصف پر ہے
22:30فوج اس کے
22:32مدیع فرمائی مردان ہے
22:33کیونکہ حکومت پر جرے گی فوج پر
22:35کیونکہ غداری ہوگی
22:36تو فوج ہی
22:37اس کو دکھے گی
22:38ایک حاکم ہے
22:40فوج اس کی فرمائی مدار ہے
22:42اس کی ایک عباس تک
22:43فوج معاملے کو تحس سے نحس کر لے
22:45لیکن وہ شخص ایسا ہے
22:47کہ وہ فوج میں استعمال نہیں آتا
22:49اور باغی
22:50اتنے سر چل جاتے ہیں
22:52کہ چاریس دن تک
22:54سیدھر عثمان غلی کا پانی بند کر دیا گیا
22:56حرد دیر خالد مرین پہنچے
22:58اور عرسکی کے حضور
22:59یہ باغیوں نے آپ کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے
23:01آپ اتازہ دیجئے
23:03کہ ہم ان کو نیس کو رابع کر دیں
23:08عثمان کی وجہ سے مدینہ کے لئے مسلمان مہم لڑنا شروع کر رہے
23:13فرمایے
23:13میری دیر اس بات کو گوانا نہیں کرتی
23:15ہاں یہ نادار ہے
23:17یہ نہیں سمجھ رہے
23:18کہ جو بات پڑائی نہیں ہے
23:20اس سے قطر خدا کی خصم دور دور تک میرا تعلق نہیں
23:23لیکن یہ نہیں ہو سکتا
23:25کہ عثمان کی جان کو بچانے کے لئے
23:27میں مدینہ کے اندر
23:29شہر رسول کے تقدس کو پاہمان کر دوں
23:31اور یہاں پر جنگ و جنان کا سلسلہ شروع ہو جائے
23:33جب یہ بات ملک کے شام میں سید نامیر امامیر کو پتا چلی
23:37سید نامیر امامیر نے وہاں سے خبر لکھا
23:39بیس تار اہلت امیر امامیر میں
23:41ملک کے شام کا حکومت کی ہے
23:42بڑے متبر صحابی ہیں
23:44اللہ تعالیٰ منجے ہوئے صحابہ میں سے
23:47آپ نے خبر لکھا
23:48اور کہا حضور
23:49آپ شام آ رہیے
23:52کیونکہ مدینہ کی شضاہ ایسی نہیں ہے
23:54کہ آپ وہاں پر رہ سکیں
23:56باہی آپ کی جان کی پیچھے بڑے دوئے ہیں
23:59یا تو آپ شام آ جائیے
24:01یا پھر
24:02میں بہترین جو فولی تکتا ہے
24:05اور جو لشکر ہے میرا
24:07وہ میں آپ کی معادلت کے بھیجتا ہوں
24:09اس کو قبل خوائیے
24:10حضرت اسمانی غریر پہلے تو یہ فرمایا
24:12خرق کے طرح سے جواب دیا
24:13کہ مجھے کوئی فاظ کی ضرورت نہیں
24:15میں شہر رسول بیٹھا ہوں
24:17میری موت اگر یہاں لکھی ہے
24:19تو یہ میرے لیے بہت بڑی خوشبختی کی بات ہوگی
24:22بات یہ ہے
24:23کہ میں شہر رسول کے تقدس کو
24:25پانال ہوتے ہوئے نہیں دیل سکتا
24:28اور رہا ملک شام آنا
24:30تو میں مدینے چھوڑتے شام کیوں ہوں
24:32اس تجویز کو بھی آپ نے
24:34مسترد کر دیا
24:35آپ دیکھئے کہ پوری حکومت ہاتھ میں ہے
24:39فوج ہاتھ میں ہے
24:40اختیارات ہاتھ میں ہے
24:42لیکن اس کو آپ نے
24:43اس عمار میں میل آیا
24:45ان تمام چیزوں کو دیکھ کر
24:47تمام سحبر یہ کہا
24:48کہ خلق حوصلہ بے باقی
24:51بدباری جو حضرت اسمانی غریر کے اندر کی
24:53یہ کسی اور میں لگا نہیں ہے
24:55وہ مظلوم شخص
24:56اگر وہ غلط راستے پر ہوتا
