- 1 day ago
Haliwood movie explain in Hindi.
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00BAHAR KHADA TRAIN ATTENDENT YATRIYON KÍ JANJ KAR RAH THA
00:02POR USNNE DHYAN NAHI DIA KÍ EK LADKY TAYZI SÉ TRAIN MÉ CHARD CHUKY THI
00:06OR DRAWAZE POR BEKABU HOKAR TARAP RAHI THI
00:08BAHAR KOI NA DEEK USNNE DRAWAZE BUND KERNÉ KAI SHARAH KIA
00:10DRAWAZE BUND HOTE HÍ USNNE EK KHOFNAK NZARAH DECHA
00:13SEDHIYON POR BHEAD THI OR WAITING EARIA MÉ DANGGE JASA MAHAOL THA
00:17TRAIN CHALNAY LADGY EK CHOTII LADKY BAHAR DECHA RAHI THI
00:19TABHI TRAIN ATTENDENT COO ACHANAK NIECZE GİRA DIA GYA
00:22ISSE LADKY DAR GAYI
00:23WAH USKE PAPA KO BATANA CHAHATY THI POR WHE SOU RAHE THI
00:25TABHI LADKY NAY DECHA KIKI EK YATRI NAY ATTENDENT COO BATAYA
00:28KIKOI TOILET MEN SHOR MACHA RAHAY HAYRAN HOKAR LADKY BH PIECHAE GAYI
00:31ATTENDENT NAY DRAWAZA KHOLA TOO ANDAR EK BIKHARI KAMP RAHA THA
00:34ATTENDENT TICKET KIKI JANCH KERNA CHAHATA THA
00:36POR BIKHARI GHABRAYA HUA PÁGALON JASI HARKATEN KER RAHA THA
00:39JYISSE WAH KISI DRAWANI CHEYZKA SHIKAR HUA HO
00:41ISI DORAN TRAIN KEY EK OR DIBBE MEI
00:43WAHI VIRUS SE INFECTED LADKY
00:45APNI STOCKINGS COO KAS KAR APNI JANGHON POR LAPET RAHI THI
00:48USE MAHSOOS HO GAYA THA Kİ WAH JALD HÍ APNA KANTROL KHOU DAY GYI
00:51OR HOTA BHI BILKUL WIESSA HI HAY
00:52KUCH MINUTE BAD WHAH LADKHARATE HUA
00:54DIBBE KE ENDER PAHUNCH GAYI
00:55IS SEMEYE WAHI AUR BHI ZYADHA AJYIB LAGG RAHI THI
00:57MANU USKA SHAREER AB USKA NAHI RAHA HO
00:59BACHI KHUCHI TAKAKT KEY SAHARE
01:01DIBBE KA DIRWAZA KHOLNÉ KE BAD
01:03WHAH AAKHIRKAR KHUD KHO SONBHAAL NAHIN PAYI
01:05LADKI SIRKE BAL DIVAR SE JA TAKRÁI
01:07OR PHIR ZOR SE ZAMIN POR GIR PADI
01:09UDHER SAB LLOG IS BATS SE ANJAN THI
01:11Kİ JALDH HI YER TREYN EAK MAUT KA KUWAN
01:13BANNE WALY HAY
01:13WAHI SOOZAN TOILET JANA CHAHATI THI
01:15LLEKIN JAB USN NE DIRWAZA KHOLA
01:17TO EK AADMY NE EUSSE ROK LIA
01:18IS BHARI BHAR KAM ANKAL NE
01:19SOOZAN KO BATAYA Kİ EUSKI PREGNENT WIFE
01:22ANDAR HAY
01:22ISLIIAYE USN NEKAHA Kİ SOOZAN
01:23PITCHLAYE DIBBE ME JAKA KER
01:25TOILET KERE
01:25ISI SEMEYE EK FEMALE TREYN AATENDENT
01:27CHECKING KAY LIA TAYYAR HOU RAHI THI
01:41SE AYE KALL KO DEEKKER
01:42UNHONNE PAHLE FONE UUGHANNE KA FACILA KIA
01:43US SHANTH MAHAL MEN JAB USNNE
01:45ACHANAK TREYN AATENDENT KE JOOTOKI
01:47AAHAT SUNI
01:47JOO KORIDOR MEN BAHUHT TAYZI SE GZER RAHE THI
01:50TOTO USE MAHSOOS HUA Kİ SHAYID
01:51KUCH EMERGENCY AGAI HAYI HAYI
01:53JISKKE KARANN VAH ITNI JALDI MEN
01:54VAHAHAN SE NIKAL RAHA THA
01:55ISLIIAYE LADKI KE PAPA BHI
01:56HLKA SAH MAHSOOS KERNE LAGAY
01:58KIKI KUCH GĐRBAR HAYI
01:59OR VAH TURANT UĞKAR
02:00APNI BETI COO DHUNNE LAGAY
02:01PIECHAE BÄTHE SABHI YATRI
02:02DARR KE MAHARE
02:03TV POR CHAL RAHI
02:04EMERGENCY KHABAR KO GHUR RAHE THI
02:06OR ZAMIN POR GIRI LADKI
02:07COO BHEHOSH DEEKKKER
02:08TREYN AATENDENT BHI ULJHAN MEN THI
02:09LLEKIN INTERCOM KA SIGNAL
02:11ACHANAK HI CHALA GYA
02:12OR JAB WHAH AAPNE
02:13MELL AATENDENT KE
02:13AANNEKA INTAZAR KER RAHI THI
02:15TABHI ACHANAK LADKI
02:16POURI TARAH INFECTEED HOKER
02:17EK KHATRNAK JOMBIE MEN BADL GAY
02:19AATENDENT KE POKARNE POR
02:20JAB KOI JVABAB NAHI MILA
02:21THO VAH VAHAAN BHAGA
02:22POR TAB TAK FIMEL AATENDENT
02:23KE SATH ANHONI HO CHUCI THI
02:25KHILARDIYON WALE DIBBE MEN
02:26JOMBIE FIMEL AATENDENT KEE PEET POR THI
02:28VAH USE ROKNE KI KOOSHISHISH KER RAHI THI
02:30OR YATRIYON SE MADD CHACHATI THI
02:31POR WHE KUCH SEMJH PATHE
02:33USSE PAHLE HII
02:33VAH BEOHOŞ HOKAR GIR GAYI
02:35ITNE MAIN HIN JOMBIE LADKI NENE
02:36DOOSERE YATRI KO APNA SHIKAR BNA LIA
02:38LECIN JASSE HHI TAYZUN
02:39APNE DOST KI MADD KE LIA
02:40AGE BADHA TABH HI USKI GIRL FREND NENE
02:42ZAMIN POR INFECTION PHYALTE DEEKHA
02:45PIECHAE HALCAL HUI
02:46OR JAB MANEJER VAHAAN PAHUNCHA
02:48TOTO GHBRAAI YATRIYON NENE
02:49USE DHAKKA DEEKAR GIRA DIA
