- 18 hours ago
Humara mission hai aapko daily fresh, engaging aur high-quality content provide karna. Yahan har video me milega excitement, emotions aur pure entertainment.
Subscribe karein aur bell icon press karein 🔔 taake koi bhi video miss na ho!
👍 Like | 💬 Comment | 📲 Share
Stay connected & keep supporting! 🚀✨
Subscribe karein aur bell icon press karein 🔔 taake koi bhi video miss na ho!
👍 Like | 💬 Comment | 📲 Share
Stay connected & keep supporting! 🚀✨
Category
😹
FunTranscript
00:061.
00:142.
00:153.
00:165.
00:165.
00:165.
00:166.
00:161.
00:171.
00:221.
00:232.
00:241.
00:262.
00:273.
00:282.
00:293.
00:293.
00:294.
00:313.
00:334.
00:379.
00:3710.
00:3711.
00:3712.
00:4012.
00:4113.
00:41I always do something that I feel that no one understands me in this world.
00:46How do I get it?
00:47One who I want very much, and one who I want very much.
00:53You did wrong. There's no reason.
00:56But you're giving yourself a reward.
01:01Shut up, man. Let's go.
01:03Okay.
01:03I just want to say this to you.
01:07I really liked you.
01:10And for your water, maybe I made a wrong way.
01:16I'm not going to die.
01:18You're going to sit in the basement.
01:21Where are you?
01:22I'm going to sit at home.
01:23I'll wait for you.
01:26Okay.
01:27I've informed you inside.
01:28I'm going to take you for a while.
01:30I've told you to say something else.
01:32Don't do anything else.
01:33Don't waste you in the drawing room.
01:35Don't waste your time.
01:37Don't waste your time.
01:38And remember that the camera is on the left side of the drawing room.
01:41Don't go in a wrong room.
02:08I'm doing it.
02:10I'm doing it.
02:22When I look.
02:35You don't waste your time...
03:07I have a good house.
03:10Did you give my father permission?
03:12I knew that he will not give him.
03:14That's why I didn't ask him.
03:16You should not do this.
03:16How do you want to do it?
03:56What do you want to do with the young man?
04:07The young man was the first time for the young man.
04:33Hello viewers!
05:03this episode we see
05:04foreign
05:05This match was a true.
05:06He had to find out.
05:07He did not Nob's Too-iskoed.
05:09He still has to find out.
05:10He had to find out.
05:11He had already been Arquillie.
05:16He had to find out.
05:18He had to feel that they were the best.
05:19He has to be a rich man.
05:20He did not get to go.
05:22He was the best that he didn't like.
05:23He had to talk to him.
05:23He had to be used.
05:26He had to take that.
05:29But he did not get out even.
05:33He had to be a better man.
05:34foreign
05:35一日 علیکلی کی سلسلے میں دوسری شہر جانا پڑا
05:38اس نے وعدہ کی میں جلد واپس آ جاؤں گا
05:41شروع میں علیکل روز پون کرتا رہا
05:43پھر اس نے اس کی فون کم ہو گئے
05:45زنب پریشان رہنے لگی
05:46ایک دن اچانک علیکلی کا فون مکمل بن ہو گیا
05:50کی ہفتے گزر گئے
05:51علیکل کوئی فتح نہ چلا
05:52زنب کے والد بھی پریشان ہو گئے
05:54اخر کار ایک دن خبر ملی
05:56کہ علیکل کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
05:58اور وہ کئی مہینوں سے اسپنال میں تھا
06:05He has lost his death
06:07He has told his work
06:08He has said to know that he was sick
06:12He didn't want to make a better
06:14He did not say that he did not care
06:16He has told that he had little change
06:19But his life was no longer
06:21But his life still had no more
06:23He also told us that he's so mad
06:24He was very feminine
06:25He was better
06:25He was very angry
06:26Is an option Laitan第二
06:27There
06:27is Aliyah Being
06:28already At
06:30Me
06:31foreign
06:31foreign
06:31foreign
06:32foreign
06:32foreign
06:33foreign
06:42foreign
06:43foreign
06:43But it is a way to get away from the other side of the side.
06:47But the time was run away from the other side.
06:48Ali told us that if you're happy...
06:51And then he said that yes.
06:53But, as soon as Ali said,
06:55Ali said that he's going to take away from the other side.
06:58That's what happened,
07:01it was just a bit of a hard time.
07:03Hello viewers, this episode is a great show.
07:06We have to see that...
07:06We are a bad man with a bad girl.
07:09She's a girl in a person.
