Skip to playerSkip to main content
कामाख्या का तांत्रिक ज शेर भी बन सकता था कि सच्ची कहानी
#trending #realhorror #story #stories #horror #realstories #viral #atoplay #youtube #instagram

Category

😹
Fun
Transcript
00:00यह कता सच्ची घटना पंडित अरुनकमार शर्मा जी की पुस्तक रहसे से ली गई है
00:08100-800 years ago, the
00:12बंदेल गंट में बीशन अकाल पड़ा था तीन वर्षों तक पानी नहीं बर्सा था कुए नाले सब सूख गए थे
00:20खेतों में द्रावरे पड़ गई थी जंगल के पेड कभी हरे भरे थे वह भी सूख गई थे उनके पतियां
00:26जड़ गई थी सब तरफ तरही तरही मची होई �
00:30कहीं पशों के अस्ती पंजर दिखलाई पढ़ते थे नरकंकाल गाव छोड़ कर लोग भाग रही थे जिन में से एक
00:41राम गोपाल भी था एक दिन अपनी पतनी ग्यातरी और एक साल के मासुम बेटे शामू को निराधार छोड़ कर
00:47वह कहीं चला गया था
00:49सनावत गाओं के किसी वक्ति को उसका पता नहीं चला कहा गया वह भागा कौन जाने पूरे तीन साल हो
00:56गए इस अफ़दी में परकतिक कपर को फर्शान्त हो चुका था परकतिक वातावरण में भी परिविटतन आ गया था सूखे
01:03जंगलों में हर्याली फैल रही थी
01:05वो जाड़ खेतों में नाच के पोदे लेराने लगे थे
01:08कहने का मतलब यह है कि सनावत दोर उसके असपास के लाकों के भागे उले हो चुके थे
01:13फिर भी गया तरी सुबह शाम राम गुपाल की रहा देखती
01:18बेटे शामों को गोर में लिए दरवाजे पर खड़ी रहती फिर आंसू परोच कर बीतर चरी जाती थी
01:24इस परकार साथ साल का समय गुजर गया देखते ही देखते
01:28एक दिन अचानक राम गुपाल घर आ गया लेकिन उसकी हुलिया बदला हुआ था
01:34सिर्क के घने बाल जटा बनकर पीट पर लटक रहे थे
01:37दाड़ी के बार भी लंबे होकर पेट तक जूल रहे थे
01:40श्रीड का रंग भी काला पड़ गया था पैचानना कटिन था उसे
01:44विसमित और चकितर गयातरी से उसने कहा
01:47मैं आसाम चला गया था
01:48वहां मुझे एक तंदरिक मिला
01:50उसने तंतर साधना की देख्षा दी
01:53और मैंने पूरे पाँच साल कामख्या देवी की साधना की
01:56और सिद्धी पराप्ट की है
01:58इतने सालों बार पती को सामने पाकर
02:01गयातरी की आंखे आंसों से भर आई
02:05मैं तंतर मंद्र की सिद्धी अपराप्ट कर चुका हूँ
02:08उसके पती ने कहा हमारे दूर्दिन दूर दूर हो चुके हैं
02:13तो किसी बात की चिंता मत कर
02:15राम गुपाल ने गयातरी को आश्वशक किया
02:18आदमी भला चंगा घर लोटाया है
02:21यही प्रियाप्त था गयातरी के लिए
02:23गाहों के शिव मंद्र में जाकर उसने पूचा की
02:25शामू तब तक आट नो साल का हो गया था
02:29वे अपने माता पिता के साथ मंद्र गया
02:32प्यार से हमेशा अपने साथ रखता था राम गुपाल अपने बेटे को
02:35दीरे दीरे सनावाद और उसके चारो तरफ के लाकों में
02:39एक तांतरीक के रूप में राम गुपाल के चड़चा होने लगी
02:42सभी के मुझे एक ही बात निकलती
02:45पुरे आठ साल तपस्या कर असाम से काम रूप विद्या सीख कर लोटा है
02:50राम गुपाल वेच आए जो कर सकता है
02:53उसके लिए कुछ असंबर नहीं रहा
02:55जो सुनता वेच धंग रह जाता
02:58फिर भीड बढ़ने लगी
03:01राम गुपाल के गर के सामने
03:03सभी के अपने अपने दुख कष्ट और यातनाई थी
03:06सभी की अपने अपने समस्याई थी
03:08कोई नौकरी के लिए परेशान था
03:10कोई कड़ से परेशान था
03:11कोई बिमारी से परेशान था
03:13कोई पत्री की शादी के लिए परेशान था
03:15तो कोई था परेशान अपनी ही शादी के लिए
03:18und s
03:18elles
03:18I
03:18I
03:19I
03:19I
03:20What
03:46I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:47I
03:55
04:17foreign
04:17foreign
04:19foreign
04:20foreign
04:20foreign
04:21foreign
04:22foreign
04:23foreign
04:23foreign
04:30foreign
04:31foreign
04:32foreign
04:32foreign
04:42foreign
05:01French
05:06she knew that she could play with it
05:14She could play with a song
05:15Is that she can play?