02:50KUCH MINUT KE ANDAR HII
02:51DIBBA JOMBIEYON SE BHAR GAYA
02:53JOMBIE BANCHUKI ATTENDANT
02:54CO YATRIYON COO KAKAĆTTE DEEK
02:55MANEJER POURI TARHA SE HAYRAN RAH GAYA
02:57HALAT BIGGARTE DEEK
02:58VAH TURANT VAHAAN SE BHAGA
03:00OR DOOSRON COO BHAGAGNES KA IŞARAH
03:01KERNES LAGA
03:02SOOZAN COO DHUN RAHE
03:03USKE PAPA NENE
03:03EK PASENGER COO BHAGAGTE DEEKHA
03:05Lیکن وہ کچھ سمجھ نہیں پائے
03:06آگے کے ڈبے میں بھیڑ دیکھ
03:08وہ وہاں پہنچے
03:08وہاں اٹینڈنٹ پیسنجرز کو جگہ رہا تھا
03:10تب ہی ایک جومبی نے
03:11اس کی گردن پر کاٹ لیا
03:14یہ دیکھ کر پیسنجر
03:15وہاں سے ہلنے کی حمد نہیں کر پائی
03:17اور وہاں بھی ایک اور
03:18جومبی کا شکار بن گئی
03:19اس پل لڑکی کے پاپا
03:20جس کا نام سیوک تھا
03:21اسے سب سمجھ آ گیا
03:23وہ سوزن کو لے کر
03:24پیچھے کی اور بھاگنے لگا
03:25پر اس کی بیٹی
03:26بری طرح سے گھبرا گئی
03:27جومبی تیزی سے
03:28اس کے ٹھیک پیچھے تھا
03:29سیوک کو بھی ڈر لگنے لگا
03:30کیونکہ آگے تڑپ رہے
03:31پیسنجر کے شریر میں بھی
03:32وائرس اب پھیل چکا تھا
03:34لیکن اس کے حملہ کرنے سے پہلے ہی
03:35اس نے اسے دور کر دیا
03:37اب پیچھے کے سارے ڈبے
03:38جومبیوں کے قبضے میں آ چکے تھے
03:40ادھر ڈانگ آگے ٹوائلٹ کے پاس تھا
03:41اور بھاگتے لوگوں کو دیکھ
03:43اس نے اپنی وائف کو باہر بلایا
03:44تبھی انہوں نے دیکھا
03:45کہ جومبی سامنے ہیں
03:46اور سیوک ان کے بیچ بھنس گیا ہے
03:48ڈانگ ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں پایا
03:49پتہ کرنے کے لیے
03:50اس نے جومبی بن چکے آدمی کو جکڑ لیا
03:52لیکن اچانک اس جومبی نے
03:53اسی پر حملہ کر دیا
03:54جومبیوں کا دھیان بھٹکتے دیکھ
03:56سیوک جلدی سے اپنی بیٹی کو لے کر
03:58وہاں سے نکل گیا
03:58ڈانگ نے اپنی طاقت سے
04:00جومبیوں کو ایک چھوٹے کمرے میں بند کر دیا
04:01زمین پر پڑے انسان کو
04:03میوٹیٹ ہوتے دیکھ
04:04بہت ترنت اپنی پتنی کو پکارنے لگا
04:06اور اس سے وینطی کی
04:07کہ وہاں سے بھاگ جائے
04:08لیکن پیچھے سے بڑی سنکھیا میں
04:10جومبیوں کو آتے دیکھ
04:11ڈانگ بھی ترنت وہاں سے نکل گیا
04:13اس سمیہ سیوک ٹرین کے
04:14سرکشت ڈبے میں پہنچ چکا تھا
04:16سبھی لوگ امرجنسی نیوز دیکھ رہے تھے
04:17جب انہوں نے ہڑ بڑی میں آئی
04:19یاتریوں کو دیکھا
04:20تو انہیں بھی احساس ہوا
04:21کہ ٹرین میں بھی وہی ہو رہا ہے
04:22جو نیوز میں دکھایا گیا تھا
04:23اُدھر ڈانگ اور اس کی وائف کے پیچھے
04:26جومبی دوڑ رہے تھے
04:27تبھی ایک بوڑھا آدمی
04:28اچانک مین ڈور بند کرنے کو کہتا ہے
04:29لیکن دروازہ آدھا بند ہوا ہی تھا
04:31کہ اچانک اٹک گیا
04:32تبھی سیوک نے دیکھا
04:33کہ اوپر والا سوچ اٹکا ہوا ہے
04:35پر سوچ کھولنے کے بعد بھی
04:36اس نے دروازہ بند نہیں کیا
04:38بلکہ دونوں کے آنے کا انتظار کیا
04:39لیکن اس بوڑھے کے اکسانے پر
04:41آس پاس کے لوگ بھی اس کے ساتھ ہو گئے
04:43اس لیے اس نے مجبوری میں
04:44ڈبے کا دروازہ بند کر دیا
04:45اور دونوں جومبیز کے بیچ میں پھنس گئے
04:47بچی بار بار چلاتی رہی
04:49کہ پاپا میں ڈور کھول دو
04:50لیکن وہ کچھ نہیں کر سکا
04:51ادھر ڈانگ اپنی پریگنٹ وائف کو
04:53بچانے کے لیے جومبی سے لڑتا رہا
04:54یہ سوچ کر کہ وہ لوگ گیٹ کھول دیں گے
04:56لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کرنے والا تھا
04:58مجبور ہو کر اس نے خود دروازہ کھول لیا
05:00سیوک نے دیکھا
05:01کہ جومبی دروازہ کھولنا نہیں جانتے
05:03اس لیے اس نے ڈانگ سے دروازہ کھولا چھوڑنے کو کہا
05:05اتنے میں ہی ڈانگ کی وائف نے
05:07ترنت زمین پر گرا پانی اٹھایا
05:08اور اخبار سے اسے کانچ کے دروازے پر چپکا دیا
05:11تب جا کر جومبی شانت ہوئے
05:12ابھی ابھی جو بوڑھا ڈانگ کو آنے سے منع کر رہا تھا
05:15وہ اب خود ہی آگے بڑھ کر پوچھتاچ کرنے لگا
05:17تاکہ وہ ساری ذمہ داری سیوک پر ڈال دے
05:19سالہ یہ تو ایک نمبر کا کبھی نہ
05:21تبھی کنڈکٹر نے گھوشنا کی
05:23کہ اوپر سے نردیش ہیں
05:24کہ باہر دنگے ہو سکتے ہیں
05:25اس لیے ٹرین اگلے سٹیشن پر نہیں رکے گی
05:27پر بوڑھا آدمی اٹینڈنٹ کو بلا کر آدیش دیتا ہے
05:30کہ ٹرین وہاں ضرور رکنی چاہیے
05:31بدلے میں چاہے جتنے پیسے لے لو
05:33ٹھیک اسی سمئے سیوک کو اپنی بوڑھی ماں کا فون آتا ہے
05:36اصل میں گھر میں اچانک بہت سارے جومبی گھوسائے تھے
05:38اور ماں کو جومبی نے کٹ لیا تھا
05:40سیوک کی ماں چنتہ کر رہی تھی
05:41کہ اس کا بیٹا باہر کسی خطرے میں نہ پڑ جائے