07:13foreign
07:13foreign
07:13foreign
07:14ڈیلی علی ایک زینب وجل ذینب کی گھرے shellص کاریم بھی وقتاقی تھی
07:17ک маленьک زینب ایک زندگی دل اور محنتی لڑکا تھا وہ اپنے والدین
07:26کے سہارہ تا ہوئی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا اور دوسرے کو بھی خوش
07:31رکھنے کو کوشش کرتا تھا زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
07:36علی نے پہلی نظر میں ہی زینب کی ساتھی کو فسند کر لیا جنہ دن بعد
07:40علی نے کسی طرح زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
07:43اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کیلئے راضی کر لیا
07:46زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
07:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
07:50جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
07:52منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
07:56ویورز علی اکثر کہتا
07:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
07:59زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
08:01لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئے
08:10پس آ جاؤں گا
08:11شروع میں علی روز پون کرتا رہا
08:13پھر ایسرے سے اس کے پون کم ہو گئے
08:15زینب پریشان رہنے لگی
08:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بند ہو گیا
08:20کی ہفتے گزر گئے
08:21علی کا کوئی پتہ نہ چلا
08:22زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
08:24اخر کار ایک دن خبر ملی کہ
08:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
08:28اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
08:30لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
08:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
08:34لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
08:36حادثہ کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
08:39علی نے زینب سے کہا ہے
08:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
08:42تو بہتر ہے
08:43میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
08:45زینب نے روتے ہوئے کہا
08:46محبت خوش ہوں میں نہیں
08:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
08:50لیکن زینب کے رشتہ دار
08:52اس شادی کے خلاف ہو گئے
08:53انہوں نے کہا
08:54تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی
08:55زینب بہت پریشان ہو گئی
08:57ایک طرف محبت تھی
08:58اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
09:00آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
09:03علی نے کچھ نہیں کہا
09:04صرف مسکرہ دیا
09:06کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
09:08جب اس نے علی کیوں دیکھا
09:09علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
09:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
09:15دنوں کے نظرے ملے
09:16کچھ لمحے کے لئے
09:17جیسے وقت روک گیا
09:18علی نے اسے بیتنا کہا
09:19امید ہے تم خوش ہو
09:20زینب نے مسکرہ کر کہا
09:22ہاں خوش ہو
09:23لیکن جیسے ہی علی بہا سے گیا
09:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
09:28کہانی کے اختیام اس جملے پر ہوتا ہے
09:30کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
09:31بس ادوری رہ جاتی ہے
09:33ہلو بیورز
09:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
09:36زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
09:39وہ اپنے خاندان کے ساتھ
09:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
09:42اس کے ماں کے انتخال بچمن میں ہو گیا تھا
09:44اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
09:47زینب کا خواب تھا
09:48کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
09:50اور اپنے والد کو خوش دیکھے
09:52علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
09:54وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
09:56اور اپنے والدین کے سہارا تھا
09:58علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
10:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
10:03زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
10:05علی نے پہلی نظر میں
10:07ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
10:09چند دن بعد علی نے کسی طرح
10:11زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
10:13اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
10:15راضی کر لیا
10:16زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
10:18کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
10:20جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
10:22منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
10:26ویورز علی اکثر کہتا
10:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
10:29زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
10:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
10:34ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
10:36دوسری شہر جانا پڑا
10:38اس نے وعدہ کیا میں جلد وحفظ آ جاؤں گا
10:41شروع میں علی روز پون کرتا رہا
10:43پھر اس سے اس کے فون کم ہو گئے
10:45زینب پریشان رہنے لگی
10:46ایک دن اچانک علی کا فون مکمل بند ہو گیا
10:49کئی ہفتے گزر گئے
10:51علی کا کوئی فتح نہ چلا
10:52زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
10:54اخرکار ایک دن خبر ملی
10:56کہ علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
10:58اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
11:00ازن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
11:02کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
11:04لیکن وہ فہلے جیسے نہیں رہا
11:06حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
11:09علی نے زینب سے کہا
11:10تم مجھ سے شادی نہ کرو تو بہتر ہے
11:13میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
11:14زینب نے روتے ہوئے کہا
11:16محبت خوش ہوں نہیں
11:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
11:20لیکن زینب کے رشتہ دار
11:21اس شادی کے حراف ہو گئے
11:23انہوں نے کہا
11:24تمہارے زینب برباد ہو جائے گی
11:25زینب بہت پریشان ہو گئی
11:26ایک طرف محبت تھی
11:28اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
11:30آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
11:33علی نے کچھ نہیں کہا
11:34صرف مسکرہ دیا
11:36کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
11:38جب اس نے علی کیوں دیکھا
11:39علی بیساکہ ہی کے سہارے چل رہا تھا
11:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
11:45دنوں کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
11:47جیسے وقت روک گیا
11:48علی نے اس سے بھی اتنا کہا
11:49امید ہے تم خوش ہو
11:50زینب نے مسکرہ کر کہا
11:52ہاں خوش ہو
11:53لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
11:55زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
11:57کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
