- 2 days ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ذہمتوں کا مہینہ عظمتوں کا سلطینہ زندگی کا قرینہ روح مکہ مدینہ آدمی کو بناتا ہے یہ عرصہ
00:17ذہمتوں کا مہینہ عظمتوں کا سلطینہ زندگی کا قرینہ روح مکہ مدینہ آدمی کو بناتا ہے یہ عرصہ
00:34عوض باللہ میں سیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز ناظرین السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:41آپ دیکھ رہے ہیں پروگرام علم و عمل اپنے مذبان صاحب زادہ عرفان الہی قادری کے ساتھ
00:48جس طرح کہ ہر روز ایک نئے موضوع کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں جو قرآن و
00:53سنت کا نور
00:55لے کر آپ کی خدمت میں روشنیوں کا سفر ہے روشنیوں کا پیغام لے کر حاضر ہوتے ہیں اور ایسے
01:00موضوعات جو ہماری زندگیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس عمر پر اس امید پر کہ ہم سب اہد کریں
01:08کہ ہم اپنے اللہ کے حضور معافی طلب کریں اور ہم اپنے زندگیوں کو ایسا سواریں
01:14کہ اللہ اور اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آ جائیں
01:19تو ناظرین کرام آج کا ہمارا جو موضوع ہے وہ ہے ایفائے اہد
01:24روز مرہ زندگی میں ترہ ترہ کے معاملات ہماری وعدہ خلافیاں
01:30ہمارے ایسے ایسے معاملات جو ہم لوگوں کو پریشانی تک لے جاتے ہیں
01:36کیا کبھی ہم نے یہ غور کیا ہے کہ انسان زبان سے جو کچھ کہتا ہے
01:44دل میں کچھ رکھتا ہے اور عمل میں کچھ اور ثابت کرتا ہے
01:49یہی وہ لمحہ ہے جہاں قومیں بنتی بھی ہیں اور ٹوٹتی بھی ہیں
01:55اس کا تعلق اہد سے ہے وعدہ سے ہے قول سے ہے
02:01یہ محس الفاظ نہیں یہ انسان کے کردار کی شاہ رگ ہے
02:06اگر وعدہ وفا بن جائے تو فرد معتبر معاشرہ محفوظ اور قوم باوقار
02:15بن جاتی ہے اور اگر وعدہ کھوکھلا ہو جائے تو نہ رشتے سلامت رہتے ہیں
02:22نہ اعتماد اور نہ ہی اللہ کی نصرت
02:28ناظرین آج میں آپ سے افائے اہد پہ بات کرنا چاہتا ہوں
02:32کیونکہ یہ وہ قدر ہے جس کے ٹوٹنے سے زمیر زخمی ہوتا ہے
02:38اور جس کے نبانے سے انسان خود اپنے سامنے سرخ رو ہو جاتا ہے
02:45افائے اہد کیا ہے
02:48افائے اہد کا مطلب کیا ہے
02:50افائے اہد کسے کہا جاتا ہے
02:53کیوں اس پہ اتنا زور دیا جا رہا ہے
02:56تو افائے اہد جو کہا اسے نبایا جائے
03:02جو زبان سے بات کی جائے اسے دل سے نبایا جائے
03:07جو مانگا گیا اسے پورا کیا جائے
03:11اور جو ذمہ داری لی اسے پیچھے نہ ہٹا جائے
03:17یہ صرف دوسروں سے کیا گیا وعدہ نہیں
03:20یہ اپنے رب سے اپنے زمیر سے اور اپنی ذات سے کیا گیا اہد بھی ہے
03:26ایک بندہ اس کو اہدہ ملتا ہے ذمہ داری ملتی ہے
03:31اگر وہ اس کو مکمل طریقے سے اپنی ذمہ داری کو صحیح
