Skip to playerSkip to main content
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Yateemon ke Huqooq

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Qari Younus Qadri, Mufti Muhammad Abu Bkar Siddique Nqashbandi, Haroon ur Rasheed Bukhari

Sana Khuwan: Muhammad Ali Qadri

#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00। । । । । । । ।
00:31। । । । ।
01:01। । । । ।
01:30। । । ।
01:31। । ।
01:34اپنی یاد عطا کر کے خوشبختوں کو
01:42عشقوں کی جاگیر خدا ہی دیتا ہے
01:49کھلتا ہے یہ راز بھی قسمت والوں پر
01:57ہر لکھی تقدیر خدا ہی دیتا ہے
02:04بس اتنی سی بات بٹھالو ذہنوں میں
02:07جذبوں کو تنویر خدا ہی دیتا ہے
02:11سرور اس کی قدرت کوئی کیا سمجھے
02:15قطرے کو تصویر خدا ہی دیتا ہے
02:19لفظوں کو توقیر خدا ہی دیتا ہے
02:22ہم کے ان اشار کے ساتھ آئیے
02:24آج کے پرگرام کے موضوع کی طرف چلتے ہیں
02:27تو آج ہم یدیموں کے حقوق کے حوالے سے بات کریں گے
02:31جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے
02:33اور پھر صیرت طیبہ میں ہمیں اس کی طرف رہنمائی ملتی ہے
02:37خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل
02:40اور آپ کی صیرت اور آپ کا جو طریق ہے
02:43وہ انشاءاللہ ہم آج ڈسکس کریں گے
02:45جس میں ہمیں جا بجا ان کے حقوق کے حوالے سے
02:48آپ کی تاقید دکھائی دیتی ہے
02:50تو یدیموں کے حقوق کے حوالے سے ہم بات کر رہے ہیں
02:53اور ہمارے ساتھ مہمان تشریف فرما ہے
02:54مجرمالہ سے جناب مفتی ابوبکر صدیق نقشبندی صاحب
02:58جناب خوش آمدیت کہتے ہیں
03:01جناب قاری محمد یونس قادری صاحب
03:03ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
03:04آپ کو بھی خوش آمدیت کہتے ہیں
03:06جناب سید حارون رشید بخاری صاحب تشریف فرما ہے
03:09آستانہ علیہ بوکن شریف سے
03:11آپ کو بھی خوش آمدیت کہتے ہیں
03:12اور ممتاز سناخہ
03:14بہت ہی اچھے لبو لہجے میں
03:23اور بسم اللہ کلام عطا فرما دیجئے
03:28میں ہر دم ذکر کرتا ہوں
03:41تمہارا
03:43یا رسول اللہ
03:48خدا کو بھی یہی ہے ذکر
03:50میں ہر دم ذکر کرتا ہوں
04:00تمہارا
04:01یا رسول اللہ
04:06خدا کو
04:09بھی یہی ہے ذکر
04:16پیارا
04:18یا رسول اللہ
04:24خدا کو
04:26بھی یہی ہے ذکر
04:35خدا شاہد
04:40رہتا ہے
04:42میرے پیسے
04:48نظر غردان
04:53خدا شاہد
04:57رہتا ہے
04:59میرے پیسے
05:04نظر غردان
05:08ہو تیرے
05:12سبز
05:14گمبد
05:16کا
05:18نظر
05:20یا
05:21رسول اللہ
05:25ہو تیرے
05:28سبز
05:30گمبد
05:34بڑی
05:35بڑی
05:36بندہ
05:38نوازی
05:40کی
05:43جبت
05:44نظر
05:47آ
05:48پائے
05:50بڑی
05:52بڑی
05:54بندہ
05:54نوازی
05:57کی
06:06جبت
06:08نظر
06:10آ
06:12پائے
06:13زرا
06:15ٹھے
06:16ہے
06:17رے
06:18کے
06:19میں
06:19کر لوں
06:21نظر
06:23آ
06:24یا
06:26رسول
06:28اللہ
06:29زرا
06:31ٹھے
06:32ہے
06:33رے
06:34کے
06:34میں
06:35کر لوں
06:38اور
06:39بشیرہ
06:41آ
06:42یا
06:43کرے
06:44ہر سال
06:47یا
06:48کا
06:50تیرے
06:51رو
06:52دے
06:53پر
06:54بشیرہ
06:57یا
06:58کرے
07:00ہر سال
07:02بشیرہ
07:05یا
07:06کرے
07:07ہر سال
07:09یا
07:10اللہ
07:10کا
07:12تیرے
07:13قدموں
07:15میں
07:16بغیر
07:19سے
07:20کے
07:21نگی
07:22اب
07:23تو
07:26گزارا
07:27یا
07:29رسول
07:31اللہ
07:32میں
07:34غرد
07:35سکر
07:38کرتا ہوں
07:41تمہارا
07:44یا
07:45رسول
07:47اللہ
07:48خدا
07:50کو
07:51بھی
07:53یہی ہے
07:55جے
07:56مجھا
07:57مجھا
07:59اللہ
08:24مجھا
08:25اللہ
08:26ڈوکسا
08:28قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا جو نزول ہے وہ ماہِ رمضان المبارک میں ہے
08:33اور ماہِ رمضان المبارک میں قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا نزول ہمیں صرف قرآنِ پاک کی تلاوت نہیں سکھاتا
08:42بلکہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید ہمیں سوشل رسپانسپلیٹیز بھی سکھاتا ہے تاکہ رمضان المبارک کا جو الٹیمیٹ گول ہے وہ
08:54ہے تقویہ تاکہ ہمیں تقویہ حاصل ہو سکے ایک مسکنسپشن یہ پائی جاتی ہے کہ شاید یہ تقویہ کوئی صرف
09:04انر فیلنگز کا نام ہے باطنی کیفیات کا نام ہے
09:10صوفیہ فرماتے ہیں کہ یہ کیفیت تو باطنی ہے لیکن اس کا ظہور ظاہر میں ہوتا ہے
09:18اور وہ ہے ہمارا کمزوروں کے ساتھ رویہ
09:23ریلیشن، ری ایکشن، بیہیویر
09:27کہ ہم اپنے ماتاحت لوگوں کے ساتھ کمزوروں کے ساتھ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے
09:36ہیں
09:36اور وہ رویہ متین کرتا ہے کہ تقویہ کے کس لیول پر ہم پہنچے ہوئے ہیں
09:41اور ان کمزور طبقات میں سے ایک طبقہ یتیم ہے
09:48شریعہ نے یتیم اس نابالک بچے یا بچی کو کہا ہے
09:53کہ جس کے سر پر والد کا سائے شفقت نہ رہے
09:59اب یہ بچہ اس کی آنکھیں ہمیشہ کسی سہارے کو تلاش کرتی ہیں
10:07اور اس کا دل کسی کی شفقت کے لمس کو ترستا ہے
10:15قرآن مجید فرقان حمید نے
10:19تقریباً بائیس آیات کے اندر
10:23اس بچے کی مختلف کیفیات