12:00کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
12:01بس ادوری رہ جاتی ہے
12:03ہلو بیورز
12:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
12:06زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
12:09وہ اپنے خاندان کے ساتھ
12:10ایک سادہ سے گھر میں رہتی
12:12اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
12:14اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
12:17زینب کا خواب تھا
12:18کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
12:20اور اپنے والد کو خوش دیکھے
12:22علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
12:24وہ ایک فرائویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
12:26اور اپنے والدین کے سہارا تھا
12:28علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
12:30اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
12:33زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
12:35علی نے پہلی نظر میں
12:37ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
12:39چند دن بعد علی نے کسی طرح
12:41زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
12:43اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
12:45راضی کر لیا
12:46زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
12:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
12:50جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
12:52منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
12:56ویورز علی اکثر کہتا
12:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
12:59زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
13:01لیکن خوشیوں کو جیسے
13:03کسی کی نظر لگ گئی
13:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
13:06دوسری شہد جانا پڑا
13:08اس نے وعدہ کیا میں جل واپس آ جاؤں گا
13:11شروع میں علی روز پون کرتا رہا
13:12پھرائے سے سے اس کے پون کم ہو گئے
13:15زینب پریشان رہنے لگی
13:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بن ہو گیا
13:19کی ہفتے گزر گئے
13:21علی کا کوئی فتح نہ چلا
13:22زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
13:24اخر کار ایک دن خبر ملی کہ
13:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
13:28اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
13:30لیزن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
13:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
13:34لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
13:36حادثہ کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی
13:38تھی علی نے زینب سے کہا ہے
13:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
13:42تو بہتر ہے
13:43میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
13:44زینب نے روتے ہوئے کہا
13:46محبت خوش ہوں میں نہیں
13:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
13:50لیکن زینب کے رشتہ دار
13:51اس شادی کے حراف ہو گئے
13:53انہوں نے کہا
13:54تو مجھ سے زینب برباد ہو جائے گی
13:55زینب بہت پریشان ہو گئی
13:56ایک طرف محبت تھی
13:58اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
13:59آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
14:03علی نے کچھ نہیں کہا
14:04صرف مسکرہ دیا
14:06کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
14:08جب اس نے علی کیوں دیکھا
14:09علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
14:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
14:15دنہ کے نظرے ملے
14:16کچھ لمحے کے لئے
14:16جیسے وقت روک گیا
14:18علی نے اسے بیتنا کہا
14:19امید ہے تم خوش ہو
14:20زینب نے مسکرہ کر کہا
14:22ہاں خوش ہو
14:23لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
14:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
14:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
14:30کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
14:31بس ادوری رہ جاتی ہے
14:33ہلو بیورز
14:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
14:36زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
14:39وہ اپنے خاندان کے ساتھ
14:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
14:42اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
14:44اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
14:47زینب کا خواب تھا
14:48کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
14:50اور اپنے والد کو خوش دیکھے
14:51علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
14:54وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
14:56اور اپنے والدین کے سہارا تھا
14:57علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
15:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
15:03زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
15:05علی نے پہلی نظر میں ہی زینب کی ساتھ بھی کو فسند کر لیا
15:09چند دن بعد علی نے کسی طرح زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
15:12اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے راضی کر لیا
15:16زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
15:18کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
15:20جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
15:21مگنے کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
15:26ویورز علی اکثر کہتا
15:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
15:29زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
15:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
15:34ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں دوسری شہر جانا پڑا
15:38اس نے وعدہ کیا میں جلد وافس آ جاؤں گا
15:41شروع میں علی روز پون کرتا رہا
15:42پھر ایسا اس کے پون کم ہو گئے
15:44زینب پریشان رہنے لگی
15:46ایک دن اچانک علی کا فون مکمل بن ہو گیا
15:49کی ہفتے گزر گئے
15:51علی کا کوئی فتح نہ چلا
15:52زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
15:54اخرکار ایک دن خبر ملی کہ
15:56علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
15:58اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
16:00لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
16:02کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
16:04لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
16:06حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
16:09علی نے زینب سے کہا
16:10تم مجھ سے شادی نہ کرو
16:12تو بہتر ہے
16:13میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
16:14زینب نے روتے ہوئے کہا
16:16محبت خوش ہوں میں نہیں
16:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
16:20لیکن زینب کے رشتہ دار
16:21اس شادی کے حلاف ہو گئے
16:23انہوں نے کہا
16:23تمہیں زینب برباد ہو جائے گی
16:25زینب بہت پریشان ہو گی
16:26ایک طرف محبت تھی
