Skip to playerSkip to main content
Ilm o Ulama | Rehmat e Sehr - Topic: Internet Aur Social Media

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Raees Ahmed

Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Muhammad Akmal, Mufti Khurram Iqbal Rehmani

Sana Khuwan: Muhammad Saqlain Rasheed, Daniyal Sheikh, Anas Kareemi

#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00ڈیوکا سفینہ زندگی کا قرینہ روح مکہ مدینہ آدمی کو بناتا ہے یہ انسان
00:16جی ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے علم و علماء کی محفل سجی ہوئی ہے
00:20اور یہی وہ پلیٹ فارم ہے کہ جہاں سے لوگوں کی رہنمائی ہوتی ہے
00:24اور اخلاق و کردار کو سمارنے کے لیے بہت ہی قیمتی کلمات اب تک پہنچائے جاتے ہیں
00:31اور بہت متنوے موضوعات جو ہیں الحمدللہ علم و علماء کا حصہ ہوا کرتے ہیں
00:36اور آج کے دور میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ جو سب سے زیادہ انفلوینس نظر آتا ہے
00:42ہر عمر کے افراد پر وہ سوشل میڈیا کا انفلوینس ہے
00:46انٹرنیٹ کا انٹرنیٹ ایک ایسی چیز ہے جس نے پہلے انسان کنیکٹ ہوتا ہے
00:53اور پھر اس انٹرنیٹ کے زیر اثر آ جاتا ہے
00:56تو ظاہر ہے جب یہ چیز ہوتی ہے تو پھر اس میں عمر کر رہے ہیں
00:59اسی سال کا فرد بھی وہی کام کر رہا ہے
01:01اور آٹھ سال کا بچہ بھی موبائل لے کر اپنے گیمز کھیل رہا ہے
01:05تو اس کا اتنا زیادہ انفلوینس ہے اتنا زیادہ اثر یہ رکھتا ہے
01:10کہ ہر عمر کے افراد اس میں موجود نظر آتے ہیں
01:13بہرحال یہ سوال ہمیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے
01:16کہ آیا ہم جو سوشل میڈیا انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں
01:19وہ ایڈیوکیشن پرپس کے لیے استعمال کر رہے ہیں
01:21کچھ سیکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
01:23کچھ ارن کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
01:25کچھ کریوٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں
01:28یا اپنی سکلز کو انہینس کرنے کے لیے کر رہے ہیں
01:30کیا مقصد کیا ہے
01:31کسی نے کسی چیز کا کوئی نہ کوئی ہمارے کام کا مقصد ہونا چاہیے
01:35لیکن آج ہم یہ دیکھتے ہیں
01:36It is that people who had time to sit down, who would be seated, who had time to sit down.
01:40Today, we see that two of us, four, ten, twenty,
01:43all of us, all of us, all of them, we have the mobile phone to sit down.
01:45There is no power to sit down.
01:47It is a real deal that we do have to do with this.
01:50The thing is that everything is important,
01:54the things that we all are the same.
01:56This is something that we think about ourselves,
01:58and we really think about ourselves.
02:02It's a single person.
02:02This is a social media and internet.