10:25اور معاشرے میں جو ان بچوں کو رویہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
10:30ان کو ذکر کیا ہے
10:32چھیک
10:33زمانہ جہلیت میں چونکہ وار زون تھا
10:37بہت سارے لوگ جنگوں میں مارے جاتے
10:39تو جو بچے پیچھے رہ جاتے
10:41ان کے حقوق کا مسئلہ بہت اہم تھا
10:43پھر ان پر جو ظلم ہوتا تھا
10:46پھر ان کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ تھا
10:48اور اگر وہ بچیاں ہوتی
10:50تو وہاں دو پہلو تھے
10:52ایک تو یہ کہ ان کے پاس مال اور جمال دونوں ہوتے
10:56تو جو ان کے ولی ہوتے
10:58اس لالچ میں ان کے ساتھ نکاح کر لیتے
11:00اور جبرن نکاح کر لیتے
11:02دوسری صورت یہ تھی
11:04کہ اگر وہ بچی مال تو رکھتی
11:06لیکن اس کے پاس
11:07خس نہیں ہوتا
11:09وہ نکاح پھر بھی کرتے مال ہتھ آنے کے لیے
11:13لیکن پھر وہ
11:15حقوق زوجیت کو ادا نہیں کرتے تھے
11:18اس پر
11:19مختلف انداز سے ظلم کیا جاتا
11:21قرآن مجید فرقان حمید میں
11:23اللہ سبحانہ تعالی نے
11:26ان سارے پہلوں پر
11:28جو ان پر جبر ہو رہا تھا
11:30ان کو ہائلائٹ بھی کیا
11:32اور پھر اس جبر کا
11:35ازالہ بھی کیا
11:36اور اس ازالہ میں دو پہلو اختیار کیے
11:38ایک موٹیویشن
11:39اور دوسرا وارن کیا
11:42اور عملی نمونہ کے طور پر
11:44نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:47ذاتِ والابہ برکات کے ان کو
11:49بالکل قریب کر دیا
11:50سورہ وقت دعا میں
11:51رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے
11:54اس فیض سے بات شروع کی
11:55کہ آپ بھی زمانہ یتیمی میں سے گزرے ہیں
11:58اب جس زمانے کو آپ نے
12:01بلٹ اپ کرنا ہے
12:03وہاں بھی یتیم موجود ہیں
12:04ان کی تحقیر کی جاتی ہے
12:06اے محبوب
12:11پہلا مسئلہ یہی ہے
12:13کہ یہ جو یتیم ہے
12:14اس کو ڈانٹنا نہیں ہے
12:16اس کی تحقیر نہیں ہونی چاہیے
12:18دوسرا مرحلہ
12:20کہ انہیں
12:21اپنے قریب نہیں کیا جاتا
12:24انہیں دور رکھا جاتا ہے
12:26اور مختلف قسم کی
12:27بیڈ اومنس
12:28سپر سٹیشنز قائم ہو چکی تھی
12:31قرآن مجید فرقان مجید نے
12:32اس پہلو کو بھی ذکر کیا
12:34وَإِن تُخَالِتُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ
12:38ذرا
12:39سوشل سائیکی کو
12:41بدلنے والا جملہ دیکھئے کیا ہے
12:43وَإِن تُخَالِتُوهُمْ
12:46فَإِخْوَانُكُمْ
12:47وہ کو تم میں بدل دیا
12:49کہا یہ چیارٹی کیس نہیں ہے
12:51یہ تو تمہارا فیملی میمبر ہے
12:55اور پھر
12:56اس کے
12:58مختلف پہلووں کو
12:59اس کے مال کی حفاظت
13:01کہا
13:02ان کے ساتھ جو تمہارا
13:04ریلیشن اور تعلق ہونا چاہیے
13:06ہمیشہ پوزیٹیوٹی پر
13:08خیر پر مبنی ہونا چاہیے
13:10ٹھیک ٹھیک
13:10بلکل ٹھیک
13:12احادیث میں خاص طور پہ
13:14بہت زیادہ مواقع پر
13:15رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:17نے
13:18یتیموں کے حقوق کے حوالے سے
13:20تربیت فرمائی
13:21امت کی
13:21اس حوالے سے آپ
13:23پتا فرمائیے رہے ہیں
13:23جی
13:24یہ بڑا ہم موضوع ہے
13:26اور
13:26یتیم کی محبت کو
13:28اللہ نے
13:28اپنی محبت اور
13:30اس کی نرازگی
13:31کو اپنی نرازگی بھی
13:32قرار دیا ہے
13:33اب دیکھیں
13:34کریم آقا علیہ السلام
13:35نے یتیم کو
13:37کیا عظمت عطا کی
13:38اور کیا
13:38اسے معییت
13:39اور سنگت عطا فرمائی
13:40کریم آقا علیہ السلام
13:42نے
13:43پریکٹیکل کر کے فرمایا
13:48کریم آقا علیہ السلام
13:49نے فرمایا
13:50میں اور یتیم
13:51کی کفالت کرنے والا
13:53دونوں اس طرح
13:54جنت میں ہوں گے
13:55جس طرح یہ دونوں
13:55انگلی عملی ہوئی ہے
13:56شہادت کی انگلی
13:57اور ساتھ والی انگلی
13:58کو ملا کے
13:59کریم آقا علیہ السلام
14:00نے
14:00ایکشن کے ساتھ
14:01بیان کیا
14:05فرمایا
14:05جو اس کی کفالت کرتا ہے
14:07جو اس کی پرورش کرتا ہے
14:09جو اس کی خدمت کرتا ہے
14:10فرمایا
14:11سنے اسے مجدہ جانفضہ
14:13کیا ملتا ہے
14:15تو فرمایا اس کفیل
14:16کو میں اپنے ساتھ
14:17کھڑا کرلوں
14:18یہ مقام رب کائنات
14:19دیتا فرمایا
14:20پھر کریم آقا علیہ السلام
14:21نے فرمایا
14:22فرمایا کہ
14:24دنیا کے اندر
14:25بہترین گھر کونسا ہے
14:26اور بدترین گھر کونسا ہے
14:28ابن ماجہ کی روایت ہے
14:29اس کا مفہوم ہے
14:30کریم آقا علیہ السلام
14:31نے فرمایا
14:32بہترین گھر
14:33اس دنیا میں وہ ہے
14:35جہاں یتیم رہتا ہو
14:37اور اس کے ساتھ
14:38اس نے سلوک کے ساتھ
14:38پیش آیا جائے
14:39اس کی صحیح طریقے سے
14:41کفالت کی جائے
14:41اور بدترین گھر وہ ہے
14:43کہ وہاں یتیم تو ہو
14:44لیکن اس کے ساتھ
14:45بدسلوکی کی جائے
14:47کریم آقا علیہ السلام
14:49بہت خوبصورت بات
14:50ارز کرنا لگوں
14:51ڈاکی بلاڈاک صاحب
14:52کہ اممہ عائشہ صدیقہ
14:53رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں
14:55ایک عورت آئی
14:56اس کے ساتھ دو یتیم بچے تھے
14:58دونوں بیٹیاں تھیں
14:59اور دونوں فاقی سے ماری ہوئے تھے
15:01فلاس بوک
15:02اور آئی آپ کی بارگاہ میں