16:28اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
16:29آخر کار زینب نے والد کی خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
16:33علی نے کچھ نہیں کہا
16:34صرف مسکرہ دیا
16:36کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
16:38جب اس نے علی ہی دیکھا
16:39علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
16:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
16:45دنوں کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
16:46جیسے وقت روک گیا
16:48علی نے اس سے بہتنا کہا
16:49امید ہے تم خوش ہو
16:50زینب نے مسکرہ کر کہا
16:52ہاں خوش ہو
16:53لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
16:55زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
16:57کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
16:59کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
17:01بس ادوری رہ جاتی ہے
17:03ہلو بیورز
17:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
17:06زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
17:09وہ اپنے خاندان کے ساتھ
17:10ایک سادہ سے گھر میں رہتی
17:12اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
17:14اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
17:17زینب کا خواب تھا
17:18کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
17:20اور اپنے والد کو خوش دیکھے
17:21علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
17:24وہ ایک فرائویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
17:26اور اپنے والدین کے سہارا تھا
17:27علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
17:30اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
17:33زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
17:35علی نے پہلی نظر میں
17:36ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
17:39چند دن بعد علی نے کسی طرح
17:41زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
17:42اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
17:45راضی کر لیا
17:46زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
17:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
17:50جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
17:51منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
17:56ویورز علی اکثر کہتا
17:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
17:59زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
18:01لیکن خوشیوں کو جیسے
18:02کسی کی نظر لگ گئی
18:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
18:06دوسری شہر جانا پڑا
18:08اس نے وعدہ کیا میں جل واپس آ جاؤں گا
18:10شروع میں علی روز پون کرتا رہا
18:12پھرہ اس سے اس کے پون کم ہو گئے
18:14زینب پریشان رہنے لگی
18:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بن ہو گیا
18:19کی ہفتے گزر گئے
18:20علی کا کوئی فتح نہ چلا
18:22زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
18:24اخر کار ایک دن خبر ملی کہ
18:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
18:28اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
18:30لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
18:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
18:33لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
18:36حادثہ کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
18:39علی نے زینب سے کہا ہے
18:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
18:42تو بہتر ہے
18:43میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
18:44زینب نے روتے ہوئے کہا
18:46محبت خوش ہوں نہیں
18:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
18:50لیکن زینب کے رشتہ دار
18:51اس شادی کے حراف ہو گئے
18:53انہوں نے کہا
18:53تمہارے زینب کی برباد ہو جائے گی
18:55زینب بہت پریشان ہو گئی
18:56ایک طرف محبت تھی
18:58اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
18:59آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
19:03علی نے کچھ نہیں کہا
19:04صرف مسکرہ دیا
19:06کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
19:08جب اس نے علی کیوں دیکھا
19:09علی بیساک ہی کہ سہارے چل رہا تھا
19:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
19:15دنہ کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لیے
19:17جیسے وقت روک گیا
19:18علی نے اسے بیتنا کہا
19:19امید ہے تم خوش ہو
19:20زینب نے مسکرہ کر کہا
19:22ہاں خوش ہو
19:23لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
19:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہن لگی
19:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
19:29کچھ کہانے ختم نہیں ہوتی
19:31بس ادوری رہ جاتی ہے
19:33ہلو بیورز
19:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
19:36زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
19:39وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتی
19:42اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
19:44اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
19:47زینب کا خواب تھا
19:48کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
19:49اور اپنے والد کو خوش دیکھے
19:51علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
19:54وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
19:56اور اپنے والدین کے سہارا تھا
19:57علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
20:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
20:03زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
20:05علی نے پہلی نظر میں ہی زینب کی سادہی کو فسند کر لیا
20:09چند دن بعد علی نے کسی طرح زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
20:12اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے راضی کر لیا
20:16زینب کے والدین نے رشتہ قبول کر لیا
20:18کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
20:19جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
20:21مگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
20:26ویورز علی اکثر کہتا
20:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
20:29زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
20:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
20:34ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں دوسری شہر جانا پڑا
20:38اس نے وعدہ کیا میں جلد وافس آ جاؤں گا
20:40شروع میں علی روز پون کرتا رہا
20:42پھر ایسا اس کے پون کم ہو گئے
20:44زینب پریشان رہنے لگی
20:46ایک دن اچانک علی کا فون مکمل بن ہو گیا
20:49کی ہفتے گزر گئے
20:50علی کا کوئی فتح نہ چلا
20:52زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
20:54اخر کار ایک دن خبر ملی کہ علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
20:58اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