25:00تو چور
25:01تو سب سے اپنی جان پیانی ہوتی ہے
25:05ایک فراڈی شخص
25:06سب سے زیادہ اپنے مقاصد پیانی ہوتے ہیں
25:09سیدنا اسمانی غریر کے متعلق
25:11جو اہلہ تشریعوں میں اپنی کتابوں کے تر
25:13مغلطات کے لیچی ہیں
25:14اگر اس کا دیانت سے کوئی تعلق ہوتا
25:16تو اسمانی غریر شہر مدینہ کے اندر
25:19فوج کو کھنا کر دیتے
25:20اور چن چن کے ایک ایک رازی
25:23ایک ایک عبداللہ بن سبا کی عورات کو
25:26قتل کر دیتے
25:26لیکن آپ نے اس چیز کو بلوئے کار نہیں رہا
25:29آپ نے صدی باتیں رہی
25:31آپ نے کہا کہ میں اپنے معاملے کو
25:33خدا کے حوالے کرتا ہوں
25:34اپنے قاتلوں کو خدا کے حوالے کرتا ہوں
25:37کہ کل خدا ہی ان سے بدلہ لے گا
25:39کہ آج اگر میں فوج کو بلوئے کار نہ ہوں
25:42تو دنیا کہے گی
25:43کہ یہ رسول کا جانشیر تھا
25:44جس نے اپنی جان بچانے کے لیے
25:46پنی فوج کو بلوئے دیا
25:48فرمائیے مجھ سے نہیں ہو سکتا
25:50تو یہاں پر آپ دیکھیں
25:52کہ ساری فوج آپ کے ہاتھ میں ہے
25:54لیکن حلم اور ملتاری یہ ہے
25:56کہ آپ نے اس چیز کو بلوئے کار نہیں لیا
25:58یہ تو آپ کی زندگی کا آخری نمحہ تھا
26:01جو میں نے آپ کے سامنے
26:02اس پہنے نقل کیا
26:04لیکن اگر آپ پہلی چیز کو دیکھیں
26:06تو وہاں پر بھی سیدر عثمانی حریق
26:08کوئی سانی نظر نہیں آتا
26:09سیدر عثمانی حریق قریش کے سب سے بڑے تاجر
26:14مال کی اتنی فرانانی ہے
26:16کہ بڑے سبرا شخص
26:18بڑے سبرا تاجر
26:19اپنے کاموبار کی مصمت کے لیے
26:22آپ سے قرضہ لیتا ہے
26:23آپ کے پاس آتا ہے
26:24یعنی سیدر عثمانی غریق کے پاس
26:26مال کی کمی نہیں
26:29عزت اور حیاء کے اندر ایسا نام ہے
26:31کہ ہر قریش کا شقیہ چاہتا ہے
26:34کہ ان کا رشتہ
26:35ہمارے گھر سے باپستہ ہو جائے
26:37کہ حسن ہے جمال ہے
26:38مال ہے حیاء ہے بردبانی ہے
26:41سمجھداری ہے
26:42خلم ہے اللہ پر قدر قریش میں
26:45کہ ہیں کون بنو مئیہ سے
26:48قبیلہ ہے بنو مئیہ
26:50سرطاق قبیلہ ہے بنو حاشم
26:52ٹھیک ہے
26:54بنو مئیہ اور بنو حاشم
26:56یہ زمانے سے رڑتے رہے ہیں
26:58بردبانی تاثر میں رہا ہے
27:00زمانی تاثر رہا ہے
27:02عبدالشم سبیر قریش پر مکمل کنٹرول کیا
27:06اور بنو حاشم
27:08سرطاق جس خاندان سے ہے
27:09اس کا نام بنو حاشم ہے
27:11بنو حاشم
27:12کیونکہ قریش جو ہے وہ پوری جماعت ہے
27:14اس میں سے ایک جماعت کا خاص میاں
27:17بنو حاشم ہے
27:18قریش ایک جماعت ہے
27:19وہ گورا گروہ ہے
27:21جو ایک زمان مولتا ہے عربی
27:23پھر اس میں برادیاں تقسیم ہوتی ہیں
27:25بنو حاشم
27:26بنو عمیہ
27:27بنو خزار کی برادیاں تقسیم ہوتی ہیں
27:30تو قریش
27:31یہ پوری ارتباط
27:32اس طرح بھی دیکھتے ہیں
27:34کہ یہاں پر لیاری میں رہنے والے
