Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Welcome to hasra-azz617 Today we will share this beautiful video about(Shabe Meraj ka Waqia|Meraj ka waqia |Hazrat Muhammad saw ka Waqia|27 Rajab in Urdu/Hindi).You will also learn many things after watching this Complete video so Don’t Forget to fully watch.

We Request To You That After Watching This video Don’t forget to Like,Share and Subscribe our Channel.
If You have any Question About This Video then Comment bellow.We Will Try To answer Your Question As Soon As PPossib#hasra-azz617
#hazratmuhammadsaw​
#waqia​
#hazratmuhammadkafarman​
#shabemeraj​
#islamic​
#27rajab​

Thanks For Watching This Video

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ناظرین کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی تاریخ کی وہ کون سی رات تھی جب وقت یعنی ٹائم تھم گیا تھا
00:07ایک ایسی رات جب زمین سے لے کر ساتوں آسمانوں کے دروازے صرف ایک ہستی کے لیے کھول دیے گئے
00:13لیکن اس سفر میں کچھ ایسے خوفناک مناظر بھی دکھائے گئے جنہیں سن کر آج بھی انسان کا دل کامپ اٹھتا ہے
00:21کیا آپ جانتے ہیں کہ میراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں ایسے لوگ دیکھے
00:28جو تامبے کے ناخونوں سے اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے
00:32وہ کون لوگ تھے جن کے پیٹ گھروں جتنے بڑے تھے اور ان کے اندر ساپ چل رہے تھے
00:38اور راستے میں وہ بوڑھی عورت کون تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی تھی
00:43اور پھر وہ لمحہ جب فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی صدرت المنتحہ پر رک گئے
00:50اور کہا یا رسول اللہ اگر میں یہاں سے ایک بال برابر بھی آگے بڑھا
00:55تو اللہ کے نور کی تجلی سے جل کر راک ہو جاؤں گا
00:59آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو میراج کے اس عظیم سفر پر لے چلیں گے
01:04تیاری سے لے کر واپسی تک اور جنت و دوزخ کے وہ مناظر جو آپ کی سوچ بدل دیں گے
01:10دل تھام کر بیٹھئے
01:11کیونکہ آج ہم میراج کے واقعے کی وہ تفصیلات بیان کریں گے
01:16جو شاید آپ نے پہلے کبھی اتنی گہرائی سے نہ سنی ہو
01:19یہ واقعہ نبوت کے گیارہوے سال کا ہے
01:21ہجرت سے تقریباً دو سال پہلے
01:24یہ وہ دور تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمزدہ تھے
01:28اسے عام الہزن غم کا سال کہا جاتا ہے
01:32ستائیس رجب کی رات تھی
01:34مکہ کی فضا پر سکون تھی
01:36ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
01:39اپنی چچا زاد بہن حضرت امہ حانی رضی اللہ عنہ کے گھر آرام فرما رہے تھے
01:45اچانک گھر کی چھت کھلی اور وہاں سے جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے
01:50لیکن اس بار وہ اکیلے نہیں تھے
01:53ان کے ساتھ دیگر فرشتے بھی تھے
01:55اللہ نے اپنے محبوب کو جگانے کا انداز بھی نرالہ رکھا
01:58جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کو بوسا دیا
02:04جن کی تھنڈک سے آپ کی آنکھ کھل گئی
02:07سفر شروع کرنے سے پہلے ایک بہت بڑا روحانی آپریشن کیا گیا
02:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حتیم کعبہ کے پاس لائیا گیا
02:15وہاں جبرائیل نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا
02:18آپ کا دل نکالا اور ایک سونے کے تشت میں رکھ کر آب زمزم سے دھویا
02:24پھر اسے حکمت اور ایمان کے نور سے بھر کر واپس جسمیں اقدس میں رکھ دیا گیا
02:29یہ اس لیے کیا گیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک
02:34ان عظیم مشاہدات کو برداشت کر سکے جو آگے آنے والے تھے
02:38اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سواری لائی گئی
02:43بوراک