02:02ڈیرنیٹ کا مصبت اور منفی استعمالی سوالے سے بات کریں گے
02:06استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی محمد اکمل مدنی صاحب
02:10ہمارے پہلے مہمانے تشریف فرمائے
02:12السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:13وآلیکم السلام ورحمت اللہ
02:15اور آپ کے ساتھ تشریف فرمائے ممتاز معروف علم الدین
02:17حضرت علامہ لیاقت حسین
02:19عزری صاحب تشریف فرمائے
02:20آپ بھی ما شاء اللہ بہت وقتی متعلق رکھتے ہیں
02:23اور بہت امتا کلام فرماتے ہیں
02:32اچھے انداز میں
02:33اپنے بیانات فرماتے ہیں
02:35السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:36علیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:38اور میرے بائیں جانب سقلین رشید موجود ہے
02:40دانیال شیخ ہے سید انس کریمی موجود ہے
02:43تینوں کا
02:43السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:46انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت
02:48اس پر میں چاہتا ہوں
02:50مفتی صاحب پہلے کچھ کلام فرمائے گا
02:51اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
02:54بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:55چونکہ آپ نے لفظ اہمیت استعمال کیا ہے
02:58تو اس کے پوزیٹف جو
03:00اثرات ہیں
03:01یا نتائج ہیں
03:02یا جو فوائد قوم کو حاصل ہو رہے ہیں
03:05انہوں پر گفتگو کرنی چاہیے
03:07دیکھیں پہلے
03:08ایک کام کے لیے آدمی نکلتا تھا
03:10تو پھر اس کو وقت بھی نکالنا پڑتا تھا
03:13سرمایہ خرچ کرنا پڑتا تھا
03:15بعض اوقت اپنے معافی ضمیر کو دوسرے تک پہنچانے کے لیے
03:18یا قاسدین ہوا کرتے تھے
03:20جو کئی کئی ماہ میں کہیں جا کر
03:21وہ کسی کو اطلاع دیتے تھے
03:23وہ خط وغیرہ لے کر جاتے تھے
03:25انٹرنیٹ ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے
03:27اس کی وجہ سے پورا ورلڈ ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے
03:29اور بہت آسانی کے ساتھ
03:31ہماری کمیونکیشن جو ہے وہ بہت ہی
03:34ایزی ہو گئی ہے
03:35اور اب آدمی کم وقت میں
03:37اگر کوئی پیغام کسی رشتہ دار کو دینا ہے
03:39تو بہت آسانی سے دے لیتا ہے
03:40اگرچہ اس میں رسوم اور آواج کو بھی ختم کر دیا
03:43پہلے لوگ جا کے انوائٹ کرتے تھے
03:45آج شادی کارڈ ویسی بھیج دیتے ہیں
03:46کہ یہ ورسے پہ دیکھ لینا
03:49اور آ جانا
03:49لیکن بہرحال اس سے وقت کافی بچا ہے
03:52اور سرمایہ بھی بچا ہے
03:54اسی طریقے سے پورے ورلڈ میں
03:55اگر کوئی کانفرنس ہونی ہے
03:57کوئی میٹنگ ہونی ہے
03:58ایزی وے میں آپ آن لائن لے کر سب کو کر سکتے ہیں
04:02اور یہ جو بعض اوقات شرعی لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں
04:05کہ کسی مسئلے پر علماء کا اجماع درکار ہوتا ہے
04:08تاکہ ایک رائے متفقن علیہ
04:10رائے پبلک کے سامنے پیش کی جائے
04:12اس کے لئے بہترین ذریعہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہو چکا ہے
04:15کہ آدھے بہت آسانی سے ایک رائے کرتا ہے
