00:00Gualier K. Jairoga Espitale Samu میں
00:02ہر دن ہزاروں مریضوں کا علاج ہوتا ہے
00:04سینکڑوں مریض علاج کے لیے
00:06بھرتی بھی ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال
00:08اور سمیں پر علاج کی ذمہ داری
00:10ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ نرسنگ سٹاف کی بھی ہوتی ہے
00:12اور اسی ذمہ داری کو
00:14اپنے جیون سے اوپر رکھ کر
00:15Jairoga Espitale Samu کی کچھ نرسیں
00:18ڈیوٹی نبھا رہی ہیں
00:19یہ نرس ہیں راکھی شریفاستف
00:21پریم لتا ماتھنکر اور سنیتا ڈوگرے
00:23جو جان لیوہ اور گمبھیر بیماریوں سے جوج رہی ہیں
00:25لیکن اپنی پریشانی انہوں نے
00:27کبھی اپنے فرض کے آڑے نہیں آنے دی
00:29Gualier Jairoga Espitale کے
00:31ہزار بستر بلڈنگ کی سرجری
00:33ویبھاگ میں ڈیوٹی کر رہی ہیں نرسنگ آفیسر
00:35راکھی شریفاستف پچھلے کچھ ورسوں سے
00:37بلڈ کینسر جیسی جان لیوہ بیماری سے
00:39جد و جہد کر رہی ہیں لیکن
00:41وہ ہر دن سمیہ پر اپنی ڈیوٹی پر پہنچتی ہیں
00:43دواؤں کے سہارے اپنے جیون میں آگے
00:45بڑھ رہی ہیں راکھی آئی سیو میں مریضوں کی دیکھ
00:47بھال کرتی ہیں راکھی کہتی ہیں کہ
00:49کئی بار ایسے مریض آتے ہیں جو خود اس بیماری
00:51سے پیڑت ہوتے ہیں تو اپنی ڈیوٹی سے
00:53وہ انہیں موٹیویٹ کرنے کا
00:55انہیں موقع ملتا ہے
00:56ان کے لیے راکھی خود ایک اداہرن ہو جاتی ہیں
00:59جس سے وہ ہتاش نہ ہو کہ جب ان کی نرس
01:01کینسر جیسی بیماری میں بھی
01:02کام کر سکتی ہے تو بیٹ یوں ٹھیک نہیں
01:04ہو سکتے کیونکہ کئی بار مریضوں
01:07کو لگتا ہے کہ کینسر ہونے کے بعد ان کی
01:08جیون میں کچھ بچا نہیں ہے ایسی استطحی
01:11میں نرس راکھی سے انہیں سائیکلوجیکل
01:13سپورٹ بھی ملتا ہے اور فیجیکلی بھی
01:15ٹریٹمنٹ جو ڈاکٹر لکھ کر جاتے ہیں
01:17وہ انہیں دیتی ہیں
01:18میرے کو بلٹ کینسر ہے
01:20اور کچھ سمیں پہلے ہی
01:22ڈیٹیکٹ ہوا تھا اور یہ ہے
01:24کی سروس کرنا
01:26اور سیوہ کرنا یہ ہے
01:27کچھ پیشنٹس ایسے آتے ہیں جو
01:30خود آلریڈی ہی اس بیماری سے جوج رہے ہوتے ہیں
01:32تو ان کے لیے ایک میں ایک زامپل
01:34ہو جاتی ہوں کہ جب میں کام کر رہی ہوں
01:36تو تم لوگ بھی ٹھیک ہو سکتے ہو
01:38بہت سے پیشنٹ ایسے ہوتے ہیں جرہ جرہ
01:39سی چیز میں ایک دم اپنا
01:42مطلب پیشنٹس کھو دیتے ہیں
01:44ان کو یہ لگتا ہے اب لائف میں کچھ بچا ہی نہیں ہے
01:46تو ان کو تھوڑا سا
01:47سائکلوجیکل بھی سپورٹ مل جاتا ہے
01:50اور فیزیکل ہم ان کی جو سیوہ ہے
01:52جو لکھا ہوتا ہے ٹریٹمنٹ کارڈ میں
01:54وہ ان کی سیوہ کرتے ہیں
01:55حتاش نہ ہونے کا قارن شاید میرے کانہ جی ہے
01:58کیونکہ میں کرشن جی کو بہت مانتی ہوں
02:00ان کی پوجا بہت کرتی ہوں
02:02تو شاید یہی ہے کیونکہ سب کو
02:04پریمانان جی کو بھی آپ نے زنا ہوگا دیکھا ہوگا
02:06جب ان کی دونوں کیڈنی فیل ہوں
02:08اس کے بابزود وہ آج تک چل رہے ہیں
02:09سب کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے جتنی لائف
02:11ایشور نے دی ہے اتنی چلے گی
02:13اس میں حتاش ہونے سے کیا مطلب ہے
02:15ہاں کہا تھا ہزبین نے میرے کہا تھا
02:17یہاں تک کہ میرے ڈاکٹر سے بھی کہا تھا
02:19تو میرے ڈاکٹر سے جہاں سے میرے ٹریٹمنٹ چل رہا ہے