15:03اور کہا کہ مجھے کچھ اتا کریں
15:05تو پورے گھر میں دیکھا
15:06صرف تینی خجوریں تھیں
15:07تو اممہ عائشہ صدیقہ
15:09رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:10وہ ایک خجور
15:11تینوں خجوراں دی
15:12تو اس نے ایک خجور
15:13ایک بچی کو دے دی
15:14دوسری بیٹی کو دے دی
15:16اور تیسری خجور خود کھانے لگی
15:17تو بچیوں نے پھر اشارہ کیا
15:19یہ بھی ہمیں دے دیں
15:19تو اس نے اپنے موں پر ڈالی
15:21خجور بالکل موں کے قریب تھی
15:23قریب تھا کہ ڈال لیتی
15:24تو وہ بھی خجور دے دی
15:25تو جب اممہ عائشہ صدیقہ
15:27رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:28نے یہ عمل سرکار کو بیان کیا
15:31تو کریم آقا علیہ السلام
15:32مسکرائے
15:33فرمایا
15:34اس نے یہ عمل کیا ہے
15:35ادخلہ الجنہ
15:37حرم علیہ النار
15:39اس نے اپنے اوپر جنت کو لازم کر لیا ہے
15:41آگ کو حرام کر لیا ہے
15:43اور کریم آقا علیہ السلام
15:44تو سلام نے فرمے
15:45اس نے جس طرح کفالت کی ہے
15:46اللہ پاک نے
15:47اس نے جنت کی سنگتہ تا فرمادی میں
15:50ناظرین اکرام
15:50بریک کا وقت ہے
15:51ہمارے ساتھ رہیے
15:52لوٹتے ہیں
15:52ایک مختصر سے وقفے کے بعد
16:18جی ناظرین خوش حامدیت
16:20کہتے ہیں
16:20وقفے کے بعد آپ کو
16:21پرگرام دیکھ رہے ہیں
16:22آپ حقوق العباد
16:23نعمت افطار میں
16:25لاہور سٹوڈیو سے
16:26اور یتیموں کے حقوق
16:27کے حوالے سے ہم بات کر رہے ہیں
16:28پہلے حصے میں ہم نے
16:30قرآن کریم اور
16:31سیرت طیبہ کے حوالے سے
16:33جو حکامات ہیں
16:33ان کو ہم نے جانا
16:35اور اب آگے بڑھتے ہیں
16:36تو ایک جو معاشرتی
16:37ذمہ داری ہے
16:39جس تعلق میں
16:40جس رشتے میں
16:41جس رشتہ داری کے اندر
16:45ایسے موجود ہیں
16:46جن کو
16:47یتیموں کے حوالے سے
16:48اس ایریے میں موجود ہوں
16:50تو رشتہ داروں کی کیا
16:51ذمہ داری ہوتی ہے
16:52قبلہ سید حارون رشید بخاری صاحب
16:54کیا رہنمائی فرما دے
16:55کیونکہ سب سے زیادہ
16:56ذمہ داری میرا خیال ہے
16:57کہ قریب کے جو رشتہ دار ہیں
16:59ان کی بنتیت
16:59ان کی ذمہ داری کیا ہے
17:01بسم اللہ الرحمن الرحیم
17:03سرور بھائی دین اسلام نے
17:05ہر ایک کے حقوق بیان کیے ہیں
17:06لیکن کمزور کے حقوق پہ
17:09زیادہ زور دیا گیا ہے
17:10اور حضور نبی کریم
17:12صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:13سے جب پوچھا گیا
17:14یتیم کے بارے میں
17:16تو آپ نے
17:16شاتر میں
17:20کن کے لیے خیر کا کام کریں
17:22چھیک
17:23اب
17:23سورت آنام
17:25کے ون ففٹی ٹو
17:26نبر آیت مبارکہ
17:27اور سورت بنی اسرائیل میں
17:29ایک ہی طرح کے الفاظ
17:30دو دفعہ
17:31سرپرست کے لیے فرمائے گئے ہیں
17:34فرمایا
17:35وَلَا تَقْرَبُوا
17:36مَالَ الْيَتِيمِ
17:38إِلَّا بِالَّتِي
17:39هِيَا أَحْسَنُ
17:39حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّ
17:41وَلَا تَقْرَبُوا
17:42قریب بھی نہیں جانا
17:44اس کے مال کے
17:44یتیم کے مال کے
17:46قریب بھی نہیں جانا
17:47پھر فرمایا
17:48إِلَّا بِالَّتِي
17:49هِيَا أَحْسَنُ
17:50لیکن اگر تم اچھا کر سکو
17:52ان کے لیے بہتر کر سکو
17:54تو قریب چلے جاؤ
17:55حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّ
17:57اللہ
17:58پھر جب وہ بلوغت میں پہنچ جائیں
17:59انہیں سمجھا جائے
18:01تو ان کی امانت کو
18:02واپس کرنا ہے
18:03یہاں میں رکنا چاہوں گا
18:05قرآن پاک میں
18:06ایک دفعہ بھی فرما دیا جاتا
18:07تو کافی تھا
18:08لیکن دو دفعہ فرمایا گیا
18:09اور ایک ہی لفظ
18:10کو دو دفعہ دورایا گیا
18:12صرف اس لیے
18:12مجھے اور آپ کو
18:14اور اس پورے معاشرے
18:15کو سمجھانا یہ مقصود تھا
18:17جب آپ یتیم کی کفالت کرتے ہیں
18:20کوئی سرپرست اس کا بنتا ہے
18:21تو وہ ہرگز یہ نا سمجھے
18:23کہ میں نے اس کے باپ کے مال
18:25کو لے کے تو آگے چل رہا ہوں
18:27تو میں نے اس کی ذمہ داری بڑی اٹھا لی ہے
18:29بلکہ قرآن مجید نے کہا
18:30کہ تُو نے اس کے باپ کا بوجھ نہیں اٹھایا
18:33بلکہ اس کے مال سے
18:35اپنی زندگی کو بھی بہتر کر رہے ہوں
18:37ایک انسان ہے
18:38وہ اگر ایک چھوٹے گھر میں رہتا ہے
18:41یہ چھوٹی گاڑی اس کے پاس ہے
18:42اس کا بائی دنیا سے چلا جاتا ہے
18:44اس کے مال سے
18:45اس کے بچے کی بھی پروش کر رہا ہے
18:47اور خود بھی اپنے لائف سٹائل کو بہتر کر رہا ہے
18:50تو قرآن مجید نے کہا
18:51یہ تم اس پہ احسان نہیں کر رہے
18:53بلکہ یہ تم پہ فرض کر دیا گیا
18:55اور سورت نسام میں تو پھر
18:57ان حکم کو بار بار
18:59سات آٹھ حیات میں بتایا گیا
19:01اور فرمایا قرآن مجید نے
19:08یہاں سرپرست کو طریقہ بتایا
19:10کہ تم نے کیا کرنا ہے
19:11فرمایا
19:12اس کے پاک مال کو
19:13نپاک مال میں نہیں تبدیل کرنا
19:15اور تم نے ایسے بھی نہیں کرنا
19:22اپنے ہی مال کے اندر
19:23اس کے مال کو گھڑ بڑ کر دو
19:24فرمایا اگر تم اس طرح کروگے
19:26سرپرستو
19:29اللہ کی طرف سے
19:30سخترین عذاب آئے گا