04:18یا وی لوگ ڈالتا ہے
04:19لوگ اس پر کمنٹس دیتے ہیں
04:20یا علماء کمنٹس دیتے ہیں
04:21ایک اجماع کی صورت بن سکتی ہے
04:23اور یا آن لائن لینے کے بعد اپنے رائے دیتے ہیں
04:26اور اس کے بعد کسی بہتر نتیجے تک انسان پہنچ سکتا ہے
04:29اس کے علاوہ ٹریڈنگ دیکھیں
04:30کہ سرمایہ
04:33پیسہ کمانا یہ بہت آسان ہو گیا ہے
04:35کہ انٹرنیٹ پر
04:36آپ کسی بھی ورلڈ کی کمپنی سے
04:38کوئی بھی مالی معاملہ کر سکتے ہیں
04:40بینک کے ثروعہ آپ فوراں پیسہ بھیجتے ہیں
04:42یا آن لائن بھیجتے ہیں
04:43اور فوراں آپ کا وہ معاملہ حل ہو جاتا ہے
04:45اسی طریقے سے دینی اگر ہم اعتبار سے دیکھیں
04:48تو اب دین کا کام
04:50سوشل میڈیا پر بہت آسان ہو چکا ہے
04:52کہ پہلے ایک بات جیسے
04:54ہمارے علماء میں تو حیران ہوتا ہوں
04:55کہ جیسے امام بخاری نے کتابیں لکھی
04:57امام آزم نے لکھی
04:58اس زمانے میں کیسے یہ کتابیں پورے ورلڈ میں پہنچیں
05:02کلمی نسخے ہوا کرتے تھے
05:04اور سینہ بسینہ
05:05پھر بھی فیض پہنچا
05:07اور اب تو اتنا آسان ہو گیا ہے
05:08کہ آپ ایک اچھی چیز تیار کر کے
05:10اگر ویلوگ بنا کر
05:11آپ سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں
05:13تو ایک ہی وقت میں لاکھوں لوگ
05:14اس سے استفادہ کر سکتے ہیں
05:16تو یہ بہت ہی پوزیٹیف چیزیں ہیں
05:18اس کو دیکھنا چاہیے
05:20کہ آدمی کس طریقے سے
05:21اس کو مصبت استعمال کر سکتا ہے
05:24جو بھی اس کا مصبت استعمال
05:26جیسے سٹڈی کا آپ نے لفظ کہا
05:27کہ کتنا آسان ہو گیا ہے
05:29کہ پہلے بڑی بڑی لائبریری
05:31یعنی بکھ خریدنے کے لیے
05:32ہم لوگ اپنے زمانے میں
05:33یہ تو خریدتے تھے
05:34یہ لائبریری سے
05:34کرائے کے اوپر لیتے تھے
05:35یا کسی کے منتیں کرتے تھے
05:37دیکھا دے دینا
05:38دو چار دن کے لیے
05:39اس میں بھی نخرے دکھاتا تھا
05:40اب آپ دیکھیں
05:41پوری پوری لائبریریز موجود ہیں
05:42پوری لائبریریز موجود ہیں
05:44اور اب تو یہ بچوں نے
05:45ایک کام اور کر لیا ہے
05:46کہ یہ جتنے مقالہ جات تیار کرتے ہیں
05:48وہ اے آئی کو کہتے ہیں
05:49کہ خدمت کے لیے تشریف لے آئے
05:51پھر مقالہ تیار کر دیں
05:52وہ مقالہ بھی
05:53تیار ہو جاتا ہے
05:54تیسس تیار کر رہے ہیں
05:55بہت
05:55مطلب یہ کہ
05:56ایزی ہو گیا
05:57اگرچہ یہ تو نیکٹیو وے میں جاتا بھی
05:58آپ خود تیار کریں
05:59لیکن بہرحال
06:00اس نے بہت آسان کر دیا
06:01تو تعلیم تعلم
06:03سیکھنا سکھانا
06:05ارننگ کرنا
06:05کسی کو فائدہ پہنچانا
06:07یہ بہت ہی پوزیٹیو وے ہیں
06:09پوزیٹیو چیزیں ہیں
06:10کہ جو ہمیں سوشل میڈیا
06:11اور اس سے حاصل ہو رہی ہیں
06:13بس ضرورت اس بات کی ہے
06:14کہ اس کو مصبتی استعمال کیا جائے
06:16تو انشاءاللہ بڑی برکت ہے
06:17مفتی صاحب نے بڑے مصبت پہلو
06:19اور یقیناً ہیں
06:20وہ سب ہیں
06:21جس کے حوالے سے مفتی صاحب نے
06:22رانوائی فرمائی
06:23اور اس میں کوئی شک نہیں
06:24کہ اس کے مصبت پہلو
06:26اگر ہم دیکھیں
06:26تو وہ بھی بہت زیادہ ہے