27:36جو کچھی زمان مولتے ہیں
27:37زمان تو ایک ہے
27:38لیکن اس میں برادیوں کا فرق ہو جاتا ہے
27:40کہ زمان تو سب وہی مولنے ہیں
27:42لیکن برادری کا فرق ہوتا ہے
27:43اس طرح سوالی جیدی
27:45کہ قریش
27:45زمان کے اعتبار سے تو ایک قبیہ ہے
27:47لیکن اس میں برادیاں تقسیم ہوئی ہیں
27:49بنو حاشم
27:50بنو عمیہ
27:51اور بنو حاشم اور بنو عمیہ کے دیگان
27:53ہمیشہ سے کہت رہی ہے
27:54بنو عمیہ
27:56اس حوالے سے
27:57تاریخ کے حوالے سے
27:58ذرا ہم تو سوالے ہمی کو دیکھیں
27:59کہ بنو عمیہ
28:01نے ہمیشہ یہ کوشش کی
28:03کہ بنو حاشم ہم پر غالب نہ آئے
28:05یعنی قریش پر یراسل ہماری رہے
28:08جانگیری ہماری رہے
28:09بنو حاشم ہماری تقسیم آتا ہے
28:11باتیں کہیں
28:12تو حضرت عثمان غمی
28:14بنو عمیہ سے
28:15توجہ نے چیز بات پر
28:17جیلو کہتے ہیں
28:18عثمان غمی نے کسی غرس سے ماننا ہے
28:20اگر غرس سے مان ہوتا
28:21تو عثمان غمی کبھی مان لاتے ہی نہیں
28:23اس لئے
28:24کہ آپ کو بنو عمیہ سے ہیں
28:25اور سرطان بنو حاشم سے ہیں
28:27سرطان اپنے نبی ماننا
28:29اپنے آپ کو ان کے قدموں میں جرانا ہے
28:31تو بنو عمیہ کا ایک
28:32مطموع شخص
28:34تاجیر شخص
28:35ایک امیر ترین برادری کا مالک
28:37وہ کب چاہے گا
28:38کہ اپنے داداں کی نشمنی کو ختم کرتے
28:40بنو حاشم کے ہاتھ پر صلاح کریں
28:42صلاح نہیں
28:43ان کے دردہ غلاب میں کیا ہے
28:47پہتیس سال آپ کی عمر ہے
28:49کوئی اوپ آش یوان نہیں ہے
28:51کہ اس کو تقریروں سے کسی نے جہاں سے لے دیا ہو
28:54پہتیس سال عمر ہے
28:56شرافت و دیانت میں
28:57اللہ نے یہ مقام بھی آگئے
28:59آپ سے بات سمائیں گے
29:00سیمرا صدیق اکبر ان کے پاس گئے
29:04ان سے پوچھا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا
29:07کہ تم محمد کے بارے میں کیا کرتے ہو
29:08صلی اللہ علیہ وسلم
29:10وہ نے کہا اپنے کون سانی ہے
29:13اب دیکھئے
29:14سیمرا صدیق اکبر
29:16بنو عمیہ کے
29:19مضبوط ستوں سے بنو حاشم کے ایک فرق کی بات پوچھ رہے
29:22لیکن صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گندگی سے پہلے بات تھا
29:26تاثر کی گند سے پہلے بات تھا
29:29پوچھا گیا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارے میں کیا کہتے ہو
29:31نڑکا ان سے مرانے اور فتیم شخص کون ہے
29:34جب آپ نے لیکا کہ سلطان کی شخصیت
29:36عثمان علیہ وسلم ہے
29:38انداز تبلیغ کے اعتماد سے
29:40صلی اللہ علیہ وسلم نے سلطان کی فضائل و خزائل
29:43جب عثمان علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے
29:45اور جب بتایا سلطان کی نبوت کی دعوت دی
29:47عثمان علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعبر کی دعوت