19:31اِنَّ الَّذِينَ يَأْقُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَ ظُلْمًا
19:35فرمایا اگر یتیم کے مال کو
19:37سرپرست کھا دیتا ہے
19:39وہ ظلمیں عظیم کرتا ہے
19:41اور اس کی طرف
19:42اللہ کی طرف سے
19:43سخت وعید اور عذاب نازل ہوگا
19:45چھیک
19:45ملکل چھیک
19:47قبلہ مفتی صاحب
19:49ہمارے دین میں
19:50اور شریعت میں
19:51اسلام میں
19:52جو حکامات ہمیں دیئے گئے ہیں
19:53تو اس میں ہمیں
19:55یہ بہت ضروری حکم دیا گیا ہے
19:58کہ یتیم کے ساتھ نرمی اور
20:00شفقت سے پیش آیا جائے
20:01معاشرے کو کہا گیا
20:02ایک طور رشتہ داری کی بات
20:03ہم نے کر لی
20:04لیکن معاشرے کے جو دیگر افراد ہیں
20:06ان کو بھی یہ کہا گیا ہے
20:07کہ نرمی اور
20:08شفقت سے پیش آنا ہے
20:09تو یہ ایمان کی تقویت میں
20:11ایمان کی تکمیل میں
20:12یا ایمان کی ذمہ داری میں
20:14یتیم کے حق کو
20:16پیش نظر رکھنا
20:17کتنا ضروری ہے معاشرے کے
20:20قرآن مجید فرقان حمید کی
20:21سورہ بقرہ کی آیت
20:23نمبر ایک سو ستتر میں
20:24جب نیکی کی حقیقت
20:26کو بیان کیا گیا
20:27تو وہاں
20:29ایمان کے ساتھ ساتھ
20:31یتیم کو مال دینے کا
20:33ذکر بھی کیا گیا
20:35تو یہ ایمان کا
20:37یتیم کے ساتھ جڑنا
20:39یہ اس پہلو کی طرف
20:41واضح اشارہ ہے
20:42کہ یتیم کی کفالت
20:45اور یتیم کے ساتھ
20:46اچھا رویہ
20:47یہ ایمان کی تکمیل
20:49کا ذریعہ ہے
20:50سانیاں جو بندہ
20:52اس کے ساتھ اپنا
20:53بیہیوئر اچھا نہیں رکھتا
20:56اور اسے سوشل پریشر میں
20:57رکھتا ہے
20:58اس کو بھی بیان کیا گیا
21:00قرآن مجید فرقان حمید میں
21:01اور اسی تناظر میں
21:09کہ کیا آپ نے
21:10اس شخص کو دیکھا
21:11جو دین کو جھٹلاتا ہے
21:13اب اس جھٹلانے کی
21:14علامت کیا ہے
21:15کہ اس کے دل کے اندر
21:16سنگ دلی ہے
21:17وہ یتیم کو دکے دیتا ہے
21:20دعویٰ تو ہے دین کا
21:22لیکن جو عملی تصویر
21:24یتیم کی محبت
21:25ہی اس سے
21:25اس کا سینہ خالی ہے
21:27چھیک
21:27جہاند عالم
21:28صلی اللہ علیہ وسلم
21:29نے سفر میراج سے
21:31واپسی پر
21:31اس پہلو پر
21:33توجہ دلاتے ہوئے
21:34ارشاد فرمایا
21:34کہ میں نے جہنم میں
21:36ایسے لوگوں کو بھی دیکھا
21:38جن کے ہونٹ
21:39اونٹوں کی طرح تھے
21:41اور ان لبے ہونٹوں سے
21:42انہیں کھینچا جاتا
21:43آگ کے انگاڑے ڈالے جاتے
21:45میں نے جناب جبرائیل امین سے پوچھا
21:48کہ یہ کون لوگ ہیں
21:49تو انہوں نے فرمایا
21:51یہ وہ لوگ ہیں
21:51کہ جو یتیموں کے ساتھ
21:54رویہ اچھا نہیں رکھتے تھے
21:55اپنی زبان سے دکھ لیتے تھے
21:57اور ان کے حقوق کو
21:59ادا نہیں کرتے تھے
22:00ان کے مال
22:02کسی نہ کسی طرح
22:03وہ یتیموں کے رویہ میں
22:06فیلئر کا شکار تھے
22:07جس کا یہ نتیجہ ہے
22:09بلکل ٹھیک
22:10جی کاری صاحب
22:11کیا فضائل کیا بیان ہوئے ہیں
22:14کسی جو کفالت کرتا ہے
22:16یتیم کی معاشرہ
22:17ایک تو رشتہ داروں کی تو
22:18ذمہ ہے
22:19لیکن معاشرے میں
22:20کچھ ایسے سرکردہ افراد
22:22جو صاحب حصیت ہیں
22:23اور وہ یتیم کی کفالت کرتے ہیں
22:26ان کے لیے
22:27کیا اللہ تعالیٰ نے
22:28ان کے بارے میں فرمایا ہے
22:30کہ ان کو کیا آجر دیا جائے گا
22:32درستہ کبھل آپ دیکھیں
22:33کہ بندہ اپنے عمال کی
22:34بنا پہ اس قابل نہیں ہوتا
22:36کہ کل بروز قیامت
22:38وہ جنت میں
22:38سرکاردہ عالم کی
22:39سنگت اختیار کریں
22:41بندے کے عمال
22:42اس قابل نہیں
22:43لیکن دیکھیں
22:44یتیم کی کفالت
22:45اسے کس قابل کر دیتی ہے
22:46جس موقع پہ
22:48سرکاردہ عالم
22:49صلی اللہ علیہ وسلم
22:49نے یہ خوشخبری اطاف فرمائی
22:51کہ
22:51تو میرے ساتھ ایسے ہوگا
22:52جیسے دونوں انگلیاں
22:53ملی ہوئی ہیں
22:54اصل میں ہوا یہ
22:55کہ سرکاردہ عالم کی
23:02بارگاہ میں
23:02اس کہا کہ
23:03میں فاقہ زیادہ ہوں
23:04کھانے کے لیے کچھ نہیں
23:05کریم آقا نے
23:06سکتا بلال حفشی کو بیجا
23:07کہ جاؤ تمام
23:08امہات المومن کے گھروں میں
23:09جاؤ اور کچھ لے کے آؤ
23:10تو تمام گھروں میں
23:12وہ گئے اور تمام گھروں سے
23:13اکیس کجوریں ملی
23:14ٹوٹل
23:16تمام گھروں میں سے
23:17کریم آقا علیہ السلام
23:18نے سات کجوریں
23:19ایک کو دے دی
23:20سات کجوریں ایک کو دے دی
23:21اور فرمایا
23:22اس کو صبح و شام
23:22ایک ایک تناول کرنا ہے
23:24حضرت انسو بن مالک
23:26کہتے ہیں کہ
23:26میں سمجھ گیا
23:26کہ ان کے لیے یہی کافی ہے
23:28لیکن کریم آقا علیہ السلام
23:30جب یہ بیان کیا
23:31اور وہ دونوں
23:33کجوریں لے کے
23:33دربار مصطفیٰ سے
23:35روانہ ہوئی نہ
23:35تو حضرت معاذ بن جبل
23:37رضی اللہ عنہ
23:37کھڑے ہو گئے
23:38کھڑے ہو کے جا کے
23:39اس بیٹی کے اوپر
23:40سر کے اوپر ہاتھ رکھا
23:41کہا اللہ تیرے
23:43حابی و ناصر ہوگا
23:43تو کریم آقا کی بارگاہ میں
23:45دوبارہ آئے
23:46تو کریم آقا نے پوچھا
23:47اے معاذ تجھے
23:48کس چیز نے اوبارہ
23:49کہ تُو نے جا کے
23:50سر پہ ہاتھ رکھا
23:51تو اور اس کی
23:51یا رسول اللہ
23:52جو رب نے میرے دل میں
23:53رحم ڈالا ہے
23:54اس کی وجہ سے