05:15She could hold it
05:17She could hold it
05:20and she would not play with it
05:23Yes, why can she be able to do that, she could
05:26But she could watch me
05:27You can see
05:29But she could do it
05:32। । । । ।
06:00। ।
06:30। ।
06:59। ।
07:38
08:08
08:29
08:31
08:33
08:34
08:37
08:38
08:39
08:41
08:42He had to go out and go out and go out and go out.
09:12ڈالرام گپال ہے مالکم صاحب نے سنا تو ان کو اشترے ہوا بھلا یا کیسے ممکن ہے جندہ آدمی منطر
09:19کی طاقت سے شیر میں تبدیل کیسے ہو سکتا ہے
09:22ہس کر بولے کلکٹر مالکم صاحب شکاریوں کہا انتجام کرنا پڑے گا مالکم صاحب نے کہا لیکن کافی کوششوں کے
09:30بعد ہاتھ نہیں آیا شیر
09:32شکاریوں کو دیکھ کر گیاتے گا کلیجہ موں کو آ گیا یعنی سچمچ ان شکاریوں نے شیر کو مار ڈالا
09:38تو اس کی مانگ سونی ہو جائے گی
09:40سناود اور کوشش سے لے کر انکار اشور تک انگریج سپائی شیر کی تلاس کرتے رہے اور پھر ایک روچ
09:47واپس لوٹ آئے
09:48رات ہوتی تو رام گپال جنگل سے نکل کر اپنے گھر کے پچھوارے آ جاتا
09:53کبھی بھوکی پتنی اور بیٹے کے لیے موں میں دبا کر لائے ہوا کچھ فیق جاتا
09:58ایک بار سونے کی گرنی سے بھری ایک جھولی لے آیا جو انگریج سپائیوں کو ماننے کے بعد اسے ملی
10:04تھی
10:05گم سم سے گیاتری پتی کی دشا دیکھتی رہتی
10:08اور پھر اپنی گلتی پر رونے لگتی
10:10رونے کی عواج پھوڑوسی نہ سن لے
10:12اسی آشنکہ سے اپنے وہوں میں کپڑا ٹھوس لیتی گیاتری
10:16اسے روتے دیکھ کر شیر کی آنکھوں سے بھی آنسو جھرنے لگتے
10:20بہر ہونے کے پہلے ہی پھر گائب ہو جاتا رام گپال
10:23شامو گاؤں کے پٹواری شاردہ پرسات کے یہاں شارد بھوجن کرنے آیا تھا
10:29آدھی رات کے سمیں اسے الٹیا ہونے لگی
10:31اور ساتھی ساتھ دست بھی گیاتری گھبرا گئی
10:34ترند گاؤں کے وید متہ دین کو بلا کر لے آئی
10:37متہ دین کی دوہ سے الٹیا تو تھم گئی
10:39لیکن بخار نے اسے جگر لیا
10:42اور دیرے دیرے جین جور کے پر قوم کا شکار ہو گیا
10:47بھاگا شامو
10:49پھر پی لیا اور نجانے کیا کیا ہوا
10:51گیاتری کے ہوش اڑ گئے
10:53منتروں کی وناشک شکتی نے سواگین ہونے کے باوجود بھی
10:57ودوہ بنا دیا تھا اسے
10:58ایک ماتر پتر بھی سنسار سے ودا ہوتا نجر آ رہا تھا
11:02متہ دین کی اوشادیاں بھی بیکار سیدھ ہو رہی تھی
11:04شیر رو جاتا
11:06پچھوارے اس کے گرار سن کر
11:07گیاتری دھیرے دھیرے کوئے کے پاس آتی