05:49جیسے ہی اس کی ماں میں سنکرمن ہو رہا تھا
05:51ویسے ہی ان کا نیانترن کھو گیا
05:52اور فون بھی اسی وجہ سے کٹ گیا
05:54لیکن اس سمئے سیوک کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا
05:56وہ بس اپنی بیٹی کے پاس رہ کر
05:58اس کی حفاظت کر سکتا تھا
05:59اسی دوران ٹرین اچانک امرجنسی بریک لگاتی ہے
06:02اصل میں ٹرین اگلے سٹیشن سے گزر رہی تھی
06:04اور باہر لوگ لگاتار کھڑکیوں پر دستک دے رہے تھے
06:06ساف تھا کہ باہر بھی بڑی سنکھیا میں جومبی ہے
06:09اتنی ڈرامنی استحتی دیکھ کر
06:10سیوک جلدی سے اپنی بیٹی کو اپنی باہوں میں لے لیتا ہے
06:13ٹرین کے گزرتے ہی ہر جگہ افرات افری مجھ جاتی ہے
06:16تب ہی کوریائی سرکار بھی پریس کانفرنس کر کے
06:18پورے دیش میں پنڈیمک گھوشت کر دیتی ہے
06:20اور کسی کو بھی باہر نکلنے سے منع کر دیتی ہے
06:22ٹرین میں جب سب ہی لوگ اُلجھن میں تھے
06:24تب ہی ٹرین کنڈکٹر نے انہیں ایک اور خبر دی
06:27ٹرین اگلے ڈیزن سٹیشن پر رکے گی
06:29جہاں سینا پہلے ہی تینات ہو چکی ہے
06:31یہ سن کر سیوک بھی جلدی سے فون کرنے چلا جاتا ہے
06:33اس بیچ ڈاؤنگ اور سوزن آپس میں باتیں کرنے لگتے ہیں
06:36وہ بچی سے پوچھتا ہے کہ اس کے پاپا کیا کرتے ہیں
06:46سوزن ڈاؤنگ کی باتیں اچھی طرح سے سمجھ رہی تھی
06:48وہ برا نہ مانے اس لئے ڈاؤنگ کی وائف نے اسے کینڈی دی
06:51اور بچے کی حلچل محسوس کرائی
06:52اس سے سوزن کا ان سے جڑاو ہو گیا
06:54تب ہی سوزن کے پاپا نے اپنے وی آئی پی کسٹمر کو فون کیا
06:57جو ایک سپیشل آفیسر تھے
06:58آفیسر نے فری میں شیئر مارکٹ کی ٹپس لینے کے لیے
07:01سیوک کو بتایا کہ ڈیزاؤن سٹیشن پر
07:03پیسنجرز کو کوارنٹائن کیا جائے گا
07:05اس لئے اس نے سیوک کو بچ نکلنے کی ایک ایڈوائز دی
07:13جیسے ہی سیوک جانے لگا
07:15اس نے دیکھا کہ بھکاری ڈرہ ہوا وہی بیٹھا ہے
07:17سیوک کو لگا کہ اس نے کچھ نہیں سنا
07:19پر وہ انجان بننے کا ناٹک کر رہا تھا
07:21جلد ہی ٹرین سٹیشن پر رکی
07:22جہاں بلکل سنناٹا تھا
07:24یاتری سابدھانی سے اترنے لگے
07:26کنڈکٹر پیچھے دیکھنے گیا
07:27تو اس نے ایک خوفناک نظارہ دیکھا
07:29تب ہی اسی مطلبی بوڑھے آدمی نے بتایا
07:31کہ جس اسٹیشن پر ہم رکے ہیں
07:32وہاں کا پورا شہر سیل ہے
07:34اور اب صرف بوسان ہی کھلا ہے
07:35اس نے کنڈکٹر سے انجن الگ کر
07:37اسے اکیلے بوسان لے جانے کو کہا
07:39کنڈکٹر نے اس کی بات انسنی کی
07:40اور یاتریوں کو خبر دینے چلا گیا
07:42ادھر یاتری باہر گیٹ کی اور بڑھ رہے تھے
07:44اور وہاں سینہ نہ دیکھ کافی حیران تھے
07:46ہال میں اب بھی اتھل پتھل مچی ہوئی تھی
07:48سیوک آنفیسر کو ڈھونڈ رہا تھا
07:50تاکہ وہ بتائے سرکشت جگہ پر جا سکے
07:52ریلنگ پر بین لکھا تھا
07:53پر وہ بیٹی سنگ اندر چلا گیا
07:55یہ دیکھ ڈانگ اور اس کی وائف حیران رہ گئے
07:57تب ہی سوزن نے پوچھا
07:58کہ ہم ان کے ساتھ کیوں نہیں جا رہے ہیں
08:00اسی سمیں وہ بھکھاری بھی وہاں آ گیا
08:02تب ہی اس نے بتایا کہ اس نے سیوک کی ساری باتیں سن لی تھی
08:05مجھے معلوم ہے باقیوں کو الگ رکھا جائے گا
08:07یہ سنتے ہی سوزن ترنت باقی لوگوں کو بلانے دوڑ پڑی
08:10لیکن سیوک نے اسے روک لیا
08:11اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ ابھی کسی کی پرواہ مت کرو
08:14ایسے ماحول میں ہر کسی کو اپنی خود کی بھلائی کے لیے سوچنا چاہیے
08:17اس بات نے سوزن کو اندر سے توڑ دیا
08:30اسکیلیٹر سے نیچے گیا
08:31اس نے دیکھا کہ ساری سینہ وہیں کھڑی تھی
08:33لیکن تب ہی سینک پیچھے مڑنے لگے
08:36اصل میں وائرس کو روکنے کے لیے تینات سینہ
08:39خود سنکرمیت ہو کر جومبی بن چکی تھی
08:41ڈانگ اپنی پریگنٹ وائف کو لے کر
08:43اسکیلیٹر سے کود کر بھاگ گیا
08:44سمیں پر بھاگ نہ پانے والے لوگ ترنت شکار بن گئے
08:47ان سینکوں کی طاقت اور سپیڈ جومبی بننے کے بعد
08:50اور بھی ڈراؤنی اور گھاتک ہو گئی تھی
08:52ٹھیک اسی سمیں جومبیز کی بھیڑ سوزن کے پاس پہنچ گئی
08:55گھبرہت میں وہ ہل بھی نہیں پائی
08:56تب ہی جومبی اس پر جھپٹے
08:57سیوک نے دیکھا کہ اب سمیں نہیں بچا ہے
08:59تب ہی ڈانگ وہاں آ گیا اور سوزن بال بال بچ گئی
09:02تب ہی جومبی لڑکی کے پاپا کی اور بڑھے
09:04ڈانگ اور اس کی وائف لڑکی کو لے کر نکل گئے
09:06کوریڈور جومبیوں سے بھر چکا تھا
09:07اور لوگ پلیٹ فارم کی اور بھاگ رہے تھے
09:09بیس بال کھلاڑی سب کو جلدی بھاگنے کو کہہ رہے تھے
09:12لیکن سیوک اس موقع کو چوک گیا
09:13اور ایک جومبی نے اسے گرا دیا
09:15اس نے کتاب جومبی کے موہ میں ٹھونس کر خود کو بچایا