23:54میں نے سر پہ ہاتھ رکھا ہے
23:55تو کریم آقا علیہ السلام
23:57نے یہاں پہ فرمایا
23:58انا وقا فیل یتیم
24:01فیل جنہ حاکدہ
24:02یہاں فرمایا
24:03کہ یتیم کی
24:04کفالت کرنے والا
24:05کل بروزی قیامت
24:06جنت میں ہوگا
24:07اور پھر سرکار
24:07نے یہ بھی بیان کیا
24:08کہ یتیم کے سر پہ
24:10جو بندہ ہاتھ رکھتا ہے
24:11جتنے بال نیچے آتے ہیں
24:13اللہ پاک ان کے برابر
24:15اسے نیکی عطا فرما دیتا ہے
24:16یعنی آپ اندازہ
24:17کریم آقا علیہ السلام
24:18نے یتیم سے
24:20کتنی محبت کی ہے
24:21اور وہ بھی
24:22قبلہ ڈاک سبو دیکھیے گا
24:23حضرت زید بن حارسہ
24:25رضی اللہ تعالیٰ عنہ
24:26کیا کہنے میرے آقا نے
24:28کیا محبتیں کی ہیں
24:29ان لوگوں سے محبت کی
24:30شفقت کی ہے
24:31کہ جناب جب وہ
24:32سرکار دعا عالم
24:33سب سے پیار کرتے تھے
24:35یتیم بھی ہوتا
24:36اسے بھی پیار کرتے
24:37ہر ایک سے پیار کرتے
24:38تو یہ بکتے بکاتے
24:39دربار مصطفیٰ میں آئے
24:40اور جناب اس کے والدین
24:42کو پتہ چلا
24:42کئی سالوں کے بعد
24:43ہمارا بیٹا تو سرکار کے پاس
24:45وہ مال و ذر لے کے آئے
24:46تو کہا جی
24:47یہ بیٹا ہمارا ہے
24:48کریم آقا نے
24:49اس سے پوچھلو
24:50جاتا تو لے جائے
24:51تو اس نے کہا
24:52یا رسول اللہ
24:52میں آپ کو چھوڑ کے نہیں جاؤں گا
24:53تو کریم آقا علیہ السلام
24:55نے حتیم کعبہ کے پاس
24:57کھڑے ہوکے
24:58اس کا ہاتھ کھڑا کر کے
24:59جس طرح منکن تو
25:00مولا فہاد علیہ
25:01مولا ہاتھ کھڑا کیا نا
25:02ہاتھ کھڑا کر کے
25:03کہا فرمایا
25:04آج سے یہ
25:05زید بن حارسہ نہیں ہے
25:06زید بن محمد ہے
25:16انام فضائل کی بات کر رہے ہیں
25:17جو یتیموں کے حقوق
25:18کا خیال رکھتے ہیں
25:20ان کو انام اور عجر کا
25:22اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے
25:24رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
25:25نے ان کے بارے میں
25:25بہت ساری ارشادات فرمائے ہیں
25:28پھر جو یتیموں کا حق کھاتے ہیں
25:30اور ان کے ساتھ
25:31ظلم یا زیادتی کرتے ہیں
25:33ان کے یتیم ہونے کی وجہ سے
25:34ان کے حوالے سے وعیدیں بھی ہیں
25:36اس پر بھی ضرور رہنمائی فرمائی ہے
25:38جساں کاری صاحب کہہ رہے تھے
25:39حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
25:41نے حضرت زید بن حرسہ کو
25:43جب اتنی محبت دینا
25:44تو قرآن مجید میں
25:46بقاعدہ منع کیا گیا
25:47صورت حضاب میں
25:48کہ آپ نے تو اتنی محبت دے دی ہے
25:50کہ اب لوگ دیکھنے والی سے
25:52زید بن حرسہ نہیں
25:53بلکہ زید بن محمد کہہ کے بلاتے ہیں
25:55اب اس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
25:58رول مادل بن کے
26:00ہمیں بتا رہے ہیں
26:00کہ آپ نے کس طرح یتیم کے ساتھ رہنا ہے
26:02اب قرآن مجید میں
26:04جساں مفتی صاحب نے اس آئیت کو بیان کیا
26:06تو جب قرآن مجید نے کہا
26:07کہ وہ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں
26:09جو دین کو جھٹلاتے ہیں
26:10تو یہ نہ فرمایا
26:11وہ قرآن چھوڑتے ہیں
26:12نماز چھوڑتے ہیں
26:13زکاة چھوڑتے ہیں
26:14حج چھوڑتے ہیں
26:15یقیناً یہ چھوڑنے والے بھی دین کو چھوڑتے ہیں
26:17لیکن قرآن مجید میں فرمایا
26:21یہ وہ لوگ ہیں
26:23جو یتیموں کو دکے دیتے ہیں
26:25تکلیفیں دیتے ہیں
26:26ان کے لئے یہ بیعید کی گئی
26:28اور صورت نساء میں فرمایا
26:36فرمایا
26:36ان کے بدن کو آگ کے اندن کے ساتھ بھرا جائے گا
26:39یہ وہ لوگ ہیں
26:41جو یتیم کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتے ہیں
26:43اب کیونکہ میرے اور آپ کے آقے دو جہان
26:45صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:47ہمارے لئے رول مادل ہیں
26:48انہوں نے اپنی ساری زندگی
26:50اس مشکلات میں گزاری
26:52بہت ساری چیزیں آپ کی زندگی
26:54اگر دیکھیں
26:54نہ بھی ہوتی
26:56تو پھر بھی وقت یہ چیزیں گزر سکتی تھی
26:58لیکن وہ ہوئی اس لئے ہیں
27:00کہ آج کے اس پسماندہ علاقے میں
27:02یا لوگوں کے اندر
27:03وہ جو لوگ
27:04حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:06کو آئیڈیل مانتے ہیں
27:07انہیں پتا چلے
27:08کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی کو گزارا
27:10تو آپ اپنے قریب لاتے تھے
27:12یتیموں کو
27:13وہ مشہور زمانہ واقعہ ہے
27:15جو ہم اپنی سلیبس کی کتابوں میں بڑھتے ہیں
27:18عید کے دن جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:21جا رہی تو یتیم کو پاس بلایا
27:23پھر اس کے لئے نماز کی تخیر کی گئی
27:25پھر اسے مسجد میں لے کے گئے گئے
27:27پھر آپ نے بتایا
27:28کہ یہ وہ یتیم ہے
27:29جسے میں سوات لے کے آیا ہوں
27:30تو قرآن مجید نے جہاں فضائل بیان کیے ہیں
27:33وہاں یہ بھی بتایا
27:34کہ اگر یتیم کو تم تکلیف دوگے
27:36انہو کان حوبن کبیرہ
27:38تو اللہ کی طرف سے ایک سخت ترین عذاب تمہاری طرف آئے گا
27:41اور اگر تم اس کی کفالت کروگے
27:44کوئی بھی انسان
27:45یہ مقام حاصل نہیں کر پائے گا
