00:00عدیل مامو غصے میں راہا کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے کہ اچانک تارہ سامنے آ جاتی ہے
00:04اس کے چہرے پر پہلی بار وہ کمزوری نہیں بلکہ ماں کی طاقت نظر آتی ہے
00:08تارہ ہاتھ اٹھا کر عدیل کو روک دیتی ہے اور سخت لہجے میں کہتی ہے
00:12پس ایک لفظ بھی نہیں
00:14تمہیں کوئی حق نہیں ہے میری بیٹی پر انگلی اٹھانے کا
00:17یہ میری بیٹی ہے اس کی زندگی ہے اور اس کا فیصلہ بھی وہ خود کرے گی
00:21عدیل ایک لمحے کے لیے رکھ جاتا ہے
00:23جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ تارہ اس طرح اس کے سامنے کھڑی ہو جائے گی
00:27وہ غصے سے کہتا ہے
00:28تم بھول رہی ہو تارہ اس لڑکی کو ہم نے پالا ہے
00:31تارہ فوراں جواب دیتی ہے
00:33پالا ہے تو اس کی عزت اچھالنے کا حق نہیں مل جاتا
00:36آج کے بعد میری بیٹی پر آواز اٹھانے سے پہلے سوچنا
00:39راہا یہ سب دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے
00:41اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں
00:43کیونکہ پہلی بار اس کی ماں اس کے لیے سب کے سامنے کھڑی ہوئی ہوتی ہے
00:48دوسری طرف عرمان اپنی ماں زینب بی سے بات کر رہا ہوتا ہے
00:51عرمان کمزور آواز میں کہتا ہے
00:53امی میں نے کچھ غلط نہیں کیا رہا کے ساتھ
00:56میں نے تو اسے مشکل وقت میں سہارا دیا ہے
00:58زینب بھی آنسووں کے ساتھ کہتی ہیں
01:00بیٹا تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کر ڈالا ہے
01:03اس لڑکی کی زندگی پہلے ہی برباد ہو چکی ہے
01:05عرمان فوراں مضبوط لہجے میں کہتا ہے
01:07نہیں امی اس کی زندگی برباد نہیں ہوئی
01:10اور اگر ہوئی بھی ہے تو میں اسے سنوارنے کے لیے تیار ہوں
01:13میں اسی سے شادی کروں گا
01:15زینب بھی پریشانی سے کہتی ہیں
01:16تم نہیں جانتے عدیل ماموں کتنے سخت ہیں
01:19وہ کبھی راضی نہیں ہوں گے
01:20عرمان ہلکی سی مسکراہت کے ساتھ کہتا ہے
01:23وہ کیسے راضی نہیں ہوں گے
01:24جب راہا میرے ساتھ ہے اور تارہ بھی
01:27اسی دوران زینب بھی ایک اور خوفناک بات کہتی ہیں
01:29تو تم چاہتے ہو
01:31کہ لوگوں کی باتیں سچ ہو جائیں
01:32لوگ یہی کہیں گے کہ تم نے ہی راہا کو اغوا کیا
01:35تم نے ہی اس کی زندگی خراب کی
01:37عرمان آنکھیں بند کر کے کہتا ہے
01:39مجھے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں
01:41مجھے صرف اپنی محبت کی پرواہ ہے
01:43اور راہا کے لیے میں ہی صحیح ہوں
01:46ادھر دوسری طرف
01:47زریون اچانک راہا کے سامنے آ جاتا ہے
01:49وہ ہلکی سی مسکراہت کے ساتھ کہتا ہے
01:51میں تو تم سے شادی کے لیے پوری طرح تیار تھا
01:53پھر تم نے یہ سب کیوں کیا
01:55راہا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی ہے
01:57اب مجھے سب سمجھ آ چکا ہے
01:59تمہاری محبت تو بطول سے تھی
02:01تم نے صرف مجھ سے شادی کرنے کا دکھاوا کیا
02:04زریون ہنستے ہوئے کہتا ہے
02:06الحمدللہ
02:06میری شادی بطول سے ہو گئی
02:08وہ تو نصیب کی بات تھی
02:09مگر سچ یہ ہے کہ میں تم سے بھی شادی کرنے کو تیار تھا
02:13راہا غصے سے کہتی ہے
02:14تمہاری نیت کبھی صاف نہیں تھی
02:16اسی لمحے اچانک بطول وہاں آ جاتی ہے
02:18وہ دونوں کے درمیان آ کر کھڑی ہو جاتی ہے
02:21اور سخت لہجے میں کہتی ہے
02:22تم میرے شوہر کے اتنے قریب کیوں کھڑی ہو
02:24تمہیں پتا بھی ہے اب یہ میرے نکاح میں ہے
02:26راہا خاموش ہو جاتی ہے
02:28مگر اس کی آنکھوں میں درد صاف نظر آتا ہے
02:30بطول تنزیہ انداز میں کہتی ہے
02:32پہلے تم نے اپنی زندگی خراب کی
02:34اب کیا میرا گھر بھی توڑنا چاہتی ہو
02:36یہ سن کر راہا کے دل پر چوٹ لگتی ہے
02:38مگر کہانی یہاں ایک اور خطرناک موڑ لینے والی ہوتی ہے
02:41کیونکہ اسی لمحے زریون کے فون پر ایک کال آتی ہے
02:44وہ کال سنتے ہی اس کا چہرہ سنجیدہ ہو جاتا ہے
02:52بطول اور راہا دونوں چونک جاتی ہیں
02:53مگر زریون کے اگلے الفاظ سب کچھ بدل دیتے ہیں