02:44یہ سفید رنگ کا ایک جانور تھا جو کھچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا
02:49اس کی رفتار کا یہ عالم تھا
02:51کہ جہاں تک انسان کی نظر جاتی تھی
02:53وہاں یہ اپنا پہلا قدم رکھتا تھا
02:55اب یہ تیاری مکمل ہو چکی تھی
02:57اور سفر کی پہلی منزل زمین پر ہی تھی
03:00جہاں سے آسمانوں کی طرف رخ ہونا تھا
03:03آئیے
03:03دیکھتے ہیں یہ زمینی سفر کس طرح کا تھا
03:06جبریل علیہ السلام کے ہمراہ یہ سفر شروع ہوا
03:09لیکن آسمان پر جانے سے پہلے
03:11زمین پر کچھ مقامات دکھائے گئے
03:14اسی سفر کے دوران
03:15ایک بہت خوفناک واقعہ پیش آیا
03:18راستے میں ایک افریت
03:20شیطانی جن
03:21ہاتھ میں آگ کی مشال لے کر
03:23نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرنے لگا
03:26وہ چاہتا تھا کہ آپ کو جلا دے
03:28آپ جدھر دیکھتے
03:29وہ سایہ موجود ہوتا
03:31تب جبریل علیہ السلام نے فرمایا
03:33یا رسول اللہ
03:35کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں
03:37کہ اگر آپ وہ پڑھیں
03:39تو اس کی آگ بجھ جائے
03:40اور یہ موں کے بل گر پڑھیں
03:42پھر آپ نے وہ دعا پڑھی
03:44اور وہ شیطانی سایہ فوراں ختم ہو گیا
03:47اس کے علاوہ راستے میں براغ
03:49کچھ خاص مقامات پر رکا
03:51جبریل نے کہا
03:52اتریے اور نماز پڑھئے
03:54پوچھا گیا یہ کون سی جگہ ہے
03:56بتایا گیا یہ تیبہ ہے
03:58جہاں آپ ہجرت کریں گے
04:00پھر کوہے تور پر رکے
04:02جہاں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا
04:05پھر بیت اللہم میں نماز ادا کی
04:08جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی
04:10اس سفر کے دوران کچھ عجیب واقعات پیش آئے
04:14جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان تھے
04:17راستے میں ایک بوڑھی عورت
04:18نظر آئی
04:19جو بہت سج دھج کر کھڑی تھی
04:21اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف بلانا چاہا
04:26جبرائیل نے کہا
04:27حضور آگے بڑھیں
04:28اس کی طرف توجہ نہ دیں
04:30پھر ایک طرف سے آواز آئی
04:32اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
04:35ادھر آئیے
04:36آپ نے ادھر بھی دھیان نہیں دیا
04:38بعد میں جبرائیل نے بتایا
04:39یا رسول اللہ وہ بوڑھی عورت دنیا تھی
04:43اس کی عمر اب اتنی ہی باقی رہ گئی ہے
04:46جتنی اس بوڑھیا کی تھی
04:48اور جس نے آواز دی تھی
04:49وہ ابلیس شیطان تھا
04:52جو آپ کو راہ سے ہٹانا چاہتا تھا
04:54لیکن پھر کچھ خوشگوار آوازیں بھی آئیں
04:56ایک جماعت نے سلام کیا
04:58السلام علیکہ یا اول
05:00السلام علیکہ یا آخر
05:02یہ حضرت ابراہیم
05:04موسیٰ اور دعود علیہ السلام کی روحیں تھیں
05:07یہ زمینی سفر
05:08اپنے اختتام کو پہنچا
05:10اور اب وہی وقت تھا
05:12جب یہ کاروان بیت المقدس کی طرف بڑھا
05:15چلیے دیکھتے ہیں
05:16مسجد اقصہ میں کیا ہوا
05:18جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:20مسجد اقصہ میں داخل ہوئے
05:22تو منظر ہی کچھ اور تھا
05:24آدم علیہ السلام سے لے کر
05:26عیسیٰ علیہ السلام تک
05:27تمام انبیاء کرام وہاں موجود تھے
05:30اور صفیں باندھ کر
05:32آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے
05:35سوال یہ تھا
05:36کہ امامت کون کرے گا
05:38جبریل علیہ السلام نے
05:39آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا
05:43آپ نے تمام نبیوں کی امامت کرائی
05:46یہ وہ لمحہ تھا
05:47جس نے ثابت کیا کہ
05:48آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:51امام الامبیاء ہیں
05:53نماز کے بعد
05:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
05:57امتحان کے طور پر
05:58تین پیالے پیش کیے گئے
06:00ایک میں پانی
06:01ایک میں دودھ
06:02اور ایک میں شراب
06:04آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:06دودھ کا پیالہ اٹھا لیا
06:07جبریل علیہ السلام مسکرائے اور کہا