11:10اور شامو کی گرتی ہوئی حالت روتے روتے بتلانے لگتی
11:13جسے سن کر شیر بھی رونے لگتا
11:15آدھی رات کا سرناٹا
11:17اس کی روین مشرت نشوانسوں سے گوجنے لگتا تھا
11:20پلیا روک سے کرش ہوئے شامو کی گرتی حالت دیکھ کر
11:24ایک روچ وید ماتہ دین نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے
11:27سمرستہ وقت کرتے ہوئے کہا
11:30لگوک نراشت سے ہوتے ہوئے بولی
11:33تمہارے لڑکے کو بچنانے کا ایک ہی اپائے ہے
11:36کون سا اپائے
11:37آشنکر تکور گیاتری نے پوچھا
11:39آپ بولتے کیوں نہیں مہاراج
11:41گیاتری بولی
11:42تن بیچ کر مچوری کر کے اپنے بیٹے کی دباداری کروں گی
11:46شیر کی چربی متہ دین بولے
11:48شیر کی چربی کا لیپ
11:50ڈروگی کی چھاتی پر روز دو چار بار کرنا ہوگا
11:54تب ہی کٹے گا جین شور
11:55اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے
11:58لیکن شیر کی چربی بھلا لائے گا
12:00کون گیاتری نے پوچھا
12:01ان دور جانے پر شاہد وہاں کے شاہی حکیم کے پاس
12:04جین شور کٹنے کے لیے
12:06شیر کی چربی مل سکے
12:08وید نے کہا
12:09گریب گیاتری کو شاہی حکیم شیر کی چربی کیوں دونے لگے
12:12اور پھر قدم قدم پر کھونی پنڈاریوں کی شکل میں موت بچی ہوئی تھی
12:18پورے راستے
12:18بارش کے دن تے
12:19نرمدہ ندی بھی بارڈ پر پھیت تھی
12:21پھر بھی گاؤں کے ہر سمرت اصمرت جہتی کے پاس
12:25شیر کی چربی لانے کے لیے
12:26گیاتری نے ہاتھ پاک جوڑے
12:28کہیں کہیں جا کر روئی بھی
12:30لیکن بارش اور درگم ندی نالوں کی وجہ سے
12:33اندور کھنڈوایاں بران پھوٹ جا کر
12:35شیر کی چربی لانے کے لیے
12:37کوئی بھی راجی نہ ہوا
12:39ان سب نے بھی گیاتری کو سنکٹ میں دیکھ کر
12:41مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا
12:43جن کے گاڑے وقت میں
12:45رام گپال نے منتر ساتھ نہ کر
12:47ان کی بپتی دور کی تھی
12:48گاؤں میں تینات کمپنی کے سپاہیوں نے بھی
12:51گیاتری کو دیکھ کر
12:53مو فیر لیا
12:53بارش کی رات تھی وے
12:55گہرہ اندکار مسلہ دھار پانی گر رہا تھا
12:58رام گپال روچی طرح دھوے پاؤں
13:00کوئے کے پاس چلا آیا
13:02شیر کو دیکھ کر گیاتری کے سبر کا بانٹ ٹوٹ گیا
13:05وید مطا دین کے لاج کے بارے میں
13:08پتی کو بتلا دیا
13:09گیاتری نے روتے روتے کہاں
13:11لگتا ہے شیر کی چربی نہیں ملے گی
13:14اور ہمارا شام دم توڑ دے گا
13:16سنکر شیر بھی رونے لگا
13:17پورا چہرہ بھیگ گیا اس کا
13:19بچانی سے اپنی پوچھ اٹھا کر
13:21وے کوئے کے آس پر اس چکر لگانے لگا