09:18اسی بیچ ڈانگ نے ڈنڈے سے دروازہ اٹکا کر بند کر دیا
09:21پر وہ وہاں سے گئے نہیں
09:22وہ ان لوگوں کی مدد کر رہے تھے جو ہال سے بھاگ رہے تھے
09:24تب ہی ایک بھکاری نے لڑکی کے پاپا کی مدد کی
09:27ڈر کے مارے سیوک ڈانگ کے پکارنے پر ہوش میں آیا
09:29اور وہاں سے بھاگا
09:30تب ہی بڑی سنکھیا میں جومبیز وہاں آ گئے
09:32اور سیوک کے پہنچتے ہی
09:34سب نے مل کر مین ڈور بند کر دیا
09:35پر جومبیز کو روکے رکھنا بہت زیادہ مشکل تھا
09:38ان کی تعداد لگاتار بڑھ رہی تھی
09:40اُدھر ٹرین تک پہنچے لوگوں نے جلدی سے دروازہ کھولا
09:42پر اندر بھی جومبی تھے
09:44کنڈکٹر کیبن کی اور بھاگا
09:45اور لوگ پیچھے والوں کو جلدی بھاگنے کو کہنے لگے
09:47پر وہ مطلبی بوڑھا آدمی دروازہ بند کرنے کی تاک میں تھا
09:50ٹرین کنڈکٹر کیبن میں گیا
09:52اور کھڑکی کھول کر یاتریوں کا انتظار کرنے لگا
09:54تب ہی اچانک اوپر کی کھڑکی ٹوٹی
09:56اور جومبیوں کا ایک جھنڈ نیچے گرنے لگا
09:58ایک بوڑھی عورت جومبی کے نیچے دب گئی
10:00اٹھنے پر اس نے دیکھا کہ ہڈی ٹوٹنے کے باوجود
10:03جومبی اب بھی انسانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا
10:06ڈری ہوئی عورت کو دو بھلے لوگوں نے
10:08جلدی سے ٹرین میں کھینچا
10:09بھیڑ کے کارن سب الگ الگ ڈبوں میں چڑھنے کو مجبور ہو گئے
10:12پریگنٹ مہیلا نے جومبی دیکھ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی
10:15وہ لڑکی اور عورت کی مدد کر رہی تھی
10:17پر جیسے ہی وہ دروازہ بند کرنے کی کوشش کرنے لگی
10:20تب ہی
10:23اصل میں وہ کوئی زومبی نہیں بلکہ بھکھاری تھا
10:26دیکھتے ہی دیکھتے زیادہ تر لوگ ٹرین میں چڑھ چکے تھے
10:28تب ہی ایک بزرگ نے کنڈکٹر کی شرٹ پکڑ کر اسے دھمکایا
10:31اور کہا کہ اب ترنت ٹرین چلانی ہوگی
10:33لاچار ہو کر کنڈکٹر کو ٹرین ماسٹر سے ٹرین چلانے کے لیے کہنا پڑا
10:37لیکن ابھی بھی کچھ لوگ ہال کے دروازے پر کھڑے تھے
10:39اور وہی اصلی مرد تھے جو پوری ٹرین میں تھے
10:42اگر وہ وہاں رکھ کر راستہ نہ روکتے
10:44تو شاید کوئی بھی صحیح سلامت ٹرین میں نہیں چڑھ پاتا
10:46لیکن بھلے ہی انہوں نے پوری طاقت سے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی
10:50پر وہ جلد ہی سمجھ گئے
10:51کہ کانچ کا دروازہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک پائے گا
10:54اس لیے انہوں نے بینا کچھ کہے
10:55ترند بھاگنے کا فیصلہ کیا
10:57ٹرین دھیمی تھی
10:57کچھ ایتھلیٹس اسے پکڑنے دوڑے
10:59پر اترتے ہی جومبی نے حملہ کر دیا
11:01پیچھے جومبی تھے اور آگے ٹرین چھوٹ رہی تھی
11:03رفتار کم ہونے سے دو لوگ چڑھ گئے
11:05سیوک نے مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا
11:06پر خطرہ دیکھ دونگ پیچھے ہٹا اور ڈھال اٹھا لی
11:12آخر میں سیوک کی مدد سے
11:14ڈانگ بھی سفلتا پوروک ٹرین میں چڑھ گیا
11:16اور اس سے دونوں کے بیچ گہری دوستی ہو گئی
11:18تب ہی کنڈکٹر نے ریلوے کیندر سے سمپرک کیا
11:20اور سرکشت سٹیشن نہ ملنے پر
11:22ٹرین کو بوسان کی اور بڑھا دیا
11:23اس سمیہ سب الگ الگ ڈببوں میں تھے
11:25ڈانگ کی وائف نے فون کرنا چاہا
11:27لیکن بھکاری نے اسے روک دیا
11:28کیونکہ اس نے دیکھا کہ دائیں اور بائیں
11:30دونوں طرف کے ڈببوں میں جومبی بھرے ہوئے تھے
11:32وہ چاروں ٹرین کے دروازے کے پاس پھنس گئے تھے
11:35لیکن کیونکہ انہوں نے کوئی تیز آواز نہیں کی تھی
11:37اور جومبیوں نے انہیں نہیں دیکھا تھا
11:39اس لیے وہ پکڑے نہیں گئے
11:40اب ان کے پاس چھپنے کے لیے
11:41کیول ڈببے کے دونوں اور بنے
11:43ٹوائلٹ ہی بچے تھے
11:44وہ بہت سابدھانی سے وہاں پہنچے
11:46اور تب ہی جب عورت نے بکھاری کو جلدی آنے کا اشارہ کیا
11:48تب ہی ایک جومبی کی نظر ان پر پڑ گئی
11:50اور دیکھتے دیکھتے
11:51کئی سارے جومبی ان پر ٹوٹ پڑے
11:53اور ٹوائلٹ میں موجود تینوں کی جان خطرے میں آ گئی
11:55تب ہی جنہی کو اس کے بائی فرنڈ کا فون آیا
11:57اور پتا چلا کہ وہ سب ٹھیک ہے
11:59ادھر ڈونگ نے اپنی وائف کو فون کیا
12:01اس نے گھبرا کر بتایا
12:02کہ وہ بچی کے ساتھ
12:03ڈببہ تیرہ میں پھنسی ہے
12:05اور مدد چاہتی ہے
12:06لڑکے نے بتایا
12:07کہ باقی یاتری
12:07ڈببہ نمبر ایک سے پانچ میں ہیں
12:09جبکہ وہ ابھی نو میں ہیں
12:10اپنے دوستوں تک پہنچانے کے لیے
12:12تینوں نے مل کر
12:13ان خطرناک جومبیز کے بیچ سے
12:15نکلنے کا فیصلہ کیا
12:16جب ٹرین اچانک ایک سرنگ میں گھسی
12:18تب ہی ڈونگ نے یوجنا بنائی
12:19کہ سرنگ سے باہر نکلتے ہی
12:21وہ اندر گھسیں گے
12:22ڈونگ سب سے آگے کھڑا ہوا