21:00لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
21:02کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
21:03لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
21:06حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
21:08علی نے زینب سے کہا
21:10تم مجھ سے شادی نہ کرو
21:12تو بہتر ہے
21:12میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
21:14زینب نے روتے ہوئے کہا
21:16محبت خوش ہمی نہیں
21:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
21:20لیکن زینب کے رشتہ دار
21:21اس شادی کے حراف ہو گئے
21:23انہوں نے کہا
21:23تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی
21:25زینب بہت پریشان ہو گئی
21:26ایک طرف محبت تھی
21:28اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
21:29آخر کار زینب نے والد کی خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
21:33علی نے کچھ نہیں کہا
21:34صرف مسکرہ دیا
21:36کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
21:38جب اس نے علی ہی دیکھا
21:39علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
21:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
21:45دن کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
21:46جیسے وقت روک گیا
21:48علی نے اس سے بھی اتنا کہا
21:49امید ہے تم خوش ہو
21:50زینب نے مسکرہ کر کہا
21:52ہاں خوش ہو
21:53لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
21:55زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
21:57کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
21:59کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
22:01بس ادوری رہ جاتی ہے
22:02خلو بیورز
22:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
22:06زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
22:09وہ اپنے خاندان کے ساتھ
22:10ایک سادہ سے گھر میں رہتی
22:11اس کے ماں کے انتقال بچمند میں ہو گیا تھا
22:14اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
22:16زینب کا خواب تھا
22:17کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
22:19اور اپنے والد کو خوش دیکھے
22:21علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
22:24وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
22:26اور اپنے والدین کے سہارا تھا
22:27علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
22:30اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
22:33زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
22:35علی نے پہلی نظر میں ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
22:39چند دن بعد علی نے کسی طرح
22:41زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
22:42اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے راضی کر لیا
22:46زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
22:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
22:49جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
22:51منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
22:56ویورز علی اکثر کہتا
22:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
22:59زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
23:01لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
23:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
23:06دوسری شہر جانا پڑا
23:08اس نے وعدہ کیا میں جلد
23:09وافس آ جاؤں گا
23:10شروع میں علی روز پون کرتا رہا
23:12پھر آئیس رہ سر اس کے پون کم ہو گئے
23:14زینب پریشان رہنے لگی
23:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بن ہو گیا
23:19کی ہفتے گزر گئے
23:20علی کا کوئی پتہ نہ چلا
23:22زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
23:23آخر کار
23:24ایک دن خبر ملی کہ
23:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
23:27اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
23:30لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
23:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
23:33لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
23:36حادثے کے وجہ سے
23:36اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
23:38علی نے زینب سے کہا
23:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
23:42تو بہتر ہے
23:42میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکوں گا
23:44زینب نے رو دیوے کہا
23:46محبت خوش ہوں نہیں
23:47یہ مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
23:50لیکن زینب کے رشتہ دار
23:51اس شادی کے خلاف ہو گئے
23:53انہوں نے کہا
23:53تمہیں زینب برباد ہو جائے گی
23:55زینب بہت پریشان ہو گئی
23:56ایک طرف محبت تھی
23:58اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
23:59آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
24:03علی نے کچھ نہیں کہا
24:04صرف مسکرہ دیا
24:05کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
24:08جب اس نے علی کے دیکھا
24:09علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
24:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
24:15دنوں کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
24:16جیسے وقت روک گیا
24:18علی نے اسے بیتنا کہا
24:19امید ہے تم خوش ہو
24:20زینب نے مسکرہ کر کہا
24:22ہاں خوش ہو
24:23لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
24:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
24:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
24:29کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
24:31بس ادوری رہ جاتی ہے
24:32خلو بیورز
24:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
24:36زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
24:38وہ اپنے خاندان کے ساتھ
24:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
24:41اس کے ماں کے انتقال بچمن میں ہو گیا تھا
24:44اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
24:46زینب کا خواب تھا
24:47کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
24:49اور اپنے والد کو خوش دیکھے
24:51علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
24:54وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
24:56اور اپنے والدین کے سہارہ تھا
24:57علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
25:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
25:03زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
25:05علی نے پہلی نظر میں
25:06ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
25:09چند دن بعد علی نے کسی طرح
25:10زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
25:12اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
25:15راضی کر لیا
25:16زینب کے والدین رشتہ قبول کر لیا
25:18کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
25:19جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