13:23کبھی گیاتری کے پاس آتا
13:25کبھی کوئے کی جگت کے پاس بیٹھ جاتا
13:27اور اب دشاں میں ہلکی سی
13:29اجازت پھوٹنے لگی
13:31صبح کو ہونے کا تھا
13:33اب واپس لوٹ جائیے گیاتری نے اپنے پتی
13:35کو کہا لیکن رام گپال
13:38ٹس سے مس نہ ہوا
13:39گیاتری ٹوندے کنٹ سے بھولی
13:41آپ کو کسی نے دیکھ لیا تو پوری بستی میں
13:43شور ہو جائے گا اب چلے جائیے
13:45لیکن رام گپال تب بھی نہیں گیا
13:48تب ہی گھٹی بھی چتر گھٹنا
13:49گوئے کی جگت پر اپنے
13:52دونوں
13:54پنجے سٹھ آ کر اچانک جور سے
13:55دھاڑ اٹھا رام گپال
13:57ایک بار دو بار تین بار اس کی دھاڑ سے
13:59سموچہ سنا بد گونج اٹھا
14:01اپنے گھروں میں بستروں کے بیتر دف کے لوگ
14:03شیر کی دھاڑ سن کر
14:05چی کے
14:06ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپائی بھی
14:08اس گرجنا کو سن کر جاگ اٹھے
14:10تحصیل دار منجور علی نے بھی سنی
14:12وہ چاروں طرف شیر شیر کا شور ہونے لگا
14:15گیاتری کے سامنے پتر کی طرح سر کھڑا رام گپال
14:18ایک دفعہ
14:19پھر سے دھاڑا
14:20ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپائی بندوق لے کر
14:23تب تک گیاتری کے گھر پرا دھمکے
14:25ان کے پیچھے منجور علی اور ان کا عملہ تھا
14:28شیر سپائیوں کو دیکھ کر تو گر آیا
14:30لیکن ہلا نہیں کوئے کے پاس سے
14:32منجور علی چلائے
14:34دیکھتے کیا ہو چلاو گولی
14:35آنن فانن میں بندوق کی گولیاں
14:38جسم میں دس گئیں
14:39ویڈ چھٹ پٹا کر کوئے کے پاس ہی گھر پڑا
14:42گیلی جمین اس کے کھون سے لال ہو گئی
14:44پتی کو مرتے دیکھ کر
14:46گیاتری مبچھے تھوک پڑی
14:48اسی شیر کی چربی کو حاصل کیا
14:50ویڈ مدہ دین نے
14:51شاموں کی چھاتی پر پندر دن تک
14:54اس چربی کی ملش کروں نے اسے چنگا کر دیا
14:56گیاتری نے چوڑیاں فور ڈالی
14:59مانگ کا سندور مٹا ڈالی
15:00تو یہ تھی ایک سچی گھٹنا
15:02اس میں آپ نے سنا کی
15:04کس پرکار ایک پندر نے
15:06صدیوں پر آپ کی
15:07اور ان صدیوں کے بلبوتے
15:10اس نے بہت دھن کمائی
15:14پر سمیں آنے پر
15:15وہ انہی صدیوں کے چنگل میں فس گیا
15:18اور اسے شیر کا جیون
15:19ویتید کرنا پڑا
15:21اور اپنے پران دینے پڑے
15:23اس لئے صدیوں کا اپیوگ
15:25اپنے فائدے کیلئے نہ کر کے
15:27جن کنیان کے لئے ہی کرنا چاہیے
15:29اگر آپ کو ایک آنی اچھی لگی ہے تو
15:31چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں
15:33اور ویڈیو کو لائک اور شیئر
15:35جرور کریں

Recommended