12:23اور سامنے سے آنے والے
12:24جومبیز کو پہلے سنبھالا
12:26وہیں دونوں پیچھے بچے
12:27جومبیز سے
12:27ڈونگ کو کور دینے لگے
12:28اس سمیہ وہ لوگ
12:29دس نمبر ڈببے میں تھے
12:30اور ان کا پلان
12:31سب سے پہلے
12:32تیرہ نمبر ڈببے میں جا کر
12:33لوگوں کو بچانا تھا
12:34تینوں ایک جھٹ ہو کر
12:35جومبیز کو پیچھے
12:36دھکیلتے ہوئے
12:37دس نمبر ڈببے سے نکل گئے
12:38لیکن جیسے ہی
12:39انہوں نے اگلے
12:54اور سب ہی کو
12:54ایک ایک کر کے
12:55زمین پر پٹک دیا
12:56تیجن کے دوست
12:57بہت زیادہ طاقتور تھے
12:58اور جومبی بننے پر
12:59ان کی طاقت
13:00اور بھی خطرناک ہو چکی تھی
13:01اپنے دو ساتھیوں کو
13:02خطرے میں دیکھ کر بھی
13:03وہ ان پر ہاتھ نہیں اٹھا پایا
13:05جلدی ہی وہ سب ہی جومبیز
13:06سیوک اور دونگ کو
13:07اپنے قبضے میں لینے لگے
13:08لیکن یہ سب کے باوجود
13:10وہ صرف انہیں دیکھتا رہا
13:11اتنے میں ہی ٹرین
13:12ایک سرنگ سے گزری
13:13اور تب ہی انہوں نے
13:14عجیب بات دیکھی
13:14جومبیز نے ان پر
13:16حملہ بند کر دیا
13:16اور ادھر ادھر شکار
13:17ڈھوننے لگے
13:18تینوں حیران کھڑے رہ گئے
13:19تب ہی اوپر سے
13:20بال گری اور جومبی
13:21وہاں مڑ گئے
13:22سیوک نے بیٹ کو
13:23اوپر میٹل ریک پر بجایا
13:24اور واقعی جومبی
13:25ترنت وہاں اکٹھا ہو گئے
13:27وہ ترنت موقع کا فائدہ
13:28اٹھا کر
13:28اس ڈبے کو پار کر گئے
13:30لیکن تب ہی ٹرین
13:31پھر سے سرنگ سے نکل گئی
13:32اور جومبی ایک بار
13:33پھر ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے
13:34تینوں وہی نیچے جھک کر
13:35سوچنے لگے
13:36اور اس نتیجے پر پہنچے
13:37کہ ان جومبیز کی
13:38سننے اور دیکھنے کی طاقت
13:40ہم انسانوں سے
13:40کہیں زیادہ تیز ہیں
13:41لیکن جیسے ہی
13:42وہ اندھیرے میں ہوتے ہیں
13:43ان کی دیکھنے کی طاقت
13:44پوری طرح ختم ہو جاتی ہے
13:46جبکہ سننے کی شکتی
13:47رات میں اور بھی تیز ہو جاتی ہے
13:49اس لیے جب وہ
13:5012 نمبر ڈبے میں
13:51گھسنے والے تھے
13:51تب ہی سیوک کو
13:52ایک اچھا طریقہ سوچا
13:53اس نے ڈانگ سے
13:54اس کا موبائل مانگا
13:55اور جلدی سے
13:56اپنا نمبر اس میں سیو کر لیا
13:57جب ٹرین سرنگ میں گھسی
13:58تو تینوں چپ چاپ
13:59جومبیز کے پیچھے والی
14:00سیٹوں تک پہنچ گئے
14:01پھر اس نے ڈانگ کا
14:13وائف بوڑھی مہلا
14:14اور بچی اس بھکاری کے ساتھ
14:16باتروم میں پھنسی ہوئی تھی
14:17پر اچانک ڈانگ کو دیکھتے ہی
14:18اس کی وائف ایموشنل ہو گئی
14:20سوزن کی نظریں
14:21اپنے پاپا کو ڈھونڈ رہی تھی
14:22تب ہی سیوک نے اسے دیکھ لیا
14:24محض تین میٹر دور
14:25جومبی تھے
14:25اور ٹرین سرنگ سے باہر آ گئی تھی
14:27جومبیز کے انہیں دیکھنے سے پہلے ہی
14:29وہ تینوں ترن ٹوائلٹ کے اندر گھوس گئے
14:31انہوں نے موبائل پر دیکھا
14:32کہ اب اگلا ٹرنل دو منٹ کے بعد ہے
14:36اب دونگ کو احساس ہو چکا تھا
14:38کہ وہ سیوک کے بارے میں
14:39غلط سوچتا تھا
14:40اصل میں سیوک لوگوں کا خون نہیں چوستا
14:42بلکہ وہ تو لوگوں کا سب کچھ چوست لیتا ہے
14:45مزاک سے ہٹ کے
14:45سیوک ایک اچھا آدمی تھا
14:47ٹھیک اسی سمیں جنہی کو تیجن کا میسج ملا
14:49جس میں اس نے بتایا
14:50کہ وہ اسے پندرہ نمبر ڈبے میں ملنے آ رہا ہے
14:52یہ میسج ملتے ہی
14:53جنہی نے سب کو بتا دیا
14:55کہ اس کے سبھی دوست
14:56جلد ہی ڈبا نمبر پندرہ میں آنے والے ہیں
14:58یہ سنتے ہی پاس بیٹھا بوڑھا آدمی گھبرا گیا
15:00اسے لگا کہ یہ تو بلکل ناممکن ہے
15:02کہ وہ لوگ اتنے زومبی سے بچ کر
15:04ہم تک لوٹ کر آ رہے ہیں
15:05وہ ابھی بینہ انفیکٹ ہوئے
15:06یہ تو پوسیبل ہی نہیں ہے
15:08بوڑھے آدمی نے اتنے گھما پھرا کر بات کہی
15:10کہ پاس کھڑے سبھی لوگ
15:11اس بات پر یقین کرنے پر مجبور ہو گئے
15:13کہ وہ سبھی لوگ جومبی وائرس سے انفیکٹڈ ہو چکے ہیں
15:16بس ابھی تک ان پر اثر نہیں ہوا ہے
15:18پر ان لوگوں نے یہ بلکل نہیں سوچا
15:19کہ وہ آدمی جو ہر جگہ ان کو بچا رہا تھا
15:22وہ آ کر ان لوگوں کو خطرے میں کیسے ڈال سکتا ہے
15:24اس لیے جن ہی نے دھیمی آواز میں
15:26کنڈکٹر سے وینطی کی
15:27لیکن وہ بھی کچھ نہیں کر سکا
15:28جب ٹرین پھر سے سرنگ میں داخل ہوئی
15:30ڈالگ آگے بڑھنے لگا
15:31پر کوریڈور جومبیز سے بھرا تھا
15:33تب ہی سیوک کی نظر سامان رکھنے والی ریک پر پڑی
15:36اور اس نے ڈالگ کو آئیڈیا دیا
15:37اتنے میں سبھی لوگ ترنت حرکت میں آئے
15:39اور چپ چاپ اوپر سے رینگنے لگے
15:41آگے کا راستہ بند دیکھ کر
15:42سیوک نے ایک بیگ اٹھا کر پیچھے کی اور پھینک دیا