27:47جس طرح کاری صاحب نے کہا
27:48لیکن اگر وہ یتیم کی کفالت کرے گا
27:50اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:53نے ظاہری زمانے میں یہ کر کے دکھایا
27:55کہ کس طرح یتیم کی کفالت
27:57کرنے کے والے کو پاس بولایا جاتا ہے
27:59اور کس طرح اب اسے عجر عظیم عطا فرماتا ہے
28:01بلکل ٹھیک
28:03اچھا مفتی صاحب ہمارے ہاں
28:04بے شمار ایسے ادارے کھلے ہوئے ہیں
28:06جو یتیم بچوں کی کفالت کرتے ہیں
28:08اور اس کے لئے
28:10اپنی توانائیاں خرچ کرتے ہیں
28:12لوگوں کو موٹیویٹ کرتے ہیں
28:13لیکن اس میں کہیں لگتا ہے
28:16کہ ان کی جو عزت نفس ہے
28:18وہ بھی کہیں نہ کہیں مجروع ہوتی ہے
28:20کہ ان کی تصویر کے ساتھ
28:22ایڈویٹائزمنٹ شو کی جاتی ہے
28:24یا کسی مہمانوں کو بلا کر
28:26ان کو سامنے لائے جاتا ہے
28:28کہ یہ ہمارے پاس بچے ہیں
28:30تو ان کی مدد کی جائے
28:31آپ کیا سمجھتے ہیں
28:32کہ یہ اس کو ہمیں کس طرح سے
28:34کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے
28:37کہ جس سے ان کی عزت نفس
28:39وہ بھی مجروع نہ ہو
28:40اور ان کی جو مدد کرنے والے ہیں
28:42جو ادارے ہیں ظاہر ہیں
28:43ان کو بھی ضرورت ہوتی ہے
28:44وہ کس طرح سے اس کو منیج کر سکتے ہیں
28:47لوگ صاحب کیولا
28:48اس کا بہترین سلوشن وہی ہے
28:51جو قرآن مجید فرقان حمید
28:53نے ہمیں عطا فرمایا ہے
28:54کہ ان کو ایک چیرٹی کیس
28:57یا چیرٹی سسٹم کے طور پر
28:59نہیں لینا چاہیے
29:00یہ فالس تب ہی آتے ہیں
29:01کہ جب ہم اسے ایک چیرٹی کیس
29:04کی صورت میں لیتے ہیں
29:05یہ چیرٹی ٹول کی صورت میں لیتے ہیں
29:07اگر ہم انہیں اپنا فیملی ممبر
29:10سمجھ لیں
29:11جیسے کہ قرآن مجید فرقان حمید
29:13نے کہا
29:13کہ اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملال
29:18تو پھر تمہارے بھائی ہیں
29:20تو بھائیوں کے عیب
29:21یا بھائیوں کو
29:22ڈیس رسپیکٹ تو نہیں
29:23ڈی ویلیو تو نہیں کیا جاتا
29:25بلکہ ان کے عیب چھپائے بھی جاتے ہیں
29:27انہیں عزت بھی دی جاتی ہے
29:29زکاة میں
29:30وہ کیسا خوبصورت اصول دیا گیا ہے
29:33کہ اگر تم زکاة دینا چاہتے ہو
29:35اور تمہارا قریبی رشتہ دار
29:37اس کا مستحق ہے
29:39تو تمہیں بتانا بھی نہیں
29:40کہ یہ زکاة ہے
29:41اور لوگوں کے سامنے بھی نہیں دینا
29:44تاکہ اس کی سیلف رسپیکٹ
29:45کا جو ہے وہ
29:46خیال باقی رہے
29:47اور یہ جو رقم تم اسے دے رہے ہو
29:49تو کہیں وہ اپنے آپ کو
29:51کم تر سمجھتے ہوئے
29:52اور زکاة لیتے ہوئے
29:53تھوڑا ہیزیٹیٹ نہ ہو
29:54تو یتیم کو بھی
29:57جب برادرانہ تعلق
29:59اس کے ساتھ بن جائے گا
30:00تو پھر یقیناً
30:01یہ اس طرح کی
30:02سیچویشن کا ہمیں سامنا
30:04نہیں کرنا پڑے گا
30:06یہاں میں عرض کرنا چاہوں گا
30:08کہ عزت نفس مجرور نہیں ہونی چاہیے
30:10دروار مصطفیٰ میں
30:11ایک شخص حاضر ہوا
30:12کہا کہا
30:12یارسلام میرا بیٹا گم ہو گیا ہے
30:14تو کریم آقا علیہ السلام
30:15ہاتھ اٹھانے لگتا
30:16ایک شخص نے کہا
30:17یارسلام میں نے فلان جگہ دیکھا ہے
30:18تو وہ دھوڑ لگا کے جانے لگا
30:20تو کریم آقا نے روک لیا
30:21فرمایا کہ
30:22جا کے اس طرح جلدی نہ جاؤ
30:24کیا کہو گے جا گیا
30:25اسلام میرا بیٹا مل گیا
30:26فرمایا اسے بیٹا کہہ کے نہ پکارنا
30:28وہاں کچھ یتیم بھی کھیل رہے ہوں گے
30:30تو اسے اس کا نام لے کے پکارنا
30:31تاکہ وہ یتیم بچوں کی دلہ زاری نہ
30:33اللہ اکبر
30:34ناظرین اکرام
30:35ہم آج یتیموں کے حقوق کے حوالے سے بات کر رہے ہیں
30:38چھوٹا سا وقفہ ہے
30:39ہمارے ساتھ رہیے لوٹتے ہیں
30:41ایک مختصر سے بریک کے بعد
30:43شانِ رمضان
30:47شانِ رمضان
30:50شانِ رمضان
30:53شانِ رمضان
30:55ہے مومینوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
31:00ہے مومینوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
31:05ناظرین خوش حامدیت کہتے ہیں
31:07آپ کو حقوق العباد ہمارا پرگرام اور آج
31:09یتیموں کے حقوق کے حوالے سے بات کر رہے ہیں
31:11اوورال ہم نے اس دونوں سیگمنٹ میں
31:14بات کی قرآن و سنت کے حوالے سے
31:16رشتہ داروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے
31:18معاشرے کی جو ذمہ داریاں ہیں
31:20اس حوالے سے اور سب کا جہاں جہاں پر
31:23جتنا جتنا رول بنتا ہے
31:24جتنی جتنی رسپونسیبیلٹیز ہیں
31:26ان کو ہم نے ڈسکس کیا
31:28تو شاہ صاحب کیا فرماتے ہیں
31:30اوورال جو آج ہماری گفتگو ہوئی
31:32قرآن و سنت کی روشنی میں
31:33معاشرے کی ذمہ داریاں
31:35رشتہ داروں کی ذمہ داریاں
31:36اور اس سارے کو کس طرح سے ہم
31:39بیان کر سکتے ہیں
31:40سربل بھائی جس طرح بات ہو رہی تھی
31:41کہ چیٹی ہم کس طرح کریں
31:43بچوں کو لے کے کس طرح چریں
31:45ہمارا اپنا ادارہ ہے
31:46بوکن شریف میں جو
31:47میرے والدے گرامی کے پاس
31:49ایک میجر آئے
31:51انہوں نے کہا کہ جتنے آپ کے پاس
31:53یتیم ادارے میں پڑھتے ہیں
31:54اوورال ایک کنسپٹ ہے
31:56کہ دارالوم میں
31:57یا مدارس کے اندر
31:58وہ بچے پڑھتے ہیں