06:10آپ نے فطرت کو پسند کیا
06:11اگر آپ شراب اٹھا لیتے
06:13تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی
06:15یہ زمینی منزل مکمل ہوئی
06:17اور اب وقت تھا
06:18اسلی میراج کا
06:19آسمانوں کی طرف
06:21اب یہاں سے میراج
06:22یعنی بلندیوں کا سفر شروع ہوا
06:25زمین سے آسمان کی طرف
06:26جب پہلے آسمان پر پہنچے
06:28تو دروازہ کھٹ کھٹایا گیا
06:30پوچھا گیا
06:31کون
06:32کہا
06:33جبریل اور محمد
06:34صلی اللہ علیہ وسلم
06:36فرشتوں نے کہا
06:37خوش آمدید
06:38کیا ہی مبارک آنے والے ہیں
06:40پہلا آسمان
06:41وہاں حضرت آدم علیہ السلام
06:43موجود تھے
06:44انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا دی
06:46آپ صلی اللہ علیہ وسلم
06:48نے دیکھا
06:48کہ آدم علیہ السلام کے
06:50دائیں طرف کچھ لوگ ہیں
06:52جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں
06:54یہ جنتی ہیں
06:55اور بائیں طرف کچھ لوگ ہیں
06:57جنہیں دیکھ کر وہ روتے ہیں
06:58یہ جہنمی ہیں
07:00سفر جاری رہا
07:01دوسرے آسمان پر حضرت یہیہ
07:03اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے
07:05ملاقات ہوئی
07:06تیسرے آسمان پر
07:07حضرت یوسف علیہ السلام ملے
07:09نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
07:11فرماتے ہیں
07:12ایسا لگتا تھا
07:14جیسے دنیا کی آدھی خوبصورتی
07:16اللہ نے
07:16یوسف علیہ السلام کو دے دی ہے
07:19چوتھے اور پانچوے آسمان پر
07:21حضرت عدریس علیہ السلام
07:23اور حضرت حارون علیہ السلام سے
07:25ملاقات ہوئی
07:26چھٹا آسمان
07:27یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے
07:30جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
07:31آگے بڑھنے لگے
07:33تو موسیٰ علیہ السلام
07:34رونے لگے
07:35پوچھا گیا کیوں
07:36انہوں نے کہا
07:37میں اس لیے رو رہا ہوں
07:38کہ یہ لڑکا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
07:41میرے بعد
07:42مبوس ہوا
07:43یعنی نبی بنا کر
07:45بھیجا گیا
07:45لیکن اس کی امت کے لوگ
07:47میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے
07:50ساتوہ آسمان
07:51یہاں بیت المامور کے پاس
07:53حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:55تشریف فرما تھے
07:56بیت المامور آسمانوں کا کعبہ ہے
07:59جہاں روزانہ
08:00ستر ہزار فرشتے تواف کرتے ہیں
08:03آسمانوں کی یہ بلندیاں
08:05اب ایک خوفناک
08:06اور سبق آمیز منظر کی طرف لے جا رہی تھی
08:09جہنم کے وہ ڈراؤنے پہلو
08:11جو ہر سننے والے کو
08:13سوچنے پر مجبور کر دیں
08:14دل تھام کر سنیے
08:16ناظرین
08:16اس سفر میں اللہ نے
08:18آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:20جنت اور جہنم کے وہ مناظر بھی دکھائے
08:23جو انسان کو ہلا کر رکھتے ہیں
08:25یہ وہ حصہ ہے
08:26جو ہم سب کے لیے ایک وارننگ ہے
08:28ذرا غور سے سنیے
08:30غیبت کرنے والے
08:31آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا
08:33کہ کچھ لوگ ہیں
08:35جن کے ناخون تانبے کے ہیں
08:37اور وہ اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں
08:40جبرائیل نے بتایا
08:41یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے
08:44سودھ کھانے والے
08:45کچھ لوگ تھے
08:46جن کے پیٹ اتنے بڑے تھے
08:48کہ وہ ہل بھی نہیں سکتے تھے
08:50اور ان کے پیٹ میں ساپ چل رہے تھے
08:52جو باہر سے نظر آ رہے تھے
08:54یتیم کا مال کھانے والے
08:56کچھ لوگوں کے ہونٹ اونٹ کی طرح تھے
08:58فرشتے ان کے موں میں آگ کے پتھر ڈال رہے تھے
09:01ایک شخص لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا
09:05جو اس سے نہیں اٹھایا جا رہا تھا
09:07مگر وہ اس پر اور لکڑیاں ڈال رہا تھا
09:10یہ وہ شخص تھا
09:11جو ذمہ داریوں کا بوجھ ادا نہیں کرتا تھا