15:45جس سے جومبیز کا دھیان بھٹک گیا
15:46پھر اس نے سوزن کو اٹھایا اور بھاگنے لگا
15:48پر وہ اوپر والے بھکاری کو بھول گئے
15:50نیچے اترتے سمیں سوزن نے دیکھا
15:52کہ بھکاری کے پیر لڑ کھڑا رہے تھے
15:54جس سے وہ نیچے گر گیا
15:55اسے گرہ دیکھ سوزن مدد کرنا چاہتی تھی
15:57پر اچانک ہوئی آواز نے جومبیز کا دھیان اپنی اور کھینچ لیا
16:00سیوک کو مجبورن اپنی بیٹی کو پہلے آگے بھیجنا پڑا
16:03اور وہ خود بھکاری کو سہارا دینے چلا گیا
16:05لیکن ٹھیک اسی سمیں ٹرین اچانک سرنگ سے باہر نکل آئی
16:08جومبی تیزی سے ان کی اور بڑھنے لگے
16:10دونوں ڈر کے مارے پوری طرح سہم گئے
16:12وہ آدمی بیٹ سے حملہ کرنے کے لیے تیار تھا
16:14تب ہی ڈانگ نے انہیں جلدی آنے کا اشارہ کیا
16:16سیوک نے بھکاری سے کہا
16:17کہ تین گنتے ہی اسے بھاگنا ہوگا
16:19لیکن تب ہی
16:24تب ہی جومبیز بے تہاشا ان کا پیچھا کرنے لگے
16:26لیکن دونوں کے اندر آتے ہی
16:28ڈانگ نے دروازہ بند کر دیا
16:29اور جومبی درار میں پھنس گئے
16:31ڈانگ نے آدھے کھلے دروازے کو مضبوطی سے پکڑے رکھا
16:33جبکہ اس کا ساتھی دوسری بوگی کا دروازہ کھولنے چلا گیا
16:36پر وہ نہیں کھلا
16:37سیوک نے پوری طاقت سے کھینچنا شروع کیا
16:39اور تیجون نے ترنت اپنے ساتھی کو فون لگایا
16:42اسے نہیں پتا تھا
16:43کہ اصل میں سامنے والوں نے جان بوجھ کر دروازہ بند کر رکھا ہے
16:46اور جن ہی کو کابو میں کر لیا ہے
16:48لڑکی کا فون بجتے ہی
16:49کم مینجر نے اسے لات مار کر توڑ دیا
16:51دروازہ نہ کھلتا دیکھ
16:52سیوک ترنت ڈانگ کی مدد کرنے کے لیے وہاں پہنچ گیا
16:55ادھر تیجون پوری طاقت سے دروازہ توڑنے میں لگا ہوا تھا
16:58پر دروازہ اتنا مضبوط تھا
16:59کہ ٹوٹا ہی نہیں
17:00ادھر دانگ زور لگا کر دروازے کو پکڑے رہا
17:03تاکہ جانبیز اندر نہ آسکے
17:07لیکن اس بار حالت اور بھی خراب ہو گئی
17:09کیونکہ جانبی کے دانتوں کے گہرے نشان
17:11دانگ کے ہاتھ پر تھے
17:12ایک طرف لڑکا پاگلوں کی طرح کانچ کو پیٹ رہا تھا
17:14وہیں دوسری اور لوگ چھپکے سے ہنس رہے تھے
17:16دیکھتے ہی دیکھتے کانچ کا دروازہ ٹوٹنے ہی والا تھا
17:19تب ہی کم مینجر ترنت دوڑ کر اسے روکنے گیا
17:21اتنے میں ہی سبھی لوگ مل کر گیٹ بند کرنے لگے
17:24ان بے رہم لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا
17:26کہ لڑکے کا ہاتھ گیٹ میں پھنسا ہوا ہے
17:28اگر زیادہ طاقت لگائی تو ہو سکتا ہے
17:30وہ ہاتھ الگ ہو جائیں
17:31ٹھیک اسی سمائے ایک بزرگ مہیلا نے اپنی بہن کو دیکھا
17:33وہ ترنت بھیڑ روکنے دوڑی
17:35اور جن ہی نے موقع پاتے ہی
17:36کنڈکٹر کا ہاتھ کاٹ لیا
17:38جس سے وہ چھوٹ کر مہیلا کی مدد کو بڑھ گئی
17:40تب ہی ایک آدمی نے بزرگ مہیلا کو دھکا دے دیا
17:42اتنے سارے لوگوں کے سامنے جن ہی کچھ نہیں کر سکی
17:45سنکرمے دونگ کو دیکھ کر
17:46اس کی پریگننٹ وائف پوری طرح سے ٹوٹ گئی
17:48وہ چاہتی تھی کہ اس کا بچہ اپنے پتا کو دیکھ سکے
17:51جومبیز کے اندر آنے سے پہلے
17:52دونگ نے سیوک کو اسے وہاں سے سرکشت لے جانے کو کہا
17:55سنکرمنٹ پھیلنے سے پہلے اس نے بچے کا نام رکھا
17:58اور تب ہی کانچ پوری طرح سے بکھر گیا
18:00دونگ اپنی آخری سانس تک انہیں آگے بڑھنے سے روکتا رہا
18:03پر جومبیز کی تعداد کم نہیں ہو رہی تھی
18:05دوسری اور کوئی دروازہ کھولنے کو تیار نہیں تھا
18:07اوپر سے کم مینجر نے دروازہ بند کرنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی
18:11اسی بیچ ڈونگ میں بدلاؤ شروع ہوا
18:12پر وہ شریر کے اندر وائرس سے لڑتے ہوئے
18:15جومبیز کو آخری سانس تک روکتا رہا
18:17جیسے ہی بڑی سنکھیا میں جومبی پاگلوں کی طرح باہر نکلنے لگے
18:20سیوک نے آخر کار دروازہ کھول کر سب کو اندر کھینچ لیا
18:23لیکن نراش بزرگ مہلا اب جینا نہیں چاہتی تھی
18:26اور اس نے جومبیز کو خود پر جھپٹنے دیا
18:28اپنی بہن کو دور جاتے دیکھ
18:30دوسری بزرگ مہلا یہ سہن نہیں کر پائی
18:32سیوک نے جلدی سے دروازہ بند کیا
18:34اور گصے میں آ کر کم کو ایک زوردار گھونسہ مار کر نیچے گرا دیا
18:41لیکن کسے پتا تھا
18:43کہ وہ مطلبی کم الٹا سیوک پر الزام لگانے لگے گا
18:47اس کے الزام اور بھڑکانے سے
18:49سیوک سب کی نظروں میں ایک ویلن بن گیا
18:51سیوک نے پلٹ کر جواب دینے کے بجائے
18:53چپ چاپ ان کی باتیں سنی
18:56وہ بھاری قدموں سے اگلے ڈبے کی اور بڑھ گئے
18:59کم کے کہنے پر سبھی نے تیزی سے دروازہ بند کر
19:01کپڑوں سے اسے مضبوطی سے بان دیا
19:03انہیں ڈر تھا کہ دروازہ کمزور ہے
19:05اس لیے سب مل کر اسے تھامنے لگے
19:07وہیں پیچھے بیٹھی بزرگ مہلا
