Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
Transcript
00:00Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh.
00:30وہ ایک ایسی مخلوق پیدا کرنا چاہتا تھا جس میں بندر جیسی بجلی کی پھرتی ہو، شیر جیسی ناقابل شکست
00:36طاقت ہو اور اقاب جیسی تیز اور دور تک دیکھنے والی آنکھیں ہو۔
00:41اس کا خواب تھا کہ اپنی حکومت کے لیے ایک ایسی فوج تیار کرے جو دنیا کی سب سے خوفناک
00:46اور ناقابل شکست فوج ثابت ہو۔
00:49ایسی فوج جو جنگ کے میدان میں دشمن کو لموں میں مٹا دے اور جس کے سامنے کوئی بھی کھڑا
00:54نہ ہو سکے۔
00:56اس سائنسدان کا نام تھا ڈاکٹر وکٹر ہیلمر یہ بیسویں صدی کے آغاز میں فرانس سے تعلق رکھتا تھا۔
01:03ایک ایسا شخص جو عام سائنسدانوں کی طرح صرف کتابوں اور میز تجربات تک محدود نہیں تھا بلکہ قدرت کے
01:09اصولوں کو چیلنج کرنے کا شوق رکھتا تھا۔
01:12جب اس نے گھوڑے اور گدے کے ملاب سے خچر کی پیدائش کا سنا تو اس بات نے اس کے
01:18دماغ میں ایک بیج بو دیا۔
01:20وہ بھی جو بڑا ہو کر ایک حضرناک تجربے کی جڑ بننے والا تھا۔
01:24وکٹر نے جوانی میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ خچر کی پیدائش کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔
01:29اس کے جینیاتی راز سمجھے گا اور پھر اسی اصول کو آگے بڑھائے گا۔
01:33اس نے ایک خفیہ لیبارٹری قائم کی جو شہر سے دور ایک پرانی فوجی عمارت میں بنائی گی۔
01:39اس عمارت کی کھڑکیاں ہمیشہ بند رہتی تھی۔
01:42باہر سے نظر آنے والا سب کچھ خاموش اور خالی لگتا تھا۔
01:46مگر اندر ایک نئی مخلوق کی تخلیق کی تیاریاں چل رہی تھیں۔
01:51پہلا مرہ تھا ایک صحت مند نر گھوڑا اور ایک مضبوط مادہ گدی کا انتخاب۔
01:57وکٹر نے دونوں جانوار نہایت احتیاط سے خریدے۔
02:00گھوڑا لمبے قد کا تیز افتار اور طاقتور تھا۔
02:03جبکہ گدی کا جسم چھوٹا مگر برداشت بے مثال تھے۔
02:07وکٹر نے مہینوں تک ان دونوں کی خوراک صحت اور رویہ کی نگرانی کی۔
02:12وہ جانتا تھا کہ اگر تجربہ ذرا سا بھی غلط ہو گیا تو مہینوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔
02:18پھر ملاب کا وہ دن آیا جب تجربے کا سب سے اہم مرلہ شروع ہوا۔
02:22یہ عمل عام کسانوں کے طریقے سے نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سائنسی طریقے سے کیا گیا۔
02:28وکٹر ہر لمحہ نوٹ بنا رہا تھا۔
02:30جانوروں کے رد عمل کو پرک رہا تھا اور دلی دل میں دعا کر رہا تھا کہ قدرت اس بار
02:35اس کے ساتھ ہو۔
02:37ہفتے گزر گئے اور پھر ایک دن جانچ کے دوران پتا چلا کہ مادہ گدی حاملہ ہو چکی ہے۔
02:42یہ وکٹر کے لیے ایک بہت بڑا سنگے ملتا۔
02:45نو ماہ بعد اس دنیا میں ایک نیا جانور آیا۔
02:49خچر
02:49وکٹر نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ مخلوق کس قدر عجیب اور شاندار ہے۔
02:56خچر کا قدر گھوڑے جیسا تھا مگر کان لمبے اور کھررے تھے جیسے گدے کے ہوتے ہیں۔
03:01اس کی تانگیں مضبوط سینہ چوڑا اور آنکھوں میں غیر معمولی اشیاری چھلک رہی تھی۔
03:06پیدائش کے چند دن بعد ہی یہ خچر کھیت میں دوڑنے لگا اور چند ہفتوں میں اس نے ایسا بوجھ
03:13اٹھا لیا جو نہ گھوڑا آسانی سے اٹھا سکتا تھا نہ گھوڑا۔
03:16وکٹر نے اس خچر کو مہینوں تک آسمائا۔
03:19کبھی اس سے کچھے راستوں پر سفر کرواتا کبھی پتھریلے پہاڑی راستوں پر حیرت انگیز طور پر خچر نہ تھکتا