06:28اگر اس کو پوزیٹیوی یوز کیا جائے
06:30یہاں پر یہ
06:31صورت جیسے آخری
06:32آپ نے جملہ ارشاد فرمایا
06:33اب ہم یہ جاننا چاہیں گے
06:35اللہ علیہ وسلم نظری صاحب سے
06:36کہ یہ جو سوشل میڈیا ہے
06:37انٹرنیٹ ہے
06:38یہ ساری چیزیں ہیں
06:39ہمارے لئے رحمت ہیں
06:41یہ زہمت کی صورت رکھتی ہیں
06:43کیا کہیے گا اس حوالے سے
06:44اللہ علیہ وسلم صاحب
06:45یہ بڑی ہمارے لئے ایک
06:48کہتے سنائے کے لوگوں کو
06:50کہ یہ زہمت ہے
06:51لانت ہے
06:51کیا کچھ کہا جاتا ہے
06:52سوال اس کیا کہیے
06:53جی بسم اللہ الرحمن الرحیم
06:56جیسے کہ بلا مفتی صاحب نے
06:58اس کی اہمیت پر
06:59افادیت پر
07:00اور اس کے جو مصبت پہلو ہیں
07:01اس پر بڑے واضح طور پر
07:03روشنی ڈالی ہے
07:05دیکھیں بنیادی طور پر
07:06رئیس بھائی
07:07یہ ایک عالی ہے
07:08ایک ٹول ہے
07:10جیسے بازار سے آپ
07:11ایک چھوری خریدتے ہیں
07:13اور اس چھوری سے
07:14آپ سبزی کارتے ہیں
07:15پیاس کارتے ہیں
07:16اپنے لئے کھانا تیار کرتے ہیں
07:18یا پھر آپ کسی کے پیٹے میں مار دیں
07:20اس کو
07:20اب چھوری تو چھوری
07:22بندوق ہے
07:23بازار کے اندر ملتی ہیں
07:24آپ اس سے سرد کی حفاظت کرتے ہیں
07:26ملک کی حفاظت کرتے ہیں
07:27یا کسی کا مال چھوری کرتے ہیں
07:29اسی طرح سوشل میڈیا بھی
07:31ایک ٹول ہے
07:32اب اصل ہے
07:33اس کا استعمال
07:34اس کو استعمال کیسے کیا جائے
07:36جہاں وہ ایک بہت
07:38ایک وقت ہوتا تھا
07:40کہ اخبار کے اندر
07:41خبر لگوانے کے لیے
07:42اخبار والوں کے پیچھے پیچھے گھومتے تھے
07:44یہ ان کی منتیں کرنے میں
07:45ان کو
07:45توفہ تاہیب دیتے تھے
07:47مارا ایک دوست تھے
07:48ان کی وہ
07:48ڈگی والی وہ تھی
07:49پٹ پٹی گاڑی تھی
07:50اس کے دور چپسے رکھی ہوتی تھی
07:52خبر بھی دیتے تھے
07:53سب چیز چپسے بھی دے رہے ہوتے تھے
07:55ان کو
07:55یار خبر لگا دینا بھائی
07:56خبر لگا دینا
07:57تو اب ہر ایک
07:58کہ اپنا اخبار ہو گیا ہے
07:59اپنا ٹی وی ہو گیا
08:00اپنا ٹی وی
08:01اپنے اخبار
08:02اپنا ٹی وی لگائیں
08:03آپ خبر
08:03اور جیسے
08:04مسلم نے کہا کے
08:05خودی ایڈیٹر خودی
08:06اور ترخارے سال
08:07خودی آپ چلے گے
08:09تو جہاں
08:09اس کا پہلو
08:10اس اعتبار سے بہت ہے
08:11کہ لوگوں تک
08:13رسائیہ آسان ہو گئی
08:14اور دوسرا یہ ہے
08:15کہ نئے لوگ
08:15ابر کے آئے
08:16جو شپے ہوئے تھے
08:17بڑا مشکل ہوتا تھا
08:18ٹی وی پر جانا
08:19اخبارات کے اندر
08:20خبریں لگوانا
08:21لیکن وہ ایک
08:22نیا ٹیلنٹ
08:23اور بچے جو ہے
08:24وہ ابر کے بار آئے
08:26منفی اس کا یہ ہے
08:27کہ ہمارے بچوں نے
08:28اس کو اتنا زیادہ
08:29استعمال کرنا شروع کر دیا
08:30کہ یہ ایک نشے کی طرح
08:32لطھ بن گیا
08:33جیسے ایک ایڈکٹڈ ہوتے ہیں
08:35اس طرح جو ہے
08:36نشہ بن گیا ہے
08:37صبح اٹھتے ہیں
08:38تو سب سے پہلے
08:39موبائل پر ہاتھ پڑتا ہے
08:41رات کو سوتے ہیں
08:42تو سب سے آخر کے اندر
08:43جو ہے وہ
08:44موبائل کو رکھ کے سوتے ہیں