03:35طریقے سے سر انجام نہ دے
03:38تو یقینا وہ اپنے رب کے ساتھ اور اس ادارے کے ساتھ
03:46اس جو ہے گھر کے ساتھ
03:52دوستوں کی مجلس کے ساتھ
03:54وہ بندہ وعدہ نہیں نبا رہا
03:59اب بعض چیزیں ایسی ہیں دو طرق چیزیں ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ وہ ٹائم کی پابندی نہیں کرتا
04:05وقت پہ آتا نہیں وقت پہ بات نہیں کرتا
04:09یہ بندوں کے ساتھ
04:10اچھا صرف یہ بندوں کے ساتھ نہیں ہے
04:12یہ اللہ کے ساتھ بھی ہے
04:15چونکہ اس کا تعلق رزق کے ساتھ بھی ہے
04:17اگر کسی کو بارہ گھنٹے کی پے دی جا رہی ہے
04:21سہدری بارہ گھنٹے کی ہے
04:22اور وہ کام چھ گھنٹے سات گھنٹے کر رہے ہیں
04:26تو اپنے رب کے ساتھ بھی
04:28اور ان بندوں کے ساتھ بھی
04:31وعدہ خلافی کر رہا ہے
04:33قرآن مجید
04:34سورہ بنی اسرائیل
04:35رب کائنات ارشاد فرمت ہے
04:37وَأَوْفُ بِالْأَهْدِ
04:38اِنَّ الْأَهْدَ كَانَ مَسْعُولَ
04:41اور اہد کو پورا کرو
04:43بے شک اہد کے بارے میں سوال کیے جائے گی
04:47یہ مات سمجھنا
04:48یہ بات بندوں سے کیا تو پوچھی نہیں جائے گی
04:51پوچھی جائے گی
04:53یہ آیت بتا رہی ہے
04:54کہ اہد کوئی ممولی بات نہیں
04:56یہ قیامت کے سوالات میں بھی شامل ہے
04:59اور دوسرے مقام پر
05:01سورہ المائدہ میں
05:01اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
05:03یَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
05:05اَوْفُ بِالْأُقُودِ
05:07یعنی ایمان کا تقاضی ہی یہ ہے
05:10کہ وعدے پورے کیے جائیں
05:11اور اے ایمان والو
05:13کیا کہا
05:14اے ایمان والو اپنے وعدے پورے کرو
05:16تو مخاطب کیا گیا اے ایمان والو کو
05:19اور بخاری و مسلم کی عدیث ہے
05:20نبی کریم علیہ السلام نے
05:22منافقین کی تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں
05:25اور ان میں ایک نشانی یہ ہے
05:27کہ جب وعدہ کرے
05:29تو خلاف ورزی کرے
05:31اب یہ حضور نے
05:32منافقین کی نشانیوں میں بتائی یہ بات
05:34آپ اندازہ کریں
05:36کتنا بڑا عیب ہے
05:39کتنا بڑا گناہ ہے
05:41ہم یہ سمجھتے ہیں
05:43ہم عبادت گزار ہیں
05:45ہم ریاضت کرتے ہیں
05:47ہم صوفی ہیں
05:49ہم حاجی ہیں
05:51ہم تو یار بڑے اچھے طریقے سے
05:53کسی عمر پر کوئی پیمانگی نہیں کر رہے
05:55لیکن بات بات پر
05:57بندوں کے ساتھ وعدہ خلافی کر رہے
06:00اس سے بات کی
06:01اس سے بات کی
06:02پھر اس کو رد کر دیا
06:03اس کو رد کر دیا
06:04سرور کائناہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:06ایک شخص
06:06نے کہا تین
06:08میں آپ سے پھر دوبارہ ملتا ہوں
06:10تو تین دن حضور علیہ السلام
06:11وہاں کھڑے رہے
06:13سرکار نے فرما