03:26تھا نہ سست پڑتا تھا۔
03:28اس کی برداشت گھوڑی سے ملتی تھی اور طاقت گھوڑے سے۔
03:31وکٹر نے نوٹ کیا کہ یہ جانور عام گھوڑوں یا گدوں سے زیادہ اشیار ہے، اشارے جلد سمجھتا ہے اور
03:38خطرہ محسوس ہوتے ہی فوراں رد عمل دیتا ہے۔
03:41پیارے دوستو یہ تجربہ وکٹر کے لیے ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا کہ قدرت کے اصولوں کو موڑنا ممکن ہے۔
03:47اگر گھوڑے اور گدے جیسی دو الگ مخلوقات مل کر ایک بہتر اور زیادہ کارامد نسل پیدا کر سکتے ہیں
03:54تو پھر کیوں نہ اسی اصول کو انسانوں پر آزمایا جائے۔
03:58اور یہی وہ لمحہ تھا جب وکٹر کے ذہن میں ایک خطرناک خیال پیدا ہوا کہ اگر میں انسان اور
04:04بندر کو ملا دوں تو کیا ہوگا؟
04:07وکٹر جانتا تھا کہ انسان اور بڑے بندر خاص طور پر چمپینزی جینیاتی طور پر حیران کن حد دک قریب
04:14ہیں۔
04:15تقریباً 98 فیصد ایک جیسے جینز رکھتے ہیں۔
04:18اس کا مطلب تھا کہ خچر کی طرح انسان اور بندر کا ملاب شاید ممکن ہو اور اگر یہ ممکن
04:24ہوا
04:24تو ایسی مخلوق پیدا ہو سکتی ہے جو انسان کی عقل رکھتی ہو مگر بندر کی پھرتی طاقت اور برداشت
04:30بھی رکھتی ہو۔
04:31ایسی مخلوق جو جنگ کے میدان میں ناقابل شکست ثابت ہو۔
04:35پہاڑوں پر دوڑ سکے، درختوں پر چڑھ سکے اور دشمن کے لیے خوف کا دوسرا نام بن جائے۔
04:41مگر وکٹر یہ بھی جانتا تھا کہ یہ تجربہ دنیا کے سامنے نہیں کیا جا سکتا۔
04:46مذہبی رانما اسے قدرت کے نظام میں مداخلت کہیں گے۔
04:50حکومتیں اسے غیر انسانی قرار دیں گی اور عوام اسے ویشی پن سمجھیں گے۔
04:55اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ یہ منصوبہ خفیہ رہے گا۔
04:59اب اس کے سامنے دو بڑے سوال تھے۔
05:01پہلا کہ وہ کس عورت کو اس تجربے کا حصہ بنائے؟
05:05دوسرا کون سا بندر اس کے لیے سب سے موضوع ہوگا؟
05:09یہ سوالات آسان نہیں تھے مگر وکٹر نے سوچ لیا تھا کہ جیسے گھوڑا اور گدہ مل کر ایک نئی
05:15مخلوق پیدا کر سکتے ہیں
05:16ویسے انسان اور بندر بھی کر سکتے ہیں۔
05:19اور اگر ایک بار یہ مخلوق پیدا ہو گئی تو دنیا کی جنگی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔
05:26دوستو یورپ میں یہ سب کرنا ناممکن تھا اس لیے اس نے اپنی نظریں افریقہ پر جمع دیں۔
05:31اس دور میں افریقہ کے کئی علاقے یورپی طاقتوں کے زیر تسلط تھے اور یہاں خفیہ سرگرمیوں کا پتہ لگانا
05:38تقریباً ناممکن تھا۔
05:39مہینوں کی تلاش کے بعد وکٹر کو ایک جگہ ملی گھنے جنگلات کے بیچ ایک پرانی فوجی چھاؤنی جو کئی
05:47سالوں سے خالی پڑی تھی۔
05:49اس عمارت کو ڈاکٹر نے اپنی خفیہ لیبارٹری میں بدلنا شروع کر دیا۔
05:53بجلی کیڑی یہ بڑے ڈیزل جنریٹر نصف کیے گئے اور اندر مختلف کمروں میں فولادی دروازے اور تالے لگائے گئے۔
06:00ایک میں جنیاتی نمونے رکھنے کے لیے خصوصی فریزرز، دوسرے میں طبیعی آلات اور ایک بڑے حال میں بڑے بڑے
06:07لوہے کے پجرے جہاں جانور رکھے جانے تھے۔
06:10وکٹر جانتا تھا کہ منصوبے کے لیے دو سب سے عام انتخاب کرنے ہیں۔
06:14ایک موضوع عورت اور ایک موضوع بندر۔
06:17بندر کے لیے اس نے چمپینزی کے انتخاب کیا کیونکہ جریاتی طور پر یہ انسان کے بہت قریب ہے
06:23اور اس کی ذہانت، جسمانی طاقت اور پھرتی سب کچھ اس منصوبے کے لیے بہترین تھا۔
