00:21ڈل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
00:27آتے جاتے ہیں کئی رنگ میرے چہرے پر
00:33لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
00:40ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے
00:45وہ الگ ہٹ گیا آنتھی کو اشارہ کر کے
00:53آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے
00:58چند مٹی کے چراؤں کو ستارہ کر کے
01:04میں وہ دریاں ہوں کہ ہر بھوند بھور ہے جس کی
01:10تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کھنارہ کر کے
01:18منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا سی آنکھ لگے
01:24چاند کو چھت پر بلالوں گا اشارہ کر کے
01:30تیری ہر بات محبت میں گوارہ کر کے
01:36دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
01:39دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے
Comments