08:46نارمل طور پر جو
08:48ایک ایوریج
08:49روزانہ کی بنیاد پر
08:50تقریباً چھے سے سات
08:51گھنٹے جو ہے
08:52وہ اس سوشل میڈیا
08:54کے اوپر گزر رہے ہیں
08:55اور جو ہماری یہ جنزی ہے
08:57یہ جنریشن ہے
08:58اس کے تو نونو دس دس
09:00گھنٹے جو ہے
09:01گزر رہے ہیں
09:02اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے
09:03کہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں
09:05انزائیٹی ہو رہی ہیں
09:06ان کے نگاہیں نظر کمز ہو رہی ہیں
09:07نید نہ پوری ہونے کی وجہ سے
09:09چونکہ رات کو زیادہ یوز کرتے ہیں
09:11تو رات اللہ نے سونے کے لیے
09:13بنائی گی فطری طور پر
09:14اس کی وجہ سے
09:15بہت خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں
09:17دوسرا یہ ہے
09:17کہ اس کو تعلیم و تعلیم کے لیے ہے
09:20اور سائنس کے لیے
09:21اور دوسری چیزوں کے لیے
09:22استعمال کرنے کے بجائے
09:24آپ دیکھیں
09:25کہ منفی چیزیں
09:26زیادہ استعمال ہو رہی ہیں
09:27اور اس کی جو ریٹنگ ہے
09:29اور اس کی جو شیرنگ کا گراف ہے
09:31بہت زیادہ ہے
09:31بہت زیادہ اوپر ہے
09:33آپ کوئی مثال کے طور پر
09:35چیز دالیں
09:35کوئی دینی چیز دالیں
09:36اور اسی طرح
09:38آپ کوئی ڈانس کی ڈالیں
09:39فنی چیز ڈالیں
09:41فلان ڈالیں
09:41آپ دیکھیں وہ یوں جائے گی اوپر
09:43اس کا مطلب ہے
09:44کہ ہماری قوم جو ہے
09:45وہ زیادہ
09:46اس کو یہ استعمال کر رہی ہے
09:47منفی طور پر استعمال کر رہی ہے
09:49تو اس کے مصبت اور منفی
09:51دونوں پہلو ہیں
09:52بلکل
09:52لیکن
09:53میں سمجھتا ہوں
09:54کہ بچوں کو
09:55اویرنس دینی چاہیے
09:56اچھا
09:56چھوٹے بچوں کے حوالے سے
09:58کوئی ہمارے ہاں
09:59قانون نہیں ہے
09:59ذابطہ نہیں ہے
10:00اب مغرب کے کچھ ممالک
10:02نے باقاعدہ طور پر
10:02لاو بنانا شروع کیا ہے
10:04کہ جو چھوٹے بچے ہیں
10:05چھوٹی ایج کے
10:06ان کا کوئی ٹائم فریم
10:07بنایا جائے
10:08کہ بھئی گھنٹا
10:09آدھا گھنٹا
10:10استعمال کر سکتے
10:11اس سے زیادہ نہیں کریں گے
10:12ہمارے ہاں تو
10:13بچوں کے ہاتھوں میں
10:13موبائل ہے
10:14استعمال کرتے جا رہے ہیں
10:16سنیپ شیٹ پہ لگے ہوئے
10:17اور ٹک ٹاک پہ لگے ہوئے
10:19ان کو بلکل
10:20اور یہ آپ نے بڑی
10:22خطرناک قسم کی منظر کشی کی
10:23کہ آپ عید پر کسی کیا جاتے
10:26رشتداروں کیا
10:27سب بیٹھے ہوئے کمرے کے اندر
10:28دس بندے
10:29ہر بندہ اپنے
10:30اپنے موبائل میں بیٹھا ہوا ہے
10:32سب پہ لگے ہوئے
10:32اپنے اپنے
10:34یہی عید ہو رہی ہے
10:35یہی ملاقات ہے
10:35یہی عید ہے
10:36یہ سب کو
10:36سب نے اپنے اپنے دکانے کھولی ہوئے
10:38یا اپنے اپنے دندوں پہ لگے ہوئے
10:39کون بھئی
10:40کون خاندان
10:41کون کزن
10:41کون خالہ
10:42کون مامو
10:43کچھ نہیں
10:43اس کی وجہ سے یہ خاندانی ساری
10:45کی ساری چیزیں ختم ہو کر
10:46تو اس کو اگر
10:48مصبت طریقے سے استعمال کیا جائے
10:50ایک لیمیٹیشن کے ساتھ
10:51استعمال کیا جائے
10:52حدود و خیوت کے ساتھ