31:59جو یتیم ہوتے ہیں
32:00جنہیں کہ کوئی کفالت کرنے والا نہیں
32:01ان کی ایک لسٹ دے دیں
32:03اور ہم ان کو
32:04کچھ چیزیں اتیاد کرنا چاہتے ہیں
32:06تو آپ نے بڑا خوبصورت جملہ بولا
32:08جو ہر کفیل کو
32:09اور ہر سرپرست کو ذہن میں رکھنا چاہیے
32:12آپ نے فرمایا
32:13جب تک میں زندہ ہوں
32:14اس وقت تک
32:15اس ادارے میں پڑھنے والا
32:16کوئی بچہ بھی یتیم نہیں ہے
32:17اس طرح دینی مدارس میں
32:20اور اس طرح کفالت کے بارے میں
32:22بتایا گیا ہے
32:22حتی یبلغ اشدہ
32:24جو صورت بنی اسرائیل میں بھی
32:25اب جو بنی اسرائیل کی یہ آیتیں مبارکہ ہیں
32:28اس سے پہلے اور بعد میں
32:30ہمیں معاشرے کو بہتر کرنے کے طریقے بتائے گئے
32:33وعدے کا طریقہ بتایا گیا
32:35بتایا گیا
32:36زنا کے قریب نہیں جانا
32:37فلان چیز نہیں کرنی
32:38اپنے بچوں کو قتل نہیں کرنا
32:40آپ کے نفس کا حق ہے
32:41یہ سارے حقوق بیان کر کے
32:43درمیان میں فرمایا
32:44اس کو اور اس کے درمیان
32:46تمہارے لئے سب سے لازم چیز ہے
32:48وہ یہ ہے
32:49کہ تم نے یتیموں کا حیال رکھنا ہے
32:51تم نے یتیموں کا مال نہیں کھانا
32:52تم نے یتیموں کی سرپرستی کرنی ہے
32:54چھیک
32:55یہاں حتی یبلغ اشدہ کے زیمن میں
32:57میں کہنا چاہوں گا
32:58کہ ہمارے ذہن میں یہ آتا ہے
32:59کہ چلیں ہم اس کی کفالت کر رہے ہیں
33:01وہ اس کا باپ چلا گیا
33:02تو ہم بڑی محنت کریں
33:03نہیں
33:03بھئی آپ اس کے باپ کے مال سے
33:06اپنی لائف کو بھی بہتر کر رہے ہیں
33:07اور اس کے بچے کی زندگی
33:09کو بھی آگے لے کے چال رہے ہیں
33:10اور جب وہ بچہ پروان چڑے گا
33:12اپنی زندگی کو گزارے گا
33:13پھر قرآن مجھے نے حکم دیا ہے
33:15یہ نہیں ہے کہ صرف کہا
33:17کہ دیکھ لو تم کرو گے واپس کرنی
33:19قرآن مجھے نے حکم دیا ہے
33:20کہ اس کے مال کو
33:21تم نے واپس کرنا ہی کرنا ہے
33:22اسے بیٹھ کے مشورہ کرو
33:24بیٹا میں نے ساری زندگی
33:25آپ کے کام کو بڑھانے کے لیے یہ کیا
33:27اب یہ آپ کا مال ہے
33:29اب آپ بتاؤ کہ
33:30آپ مجھے کس طرح ساتھ لے کے چلتے ہو
33:31یہ کس طرح یہ معاملہ چلتے ہیں
33:33تو قرآن مجید نے
33:34جہاں آپ کو اپنے بچے کے حقوق بتائے ہیں
33:36اسی طرح آپ کو
33:37آپ کے یتیم بھتیجے کے
33:39یا معاشرے میں رہنے والے
33:40یتیموں کے بارے میں بھی
33:41جو حقوق ہیں وہ بتائیں
33:43بلکل ٹھیک
33:43جی بفتی صاحب کیا پیغام ہے
33:45آج کی اس گفتگو کی روشنی میں
33:47کیا آپ کے نزدیک
33:48روک صاحب
33:50کسی بھی معاشرے میں
33:52جو تنگی آتی ہے
33:53اس کے دو اسباب ہوتے ہیں
33:54یا تو مال تنگ ہو جائے
33:56یا دل تنگ ہو جائے
33:58آج ہمارے معاشرے میں بھی
34:00ایسی گھٹن موجود ہے
34:01معیشت بھی کمزور ہے
34:03اور دل بھی کمزور ہو چکے ہیں
34:05اور ان دونوں کے سب اسباب
34:07وہ کمزوروں اور یتیموں کے حقوق
34:09نہ دینا ہے
34:10قرآن مجید فرقان حمید میں
34:12اس پہلو کو ذکر کیا گیا
34:14کہ وہ بندہ جس کو
34:16اللہ تعالیٰ کسی تنگی میں لے کے آتا ہے
34:18تو وہ کہتا ہے
34:19اللہ تعالیٰ نے تو مجھے کسی
34:21ایسے مرحلے میں ڈال دیا ہے
34:22جو میں جو رسوا کرنے والا ہے
34:24تو جواب آتا ہے
34:25حقیقت یہ ہے
34:26کہ تو یتیموں کی عزت نہیں کر رہا
34:28ایک شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
34:30وارگہ میں آیا
34:31اور اس نے کہا
34:32حضور میرا دل سخت ہے
34:33تو فرمایا کبھی کسی یتیم کے سر پر
34:35ہاتھ بھی رکھا ہے
34:36تو آج اگر ہم اپنی معیشت کی تنگی
34:39کو دور کرنا چاہتے ہیں
34:41تو تب بھی یتیموں کے حقوق کو
34:43ادا کرنا ہے
34:44نکلنا ہے
34:45کسی کو تلاش کرنا ہے
34:47اپنی تبسن کی خیرات دے کر
34:49اسے اپنے سینے کے ساتھ لگانا ہے
34:51اور دو فائدے ہوں گے
34:52معیشت بھی کھل جائے گی
34:54اور سینہ بھی انشاءاللہ بہت کھل جائے گی
34:56کیا بات
34:56بلکل ٹھیک
34:57جناب کاری صاحب
34:58جی کمیلہ ڈکس صاحب
34:59میں مسند احمد کی ایک روایت ہے
35:01سرکار دو عالم کی بارگاہ
35:02یکدس میں ایک شخص آیا
35:03اور اپنے دل کی سختی کی بات کی
35:05تو کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
35:07یتیم کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آیا کرو
35:09اس کے سر پر آدھ پیرا کرو
35:10اللہ تیرے دل کی سختی کو دور فرما دے گا
35:12آپ اندازہ کریں
35:13کہ یتیم سے اللہ کتنی محبت کرتا ہے
35:16وہ شور آفاق واقعہ
35:18جو خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی
35:20معیت کہتا تین واقعات
35:21اس میں ایک واقعہ یہ تھا
35:23کہ یتیم کی دیوار گر رہی تھی
35:25تو اللہ نے ان عظیم
35:26اپنے مقربین کو بیجا
35:28اور وہ یتیم کی دیوار بنا رہے ہیں
35:30یعنی اتنی اللہ محبت فرماتا ہے
35:31موسیٰ علیہ السلام جلوہ فرماتے
35:33اور حدیث پاک کے اندر آتا ہے
35:34تو اس سامنے سے ایک شخص گزرا
35:36تو موسیٰ علیہ السلام نے اشارہ کر کے کہا
35:38کہ یہ شخص کل وفات پا جائے گا
35:41اس کا ایک ساتھی بیٹھا ہوا تھا
35:43اس نے اس کو بتایا
35:44کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے قلیم ہے
35:45اور اللہ کا قلیم بغیر
35:48اللہ کے عزن کے بغیر نہیں بولتا
35:50کل تیری موت واقع ہو جائے گی
35:52اس نے وہ گھر میں گیا
35:53جتنا مال تھا
35:54دھیر لگا دیا
35:54اس نے اعلان کر دیا
35:55جتنے یتیم ہیں
35:56مسکین ہیں
35:57بیوہ ہیں
35:58سب آ جائیں
35:59اور اپنی مرضی سے لے جائیں
36:00تو اس میں ایک ننہ نمونہ
36:02یتیم ایسا بھی تھا
36:03اس نے جناب جی
36:03کتنی جھولی تھی
36:04اس کی بجارے کی
36:05جھولی بری
36:06اور اس نے جھولی اٹھا کے
36:07دعا کہ
36:07یا اللہ اس کی عمر میں
36:08برکت اطاف فرما
36:08تو لوگ منتظر تھے
36:10یہ کل مرتا
36:11ابھی مرتا ہے
36:11ابھی مرتا ہے
36:12تو موسیٰ علیہ السلام
36:13نے اللہ کی بار گیا
36:13مالک ماجرہ کیا ہے
36:15اس کا تو کل آپ نے حکم دیا تھا
36:16فرمائے
36:17یتیم کی دعا سے
36:18میں نے اس کی موت بھی ٹال دی
36:19اللہ اکبر
36:20اللہ اکبر
36:21بہت شکریہ
36:22جناب مفتی
36:23ابو بکر صدیق
36:24نقشپندی صاحب
36:25جناب قاری
36:25محمد یونس قادری صاحب
36:27جناب سید
36:27حارون و رشید
36:29بخیری صاحب
36:29آپ کا بہت شکریہ
36:30جناب محمد علی قادری صاحب
36:32بہت شکریہ
36:33آپ کا کلام
36:34ہم آپ سے لیتے ہیں
36:35اور آپ سے اجازت چاہنی ہے
36:36آج بہت خوبصورت گفتگو ہوئی
36:38اور قرآن و سنت کے تناظر میں
36:40اپنی معاشرتی
36:41ذمہ داریوں کو بھی
36:42ہم نے سمجھا
36:43ذاتی ذمہ داریوں کو بھی سمجھا
36:44ہماری فیملی میں
36:46رشتہ داروں میں
36:47اگر کوئی
36:47ایسا ہے
36:48کہ جس کی کفالت
36:49ہمارے ذمہ بنتی ہے
36:51تو اس کی
36:51جو حقوق ہیں
36:53اس کے حوالے سے بھی
36:54اپنے مہمانوں سے
36:55ہم نے رہنمائی
36:55حاصل کی
36:57جناب حفیث طائب
36:59رحمت اللہ علیہ
37:00کہ یہ شورہ آفاق
37:01اشار جو استغاثہ کی صورت میں ہیں
37:04آپ سے ارز کرتے ہوئے
37:05اجازت طلب کرنی ہے
37:07کہ دے تبسم کی خیرات
37:09ماحول کو
37:09ہم کو درکار ہے
37:12روشنی یا نبی
37:13ایک شینی جھلک
37:15ایک نوری ڈلک
37:17تلخ و تاریک ہے
37:19زندگی یا نبی
37:20اے نویدِ مسیحہ
37:23تیری قوم کا
37:24حال عیسیٰ کی
37:26بھیڑوں سے ابتر ہوا
37:27اس کے کمزور اور
37:29بےہنر ہاتھ سے
37:31چھین لی چرخنے
37:33برتری یا نبی
37:34کام ہم نے رکھا
37:36صرف اذکار سے
37:37تیری تعلیم اپنائی
37:40اغیار نے
37:41حشر میں مو دکھائیں گے
37:43کیسے تجھے
37:44ہم سے نا کردہ کار
37:46امتی یا نبی
37:47دشمن جاں ہوا
37:49میرا اپنا لہو
37:51میرے اندر ادو
37:52میرے باہر ادو
37:54ماجرائے تہیر ہے پرسیدنی
37:57صورتحال ہے
37:59دیدنی یا نبی
38:00صورتحال ہے
38:02دیدنی یا نبی
38:04اور یا نبی
38:07رازدہ اس جہاں میں
38:09بناؤں کسے
38:10روح کے زخم
38:12جا کر دکھاؤں کسے
38:14غیر کے سامنے
38:16کیوں تماشا بنوں
38:17کیوں کروں دوستوں کو
38:19دکھی یا نبی
38:21سچ میرے دور میں
38:22جرم ہے
38:23عیب ہے
38:24جھوٹ فن عظیم
38:26آج لا ریب ہے
38:27ایک عزاز ہے جہلو بے رہ روی
38:31ایک آزار ہے
38:33آگہی یا نبی
38:35زیست کے تبت سہرہ پہ شاہِ عرب
38:38تیرے اکرام کا عبر برسے گا کب
38:41کب ہری ہوگی شاقِ تمنا میری
38:44کب مٹے گی میری تشنگی یا نبی
38:47یا نبی اب تو آشوبِ حالات نے
38:50تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلا دیئے
38:54دیکھ لے تیرے طائب کی نغمہ گری
38:57بنتی جاتی ہے نوہہ گری
39:01یا نبی
39:01ہم کو درکار ہے روشنی
39:05یا نبی
39:06کل انشاءاللہ آپ سے ملاقات ہوگی
39:08ہماری ٹرانسومیشن
39:09کراچی سٹوڈیو سے جاری رہیں گی
39:11کلام شامل کرتے ہیں
39:12محمد علی قادری
39:15مدینہ کے والی دو عالم کے داتا
39:29میری بھی نظر سوئے تیبا لگی ہے
39:41میں محتاج ہوں ایک نگاہ کرم کا
39:50میں محتاج ہوں ایک نگاہ کرم کا
40:00تمہارے کرم پر میری زندگی ہے
40:11میں محتاج ہوں ایک نگاہ کرم کا
40:22تمہارے ہی تر سے ہے میرا گزارا
40:31تمہارے ہی دربار کاغوں میں منگتا
40:53جو تم سے نہ مانگو تو پھر کس سے مانگو
41:11تمہارا تو سارا گرانہ سگی ہے
41:20میں محتاج ہوں ایک نگاہ کرم کا
41:32اور مدینہ کی راہوں پہ صدقے دلو جاں
41:42مدینہ کی گلیوں پہ سو جان سے کربا
41:51نجوم فلک کو کہاں یہ میسر
42:10مدینہ کی زہروں میں جو دل کشی ہے
42:19مدینہ کی زہروں میں جو دل کشی ہے
42:29مدینہ کی والی دو عالم کے داتا
42:37اور یہاں رہ کے جینا ہے مرنے سے بدتے
42:49وہاں جا کے مرنا ہے جینے سے بہتے
42:58یہاں رہ کے جینا ہے مرنے سے بدتے
43:03وہاں جا کے مرنا ہے جینے سے بہتے
43:10وہ یسر جو ہو ان کے قدموں میں رہ کر
43:27وہی زندگی اصل میں زندگی ہے
43:34میں مختاج ہوں ایک نگاہ کروں کا
43:49شانِ رمضان شانِ رمضان شانِ رمضان شانِ رمضان
43:59ہے مومینوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
44:05ہے مومینوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
44:11ہے مومینوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
Comments

Recommended