29:50تو حید پر راضی ہو گئے
29:51اور کہا کیک
29:52میں نبی اعباد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ
29:55پر بیت کروں گا اور اسلام نہ ہوگا
29:56یہ بات اچھا رہی تھی
29:58یہ مذاکرہ اچھا رہا تھا
30:01سلطان صلی اللہ علیہ وسلم کے اعبر آپ کو تبلیغ کر رہے تھے
30:03اسی درمیان میرے آقا تشنید لیا ہے
30:06جب میرے آقا کے حسین برک عثمان علیہ وسلم نے دیکھا
30:08تو آپ کے آقوں میں عثمان علیہ وسلم آگیا
30:10سکانے سر ہی آگے فرمایا
30:12ہاں ہاں عثمان
30:13امان لے آو
30:14جنت میں جاؤ گے
30:15میں تمہارے طرح
30:16نبی مناہ کے مبوس کیا گیا ہوں
30:19یہ تم جو دیکھ رہے ہو
30:20کہ سکھ آقوں کا دھوکہ ہے
30:22میں جو تم سے کہنا ہوں
30:23وہی حق ہے
30:24یہ کہنا تھا
30:25عثمان علیہ وسلم اٹھے
30:27سرنار کے سیرے سے لگے
30:28اور دست مبارک کو بوسا دیا
30:30اور اشہد اللہ الہاہ
30:32اللہ وشدہ
30:33و اشہد اللہ محمد ربطہ رسول
30:35کہہ کر زیور اسلام سے مرسلہ ہو گئے
30:38اب دیکھیں میرے دوستوں یہاں پر آپ
30:40عثمان علیہ وسلمان ہو رہے ہیں
30:43تو چند سالیسی باتوں تک
30:46آپ کے رئے میں امام داخل ہو گیا ہے
30:48آپ نے یہ نہیں کہا
30:50کہ صدیق ابو بکر علیکم بار کو سب صحیح ہے
30:53محمد صلی اللہ علیہ وسلم
30:55نیک ہے تمام باقی ٹھیک ہے
30:57لیکن میں بلو مہیا کہوں
30:59اگر میں ان کو مانوں گا
31:01تو میری برادی بارے میں ایسا کیا کہیں
31:04جو سمانے سے ہمارے باپ داداؤں کا ایک تفخہ
31:06نے ایک بڑائی چلی آئی ہے
31:08اب ان کو میں
31:09ساری زیوت کو اٹھا کر بلو حاشر کے قدموں میں رکھوں
31:12یہ کیسے ہو سکتا ہے
31:13پینتیس سال کے شخص اس بارے نہیں
31:15کہ مال کی بھی کمی نہیں
31:16عزت کی بھی کمی نہیں
31:18شہرت کی بھی کمی نہیں
31:19فدارت میں لاجبار ہے
31:25لیکن آپ نے دراصل خدا نے آپ کے دین کو
31:27دل کو اپنے توحید کی چراک کے لئے چن لیا تھا
31:32آپ نے تمام باقی تاثروں کو
31:34بس ایک کچھ ڈالا
31:35اور جو حق ہاں اس کو قبول کر لیا
31:38تو یہ تو
31:39صرف اِلخورمار عاشقین کے ایمان کے باتیں
31:42آپ کو یہ آپ دیکھیں
31:43تو کوئی شخص یہ کہے کہ
31:45یہ کسی غلص ایمان لائے جو
31:46تو اس کا جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے
31:49غلص ان کی صرف یہ چھی
31:51کہ خدا ہم سے رہی ہو جائے
31:53ہم خدا کے عذاب سے بن جائے
31:54اور یہ پاس صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ہمیں نصیب ہو جائے
31:57صرف اِلخورمار عاشقین کے ایمان آتے ہیں
32:00صدار کی قرمائن شریف آئین میں
32:02آپ کو ایک عالی مقام نصیب ہوا
32:04صدار نے بینی لخت جگر کو آپ نے ایک کامل دیا
32:07جنگِ بدر کے اندر
32:08عثمانِ غلی شریف رہی ہوئے