02:56اور اس نے پولیس کو سب کچھ بتا دیا
02:58یہ سن کر راہا کے دل کی دھڑکن رکھ جاتی ہے
03:00کیونکہ اب سچ سامنے آنے والا ہوتا ہے
03:03ارمان چانک غصے میں عدیل مامو کے گھر پہنچ جاتا ہے
03:06اس کی آنکھوں میں آگ ہوتی ہے
03:07جیسے وہ آج ہر حد پار کرنے کو تیار ہو
03:10عدیل مامو سہن میں کھڑا ہوتا ہے
03:12جیسے ہی وہ ارمان کو دیکھتا ہے
03:14تو اس کے چہرے پر سختی آ جاتی ہے
03:15ارمان بغیر کچھ سوچے سیدھا اس کے قریب آ کر کہتا ہے
03:18ایک بات کان کھول کر سن لو
03:20راہا میری ہے
03:22اور آئندہ اگر تم نے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی غلط بولا
03:25تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
03:27یہ سن کر عدیل کا غصہ بھڑک اٹھتا ہے
03:29وہ بھی آگے بڑھتا ہے
03:31اور دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہونے ہی والی ہوتی ہے
03:34کی اچانک زریون درمیان میں آ جاتا ہے
03:36زریون زور سے ارمان کو دھکا دیتا ہے
03:38اور ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر مار دیتا ہے
03:41حال میں ایک دم سناٹ اچھا جاتا ہے
03:43ارمان چند لمحے کے لیے رکھ جاتا ہے
03:45پھر اس کی آنکھوں میں اور بھی شددت آ جاتی ہے
03:48وہ آگے بڑھ کر
03:49زریون کو بھی ویسا ہی تھپڑ مار دیتا ہے
03:51ارمان غصے میں کہتا ہے
03:52مجھے ہاتھ لگانے سے پہلے سوچ لیا کرو
03:55زریون غصے سے چیختا ہے
03:56اس گھر میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے
03:58تم لوگ یہاں کے ملازم ہو
04:00اپنی حد میں رہو اور یہاں سے نکل جاؤ
04:02یہ الفاظ ارمان کے دل پر تیر کی طرح لگتے ہیں
04:05مگر وہ خاموش نہیں رہتا
04:06وہ آگے بڑھتا ہے
04:08کہ اسی لمحے راہا اندر آ جاتی ہے
04:09راہا چیخ کر کہتی ہے
04:11بس تم ہوتے کون ہو ارمان کو کچھ کہنے والے
04:13سب چونک کر اس کی طرف دیکھتے ہیں
04:15تارا بھی آگے آ کر کہتی ہے
04:17ہاں بہت ہو گیا
04:18اب کوئی میری بیٹی یا ارمان کے بارے میں
04:20ایک لفظ بھی نہیں بولے گا
04:22گھر کا ماہول مکمل طور پر بگڑ جاتا ہے
04:24ہر طرف چیخ و پکار
04:26غصہ
04:27الزام
04:28اسی شور میں عدیل مامو اپنی آواز بلنڈ کرتا ہے
04:30خاموش ہو جاؤ سب
04:32سب رکھ جاتے ہیں
04:33عدیل سخت لہجے میں فیصلہ سناتا ہے
04:35راہا
04:36تارا
04:36تم دونوں اس گھر سے نکل جاؤ
04:38ابھی کے ابھی
04:39یہ سن کر راہا اور تارا کے قدم رکھ جاتے ہیں
04:41عدیل آگے کہتا ہے
04:43تم دونوں کی وجہ سے بطول کا گھر خراب ہو رہا ہے
04:45اور میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گا
04:48وہ زریون کی طرف دیکھ کر کہتا ہے
04:50زریون اب میرا بیٹا ہے
04:51اس نے بطول سے شادی کی ہے
04:53تو اب اس کی عزت میری عزت ہے
04:55یہ سن کر راہا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں
04:58تارا بھی بے بس کھڑی رہ جاتی ہے
04:59اسی لمحے ارمان آگے بڑھتا ہے
05:01وہ راہا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے
05:03اور سب کے سامنے کہتا ہے
05:05کسی کو نکالنے کی ضرورت نہیں
05:07ہم خود جا رہے ہیں
05:08وہ راہا کی طرف دیکھ کر کہتا ہے
05:10اور راہا
05:11اب یہ گھر ہمارا نہیں رہا
05:12راہا ایک لمحے کے لیے
05:13اپنی ماں کی طرف دیکھتی ہے
05:15پھر ارمان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتی ہے
05:18تینوں وہاں سے نکلنے لگتے ہیں
05:19مگر جیسے ہی وہی دروازے تک پہنچتے ہیں
05:21پیچھے سے ایک آواز آتی ہے
05:23رک جاؤ راہا
05:24سب رک جاتے ہیں
05:25راہا آہستہ سے مڑتی ہے
05:27دروازے پر بطول کھڑی ہوتی ہے
05:29مگر اس بار اس کے چہرے پر غرور نہیں
05:31بلکہ آنسو ہوتے ہیں
05:33وہ کامپتی ہوئی آواز میں کہتی ہے
05:34اگر تم آج چلی گئی نہ
05:36تو شاید میں زندگی بھر خود کو معاف نہ کر سکوں
05:39یہ سن کر سب حیران رہ جاتے ہیں
05:41کیونکہ پہلی بار
05:42بطول کے لہجے میں پچھتاوا نظر آ رہا ہوتا ہے