19:08اپنی بہن کے دکھ میں ڈوبی تھی
19:10وہ اب ان مطلبی لوگوں کے گھنونے چہرے نہیں دیکھنا چاہتی تھی
19:13اس لیے وہ ان جومبیز کی اور بڑھ گئی
19:15یہ دیکھ کر مینجر کم حیران تھا
19:17اس نے ترند کہا کہ بزرگ مہلا کو گیٹ کھولنے سے روکو
19:20لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی
19:21پچھلا ڈبا ترند جومبیز سے بھر گیا
19:23اور جو بچنے کا راستہ تھا
19:24اسے وہ خود پہلے ہی بند کر چکے تھے
19:26جیسے ہی ٹرین سرنگ سے نکلی
19:28باہر کا شہر دھوئے اور آگ میں تھا
19:30اور وائرس پھیل چکا تھا
19:31تب ہی سیوک کو خبر ملی
19:32کہ بوسان کی سینہ نے جومبیز پر کابو پا لیا ہے
19:35پٹری پر رکاوٹ دیکھ
19:36ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگائے
19:38اور بوسان جانے کے لیے دوسری ٹرین ڈھونڈنے لگا
19:40تھوڑی دیر بھٹکنے کے بعد
19:41اسے ایک سرکشت انجن ملا
19:43جسے اس نے دھیرے دھیرے گیراج سے باہر نکال لیا
19:45سیوک سبھی کو لے کر ٹرین سے اترا
19:47اور ڈرائیور دوارا تائی کی گئی جگہ کی اور بڑھ گیا
19:50ٹھیک اسی سمیہ جومبیز کے قبضے والے ڈبے میں بچ چکے
19:52کیم اور کنڈکٹر ٹوائلٹ سے باہر نکلنے کا سوچتے ہیں
19:55پر اب جو ہونے والا تھا
19:56وہ کیم کی انسانیت اور نیچتہ کو پوری طرح شرم سار کر دے گا
19:59وہ جھوٹ بولتا ہے کہ باہر اب سب کچھ سرکشت ہے
20:02اور کنڈکٹر سے کہتا ہے
20:03کہ وہ پہلے دروازہ کھول کر سابدھانی سے دیکھیں
20:06اور جب کنڈکٹر چھپکے سے باہر دیکھنے لگا
20:08تب ہی اس نے اسے جومبیز کے بیچ میں دھکا دے دیا
20:10اور خود کسی گیدڑ کی طرح وہاں سے بھاگ نکلا
20:13لیکن وہ ٹرین کا دروازہ بند کرنا بھول گیا
20:15اسی سمیہ ڈرائیبر نے انجن کو باہر نکال لیا
20:17لیکن اس نے ایک بےہت ڈرابنا نظارہ دیکھا
20:20سامنے سے ایک بے کابو ٹرین جو پوری طرح آگ کی لپٹوں میں گھری تھی
20:23تیزی سے ان کی اور بڑھ رہی تھی
20:25اچانک وہ ٹرین جومبیز سے بھری ٹرین سے ٹکرا کر پلٹ گئی
20:28تب ہی ٹائجون نے دیکھا
20:29کہ وہ اور اس کی گرل فرنڈ دو ٹرینوں کے بیچ میں پھنس گئے ہیں
20:32اس نے خالی ٹرین والا ڈبا کھول کر آگے بڑھنا چاہا
20:35پر دروازہ بند تھا
20:36پھر وہاں آزار سے کھڑکی توڑنے لگا
20:38جبکہ پیچھے سے آتا خطرہ اس کی اور بڑھ رہا تھا
20:40اچانک کم زومبی والی ٹرین سے باہر نکلا
20:43اور خالی ڈبے میں چڑ گیا
20:44اس نے بینا ایک پل سوچے جن ہی کو جومبیز کے بیچ میں پھینک دیا
20:47یہ دیکھ کر ٹائجون اسے بچانے دوڑا
20:49ادھر کم خود کو بچانے کے لیے کانچ کو توڑنے لگا
20:51ٹائجون نے جیسے تیسے دروازہ بند کر دیا
20:54پر جیسے ہی اس نے جن ہی کو دیکھا
20:55تو پتا چلا کہ اس کی گرل فرنڈ اب میوٹیٹ ہو چکی تھی
20:58کانچ کے ٹوٹتے ہی کم کھڑکی سے کود کر بھاگ نکلا
21:01پھر ٹائجون کو بھی کٹ لیا گیا
21:02کم پوری طاقت سے انجن کی اور بھاگا
21:04پر اس کا پیر مڑ گیا
21:05کنڈکٹر اس کی مدد کو اترا
21:06اور آگے جو ہوا
21:07اس کا تم خود اندازہ لگا سکتے ہو
21:09اس نے کنڈکٹر کو بھی جومبی کا شکار بنا دیا
21:12کم ترنت انجن کی اور بھاگا
21:13جبکہ کنڈکٹر پر جومبیز نے حملہ کر دیا
21:15ادھر سیوک کی ستھیتی بھی خراب تھی
21:17وہ ٹرین کے ملبے میں فنس گئے تھے
21:19ایک گیپ دیکھتے ہی وہ باہر نکلا
21:20پر جیسے ہی اس نے سوزن کو بچانے کی کوشش کی
21:23اوپر سے کچھ بھاری ملوہ گر گیا
21:25وہ پاگلوں کی طرح اسے کھینچ کر ہٹانے لگا
21:27لیکن جلد ہی کھڑکیاں ٹوٹنے والی تھیں
21:29اور اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا
21:31آخر میں بے گھر آدمی کو اپنی جان کی بازی لگانی پڑی
21:33تاکہ ڈاؤنگ کی وائف اور سوان کو بھاگنے کے لیے سمیں مل سکے
21:36کڑی محنت کے بعد سیوک نے ڈبے کا انجن سامنے سے ہٹا دیا
21:40اور دونوں کو جلد سے جلد باہر نکال لیا
21:42لیکن جیسے ہی ساری کھڑکیوں کا شیشہ چکنا چور ہوا
21:45بے گھر آدمی جانبیز کی بھیڑ میں ڈوب گیا
21:47جب ٹرین پوری طرح پلٹ گئی
21:48تو انگینت جانبیز سیوک کی اور دور پڑے
21:51لیکن پرابلم یہ تھی کہ وہ سوزن کو گود میں لیے ہوئے تھا
21:54اور پیچھے پریگنٹ مہیلا بھی تھی
21:55سیکڑوں جانبی پیچھا کر رہے تھے
21:57اور وہ لگ بھگ شکار بننے ہی والے تھے
21:59لیکن اچھا یہ ہوا کہ اسی بیچ
22:01دو جانبیز آپس میں ٹکرا گئے
22:02جس سے پیچھے کے سارے جانبیز گر پڑے
22:04اور جانبیز کے بیچ بھگدڑ مچ گئی
22:06تینوں نے سمیں کے ساتھ دور لگائی
22:08اور آخر کار ایک امید کی کرن پا کر
22:10ٹرین کے انجن پر چڑ گئے
22:11لیکن جانبیز کی رفتار بھی ٹرین سے کم نہیں تھی