06:14تم نے تو مجھے یار امتحار میں ڈال دیا تھا
06:16چونکہ وعدہ کر لیا تھا
06:18تو میں تو اس انتظار میں کھڑا تھا
06:22اب ہم اپنی طرف طرح غور کریں
06:25اپنے حالات
06:26اپنی کیفیات کو دیکھیں
06:27کہ ہر روز ہم کتنے لوگوں سے
06:31وعدہ خلافی کرتے ہیں
06:35وقت کی قدر نے یہ
06:36معمول بن چکا ہے
06:39یہ بھی وعدہ خلافی میں آتا ہے
06:42وقت دس بجے کا ہوگا
06:43نو بجے کا ہوگا
06:45تو آپ وہاں دو بجے پہنچیں گے
06:47ایک بجے پہنچیں گے
06:48تو یہ وعدہ خلافی نہیں ہے
06:51اور وقت کی بے قدری بھی ہے
06:54اور والعصر
06:55جس وقت کی قرآن قسمیں کھائے
06:57ہم اس وقت کی قدر نہیں کرتے
07:01ناظرینی کرام
07:02جوٹ اور وعدہ خلافی کو
07:05نفاق کی علامت کہا گیا ہے
07:07منافقین کی اور منافق ہونا
07:09بہت بڑی بات ہے
07:11بھئی کافر کا تو پتہ ہے
07:14یہ کفر پہ ہے
07:16اور منافق
07:18وہ تو کالی بیڑے ہیں
07:21جسے آستین کا سام کہتے ہیں
07:24بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں نا
07:26کہ ہم انہیں اپنے دل میں
07:27رکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں
07:28لیکن وہ آستین میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں
07:32تو ناظرینی کرام
07:33یہ جو جھوٹ بولتا ہے
07:35جو وعدہ خلافی کرتا ہے
07:37یہ بھی منافقین میں شامل ہوتا ہے
07:41منافق ہے
07:43آپ کہیں کہ عجیب بات ہے
07:44وہ نمازیں بھی پڑھتا ہے
07:46وہ روزے بھی رکھتا ہے
07:47وہ حج بھی کرتا ہے
07:49سنت کے مطابق چلتا بھی ہے
07:51ایک چھوٹا سا تو عیب ہے اس میں
07:53کہ وہ وقت میں پہنچتا نہیں ہے
07:56یہ چھوٹے عیب نہیں ہیں
07:58یہ گناہوں کی جڑھ ہے
08:00تو اس لئے وعدہ خلافی
08:02کو حضور علیہ السلام نے
08:04منافق کی علامت کہا
08:05اور قرآن نے قیامت کے سوالات میں
08:08اس کو شامل رکھا
08:09کہ روزے میں ایشے تم سے پوچھا جائے گا بھائی
08:13کہ کیا کرتے رہے ہو
08:14لوگوں کے ساتھ
08:15وعدہ خلافی میں کیسے کرتے رہے ہو
08:17رحمتِ قنان صلی اللہ علیہ وسلم کی
08:19سیرتِ طیبہ کا ہم مطالعہ کریں
08:22تو حضور علیہ السلام کی
08:24حیاتِ انور کا
08:26لمحہ لمحہ
08:27کفار کے ساتھ
08:28صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں
08:30مومنین کے ساتھ نہیں
08:31کفار کے ساتھ بھی
08:33جو حضور نے اہد کیا
08:34جو وعدے کیے
08:35ان کو نبایا
08:37صلح حدیبیہ دیکھ لیں
08:40کہ معاہدہ
08:41بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھا
08:44مگر رحمتِ قنان صلی اللہ علیہ وسلم
08:46نے
08:47اس کی ایک ایک شک کو پورا کیا
08:50ہر ہر بات کو پورا کیا
08:53لیکن اس کا پھر نتیجہ کیا نکلا
08:56افاہِ اہد جب حضور نے
08:57وعدہ کی پاسداری کی
