00:00Zemien میں ایک عجیب خبر پھیل گئی
00:02کہ عراق کے علاقے بابل میں ایک شخص کو آگ میں ڈالا گیا
00:05مگر چالیس دن گزرنے کے باوجود وہ نہیں جلا
00:08یہ خبر دور دور تک پہنچی
00:10یہاں تک کہ بادشاہ نمرود تک جا پہنچی
00:12جو اپنے آپ کو سب سے بڑا حاکم سمجھتا تھا
00:15نمرود نے حکم دیا کہ اس شخص کو اس کے سامنے لائے جائے
00:18چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلایا گیا
00:22جب وہ دربار میں داخل ہوئے
00:23تو نمرود نے بظاہر نرمی اختیار کی
00:25اور کہا اے ابراہیم تمہارا رب بڑا عظیم معلوم ہوتا ہے
00:29پھر اس نے سوال کیا تمہارے رب کی کیا صفت ہے
00:31حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سادہ جواب دیا
00:34میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے
00:38نمرود نے فوراں کہا میں بھی یہی کر سکتا ہوں
00:40اس نے دو قیدی بلائے
00:41ایک کو چھوڑ دیا اور دوسرے کو قتل کر دیا
00:44اور کہا دیکھو میں نے ایک کو زندگی دی اور ایک کو موت دی
00:47حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بحث کو آگے بڑھانے کے بجائے بات کا رخ بدلا
00:52انہوں نے کہا اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
00:55اگر تم واقعی طاقت رکھتے ہو
00:56تو اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ
00:58یہ سن کر نمرود خاموش ہو گیا
01:00اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا
01:02اور وہ وہیں لا جواب ہو گیا
01:03لیکن بات یہی ختمہ ہوئی
01:05نمرود نے غصے میں آ کر کہا
01:07کل فیصلہ ہوگا
01:08تم اپنے رب کے ساتھ آنا
01:09اور میں اپنی فوج کے ساتھ آوں گا
01:11پھر دیکھیں گے کس کی طاقت زیادہ ہے
01:13حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سکون سے کہا
01:16چیخ ہے
01:16کل سورج نکلنے کے وقت
01:17اگلے دن نمرود نے اپنی بڑی فوج جمع کی
01:20ہر طرف سپاہی ہی سپاہی تھے
01:22ہتھیار
01:23ذرہیں
01:24اور جنگ کی پوری تیاری
01:25دوسری طرف
01:26حضرت ابراہیم علیہ السلام
01:28اکیلے تھے
01:28وہ اتمنان کے ساتھ آئے
01:30نہ کوئی لشکر
01:31نہ کوئی ظاہری طاقت
01:32نمرود نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا
01:34تم اکیلے آئے ہو
01:35تمہارا رب کہاں ہے
01:36اور اس کے لشکر کہاں ہیں
01:37حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا
01:39جب سورج بلند ہوگا
01:40میرا رب اپنے لشکر بھیجے گا
01:43جیسے ہی سورج اوپر آیا
01:44ایک عجیب منظر شروع ہوا
01:46آسمان پر چھا گئی
01:48مچھر
01:48بے شمار
01:49اتنے کہ روشنی مدھم پڑ گئی
01:51وہ نمرود کی فوج پر ٹوٹ پڑے
01:53سپاہی گھبرا گئے
02:02پوری فوج بے بس ہو گئی
02:04نہ تلوار کام آئی
02:05نہ طاقت نہ خرور
02:06یہ وہ لشکر تھا
02:08جسے کسی نے اہم نہیں سمجھا تھا
02:10مگر اللہ کے حکم سے
02:11وہی سپر بھاری پڑ گیا
Comments