10:53استعمال کیا جائے
10:54تو یہ ایک بڑی فائدہ مند چیز
10:56اس زمانے کے اندر ہے
10:57بہت زیادہ
10:58اس کی ذریعے پوری دنیا کو جو ہے
11:00ایک ملا دیا
11:01اور پوری دنیا کا سسٹم آگیا ہے
11:03ورنہ پہلے انسان
11:04تصور و گمان بھی نہیں کا سکتا ہے
11:06ضرورت اس بات کی ہے
11:07کہ اس کو لیمیٹیشن کے ساتھ
11:08استعمال کیا جائے
11:09بہت اچھی بات
11:09اس کی لیمیٹیشن پر بھی بات کریں گے
11:11اور جیسے کہ اللہمہ صاحب نے فرمایا
11:12ایسے ہی میں نے بھی
11:13ایک سروے اور ایک
11:14انیلیٹ ایلیٹیل رپورٹ پڑی
11:16تجزیاتی رپورٹ
11:17جس میں یہ تھا
11:18کہ جو غیر اخلاقی ویڈیوز ہیں
11:19وہ پاکستان میں بہت زیادہ
11:21دیکھی جاری ہیں
11:22اور اس کی شارہ بہت زیادہ ہے
11:23تو یہ بھی ایک لمحہ فکر ہی ہے
11:25ہمارے لیے
11:26کہ آیا ہماری جنریشن
11:27کس طرف جاری ہے
11:28جنزی کا آپ نے حوالہ دیا
11:29تو ظاہر ہے وہ جنریشن
11:31اس نے تو دیکھا ہی انٹرنیٹ ہے
11:32اس نے تو وہ جیسے مفتی صاحب نے فرمایا
11:34کتابوں والی لیبریری تھا
11:35تو انہیں اندازہ ہی نہیں ہے
11:37کہ کتابوں والی لیبریری
11:38کتب ہوتی تھی جس میں
11:40لیبریریز اس کے سیکشن بنے ہوتے تھے
11:41الگ الگ
11:42ایسی بھی کوئی چیز
11:43اس دنیا میں رہی ہوگی
11:44چونکہ اب ان کے ہاتھ میں انٹرنیٹ ہے
11:45اور وہ جہاں چاہے
11:46اس کو فنگر ٹپس پہ
11:48ساری دنیا ان کے پاس
11:49اچھا اس کی حدود
11:50اور قیود کے حوالے سے
11:51ہم بات کریں
11:51لیمیٹیشنز کی
11:52اللہم صاحب نے بات کی
11:53تو انٹرنیٹ
11:54سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے
11:56اس کی حدود اور قیود کے حوالے سے
11:58اسلامی ذابطہ جو ہے
11:59اس کے حوالے سے میں چاہوں گا
12:00رہنمائی فرمائیے
12:02بسم اللہ الرحمن الرحیم
12:03والصلاة والسلام
12:04وعلا رسول ہیلکریم
12:06اما بعد
12:07اس سے ہمارے قابلین
12:08نے بارہا یہ رشاد فرمایا
12:10کہ اس میں خیر اور شر
12:11دونوں کا پہلو موجود ہے
12:13مثبت اور منفی
12:14اصل چیز اس کا استعمال ہے
12:16کہ ہم کس طریقے تھے
12:16اس کو استعمال کر رہے ہیں
12:18اگر خیر کے پہلوں میں
12:19استعمال کر رہے ہیں
12:20تو اس کا استعمال کرنا
12:21یقیراً فائدہ مند ہے
12:22اور اگر شر کی طرف جا رہے ہیں
12:24تو اس کا استعمال کرنا
12:24یقیراً بے سود بھی ہوگا
12:26بلکہ نقصان کا سبب بنے گا
12:28ابھی جس طرح بچوں کی بات کر رہے تھے
12:31تو ابھی جو دیکھنے میں آ رہا ہے
12:32چھوٹے چھوٹے بچے
12:33جن کو بولنا بھی نہیں آتا
12:34وہ چھوٹے چھوٹے بچے
12:36ماں باپ نے موبائل فون پر لگائے ہوئے ہیں
12:37ویڈیوز لگا کر دے دی جاتی ہیں
12:39وہ کھانا بھی کھا رہے ہیں
12:40تو ویڈیوز دیکھ کر کھا رہے ہیں
12:41پانی پی رہے ہیں
12:42تو ویڈیوز دیکھ کر
12:43مطبع والدین نے
12:44اپنی ذمہ داری جو ہے
12:45وہ تربیت کی وہ چھوڑ دی ہے
12:47وہ بچوں کو حوالے کر دیئے
12:48موبائل فون کے
12:49یعنی جو تربیت ہو رہی ہے
12:51موبائل فون پر دیکھ کر ہو رہی ہے