08:58تو نتیجہ کیا ہے
09:01کہ پھر لوگ
09:02جوگ در جوگ
09:03مسلمان ہو رہے ہیں
09:06اس کا نتیجہ کیا ہے
09:08کہ بھئی ابو جہلو
09:10ابو لہب کی پارٹی کے لوگ
09:13بات ان کی مانتے ہیں
09:14رہتے ان کے ساتھ ہیں
09:16بیٹھتے ان کے ساتھ ہیں
09:18لیکن ٹرسٹ ان پہ نہیں ہے
09:20ٹرسٹ کس پہ ہے؟
09:21محمد رسول اللہ پہ
09:25ابو جہل کے ساتھ بیٹھیں
09:27اس کے ساتھ کھائیں پیئیں
09:28ٹھٹھا مزاگ
09:29وہاں بیٹھ کر کریں
09:31پارٹی اس کی ہو
09:33رشتہ دار اس کے ہو
09:36اس کے خیالات کو
09:38فالو کرنے والے ہو
09:39لیکن جب امانتے رکھنے کے لیے آئیں
09:41تو وہ محمد رسول اللہ کی بارگاہ میں آئیں
09:46جب امانتے رکھیں
09:47تو حضور کے پاس آئیں
09:49اور کیا کہے؟
09:51کہ کبھی ہم نے آپ کو جھوٹا نہیں دیکھا
09:54آپ صادق بھی ہیں
09:55امین بھی ہیں
09:56ابو لہب جیسا بدبخت یہ کہنے پر مجبور ہو جائے
10:00کہ گو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
10:03مخالفت رکھتا ہوں
10:04عداوت رکھتا ہوں
10:06ان کی بات نہیں مانتا
10:07لیکن اس جیسے انسان کوئی نہیں
10:12یہ ہے معاشرتی
10:15حقوق
10:18ہم موجزات سنتے ہیں
10:20موجزات پڑھتے ہیں
10:21کوئی شکنی اللہ کے نبی کا مقام ہے
10:24ہم تئیس سالہ حیات نبوت کا ذکر کرتے ہیں
10:28لیکن کیا اعلان نبوت سے قبل جو چالیس سالہ
10:32حیات رسول ہے
10:34کیا نبی پانسل صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نبی نہیں ہے
10:39تو کوئی بھی اس بات کے نکار نہیں کر سکتا
10:42کیونکہ حضور تو عزل سے نبی ہیں
10:45اب اگر وہ چالیس سالہ حیات تیبہ کو ہم دیکھیں
10:50نبوت کا اعلان کرنے سے قبل
10:53جو حیات مصطفیٰ کا نور ہے وہ کیا ہے
10:56تو وہ صداقت ہے
10:58وہ وعدوں کی پاسداری ہے
11:00وہ امانتداری ہے
11:02وہ دیانتداری ہے
11:04وہ حضور علیہ السلام کا
11:06حسن معاشرت ہے
11:08لوگوں کے ساتھ اچھا رہن سہن ہے
11:11لوگوں کے ساتھ اچھا کلام ہے
11:13اور اس وقت مسلمان تو نہیں ہے
11:16کفار کے ساتھ میرے نبی کا
11:18رہن سہن ایسا ہے
11:20ہم حلقے سے کہے دیں
11:21چھوڑیں جی اس بندے کو چھوڑیں
11:22یہ کوئی بندہ ہے
11:25چھوڑیں جی اس کو بھی چھوڑیں
11:26یہ کوئی بندہ ہے
11:28میں نے اس کے ساتھ بات کی تھی
11:30اس کے بعد دیکھی کیا بات ہے
11:34اللہ کے نبی نے تو
11:35کافروں کے ساتھ وعدہ کر کے
11:37نبایا ہے
11:39اللہ کے نبی نے تو
11:40کافروں کی امانتوں
11:41کس حال میں سنبھالا
11:43کہ ہم
11:44آج اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے
11:47لوگ ہمارے پاس آتے ہیں
11:49یہ سوال لے کر بھی آتے ہیں
11:50یہ باتیں بھی پوچھتے ہیں
11:52دعا کے لیے بھی آتے ہیں
11:54کہ اگر کسی نے
11:55علاقہ چھوڑنا ہو