25:21منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی
25:23پون پر بات کر لیتے تھے
25:25ویورز علی اکثر کہتا
25:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
25:29زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
25:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
25:34ایک دن علی کے نوکری کی سلسلے میں
25:36دوسری شہر جانا پڑا
25:38اس نے وادر کے میں جلد وافس آ جاؤں گا
25:40شروع میں علی روز پون کرتا رہا
25:42پھر اس رہ سے اس کے پون کم ہو گئے
25:44زینب پریشان رہنے لگی
25:46ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بن ہو گیا
25:49کی ہفتے گزر گئے
25:50علی کا کوئی فتح نہ چلا
25:52زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
25:53اخر کار ایک دن خبر ملی کہ
25:56علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
25:57اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
25:59لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
26:02کچھ عرصے بعد علی واپس آیا
26:03لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
26:05حادثہ کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
26:08علی نے زینب سے کہا
26:10تم مجھ سے شادی نہ کرو
26:12تو بہتر ہے
26:12میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
26:14زینب نے روتے ہوئے کہا
26:16محبت خوش ہوں میں نہیں
26:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
26:19لیکن زینب کے رشتہ دار
26:21اس شادی کے خلاف ہو گئے
26:23انہوں نے کہا
26:23تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی
26:25زینب بہت پریشان ہو گئی
26:26ایک طرف محبت تھی
26:27اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
26:29آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
26:33علی نے کچھ نہیں کہا
26:34صرف مسکرہ دیا
26:35کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
26:38جب اس نے علی کیوں دیکھا
26:39علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
26:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
26:44دن کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
26:46جیسے وقت روک گیا
26:48علی نے اس سے بہتنا کہا
26:49امید ہے تم خوش ہو
26:50زینب نے مسکرہ کر کہا
26:51ہاں خوش ہو
26:53لیکن جیسے ہی علی بہا سے گیا
26:55زینب کے آنکھوں میں آسو بہنے لگی
26:57کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
26:59کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
27:01بس ادوری رہ جاتی ہے
27:02ہلو بیورز
27:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
27:06زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
27:08وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتی
27:11اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
27:14اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
27:16زینب کا خواب تھا
27:17کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
27:19اور اپنے والد کو خوش دیکھے
27:21علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
27:23وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
27:26اور اپنے والدین کے سہارا تھا
27:27علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
27:30اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
27:32زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
27:35علی نے پہلی نظر میں
27:36ہی زینب کی ساتھ بھی کو فسند کر لیا
27:39چند دن بعد علی نے کسی طرح
27:40زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
27:42اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
27:45راضی کر لیا
27:45زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
27:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
27:49جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
27:51منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
27:55ویورز علی اکثر کہتا
27:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
27:58زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
28:01لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
28:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
28:06دوسری شہر جانا پڑا
28:08اس نے وعدہ کیا میں جلد وحفظ آ جاؤں گا
28:10شروع میں علی روز پون کرتا رہا
28:12پھر ایسر ایسر ایسر اس کے پون کم ہو گئے
28:14زینب پریشان رہنے لگی
28:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بند ہو گیا
28:19کی ہفتے گزر گئے
28:20علی کا کوئی فتح نہ چلا
28:21زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
28:23اخرکار ایک دن خبر ملی کہ
28:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
28:27اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
28:29لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
28:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
28:33لیکن وہ کہلے جیسے نہیں رہا
28:35حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
28:38علی نے زینب سے کہا
28:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
28:42تو بہتر ہے میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
28:44زینب نے رو تہوی کہا
28:46محبت خوش ہوں میں نہیں
28:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
28:49لیکن زینب کے رشتہ دار
28:51اس شادی کے خلاف ہو گئے
28:53انہوں نے کہا
28:53تمہارے زینب برباد ہو جائے گی
28:55زینب بہت پریشان ہو گئی
28:56ایک طرف محبت تھی
28:57اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
28:59آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
29:03علی نے کچھ نہیں کہا
29:04صرف مسکرہ دیا
29:05کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
29:08جب اس نے علی کیوں دیکھا
29:09علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
29:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
29:14دنوں کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
29:16جیسے وقت روک گیا
29:18علی نے اسے بیتنا کہا
29:19امید ہے تم خوش ہو
29:20زینب نے مسکرہ کر کہا
29:21ہاں خوش ہو
29:23لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
29:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
29:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
29:29کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
29:30بس ادوری رہ جاتی ہے
29:32ہلو بیورز
29:34اس اپسوڈ میں آپ دیکھیں گے
29:35زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
29:38وہ اپنے خاندان کے ساتھ
29:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
29:41اس کے ماں کے انتقال بچمن میں ہو گیا تھا
29:44اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
29:46زینب کا خواب تاکہ وہ ایک دن
29:48اچھی زندگی گزارے
29:49اور اپنے والد کو خوش دیکھے
29:51علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
29:53وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
29:55اور اپنے والدین کا سہارہ تھا