12:52اب اس سے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں
12:55ایک تو اس کے اثرات کے اندر یہ
12:56کہ جو کچھ بچہ دیکھ رہا ہے
12:58لہا شعوری طور پر
12:59وہ ہی ساری جنہیں سیکھ رہا ہے
13:00نہ اس کے اندر عدب ہے
13:02نہ اس کے اندر تربیت ہے
13:03نہ اس کے اندر اخلاقیات ہیں
13:05بلکہ الٹا وہ
13:06ڈپریشن کے ساتھ ساتھ
13:07جو غصہ ہے
13:08چیخ نہ پکارنا ہے
13:09اسی طرح بڑوں کی نافرمانی ہے
13:11جو کچھ اس کے اندر دیکھا
13:12وہ سارا کا سارا
13:13وہ ایڈاپ کرتا چلا جا رہا ہے
13:14تو حدود و قیوت کے حوالے سے
13:16ہم بنیادی طور پر
13:17یہی سمجھ سکتے ہیں
13:18کہ سب سے پہلی چیز تو یہ ہے
13:19اس کا استعمال خیر کے
13:21کاموں میں کرنا چاہیے
13:22سب سے پہلی حد یہی ہے
13:23یعنی وہ خیر
13:25جو آپ کو
13:26دنیا کے بھی نقصانات سے بچائے
13:29پھر اس کے بعد
13:30دوسری چیز جو بڑی اہم ہے
13:31وہ یہ
13:33کہ شریعت نے
13:33اور دین نے
13:34ہمیں ایک بات کا
13:35پابند بنایا ہے
13:36کہ کوئی بھی کام ہم کرے نا
13:37اللہ سبحانہ و تعالیٰ
13:39دیکھ بھی رہا ہے
13:40اور سن بھی رہا ہے
13:41یعنی جو کچھ
13:42ہم سرفنگ کر رہے ہیں
13:44انٹرنیٹ کے اوپر
13:45یا ہم اپلوڈ کر رہے ہیں
13:46یا ہم مطالعہ کر رہے ہیں
13:48یا ہم دیکھ رہے ہیں
13:48جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں
13:49اپنے اس عمل سے
13:51پہلے کم سے کم
13:51اپنے تحیم ہی دیکھ لیں
13:52کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں
13:54اللہ سبحانہ و تعالیٰ
13:55اس سے باخبر ہے
13:56اللہ اس کو دیکھ بھی رہا ہے
13:57اور سن بھی رہا ہے
13:59تو میرے ہر ہر عمل
14:00جو ہے
14:01اللہ سبحانہ و تعالیٰ
14:02کی بارگاہ میں پیش ہو رہا ہے
14:03اگر یہ والی قیل
14:04ہم نے لگاتی
14:05تو ہمارا خود بخود
14:06جو استعمال ہے
14:07وہ شر کی طرف
14:07کم سے کم ہوتا چلا جائے گا
14:09اور خیر کی طرف
14:10بڑھتا چلا جائے گا
14:11تیسری چیز یہ ہے
14:12کہ شریعت ہمیں سکھاتی
14:13ہر کام میں اعتدال
14:15یعنی جو بھی کام ہم کر رہے ہیں
14:16اس میں اعتدال
14:17اختیار کرنا ضروری ہے
14:18اب انٹرنیٹ سرفی کے اندر
14:20سب سے ادھا کیا ہوتا ہے
14:21کہ وقت کا زیان
14:22یعنی جب وہ دیکھنا شروع کرتے ہیں
14:24تو اس کے کوئی حد ہی نہیں ہوتی
14:25حد نہیں ہوتی
14:26جب تک یا تو آنکھیں نہ تھک جائیں
14:27یا آپ نیند میں نہ چلے جائیں
14:29بائل فون آف نہ ہو جائے
14:29بائل فون آف نہ ہو جائے
14:31اس وقت اگر اس کو چھوڑنے کے لیے
14:32تیار ہی نہیں ہے
14:33ایسی صورت میں کیا ہوتا ہے
14:35کہ مال بھی ضائع ہو رہا ہے
14:37اور وقت بھی ضائع ہو رہا ہے
14:39اور یہ اتنی بڑی نعمت ہے
14:40اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے
14:42قرآن مجید میں رشاد چرمایا ہے
14:43کہ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيم
14:46اور نعمت کے بارے میں
14:47تم سے سوال کیا جائے گا
14:48تو یہ جو لمحات ہم ضائع کر رہے ہیں