32:11اس لیے کہ صدار کی بیٹی
32:13جو آج کے نکامے تھی
32:15ان کی طبیب بڑی عزیر تھی
32:16صدار جمعی بدر میں تشریف دے گئے
32:18اور پہلی بات لوگ یہ کہتے ہیں
32:19عثمان بدر میں کیوں نہیں گئے
32:22بدر کی تو بڑی سعادت ہے
32:25سوال کرتے ہیں کھٹو لن سے
32:26کہ بدر کی تو بڑی سعادت ہے
32:29اور بدر کی بڑی عفضیت ہے
32:31تو عثمان بدر میں کیوں نہیں گئے
32:34میں نے کہا لکھو جب تم یہ کہہ رہے ہو
32:36کہ بدر کی بڑی عفضیت ہے
32:39اور قرآن میں بدری صحابہ کو جنگی کہا ہے
32:41چلو عثمان میں نہیں گئے
32:43ابو بکر تو گئے تھے نا
32:46عمر تو گئے تھے نا
32:48علی تو گئے تھے
32:49ابو رحمان دیناو بھی تو گئے تھے
32:51تو کم سے کم اسی مراقصیبت سے
32:53ان کے بارے میں تو سعادت ہے بولو
32:55کہ اگر اس بارے علی نہیں گئے
32:57تو ان کے بارے میں تو سعادت ہے تو
32:59میں اس سوال کرتے ہیں آپ سمداز میں دینا چاہوں گا
33:01کہ پہلے بات دیکھیں جنگِ بدر
33:03لڑی نہیں گئی
33:04صدار لڑنے میں بھی گئے تھے
33:06وہ تو سامراہ امنا ہو گیا
33:08تو رائی شروع ہو گئی
33:09صدار لڑی صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ بدر کے لیے
33:11جب رابانہ ہوئے
33:13صدار تمسط جنگ کرنا نہیں تھا
33:15صدار تمسط تھا کہ سفیان
33:17کے کافلے کا تاکب کیا جائے
33:19اور یہ صدار مدیر صلی اللہ علیہ وسلم
33:21صدار نے فرمایا کون ہے تو ہمارے ساتھ چلے گا
33:23جس کی مرضی چلو چلو جس کی مرضی نہیں چلو
33:25یہ جب کہنا تھا
33:27تو صحابہ نے کہا
33:28ہمارے فرمانہ کامے
33:29صدار نے فرما نہیں رہنے تو
33:31اگر تم نہیں آنا چاہتے تو بنا ہوں
33:32صدار نے خود ہو سکتی
33:33اس لئے کہ جنگ کا احراد ہوئی تھا
33:35جنگِ بدر کے لیے
33:37جنگ کا احراد ہوئی تھا
33:38محض
33:39صفیان کے قریش کے
33:41کافلہ جو جانا تھا
33:43اس کا تاکب تھا
33:44سیاست میرے آقا نے یہ فرمائی تھی
33:46کہ قریش کا جو نشد کافلہ
33:49تیجارتی کافلہ
33:50اس میں ان کا مان لگا ہوا ہے
33:52اور وہ کافلہ جو صفیان
33:53ملک شام سے لے کر
33:55مکہ کی طرف جانا ہے
33:56وہ کافلہ کیا تھا
33:58جس میں مکہ کے گھر گھر کا پیسہ لگا تھا
34:01یعنی جس کو بیعہ مضانبت کہتے ہیں
34:03کہ وہ شخص
34:04جو خود کام نہیں کر سکتا
34:06کسی افرمت آدمی کو پیسہ دے دے
34:08اور کہے کہ تم میری طرف سے داروبار کرو
34:10جو آئے گا ریشو باٹنے کے
34:12اس کو بیعہ مضانبت کہتے ہیں
34:13یعنی محلت تمہاری ہے
34:15مان میرا ہے
34:16تو وہ بیعہ و تیجارت کے سوار
34:18جو سکیان لے کر جا رہے تھے
34:20سکیان کو خبر پہنچیں
34:21کہ سکیان قریش کا
34:23سب سے بڑا مال لے کر جا رہے ہیں
34:25میرے آقا رسحہ سے کہا
34:27کیوں نہ ہم سکیان کے قافلے پر قبضہ کریں