09:14مگر اور ذمہ داریاں لیتا تھا
09:16زنا کرنے والے
09:17آپ نے دیکھا کہ لوگ اچھا اور پاک گوشت چھوڑ کر
09:21سڑا ہوا بدبودار گوشت کھا رہے ہیں
09:23یہ وہ لوگ تھے
09:24جو حلال رشتے چھوڑ کر
09:26حرام کی طرف جاتے تھے
09:28فتنہ پھیلانے والے
09:29خطیب
09:30کچھ لوگوں کی زبانے اور ہونٹ
09:32آگ کی کینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے
09:35آپ نے کچھ عورتوں کو دیکھا
09:37جو اپنی چھاتیوں کے بل لٹکائی گئی تھی
09:39یہ وہ تھیں
09:40جو اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی تھی
09:42وہاں جہنم کا داروغہ بھی تھا
09:45جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر بھی
09:48مسکر آیا نہیں
09:49زبرائیل نے بتایا
09:50کہ جب سے جہنم بنی ہے
09:52یہ فرشتہ کبھی نہیں ہسا
09:54یہ خوفناک مناظر
09:56اب نور اور رحمت کی طرف پلٹ رہے تھے
09:59صدرت المنتحہ کی طرف
10:01جہاں سفر کا سب سے بلند مقام انتظار کر رہا تھا
10:04آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:06صدرت المنتحہ پہنچے
10:08یہ بیری کا ایک درکت ہے
10:10جس کی جڑیں چھٹے آسمان میں
10:12اور شاکھیں ساتھویں آسمان کے اوپر ہیں
10:15اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے بڑے
10:17اور پھل مٹکوں کی طرح تھے
10:19یہاں پہنچ کر زبرائیل اے امین رک گئے
10:22نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:24زبرائیل
10:25کیا ایسے مقام پر دوست دوست کو چھوڑ دیتا ہے
10:29زبرائیل نے عرض کی
10:30یا رسول اللہ
10:32میری حد یہی تک ہے
10:33اگر میں یہاں سے ایک انگلی بڑابر بھی آگے بڑھا
10:36تو اللہ کے نور کی تجلی سے میرے پر جل جائیں گے
10:39آگے کا سفر آپ کو تنہا تیہ کرنا ہے
10:42پھر رف رف نام کی ایک سبز سواری آئی
10:45جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے کا سفر کر آیا
10:49آپ وہاں پہنچے
10:50جہاں نہ وقت تھا نہ مکان
10:52اللہ تعالیٰ نے فرمایا
10:54میرے قریب ہو جائیے
10:55اس ملاقات میں اللہ نے اپنی امت کے لیے
10:58پچاس نمازوں کا توفہ دیا
11:00واپسی پر موسیٰ نے کہا کی
11:02آپ کی امت کمزور ہے
11:04پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی
11:06واپس جائیے اور کم کروائیے
11:08حضور صلی اللہ علیہ وسلم بار بار گئے
11:11اور آخر میں پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں
11:14اللہ نے فرمایا
11:15اے محمد
11:16آپ کی امت پڑھے گی پانچ
11:18لیکن ثواب انہیں پچاس کا ہی ملے گا
11:21یہ بلند ملاقات اب اختتام کو پہنچ رہی تھی
11:24اور واپسی کا سفر شروع ہو رہا تھا
11:27جہاں زمین پر ایک اور امتحان انتظار کر رہا تھا
11:30آئیے
11:31دیکھتے ہیں یہ واپسی کس طرح ہوئی
11:33اس لمبے سفر کے بعد
11:35آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:37واپس امہانی کے گھر پہنچے
11:39موجیزہ یہ تھا
11:41کہ بستر ابھی تک گرم تھا
11:43اور دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی
11:44یعنی زمین پر وقت تھما ہوا تھا
11:47صبح ہوئی
11:48تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا
11:51ابو جہل ہستا ہوا آیا
11:53اور مزاک اڑانے لگا
11:55لوگوں نے کہا
11:56اگر آپ سچے ہیں تو بیت المقدس کا نقشہ بتائیں
11:59اللہ نے آپ
12:01صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے
12:04پورا شہر کر دیا
12:05اور آپ نے ایک ایک چیز گنوا دی
12:08ناظرین
12:09میراج کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے
12:12کہ نماز کی اہمیت کیا ہے
12:14اور گناہوں کا انجام کیا ہے
12:16اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی
12:18تو شیئر ضرور کریں
12:19اور کومنٹ میں
12:20سبحان اللہ لکھیں
12:22ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں
12:24اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended