00:00ناظرین کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی تاریخ کی وہ کون سی رات تھی جب وقت یعنی ٹائم تھم گیا تھا
00:07ایک ایسی رات جب زمین سے لے کر ساتوں آسمانوں کے دروازے صرف ایک ہستی کے لیے کھول دیے گئے
00:13لیکن اس سفر میں کچھ ایسے خوفناک مناظر بھی دکھائے گئے جنہیں سن کر آج بھی انسان کا دل کامپ اٹھتا ہے
00:21کیا آپ جانتے ہیں کہ میراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں ایسے لوگ دیکھے
00:28جو تامبے کے ناخونوں سے اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے
00:32وہ کون لوگ تھے جن کے پیٹ گھروں جتنے بڑے تھے اور ان کے اندر ساپ چل رہے تھے
00:38اور راستے میں وہ بوڑھی عورت کون تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی تھی
00:43اور پھر وہ لمحہ جب فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی صدرت المنتحہ پر رک گئے
00:50اور کہا یا رسول اللہ اگر میں یہاں سے ایک بال برابر بھی آگے بڑھا
00:55تو اللہ کے نور کی تجلی سے جل کر راک ہو جاؤں گا
00:59آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو میراج کے اس عظیم سفر پر لے چلیں گے
01:04تیاری سے لے کر واپسی تک اور جنت و دوزخ کے وہ مناظر جو آپ کی سوچ بدل دیں گے
01:10دل تھام کر بیٹھئے
01:11کیونکہ آج ہم میراج کے واقعے کی وہ تفصیلات بیان کریں گے
01:16جو شاید آپ نے پہلے کبھی اتنی گہرائی سے نہ سنی ہو
01:19یہ واقعہ نبوت کے گیارہوے سال کا ہے
01:21ہجرت سے تقریباً دو سال پہلے
01:24یہ وہ دور تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمزدہ تھے
01:28اسے عام الہزن غم کا سال کہا جاتا ہے
01:32ستائیس رجب کی رات تھی
01:34مکہ کی فضا پر سکون تھی
01:36ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
01:39اپنی چچا زاد بہن حضرت امہ حانی رضی اللہ عنہ کے گھر آرام فرما رہے تھے
01:45اچانک گھر کی چھت کھلی اور وہاں سے جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے
01:50لیکن اس بار وہ اکیلے نہیں تھے
01:53ان کے ساتھ دیگر فرشتے بھی تھے
01:55اللہ نے اپنے محبوب کو جگانے کا انداز بھی نرالہ رکھا
01:58جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کو بوسا دیا
02:04جن کی تھنڈک سے آپ کی آنکھ کھل گئی
02:07سفر شروع کرنے سے پہلے ایک بہت بڑا روحانی آپریشن کیا گیا
02:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حتیم کعبہ کے پاس لائیا گیا
02:15وہاں جبرائیل نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا
02:18آپ کا دل نکالا اور ایک سونے کے تشت میں رکھ کر آب زمزم سے دھویا
02:24پھر اسے حکمت اور ایمان کے نور سے بھر کر واپس جسمیں اقدس میں رکھ دیا گیا
02:29یہ اس لیے کیا گیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک
02:34ان عظیم مشاہدات کو برداشت کر سکے جو آگے آنے والے تھے
02:38اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سواری لائی گئی
02:43بوراک
02:44یہ سفید رنگ کا ایک جانور تھا جو کھچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا
02:49اس کی رفتار کا یہ عالم تھا
02:51کہ جہاں تک انسان کی نظر جاتی تھی
02:53وہاں یہ اپنا پہلا قدم رکھتا تھا
02:55اب یہ تیاری مکمل ہو چکی تھی
02:57اور سفر کی پہلی منزل زمین پر ہی تھی
03:00جہاں سے آسمانوں کی طرف رخ ہونا تھا
03:03آئیے
03:03دیکھتے ہیں یہ زمینی سفر کس طرح کا تھا
03:06جبریل علیہ السلام کے ہمراہ یہ سفر شروع ہوا
03:09لیکن آسمان پر جانے سے پہلے
03:11زمین پر کچھ مقامات دکھائے گئے
03:14اسی سفر کے دوران
03:15ایک بہت خوفناک واقعہ پیش آیا
03:18راستے میں ایک افریت
03:20شیطانی جن
03:21ہاتھ میں آگ کی مشال لے کر
03:23نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرنے لگا
03:26وہ چاہتا تھا کہ آپ کو جلا دے
03:28آپ جدھر دیکھتے
03:29وہ سایہ موجود ہوتا
03:31تب جبریل علیہ السلام نے فرمایا
03:33یا رسول اللہ
03:35کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں
03:37کہ اگر آپ وہ پڑھیں
03:39تو اس کی آگ بجھ جائے
03:40اور یہ موں کے بل گر پڑھیں
03:42پھر آپ نے وہ دعا پڑھی
03:44اور وہ شیطانی سایہ فوراں ختم ہو گیا
03:47اس کے علاوہ راستے میں براغ
03:49کچھ خاص مقامات پر رکا
03:51جبریل نے کہا
03:52اتریے اور نماز پڑھئے
03:54پوچھا گیا یہ کون سی جگہ ہے
03:56بتایا گیا یہ تیبہ ہے
03:58جہاں آپ ہجرت کریں گے
04:00پھر کوہے تور پر رکے
04:02جہاں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا
04:05پھر بیت اللہم میں نماز ادا کی
04:08جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی
04:10اس سفر کے دوران کچھ عجیب واقعات پیش آئے
04:14جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان تھے
04:17راستے میں ایک بوڑھی عورت
04:18نظر آئی
04:19جو بہت سج دھج کر کھڑی تھی
04:21اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف بلانا چاہا
04:26جبرائیل نے کہا
04:27حضور آگے بڑھیں
04:28اس کی طرف توجہ نہ دیں
04:30پھر ایک طرف سے آواز آئی
04:32اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
04:35ادھر آئیے
04:36آپ نے ادھر بھی دھیان نہیں دیا
04:38بعد میں جبرائیل نے بتایا
04:39یا رسول اللہ وہ بوڑھی عورت دنیا تھی
04:43اس کی عمر اب اتنی ہی باقی رہ گئی ہے
04:46جتنی اس بوڑھیا کی تھی
04:48اور جس نے آواز دی تھی
04:49وہ ابلیس شیطان تھا
04:52جو آپ کو راہ سے ہٹانا چاہتا تھا
04:54لیکن پھر کچھ خوشگوار آوازیں بھی آئیں
04:56ایک جماعت نے سلام کیا
04:58السلام علیکہ یا اول
05:00السلام علیکہ یا آخر
05:02یہ حضرت ابراہیم
05:04موسیٰ اور دعود علیہ السلام کی روحیں تھیں
05:07یہ زمینی سفر
05:08اپنے اختتام کو پہنچا
05:10اور اب وہی وقت تھا
05:12جب یہ کاروان بیت المقدس کی طرف بڑھا
05:15چلیے دیکھتے ہیں
05:16مسجد اقصہ میں کیا ہوا
05:18جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:20مسجد اقصہ میں داخل ہوئے
05:22تو منظر ہی کچھ اور تھا
05:24آدم علیہ السلام سے لے کر
05:26عیسیٰ علیہ السلام تک
05:27تمام انبیاء کرام وہاں موجود تھے
05:30اور صفیں باندھ کر
05:32آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے
05:35سوال یہ تھا
05:36کہ امامت کون کرے گا
05:38جبریل علیہ السلام نے
05:39آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا
05:43آپ نے تمام نبیوں کی امامت کرائی
05:46یہ وہ لمحہ تھا
05:47جس نے ثابت کیا کہ
05:48آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:51امام الامبیاء ہیں
05:53نماز کے بعد
05:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
05:57امتحان کے طور پر
05:58تین پیالے پیش کیے گئے
06:00ایک میں پانی
06:01ایک میں دودھ
06:02اور ایک میں شراب
06:04آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:06دودھ کا پیالہ اٹھا لیا
06:07جبریل علیہ السلام مسکرائے اور کہا
06:10آپ نے فطرت کو پسند کیا
06:11اگر آپ شراب اٹھا لیتے
06:13تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی
06:15یہ زمینی منزل مکمل ہوئی
06:17اور اب وقت تھا
06:18اسلی میراج کا
06:19آسمانوں کی طرف
06:21اب یہاں سے میراج
06:22یعنی بلندیوں کا سفر شروع ہوا
06:25زمین سے آسمان کی طرف
06:26جب پہلے آسمان پر پہنچے
06:28تو دروازہ کھٹ کھٹایا گیا
06:30پوچھا گیا
06:31کون
06:32کہا
06:33جبریل اور محمد
06:34صلی اللہ علیہ وسلم
06:36فرشتوں نے کہا
06:37خوش آمدید
06:38کیا ہی مبارک آنے والے ہیں
06:40پہلا آسمان
06:41وہاں حضرت آدم علیہ السلام
06:43موجود تھے
06:44انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا دی
06:46آپ صلی اللہ علیہ وسلم
06:48نے دیکھا
06:48کہ آدم علیہ السلام کے
06:50دائیں طرف کچھ لوگ ہیں
06:52جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں
06:54یہ جنتی ہیں
06:55اور بائیں طرف کچھ لوگ ہیں
06:57جنہیں دیکھ کر وہ روتے ہیں
06:58یہ جہنمی ہیں
07:00سفر جاری رہا
07:01دوسرے آسمان پر حضرت یہیہ
07:03اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے
07:05ملاقات ہوئی
07:06تیسرے آسمان پر
07:07حضرت یوسف علیہ السلام ملے
07:09نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
07:11فرماتے ہیں
07:12ایسا لگتا تھا
07:14جیسے دنیا کی آدھی خوبصورتی
07:16اللہ نے
07:16یوسف علیہ السلام کو دے دی ہے
07:19چوتھے اور پانچوے آسمان پر
07:21حضرت عدریس علیہ السلام
07:23اور حضرت حارون علیہ السلام سے
07:25ملاقات ہوئی
07:26چھٹا آسمان
07:27یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے
07:30جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
07:31آگے بڑھنے لگے
07:33تو موسیٰ علیہ السلام
07:34رونے لگے
07:35پوچھا گیا کیوں
07:36انہوں نے کہا
07:37میں اس لیے رو رہا ہوں
07:38کہ یہ لڑکا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
07:41میرے بعد
07:42مبوس ہوا
07:43یعنی نبی بنا کر
07:45بھیجا گیا
07:45لیکن اس کی امت کے لوگ
07:47میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے
07:50ساتوہ آسمان
07:51یہاں بیت المامور کے پاس
07:53حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:55تشریف فرما تھے
07:56بیت المامور آسمانوں کا کعبہ ہے
07:59جہاں روزانہ
08:00ستر ہزار فرشتے تواف کرتے ہیں
08:03آسمانوں کی یہ بلندیاں
08:05اب ایک خوفناک
08:06اور سبق آمیز منظر کی طرف لے جا رہی تھی
08:09جہنم کے وہ ڈراؤنے پہلو
08:11جو ہر سننے والے کو
08:13سوچنے پر مجبور کر دیں
08:14دل تھام کر سنیے
08:16ناظرین
08:16اس سفر میں اللہ نے
08:18آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:20جنت اور جہنم کے وہ مناظر بھی دکھائے
08:23جو انسان کو ہلا کر رکھتے ہیں
08:25یہ وہ حصہ ہے
08:26جو ہم سب کے لیے ایک وارننگ ہے
08:28ذرا غور سے سنیے
08:30غیبت کرنے والے
08:31آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا
08:33کہ کچھ لوگ ہیں
08:35جن کے ناخون تانبے کے ہیں
08:37اور وہ اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں
08:40جبرائیل نے بتایا
08:41یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے
08:44سودھ کھانے والے
08:45کچھ لوگ تھے
08:46جن کے پیٹ اتنے بڑے تھے
08:48کہ وہ ہل بھی نہیں سکتے تھے
08:50اور ان کے پیٹ میں ساپ چل رہے تھے
08:52جو باہر سے نظر آ رہے تھے
08:54یتیم کا مال کھانے والے
08:56کچھ لوگوں کے ہونٹ اونٹ کی طرح تھے
08:58فرشتے ان کے موں میں آگ کے پتھر ڈال رہے تھے
09:01ایک شخص لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا
09:05جو اس سے نہیں اٹھایا جا رہا تھا
09:07مگر وہ اس پر اور لکڑیاں ڈال رہا تھا
09:10یہ وہ شخص تھا
09:11جو ذمہ داریوں کا بوجھ ادا نہیں کرتا تھا
09:14مگر اور ذمہ داریاں لیتا تھا
09:16زنا کرنے والے
09:17آپ نے دیکھا کہ لوگ اچھا اور پاک گوشت چھوڑ کر
09:21سڑا ہوا بدبودار گوشت کھا رہے ہیں
09:23یہ وہ لوگ تھے
09:24جو حلال رشتے چھوڑ کر
09:26حرام کی طرف جاتے تھے
09:28فتنہ پھیلانے والے
09:29خطیب
09:30کچھ لوگوں کی زبانے اور ہونٹ
09:32آگ کی کینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے
09:35آپ نے کچھ عورتوں کو دیکھا
09:37جو اپنی چھاتیوں کے بل لٹکائی گئی تھی
09:39یہ وہ تھیں
09:40جو اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی تھی
09:42وہاں جہنم کا داروغہ بھی تھا
09:45جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر بھی
09:48مسکر آیا نہیں
09:49زبرائیل نے بتایا
09:50کہ جب سے جہنم بنی ہے
09:52یہ فرشتہ کبھی نہیں ہسا
09:54یہ خوفناک مناظر
09:56اب نور اور رحمت کی طرف پلٹ رہے تھے
09:59صدرت المنتحہ کی طرف
10:01جہاں سفر کا سب سے بلند مقام انتظار کر رہا تھا
10:04آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:06صدرت المنتحہ پہنچے
10:08یہ بیری کا ایک درکت ہے
10:10جس کی جڑیں چھٹے آسمان میں
10:12اور شاکھیں ساتھویں آسمان کے اوپر ہیں
10:15اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے بڑے
10:17اور پھل مٹکوں کی طرح تھے
10:19یہاں پہنچ کر زبرائیل اے امین رک گئے
10:22نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:24زبرائیل
10:25کیا ایسے مقام پر دوست دوست کو چھوڑ دیتا ہے
10:29زبرائیل نے عرض کی
10:30یا رسول اللہ
10:32میری حد یہی تک ہے
10:33اگر میں یہاں سے ایک انگلی بڑابر بھی آگے بڑھا
10:36تو اللہ کے نور کی تجلی سے میرے پر جل جائیں گے
10:39آگے کا سفر آپ کو تنہا تیہ کرنا ہے
10:42پھر رف رف نام کی ایک سبز سواری آئی
10:45جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے کا سفر کر آیا
10:49آپ وہاں پہنچے
10:50جہاں نہ وقت تھا نہ مکان
10:52اللہ تعالیٰ نے فرمایا
10:54میرے قریب ہو جائیے
10:55اس ملاقات میں اللہ نے اپنی امت کے لیے
10:58پچاس نمازوں کا توفہ دیا
11:00واپسی پر موسیٰ نے کہا کی
11:02آپ کی امت کمزور ہے
11:04پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی
11:06واپس جائیے اور کم کروائیے
11:08حضور صلی اللہ علیہ وسلم بار بار گئے
11:11اور آخر میں پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں
11:14اللہ نے فرمایا
11:15اے محمد
11:16آپ کی امت پڑھے گی پانچ
11:18لیکن ثواب انہیں پچاس کا ہی ملے گا
11:21یہ بلند ملاقات اب اختتام کو پہنچ رہی تھی
11:24اور واپسی کا سفر شروع ہو رہا تھا
11:27جہاں زمین پر ایک اور امتحان انتظار کر رہا تھا
11:30آئیے
11:31دیکھتے ہیں یہ واپسی کس طرح ہوئی
11:33اس لمبے سفر کے بعد
11:35آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:37واپس امہانی کے گھر پہنچے
11:39موجیزہ یہ تھا
11:41کہ بستر ابھی تک گرم تھا
11:43اور دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی
11:44یعنی زمین پر وقت تھما ہوا تھا
11:47صبح ہوئی
11:48تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا
11:51ابو جہل ہستا ہوا آیا
11:53اور مزاک اڑانے لگا
11:55لوگوں نے کہا
11:56اگر آپ سچے ہیں تو بیت المقدس کا نقشہ بتائیں
11:59اللہ نے آپ
12:01صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے
12:04پورا شہر کر دیا
12:05اور آپ نے ایک ایک چیز گنوا دی
12:08ناظرین
12:09میراج کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے
12:12کہ نماز کی اہمیت کیا ہے
12:14اور گناہوں کا انجام کیا ہے
12:16اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی
12:18تو شیئر ضرور کریں
12:19اور کومنٹ میں
12:20سبحان اللہ لکھیں
12:22ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں
12:24اللہ حافظ
Comments