11:56شہر چھوڑنا ہو
11:57ملک چھوڑنا ہو
12:00تو وہ کیا کرتا ہے
12:01کہ اگر لوگوں کے ساتھ اس کا کوئی لیندین ہے
12:03تو کسی کو بتاتا ہی نہیں
12:06ملک چھوڑ دیتا ہے
12:09علاقہ چھوڑ دیتا ہے
12:11شہر چھوڑ دیتا ہے
12:13اور اکثر اوقات
12:14ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے
12:15کہ اگر کوئی کہیں جانے کا ارادہ رکھتا ہو
12:18تو پھر وہ کیا کرتا ہے
12:19پچاس ہزار اس سے لیتا ہے
12:21لاکھ اس سے لیتا ہے
12:22دو لاکھ اس سے لیتا ہے
12:24بڑا اعتماد بناتا ہے
12:25چونکہ اس معاشرے کا عصہ ہوتا ہے
12:27وہاں رہ رہا ہوتا ہے
12:29سب سے اکٹھا کرتا ہے
12:30اور پھر وہ ملک بدر ہو جاتا ہے
12:33وہ علاقہ چھوڑ دیتا ہے
12:35تار کے وطن ہو جاتا ہے
12:38لیکن آپ اندازہ فرمائیں
12:40کہ رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم
12:42کے جس ذات کے لیے
12:44مکہ تل مکرمہ کی گلیوں میں
12:46چلنا پھرنا تنگ کر دیا گیا ہو
12:49جس کا وہاں رہنا محال کر دیا گیا ہو
12:53ان حالات میں
12:54کہ جب رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم
12:56مکہ تل مکرمہ کو چھوڑ کر
12:58یسرب کو قدم بوسی کا شرف بخشنے کے لیے
13:01اور مدینہ تل نور بنانے کے لیے
13:04تشریف لے جا رہے ہوں
13:06تو ان حالات میں رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم
13:10بڑے بڑے ہم نے لوگ دیکھے
13:11کہ جو ان حالات میں
13:14پائی پائی اکٹھی کر کے بھاگتے ہیں
13:17لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:20کا اسوہ یہ ہے
13:22کہ فرمایے علی
13:23اس بستر پر آرام فرماؤ
13:26لیٹ جاؤ
13:27اور یہ فلاں فلاں کی امانتیں ہیں
13:30صبح ان کو لٹا کر
13:32واپس کر کے پھر مدینہ تیب آ جانا
13:37اندازہ فرمائیں
13:38کبھی ہم
13:40اسوہِ حسنہ کے ان پہلوں پہ بھی گور کریں
13:44کبھی ہم سرکارِ دوالوں صلی اللہ علیہ وسلم کی
13:46حیاتِ طیبہ کے
13:48ان مقدس
13:52پیغامات کو بھی
13:54اپنے دلوں میں جانگزی کریں
13:57اور کلمہ پڑھ لینے کے ساتھ ساتھ
14:00نبی پانچ صلی اللہ علیہ وسلم کی
14:01سنتوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ
14:05جہاں ہم یہ تو بتاتے ہیں
14:06کہ لباس فلاں پہنو
14:08امامہ شریف فلاں ہو
14:10نبی کے موجزات یہ ہیں
14:12مسواک یوں کی جائے
14:14تو وہاں
14:16حضور کی ان سنتوں
14:17اور ان موجزات کے ساتھ ساتھ
14:21ہم یہ بھی پیش کرنا چاہیں
14:22عوام تک کریں
14:24اور ناظرین کو یہ بات بتائیں
14:27اور یہ بات ہمارے گروں
14:30کا حصہ بن جائے
14:33چھوٹے نوملود بچوں سے لے کر بڑوں تک
14:35اور جب بڑوں کے عمل میں یہ بات ہوگی
14:38تو چھوٹوں میں آٹومائٹیکل ہی آ جائے گی
14:42کہ ہم نبی کریم علیہ السلام کی