06:29اس نے ایک بڑے نر چمپینزی کے انتخاب کیا جس کا قد پانچ فٹ دس انچ کے قریب اور جسم
06:35غیر معمولی طور پر طاقتور تھا۔
06:38یہ بندر پہلے ہی انسانی اشارے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا جو وکٹر کے خیال میں ایک اضافی فائدہ تھا۔
06:44عورت کے انتخاب میں وکٹر کو سب سے زیادہ دشواری پیش آئی۔
06:49وہ جانتا تھا کہ اس تجربے کے لیے ایسی عورت درکار ہے جو نہ صرف صحت مند ہو بلکہ جسمانی
06:55اور جنیاتی طور پر مضبوط بھی ہو۔
06:57اس کے لیے اس نے افریقہ کے ایک غریب گاؤں کا رخ کیا جہاں غربت اور بھوک لوگوں کو کسی
07:03بھی قیمت پر معایدہ کرنے پر مضبور کر سکتی تھی۔
07:06وہاں اسے ایک نوجوان عورت ملی جس کی عمر 22 برس سے زیادہ نہیں تھی۔
07:11اس کے جسم میں کوئی بیماری نہیں تھی اور وہ مضبوط آساب کی مالک تھی۔
07:16وکٹر نے اسے ایک کہانی سنائی کہ وہ ایک طبی تحقیق کا حصہ بنے گی جس سے اسے اور اس
07:21کے گاؤں کو دولت اور سہولتیں ملیں گی۔
07:24اصل منصوبے کی حقیقت وہ کبھی جان نہ پاتی۔
07:27اب وکٹر نے تیاریوں کا اگلا مللہ شروع کیا جینیاتی مطابقت کو بہتر بنانا۔
07:33وہ مقصوص خلیے تلاش کر رہا تھا جن میں جینیاتی رد عمل کا امکان سے آدھاؤ۔
07:38اس نے خوراک میں تبدیلیاں کی، ویٹامنز اور خصوصی ہارمونز شامل کیے تاکہ دونوں جاندار تجربے کے وقت بہترین حالت
07:46میں ہوں۔
07:47یہ سب کرتے ہوئے وکٹر کو احساس تھا کہ وہ ایک باریک لکیر پر چل رہا ہے۔
07:51اگر ایک بھی غلطی ہو گئی تو مہینوں کی محنت ضائع ہو جائے گی یا بددر یہ کہ خبر باہر
07:58نکل سکتی ہے۔
07:58اس لیے اس نے لیبارٹری میں کام کرنے والے تمام افراد کو سخت قسمیں دی اور ان کے گاؤں کے
08:05لوگوں کو پرائے راز دھمکیاں دی کہ راز فاش ہونے کی صورت میں وہ سنگین نتائج بھگ دیں گے۔
08:10وقت گزرتا گیا اور وہ دن قریب آ گیا جس کا ڈاکٹر برسوں سے انتظار کر رہا تھا۔
08:17ناظرین گرامی اس خوفناک تجربے کا نتیجہ کبھی پوری دنیا کے سامنے نہیں آیا مگر خفیہ ریپورٹس اور افواہوں کے
08:23مطابق وکٹر ہیلمر کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا تھا۔
08:28کہا جاتا ہے کہ کئی افتوں بعد اس عورت میں حمل کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر یہ حمل عام
08:34انسانی حمل جیسا نہیں تھا۔
08:36ڈاکٹر وکٹر نے نوٹ کیا کہ ابتدائی مراحل میں جینز کی نشو نماغ غیر معمولی تھی۔
08:41ہاتھوں اور بازوں کی ہڈیاں لمبی اور مضبوط جبکہ چہرے کی بناوٹ انسانی خد و خال سے قدر مختلف تھی۔
08:49یہ حمل زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا۔
08:51چوتھے مہینے میں عورت شدید بخار اور کمزوری کا شکار ہوئی اور ایک رات اچانک شدید پیچیدگی کے باعث اس
08:58کا حمل ضائع ہو گیا۔
08:59وکٹر نے مردہ جینز کا مطالعہ کیا اور اس میں انسانوں اور بندر دونوں کی واضح خصوصیات موجود تھی۔
09:06چھوٹا مگر چوڑا جبڑا لمبی انگلیاں اور آنکھوں کا ڈھانچا چمپینزی جیسا۔
09:13لیکن اس کے بعد وکٹر نے باقی تمام شواہد مٹا دیئے اور کچھ لوگ آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ
09:18اس نے ایک کامیاب نوزایدہ کو زندہ رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی جسے خفیہ طور پر کہیں منتقل
09:24کر دیا گیا تھا۔
09:25لیکن حقیقت کیا ہے یہ آج بھی کوئی نہیں جانتا۔
09:29موسیقی
Comments

Recommended