22:13وہ لگاتار ایک ایک کر ٹرین سے لٹکتے جا رہے تھے
22:16سمیں کے ساتھ سارے جانبیز ٹرین کے پیچھے
22:18کئی میٹر لمبی چین بناتے چلے گئے
22:20اور چین کا پل لگاتار بڑھتا جا رہا تھا
22:22جس سے ٹرین کی سپیڈ دھیرے دھیرے کم ہونے لگی
22:24سیوک نے حالات کو سمجھ لیا
22:26اور بینا ہچ کچائے آگے بڑھ کر
22:28جانبیز کے ہاتھوں کو زور سے لات مارنے لگا
22:30اتنے میں ہی ایک جانبی تیزی سے دوڑتے ہوئے
22:32سیوک پر حملہ کرنے کے لیے بڑھا
22:34لیکن سمجھ رہتے سیوک نے جانبی کو لات مار کر گرا دیا
22:37اس سے آگے کے جانبی ایک ایک کر گرنے لگے
22:40اور کئی پیچھے چھوٹ گئے
22:41سیوک نے راحت کی سانس لی اور کیبن کی اور بڑھا
22:43اسے لگا وہاں کنڈکٹر ہوگا
22:45لیکن دروازہ کھولتے ہی وہ اندر کا نظارہ دیکھ کر ڈر گیا
22:48اور ترن دروازہ بند کر پیچھے ہٹ گیا
22:50کیونکہ جانبیز نے کم کو کٹ لیا تھا
22:52پر وہ ابھی پوری طرح میوٹیٹ نہیں ہوا تھا
22:54اس لیے اس نے خود دروازہ کھول لیا
22:55اسے پاس آتے دیکھ سیوک گھبرا گیا
22:57وہ بڑی کنفیوجن میں تھا
22:59کہ وہ اسے کیسے روکے
23:00کم سیوک سے اسے بچانے کے لیے گوہار لگانے لگا
23:02پر سیوک کے ٹوکنے پر ہی
23:04اسے اپنی حالت اور بدلاؤ کا احساس ہوا
23:06کچھ سیکنڈز میں کم پوری طرح میوٹیٹ ہو گیا
23:08اور اس نے سیوک پر حملہ بول دیا
23:10اور اسی کھینچہ تان میں سیوک جلد ہی
23:12جومبی کی چپیٹ میں آ گیا
23:13تب ہی عورت نے پوری طاقت سے اسے بچایا
23:15پر خود جومبی کا نشانہ بن گئی
23:17تب ہی سیوک کو ڈاؤنگ کو دیا وادہ یاد آیا
23:19اس نے ترنت اٹھ کر جومبی کا موں کسکر بند کر دیا
23:22پر یہی اس سے سب سے بڑی غلطی ہو گئی
23:23جومبی نے موقع پاتے ہی
23:25ہماری کہانی کے سب سے مین کیریکٹر
23:27سیوک کو کٹ لیا
23:31سیوک جانتا تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے
23:33اس لئے میوٹیٹ ہونے سے پہلے
23:34اس نے کمر میں زنجیر باندھ کر
23:36ریلوے ٹریک کے پاس کی زمین کو نشانہ بنایا
23:38اور وہ جومبی کو لے کر نیچے کود گیا
23:40اور اسے زمین پر پھینک دیا
23:41لیکن ایک خطرہ ٹل جانے کے بعد
23:43دوسرا خطرہ وہ خود بن گیا
23:45سیوک نے اپنی حالت کو سمجھتے ہوئے
23:47سوزن کی اور دیکھا
23:47اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا سیلفش تھا
23:50وہ بس کیول اپنے بارے میں سوچتا تھا
23:52اور کبھی سوزن کی فیلنگز کو نہیں سمجھا
23:54اب وہ بس اپنی گلتی صدھارنا چاہتا تھا
23:56اس لئے وہ زنجیر کھول کر
23:57ترنت کیبن میں بھاگا
23:58اور مہیلا کو جلدی سے بتایا
24:00کہ ٹرین کو کیسے روک سکتے ہیں
24:01شاید یہ اس کی بیٹی کے لیے آخری کام تھا
24:03اس کے بعد سیوک اپنی بیٹی کے پاس گیا
24:05اور دھیرے سے اسے کچھ سمجھایا
24:07اس نے کہا کہ اب ہمیشہ اسے آنٹی کے ساتھ رہنا ہے
24:09اور آنٹی کو بلکل بھی پریشان نہیں کرنا ہے
24:11یہ سنتے ہی سوزن زور زور سے رونے لگی
24:19اس کے بعد سیوک روتے ہوئے
24:21ترنت کیبن سے باہر نکل گیا
24:23سوزن کے پیدا ہونے کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے
24:25اسے سوزن کے ساتھ بتائے
24:27وہ پل یاد آ گئے
24:28یہ سوچ کر سیوک مسکرا دیا
24:29اور اس کا درد کچھ کم ہو گیا
24:31اور اسی آخری یاد کے ساتھ
24:35پورے راستے چپ چاپ سوان کے ساتھ بوسان شہر تک آئی
24:38ٹرین سرنگ سے پہلے رک گئی
24:40آگے بہت سارا ملبا اور کئی لاشیں پڑی تھی
24:42پیچھے ہٹنے کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے
24:44وہ اندھیری سرنگ میں گھوسے
24:45سرنگ کے اینڈ پر تینات سینکو نے دونوں پر نشانہ ساتھ لیا
24:49ان کا کام سرنگ سے اس اور آنے والے زومبیز کو مار گرانا تھا
24:52پر انہیں یہ پکا نہیں تھا
24:53کہ دونوں زومبیز نہیں ہیں
24:55اتنے میں ہی اوپر سے آرڈر آئے
24:56کہ انہیں زومبی سمجھ کر مار گرانا جائے
24:58آرڈر ملتے ہی سینکو نے ٹارگٹ لوگ کر ٹرگر ساتھ لیا
25:01تب ہی سرنگ سے ایک گانا سنائی دیا
25:03سب جانتے تھے زومبی گا نہیں سکتے
25:05آواز سنتے ہی دو سینکو نے ساتھیوں کو سرکشا کے لیے اندر پہنچایا
25:08سوزن ہمیشہ یہ گانا اپنے پاپا کو سنانا چاہتی تھی
25:11لیکن اب ایسا ہونا بلکل ناممکن تھا
25:14اور اس طرح اس ماسٹر پیس مووی کا انت ہو گیا
25:16سچ بتاؤں تو یہ مووی مجھے بھی ایموشنل کر دیتی ہے
25:18میں چاہے جتنی بار بھی اسے دیکھوں
25:20فیسے مجھے آپ اپنے بارے میں بتاؤں
25:22کہ آپ کو یہ مووی کیسی لگی
25:23اچھی لگی ہو تو ویڈیو کو لائک کر کے چینل کو سبسکرائب کر لینا
25:26اور نیکسٹ کون سی مووی دیکھنا چاہوگے
25:28ضرور بتا دینا