14:44سیرتِ طیبہ کے ان پہلوں کو بھی
14:49اپنی زندگی میں شامل کریں
14:50حضرت خطیجہ تلکبرہ رضی اللہ تعالیٰ انہا
14:54جب حضور علیہ السلام نے آگر فرمایا
14:57زملونی زملونی
14:59تو سیدہ خطیجہ تلکبرہ نے
15:02حضور کی دھارس ودانے کے لیے
15:05کس طریقے سے ارزکنا ہوئی ہیں
15:08کہ آپ غریبوں کے
15:12ملجاو مابا ہیں
15:15دکھیوں کے دکھ سنتے ہیں
15:18لوگوں کے ساتھ وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں
15:22یعنی اس وقت حسنِ معاشرت کے جو آداب
15:25حضور علیہ السلام کی حیاتِ انور میں شامل تھے
15:28ان کو بیان کیا گیا
15:31تو ہی اس بات سے سمجھ آئی
15:32کہ یہ چیزیں اللہ کے نبی کو پسند ہیں
15:35اور وہی اللہ کو پسند ہیں
15:38اور وہی کے آغاز کے ساتھ ہی
15:40ان چیزوں کا ذکر کیا گیا
15:43تو یقیناً وہ چیزیں
15:45حضور علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ میں
15:48وہ موجود تھیں
15:49حضور کی زندگی کا حصہ تھیں
15:51تو سیدہ خطیجہ تلکبرہ نے بیان فرمائی
15:54تو ناظرینِ کرام
15:56اس طرح وعدہ خلافی جو ہے
15:59ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بری ہوئی ہے
16:02ہاں وہ نے اس سے جان چھوڑانی ہے
16:04اور یہ بڑا
16:07یوں کہہ لیجئے
16:08کہ ایک ایسا زہرِ قاتل ہے
16:11جو ہمارے زبانوں میں
16:13ہمارے جسموں میں سرائط کر چکا ہے
16:15اور ہر کوئی عشق کی طرف
16:18مائل رہتا ہے
16:19اسلام کی اخلاقی فتح
16:22اور لوگوں کے دلوں کا فتح ہو جانا
16:24یہی افائی اہد کا کمال ہے
16:28اور وہ تلوار کے بغیر بھی دل جیت لیتا ہے
16:32افائی اہد
16:33تلواروں کے بغیر بھی دل جیت لیتا ہے
16:37لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لیتا ہے
16:39آئیے ناظرین کرام
16:41وعدہ نبانے والا انسان جو ہوتا ہے
16:44وہ اندرونی سکون محسوس کرتا ہے
16:47وہ خود اعتمادی اس میں ہوتی ہے
16:50اور خود اعتمادی اس کو مضبوط بناتی ہے
16:53اس کا ضمیر مطمئن رہتا ہے
16:56اور وہ علاقے میں معاشرے میں سماج میں
16:59قابل اعتماد بن جاتا ہے
17:01یہی وجہ ہے
17:02کہ ایفائی اہد انسان کے اندر
17:05سیلف ریسپیکٹ
17:06اور
17:07جو ہے انر پیس پیدا کرتی ہے
17:11اور وعدہ توڑنے والا
17:13ہر وقت
17:15احساس
17:16احساس جرم امتلا رہتا ہے
17:18سٹریس
17:19ڈپریشن
17:20ذینی دباؤ
17:22زمین
17:23مطمئن نہیں ہوتا
17:24ہر وقت کی پریشانی
17:26اس پر رہتی ہے
17:27اور آہستہ آہستہ
17:27لوگوں کا
17:28اعتماد اس سے اٹھ جاتا ہے
17:31ناظرین
17:32نفسیات کہتی ہے
17:33آج کی
17:35کہ جو شخص بار بار وعدہ توڑتا ہے
17:37وہ لا شعوری طور پر
17:39خود کو کم تر سمجھنے لگتا ہے
17:42خود سے ہی
17:43بھئی جس کے ساتھ وعدہ کرتے ہو