29:57علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
30:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
30:02زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
30:05علی نے پہلی نظر میں
30:06ہی زینب کی سادگی کو فسند کر لیا
30:09چند دن بعد علی نے کسی طرح
30:10زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
30:12اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
30:15راضی کر لیا
30:15زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
30:18کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
30:25ویورز علی اکثر کہتا
30:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
30:28زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
30:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
30:34ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
30:36دوسری شہر جانا پڑا
30:37اس نوادر کے میں جلد وافس آ جاؤں گا
30:40شروع میں علی روز پون کرتا رہا
30:42پھر ایسر ایسر ایسر کے فون کم ہو گئے
30:44زینب پریشان رہنے لگی
30:46ایک دن اچانک علی کا فون مکمل بن ہو گیا
30:49کئی ہفتے گزر گئے
30:50علی کا کوئی فتح نہ چلا
30:51زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
30:53اخر کار
30:54ایک دن خبر ملی کہ علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
30:57اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
30:59ایسرن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
31:02کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
31:03لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
31:05حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
31:08علی نے زینب سے کہا
31:10تم مجھ سے شادی نہ کرو تو بہتر ہے
31:12میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
31:14زینب نے روتے ہوئے کہا
31:16محبت خوش ہوں نہیں
31:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
31:19لیکن زینب کے رشتہ دار
31:21اس شادی کے حراف ہو گئے
31:23انہوں نے کہا
31:23تمہارے زینب برباد ہو جائے گی
31:25زینب بہت پریشان ہو گئی
31:26ایک طرف محبت تھی
31:27اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
31:29آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
31:33علی نے کچھ نہیں کہا
31:34صرف مسکرہ دیا
31:35کئی سال بعد زینب ایک دین بازار میں جا رہی تھی
31:37جب اس نے علی کیوں دیکھا
31:38علی برساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
31:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
31:44دن کے نظرے ملے کچھ لمحے کے لئے
31:46جیسے وقت روک گیا
31:47علی نے اس سے بہتنا کہا
31:49امید ہے تم خوش ہو
31:50زینب نے مسکرہ کر کہا
31:51ہاں خوش ہو
31:53لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
31:55زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
31:57کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
31:59کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
32:00بس ادوری رہ جاتی ہے
32:02ہلو بیورز
32:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
32:05زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
32:08وہ اپنے خاندان کے ساتھ
32:10ایک سادہ سے گھر میں رہتی
32:11اس کے ماں کے انتقال بچپن میں ہو گیا تھا
32:13اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
32:16زینب کا خواب تھا
32:17کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
32:19اور اپنے والد کو خوش دیکھے
32:21علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
32:23وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
32:25اور اپنے والدین کے سہارا تھا
32:27علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
32:30اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
32:33زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
32:35علی نے پہلی نظر میں
32:36ہی زینب کی سادہ بھی کو فسند کر لیا
32:38چند دن بعد علی نے کسی طرح
32:40زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
32:42اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
32:44راضی کر لیا
32:45زینب کے والدین رشتہ قبول کر لیا
32:48کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
32:49جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
32:51منگنی کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
32:55ویورز علی اکثر کہتا
32:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
32:58زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
33:01لیکن خوشیوں کو جیسے
33:02کسی کی نظر لگ گئے
33:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
33:06دوسری شہر جانا پڑا
33:07اس نے وعدہ کیا میں جلد واپس آ جاؤں گا
33:10شروع میں علی روز پون کرتا رہا
33:12پھر ہے اس سے اس کے پون کم ہو گئے
33:14زینب پریشان رہنے لگی
33:16ایک دن اچانک علی کا پون مکمل بند ہو گیا
33:19کی ہفتے گزر گئے
33:20علی کا کوئی فتح نہ چلا
33:21زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
33:23اخرکار ایک دن خبر ملی کہ
33:26علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
33:27اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
33:29لیزن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
33:32کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
33:33لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
33:35حادثہ کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی
33:38تھی علی نے زینب سے کہا ہے
33:40تم مجھ سے شادی نہ کرو
33:42تو بہتر ہے
33:42میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
33:44زینب نے رو تہوے کہا
33:46محبت خوش ہوں میں نہیں
33:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
33:49لیکن زینب کے رشتہ دار
33:51اس شادی کے حراف ہو گئے
33:53انہوں نے کہا
33:53تمہارے زینب برباد ہو جائے گی
33:54زینب بہت پریشان ہو گئی
33:56ایک طرف محبت تھی
33:57اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
33:59آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
34:03علی نے کچھ نہیں کہا
34:04صرف مسکرہ دیا
34:05کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
34:07جب اس نے علی کیوں دیکھا
34:08علی بیساکہ ہی کے سہارے چل رہا تھا
34:13لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
34:14دنوں کے نظرے ملے
34:15کچھ لمحے کے لئے
34:16جیسے وقت روک گیا
34:17علی نے اسی بھی اتنا کہا
34:18امید ہے تم خوش ہو
34:20زینب نے مسکرہ کر کہا
34:21ہاں خوش ہو
34:23لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
34:25زینب کے آنکھوں میں آنسو بہنے لگی
34:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
34:29کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
34:30بس ادوری رہ جاتی ہے
34:32ہلو بیورز
34:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
34:35زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
34:38وہ اپنے خاندان کے ساتھ
34:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
34:41اس کے ماں کے انتقال بچمن میں ہو گیا تھا
34:43اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
34:46زینب کا خواب تھا
34:47کہ وہ ایک دن اچھی زندگی گزارے
34:49اور اپنے والد کو خوش دیکھے
34:51علی ایک زندہ دل اور محنتی لڑکا تھا
34:53وہ ایک فرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا
34:55اور اپنے والدین کا سہارا تھا
34:57علی ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا
35:00اور دوسرے کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
35:02زینب اور علی کے ملاقات ایک شادی میں ہوئی
35:05علی نے پہلی نظر میں
35:06ہی زینب کی سادہی کو فسند کر لیا
35:08چند دن بعد علی نے کسی طرح
35:10زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
35:12اور اپنے والدین کو رشتہ لے جانے کے لئے
35:14راضی کر لیا
35:15زینب کے والد نے رشتہ قبول کر لیا
35:17کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
35:19جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
35:21مگنے کے بعد علی اور زینب کبھی کبھی پون پر بات کر لیتے تھے
35:25ویورز علی اکثر کہتا
35:27میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
35:28زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
35:31لیکن خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی
35:34ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
35:36دوسری شہر جانا پڑا
35:37اس نوادر کے میں جل وافس آ جاؤں گا
35:40شروع میں علی روز پون کرتا رہا
35:42پھر آئیت سے اس کے پون کم ہو گئے
35:44زینب پریشان رہنے لگی
35:46ایک دن اچانک علی کا فون مکمل بن ہو گیا
35:49کی ہفتے گزر گئے
35:50علی کا کوئی فتح نہ چلا
35:51زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
35:53اخر کار ایک دن خبر ملی کہ
35:55علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
35:57اور وہ کئی مہینوں سے اسپتال میں تھا
35:59لیسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
36:01کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
36:03لیکن وہ پہلے جیسے نہیں رہا
36:05حادثے کے وجہ سے اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
36:08علی نے زینب سے کہا
36:09تم مجھ سے شادی نہ کرو
36:12تو بہتر ہے
36:12میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
36:14زینب نے روتے ہوئے کہا
36:16محبت خوش ہمی نہیں
36:17مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
36:19لیکن زینب کے رشتہ دار
36:21اس شادی کے حراف ہو گئے
36:22انہوں نے کہا
36:23تمہیں زینب برباد ہو جائے گی
36:24زینب بہت پریشان ہو گئی
36:26ایک طرف محبت تھی
36:27اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
36:29آخر کار زینب نے والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
36:33علی نے کچھ نہیں کہا
36:34صرف مسکرہ دیا
36:35کئی سال بعد
36:36زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
36:37جب اس نے علی کیوں دیکھا
36:38علی بیساک ہی کہ سہارے چل رہا تھا
36:43لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
36:44دنے کے نظرے ملے
36:45کچھ لمحے کے لئے
36:46جیسے وقت روک گیا
36:47علی نے اس سے بہتنا کہا
36:48امید ہے تم خوش ہو
36:49زینب نے مسکرہ کر کہا
36:51ہاں خوش ہو
36:52لیکن جیسے ہی علی بہت سے گیا
36:54زینب کے آنکھوں میں آنسو بھین لگی
36:57کہانی کے اختتام
36:58اس جملے پر ہوتا ہے
36:59کچھ کہانے ختم نہیں ہوتی
37:00بس ادوری رہ جاتی ہے
37:02ہلو بیورز
37:04اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
37:05زینب ایک نرم دل
37:06اور خاموش مزاج لڑکی
37:08وہ اپنے خاندان کے ساتھ
37:10ایک سادہ سے گھر میں رہتی
37:11اس کے ماں کے انتقال
37:12بچپن میں ہو گیا تھا
37:13اس لئے وہ گھر کے تمام کام
37:15خود کرتی تھی
37:16زینب کا خواب تھا
37:17کہ وہ ایک دن
37:18اچھی زندگی گزارے
37:19اور اپنے والد کو خوش دیکھے
37:21علی ایک زندہ دل
37:22اور محنتی لڑکا تھا
37:23وہ ایک فرائویٹ کمپنی میں
37:25کام کرتا تھا
37:25اور اپنے والدین کے سہارہ تھا
37:27علی ہمیشہ
37:28مسکراتا رہتا تھا
37:29اور دوسرے کو بھی
37:30خوش رکھنے کی کوشش کرتا تھا
37:32زینب اور علی کے ملاقات
37:34ایک شادی میں ہوئی
37:35علی نے پہلی نظر میں
37:36ہی زینب کی سادہی کو
37:38فسند کر لیا
37:38چند دن بعد
37:39علی نے کسی طرح
37:40زینب کے گھر کا فتح معلوم کیا
37:42اور اپنے والدین کو
37:43رشتہ لے جانے کے لئے
37:44راضی کر لیا
37:45زینب کے والدین
37:46رشتہ قبول کر لیا
37:47کیونکہ علی اچھا لڑکا تھا
37:49جل ہی دونوں کے منگنی ہو گئی
37:51منگنی کے بعد
37:51علی اور زینب کبھی کبھی
37:52پون پر بات کر لیتے تھے
37:55ویورز علی اکثر کہتا
37:57میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا
37:58زینب شرما کر خاموش ہو جاتی
38:00لیکن خوشیوں کو جیسے
38:02کسی کی نظر لگ گئی
38:04ایک دن علی کی نوکری کی سلسلے میں
38:05دوسری شہر جانا پڑا
38:07اس نے وعدہ کیا
38:08میں جلد واپس آ جاؤں گا
38:10شروع میں علی روز پون کرتا رہا
38:12پھر ایسا اس کے پون کم ہو گئے
38:14زینب پریشان رہنے لگی
38:15ایک دن اچانک علی کا پون
38:17مکمل بن ہو گیا
38:19کی ہفتے گزر گئے
38:20علی کا کوئی فتح نہ چلا
38:21زینب کے والد بھی پریشان ہو گئے
38:23اخر کار
38:24ایک دن خبر ملی کہ
38:25علی کا ایک حادثہ ہو گیا تھا
38:27اور وہ کئی مہینوں سے
38:28اسپتال میں تھا
38:29ایسن کر زینب کے آنکھوں میں آس ہو گئے
38:31کچھ عرصے بعد علی باپس آیا
38:33لیکن وہ پہلے جیسے
38:34نہیں رہا
38:35حادثے کے وجہ سے
38:36اس کی ایک ٹانگ متاثر ہو گئی تھی
38:38علی نے زینب سے کہا
38:39تم مجھ سے شادی نہ کرو
38:41تو بہتر ہے
38:42میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکھوں گا
38:44زینب نے روتہ ہوئی کہا
38:46محبت خوش ہوں نہیں
38:47مشکل میں ساتھ دینے کا نام ہے
38:49لیکن زینب کے رشتہ دار
38:51اس شادی کے حراف ہو گئے
38:52انہوں نے کہا
38:53تمہیں زینب برباد ہو جائے گی
38:54زینب بہت پریشان ہو گئی
38:56ایک طرف محبت تھی
38:57اور دوسری طرف خاندان کا دباؤ
38:59آخر کار زینب نے
39:00والد کے خاطر خاموشی سے انکار کر دیا
39:02علی نے کچھ نہیں کہا
39:04صرف مسکرہ دیا
39:05کئی سال بعد زینب ایک دن بازار میں جا رہی تھی
39:07جب اس نے علی کیوں دیکھا
39:08علی بیساک ہی کے سہارے چل رہا تھا
39:12لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا
39:14دنوں کے نظرے ملے
39:15کچھ لمحے کے لئے
39:16جیسے وقت روک گیا
39:17علی نے اس سے بھی اتنا کہا
39:18امید ہے تم خوش ہو
39:19زینب نے مسکرہ کر کہا
39:21ہاں خوش ہو
39:22لیکن جیسے ہی علی بہا سے گیا
39:24زینب کے آنکھوں میں آنسو بہن لگی
39:27کہانی کے اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
39:29کچھ کہانی ختم نہیں ہوتی
39:30بس ادوری رہ جاتی ہے
39:32ہلو بیورز
39:34اس اپیسوڈ میں آپ دیکھیں گے
39:35زینب ایک نرم دل اور خاموش مزاج لڑکی
39:38وہ اپنے خاندان کے ساتھ
39:40ایک سادہ سے گھر میں رہتی
39:41اس کے ماں کے انتقال بچمند میں ہو گیا تھا
39:43اس لئے وہ گھر کے تمام کام خود کرتی تھی
39:46زینب کا خود
Comments