14:50اس فضول کی سرفی کے اندر
14:52اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگرہ میں
14:54گرفت کا ہمیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
14:56پھر چوتھی چیز کے اندر یہ ہے
14:58کہ حدود و قیود کے اندر ہم دیکھیں
15:00کہ اپنی جو معلومات ہم شیئر کر رہے ہیں
15:03اس کا بھی ایک ذابطہ اخلاق ہونا چاہی
15:05کیا ہم نے شیئر کرنا ہے
15:06اور کیا چیز ہمیں شیئر نہیں کرنی ہے
15:08چونکہ اس کے اندر اگر آگے جا کر
15:10ہماری معلومات کے اندر کوئی خیانت کرتا ہے
15:12اور اس کو غلط انداز میں آگے پیش کرتا ہے
15:14تو ہمیں جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے
15:17مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے
15:18تو ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا جا ہے
15:21وہ اس کی حدود و قیود کو پابند کرتا ہے
15:23پھر پانچویں سطح پر ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے
15:25کہ گورنمنٹ نے بھی بقاعدہ اس کے لیے
15:28جو رولز ان ریگولیشنز بنایا ہوئے ہیں
15:29اس کو فالو کیا جائے
15:30پہلے تو یہ تھا کہ جو مینسٹری میڈیا ہے
15:33اس کو ادارے ریگولیٹ کیا کرتے تھے
15:35لیکن ہم سوشل میڈیا کے بھی آئیسے سے ریگولیٹ کیا جا رہا ہے
15:39تو جو ادارے اور جو ملکی قوانین ہیں
15:41اس کی پابندی کرنی چاہیے
15:42تاکہ اس کا مضبط اور بہترین استعمال معاشرے میں پروان چڑھے
15:46اور جو خیر کا پہلو ہے
15:48بس وہی سامنے رہے
15:48اور جو شر کا پہلو ہے
15:49اس سے اپنا آپ کو بچانے کی حدتہ امکان کوشش کی جا سکے
15:52بہت اچھی بات ہے
15:53اچھا شامل کریں گے کلام تینوں صناخہ موجود ہے
15:56میں گزارش کروں گا کہ کلام پیش کریں
16:23حسب ربی جل اللہ ما فی قلبی غیر اللہ
16:30حسب ربی جل اللہ ما فی قلبی غیر اللہ
16:36نور محمد صلی اللہ
16:38نور محمد صلی اللہ
16:41لا الہ الا اللہ
16:45لا الہ الا اللہ
16:48لا الہ الا اللہ
16:51لا الہ الا اللہ
16:54منعب رسول اللہ
16:57اول آخر ہے اللہ
17:00باطن ظاہر ہے اللہ
17:03اول آخر ہے اللہ
17:05باطن ظاہر ہے اللہ
17:09حافظ ناسد ہے اللہ
17:12حافظ ناسد ہے اللہ
17:15لا الہ الا اللہ
17:18لا الہ الا اللہ
17:21لا الہ الا اللہ
17:24لا الہ الا اللہ
17:28انا برسول اللہ
17:30Khir jayin dar jennet ke tozut ki sabrag bujhe
17:42Dil se kuoi ikbar kahe
17:48Surah Al-Fatihah
18:43Al-Fatihah
18:46Al-Fatihah
19:36Al-Fatihah
19:39Al-Fatihah
20:09Al-Fatihah
20:39Al-Fatihah
21:36Al-Fatihah
21:49Al-Fatihah
22:18Al-Fatihah
22:44Al-Fatihah
23:29Al-Fatihah
23:41Al-Fatihah
24:18Al-Fatihah
25:06Al-Fatihah
25:09Al-Fatihah
25:53Al-Fatihah
26:36Al-Fatihah
27:06Al-Fatihah
27:36Al-Fatihah
27:39Al-Fatihah
28:31Al-Fatihah
28:43Al-Fatihah
29:36Al-Fatihah
30:06Al-Fatihah
30:09Al-Fatihah
31:01Al-Fatihah
31:36Al-Fatihah
32:05Al-Fatihah
32:26Al-Fatihah
32:55Al-Fatihah
33:33Al-Fatihah
Comments

Recommended