17:45اگر پورا نہیں کرتے ہو
17:46اس کے سامنے آتے ہو
17:47تو شرمندگی
17:48تو وہ اس کے اندر احساس
17:50سے کم تری شکار ہو جاتے ہیں
17:51اور احفائے احد جو ہے
17:54اس کے انسان پر
17:55نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں
17:58ذنی استحکام
18:00شخصیت میں
18:01ٹھیراؤ
18:02اعتماد اور اعتبار
18:04رشتوں میں مضبوطی
18:06خوف خدا
18:07اور احساس جواب دہی
18:10یہی وجہ ہے
18:11کہ وعدہ پورا کرنے والا شخص
18:13تنہائی میں بھی مضبوط ہوتا ہے
18:16چونکہ اسے معلوم ہے
18:17کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ کر رہا ہوں
18:21اللہ کے ساتھ بھی میرے معاملات
18:24بھئی خود انسان کے دل جو ہے
18:26یہ بہت بڑا مفتی ہے
18:28یہ ہر روز انسان کو جنجوڑتا ہے
18:31لیکن ہم اس کی سمجھتے نہیں
18:35آپ کو اپنے سکالر کا
18:37اپنے خطیب کا
18:38اپنے مقرر کا
18:40اپنے صاحب کا
18:41اپنے شیخ کا
18:42استاد کا
18:43کبھی نہ کبھی
18:43باتیں سنی ہوئی بھول سکتے ہیں
18:45لیکن یہ جو مفتی ہمارے اندر ہے
18:48نہ دل
18:48یہ ہر وقت ہمیں جنجوڑتا ہے
18:50اور کہتا ہے کہ ایسا نہ مت کرو
18:52یہ تم غلط کر رہے ہو
18:54تو اس لئے ناظرین کرام
18:56قوموں کی بقا ناروں سے نہیں
18:58وعدوں کی وفاں سے ہوتی ہے
19:00اللہ ہمیں
19:02وہ لوگ نہ بنائے جو
19:03زبان سے وعدہ کریں
19:05اور عمل سے انکار کریں
19:06بلکہ ہمیں وہ انسان بنائے
19:08جن کے وعدے
19:09ان کی پہچان ہوں
19:10سوال اٹھتا ہے
19:11کیا ہر وعدہ شرح لازم ہے
19:13ہر جواب اس کا یہ ہے
19:15ہر وہ وعدہ
19:16جو ظلم
19:17گناہ
19:18یا ناجائز کام پر مبنی نہ ہو
19:20اسے پورا کرنا
19:22شرح لازم
19:23اور اخلاقا فرض ہے
19:24تو اس لئے
19:25یہ ناظرین کرام
19:26ہم افائی آہد کی
19:28پبندی کریں
19:29اپنے وعدوں کی پاسداری کریں
19:31اللہ تبارک و تعالی
19:32اور پھر ہم اپنے
19:33رب سے بھی وعدہ کریں
19:34توبہ کا
19:35رب سے بھی وعدہ کریں
19:37کہ ہم کسی کا برا نہیں چاہیں گے
19:39اور پھر اس وعدے پر
19:40کاربند رہیں
19:41اللہ تعالی ہم سب کو
19:42عمل خیر کی
19:43توفیق عطا فرمائے
19:44انشاءاللہ تعالی
19:45کل ایک نئے موضوع کے ساتھ
19:47آپ کے ساتھ ملاقات ہوگی
19:48تب تک کے لئے
19:49اجازت دیجئے
19:51اللہ حافظ
19:51دہمتوں کا مہینہ
19:56عظمتوں کا سلطینہ
19:58زندگی کا قرینہ
20:01روح مکہ مدینہ
20:04آدمی کو بناتا ہے
20:07یہ انسان
20:10دہمتوں کا مہینہ
20:13عظمتوں کا سلطینہ
20:15زندگی کا قرینہ
20:18روح مکہ مدینہ
20:21آدمی کو بناتا ہے
20:24یہ انسان
20:28شانِ رمضان
20:39ہے مومنوں کے دل کا
20:42اجانا شانِ رمضان
20:45ہے مومنوں کے دل کا
20:47اجانا شانِ رمضان
Comments