34:29اور اس کو پتہ کر ملینے میں لائیں
34:31اس سے کیا ہوگا
34:32کہ اس میں ہر گویا کہ
34:34مکہ کے گھر کا پیسہ لگا ہوا ہے
34:37تو وہ ہمارے سامنے زیر ہو جائیں گے
34:39جب وہ ہم سے اپنے مال پتکانہ کریں گے
34:41تو ہم ان سے بادہ لیں گے
34:42شرائط کہہ کریں گے
34:44کہ ملینے کی طرف آئندہ
34:45شریر آنا نظر مت رکھنا
34:46ہمارے مسلمانوں پر ظلم مت کرنا
34:48یعنی یہ سکیان کی سیاست تھی
34:50کہ ہم اس پر
34:51اس کے قافلے پر قبضہ کرتے ہیں
34:54پھر اس پر مطالبہ کریں گے
34:56کہ ٹھیک ہے ہم دوارا قبضہ پورا دیکھیں
34:57سب لے گاؤ
34:59لیکن ہمارے یہ شرائط ہیں
35:00یہ شرائط اگر تمہیں خبور ہے
35:02تو اپنا مان لے گاؤ
35:03نئے خبور ہے
35:04تو یہ بات ہمارا ہو گیا
35:06اس لیے سے سرگار مکلے
35:08کیونکہ مسلمانوں کے بس
35:10اثبات کھائے
35:10اس میں سرگار جنگ کا یہ طریقہ اختیار کی
35:13تو سرگار مکلے
35:14تو سرگار ایران کیا
35:15کہ ہم سفیان کے
35:16قافلے پر قبضہ کرنے کے لے جانے
35:18کیا لانا چاہتا ہے
35:18تو تین سو تیرہ
35:20یہ تین سو صدرہ
35:21صحابہ سرگار کے ساتھ ہو گئے
35:23کچھ گئے
35:24کچھ نہیں گئے
35:25لیکن سرگار نے سختی سے یہ نہیں فرمائیں
35:27کہ جنگ کے لئے تو سرگار جانی ہو گئے
35:29لیکن وہاں پر پہنچنے کی بات
35:30جب سرگار نے سفیان کے نشکر کو پکڑا
35:34تو سفیان کو پہلے مخبروں نے
35:36خبر دینی تھی
35:37کہ محمد رسول اللہ
35:39مدینے سے ہی کر گئے
35:41اور پہلے قافلے پر پکڑے گے
35:42سفیان نے وہاں سے اپنے ایک مخبر کو پھایا
35:44اور کہا جاؤ
35:45مہتہ میں اعلان کرو
35:47کہ اپنی تلارے
35:48اپنے اسلیت کو لے کر آگاو
35:49اس لیے کہ محمد ہمارے اوپر حملہ کر رہے ہیں
35:52یہ خبر لے کر
35:53کہ وہاں پر پہنچا ہوئے شخص مکہ میں
35:54تو مکہ کا ہر شخص کا پیسہ اس میں لگا ہوا تھا
35:57تو ہر شخص اپنے بطوں کی قسم کھاتا ہوا
36:00نکلا
36:01سرگار خبر پہنچی
36:02کہ آرے یہ تو مانگے بسنا ہو گیا ہے
36:04کہ جناب تو مکہ میں خبر ہو گئی ہے
36:06اب وہ جنگ کے لئے آگئے ہیں
36:08تو سرگار نے اعظم جنگ فرمایا
36:10اور خدا کی بارگے میں دعا کی
36:11کہ مولا ہم تو بہت کم ہے
36:13اور وہ بہت زیادہ ہے
36:14رب نے فرمایا
36:15کہ یہ رب کے طریقہ ہے
36:16کہ رب جب چاہتا ہے
36:17کہ جو اس کی رضا کے لئے نڑے
36:19تو چھوٹا چھوٹا نشکر ہو
36:20خدا بڑے پر اس کو غالی کر دیتا ہے
36:23تو یہ پورا نقشہ میں نے مختصر اللہ کے آپ کو بتا دیا
36:26جو جنگ بدر کا ہوا
36:27تو اب سرگار نے جنگ بدر کیوں گئے
36:30کیوں نہیں گئے
36:31تو یہ اعتراض بنتا نہیں ہے
36:32یہ اعتراض بنتا نہیں
36:36دوسری بات یہ ہے
36:37کہ عثمان علی جنگ بدر میں نہیں ہے
36:39اس کی وجہ یہ چھوٹا ہے
Comments