00:00देखे जो चंडीगड की प्लैनिंग किस तरज पे बनाया गया था वो आपको मालू ही नहीं है ये जो आला
00:07नैरो जी जो हमारे परदान मंतरी थे उनकी एक सोच थी एक बहुत ही प्लैंट सिटी वो चाते थे तो
00:14ये जब उन्होंने ये प्लैंट सिटी चंडीगड का निर्मा
00:18ली कारबजियर साब से करवाया तो उसके बाद इसको बिसाने के लिए सबसे ज़्यादा प्रेयतन यहां के जो पंजाब के
00:27सीम थे मिस्टर कहरो उन्होंने किया उसके बाद फिर एक सेक्टर से लेगे ती सेक्टर तक बहुत से सरकारी घरों
00:35का यहां पे नर्मान हुआ और �
00:38उनके नर्मान के बाद जब चंडीकर्ट का विस्तार फिर भी पूरन नहीं हो पा रहा था तो उन्होंने एक 33
00:45सेक्टर 34, 35, 36 यह चार सेक्टर डिफेंस को दिये गे चार सेक्टर यह डिफेंस को दिये गे उसके बाद
00:54फिर जब आम आदमी जो यहां से बहुत देर से सर्वि
01:07जिसको हम वसनी कह सकते हैं तो उनके लिए फिर उन्होंने डिमांड करने शुरू की भी हमें घर दिये जाएं
01:14तो सबसे पहले उनको इन्होंने सेसैटी बनाकर जो उपर वाले सेक्टर हैं सेक्टर 42, 43, 44 इन सेक्टर में सेसैटी
01:24के अधार पर उनको घर दिये गे फिर आपक
01:28ڈائرہ بہت ہی سیمیت ہے تو سیمیت دائرہ ہونے کے ایوج میں جو چنڈیگڑ کی
01:35administration تھی انہوں نے پھر اس کو housing bond میں تبدیل کیا اور کچھ
01:40کو societies کے گھروں میں یہ تب تک ایک عام آدمی کے ہاتھ میں یہ چیز تھی
01:46وہ چنڈیگڑ میں گھر اپنا رہنے کے لیے اس کا سپنا پورا ہو سکتا ہے
01:52پر بہت سے سالوں سے آپ نے اگر دیکھا ہوگا تو چنڈیگڑ میں ایسی کوئی بھی
01:59scheme نہیں ہے جسے کی ایک عام وقتی یہاں پہ گھر لے سکے جہاں تک رہی
02:04collector rate کی سوال no doubt collector rate بڑھتے آئے ہیں اور بڑھنے بھی چاہیے
02:10time to time but اس بار تو حدی ہو چکی ہے میڈم پچھلے ایک سال میں دوسری
02:16بارہ جب چنڈیگڑ میں چنڈیگڑ administration collector rate بڑھانے جا رہی ہے
02:21اور بہت ہی دیر سے ایک لمبت جو چنڈیگڑ implies کی ایک housing boards
02:27scheme تھی شاید آپ کو یہ معلوم ہو یا نہ معلوم ہو وہ ابھی تک انہوں
02:33نے introduce نہیں کی اس میں انہوں نے پیسے بھی لی ہوئے سب کچھ ایک طرف
02:38کوئی بھی چنڈیگڑ administration ہو یا پجاب گورنمنٹ یا ایک سمپل سی
02:45دھارنہ لوگوں میں بسی ہوئی ہے بھی شہر کے بڑھتے ہوئے ریٹوں میں سب سے
02:50زیادہ شہر property dealers کا یا investors کا ہاتھ ہوتا ہے ایسا کچھ بھی نہیں
02:55ہیں اگر آپ دیکھیں اس وقت سب سے زیادہ اگر property dealer کا کوئی کام
03:00کر رہا ہے تو وہ سرکاریں کر رہی ہیں پیسہ کمانے کی عوض میں تو وہ چاہے
03:06چنڈیگڑ ہے چاہے اس سے سٹے محالی اور پنچکولہ یا منی ماجرہ کوئی
03:11بھی جگہ ہے وہاں پہ ایک عام آدمی کے لیے ایک رہن بسیرہ لینا بہت ہی
03:18مشکل ہو چکا ہے کیونکہ یہ سرکاریں یہ administration commercial ہوتی جا
03:24رہی ہیں جبکہ پہلے allotment ہوتی تھی یا ان کی consent مانگی جاتی تھی
03:29بھی اگر کسی کے پاس اپنا گھر نہیں ہے تو وہ affidavit دیتا تھا اس
03:33کو allot کیا جاتا تھا اب پنجاب سرکار ہے حریانہ سرکار ہے یہ چنڈیگڑ
03:39administration ہے اب آپ نے دیکھا ہوگا یہ online اس کی بیڈنگ کرواتے ہیں
03:45تو ایک عام آدمی کیسے ہی یہاں پہ گھر لے سکتا ہے
03:48آپ گھر لینا تو چھوڑیے یہاں تو کرایا دینا بھی مشکل ہوگی
03:54لیکن collector rate کا جو آپ نے بتایا کہ مطلب بڑھوتری ہوگی تو اس سے
04:01سیدھے سیدھے کس طرح کے rates میں فرق پڑے گا کیا rate کروڑوں سے
04:06بھی اوپر جانے والے ہیں یا لاکھوں تک بھی رہے گا نہیں کروڑوں سے
04:11اوپر تو میڈم already یہاں کی rate چنڈیگڑ کے گئے ہوئے ہیں even چنڈیگڑ
04:16نہیں پنچکولہ محلی کے بھی گئے ہوئے ہیں بٹ اتنا زیادہ collector rate
04:21بڑھانے سے ایک عام آدمی کے ہاتھ میں تو بالکل یہ چیز نہیں
04:26نہیں رہے گی عام آدمی کیا اگر کوئی عام سے تھوڑا خاص بھی ہے یہ
04:31تو اس سے تو ایک ہی چیز سامنے آ رہی ہے بھی یہ صرف اور
04:36صرف جو بہت ہی امیر یا corporate houses ہیں ان کو benefit ہوگا ایک عام
04:42آدمی کو تو ایس سچ کوئی benefit ہونے والا نہیں ہے
04:45موسیقی
Comments