02:21انہوں نے بھی یہی بولا کہ نہیں
02:23اگر اس کا من ہے تو آپ اس کو سرویس کرنے دیجئے
02:25نہیں آردھک وجہ نہیں
02:26جتنے آتے ہیں جو پیشنٹس ہوتے ہیں
02:33جو مطلب کیا کہتے ہیں
02:35اس طرح کی بیماری سے
02:36یا اور بھی بہت ساری بیماریاں
02:38کے لئے کینسری نہیں ہے
02:39جیسے تھیلیسیمیا کے بھی کچھ بچے تک آتے ہیں
02:42کچھ ینگ پیشنٹ بھی آتے ہیں
02:44تو ان کو بس میں یہی کہتی ہوں
02:45کہ دیکھو میرے کو بھی ہے
02:46اور میں یہاں پہ کام بھی کر رہی ہوں
02:48سب کر رہی ہوں تو تم لوگ بھی کر سکتے ہو
02:49اس لئے یہ میں سوچو کہ
02:51ایک بیماری ہو گئی تو اب تمہاری لائف ختم ہو گئی
02:53جی روگ کے نیورولوجی بھباگ میں
02:56پدست سٹاف نرش پریم لتا ماتنکر
02:58جن کی کہانی اپنے آپ میں
03:00پریڑنا دینے والی ہے
03:01عام طور پر کینسر سے ابرنے میں
03:03لوگ آرثک اور مانسک روپ سے ٹوٹ جاتے ہیں
03:06کئی بات تو زندگی سے بھی ہار جاتے ہیں
03:07لیکن پریم لتا ماتنکر ان میں سے ہیں
03:10جو ایک نہیں بلکہ دوسری بار
03:12کینسر سے لڑ رہی ہیں
03:13چودہ برسوں سے جی روگ اسپتال میں
03:14اپنی سیوائیں دے رہی پریم لتا کو
03:16پہلی بار دوہزار بیس میں
03:17بریسٹ کینسر ہونے کا پتہ چلا تھا
03:19تب ان کے پاس تین ماہ کی بیٹی تھی
03:21بیماری کا پتہ چلا تو پوری طرح ٹوٹ گئیں
03:23لیکن پھر خیال اپنی بیٹی کا اور پریوار کا آیا
03:25جس سے ان کو جینے کا نیا نظریہ ملا
03:29انہوں نے خود کو اندر سے سٹرونگ کیا
03:31اور انہوں نے گوالیر جائر روگ اسپتال میں ہی
03:33ٹریٹمنٹ لینا شروع کیا تھا
03:35دوہزار تیئیس میں انہیں دوبارہ کینسر ریپیٹ ہوا
03:37اس بار لنگس اور بون کینسر نے انہیں چکڑ لیا تھا
03:41لیکن گھر میں اب دو بیٹیاں تھیں
03:43ان کی ذمہ داری نے اور حوصلہ دیا
03:45علاج کے دوران اب تک انہوں نے
03:47تیتالیس سیشن کیمو تھرپی کے لیے ہیں
03:50اور دو مہینے پہلے وہ
03:51ریڈییشن ٹریٹمنٹ بھی لے چکی ہیں
03:52لیکن ان کا ایشور پر
03:54وشواس کم نہیں ہوا ہے
03:55سر میں کینسر پیشنٹ ہوں
03:57اور دوہزار بیس سے ہوں
04:00کنٹینیو ابھی تک
04:01پہلے مجھے بریس کینسر تھا
04:04جس کا ٹریٹمنٹ چلا ایک سال قریب
04:06پھر مجھے ریپیٹ ہو گیا
04:08جون دوہزار تیئیس سے
04:09میں لنگس اور بون کینسر سے پیڑی تھوں
04:13اور اب میرا علاج دللی میں چل رہا ہے
04:15ہر 21 دن میں میری کیمو تھرپی ہوتی ہے
04:17میں ریڈییشن لے چکی ہوں
04:19ابھی دو مہینے پہلے
04:21تو میں نے خود کو
04:23منٹلی سٹرونگ کر لیا
04:24اس چیز کے لیے
04:25کہ کینسر ایک ایسا نام ہے
04:27جس میں ایسے لگتا ہے
04:29کہ یہ نام ہی موت سے جڑا ہوا ہے
04:31لوگوں کے دماغ میں یہی ہے
04:32تو ہم کو منٹلی سٹرونگ رہنا ہوتا ہے
04:35تو میں نے خود کو منٹلی سٹرونگ کر لیا ہے
04:37تاکہ بیماری مجھ پر حاوی نہ ہو
04:39اور میں اس پہ جیت پاؤں
04:41میرے ساتھ والے مجھے پورا سہیوک کر پہ ہیں
04:43پورا باڈی پین رہتا ہے
04:46مجھے خود نہیں پتا
04:47میں بنا درد کے کب سوئی ہوں
04:49کتنے دن پہلے سوئی تھی
04:50جب میرے شریر میں درد نہیں تھا
04:53اور فائنینشیل ہی بھی
04:54میں پورے طریقے سے
04:55ٹوٹ چکی ہوں
04:57لیکن ٹھیک ہے
04:59لائف ہے تو سب ہے
05:00اپنے بچوں کو دیکھ کر لگتا ہے
05:02کہ ان کے لیے مدر ہی سب کچھ ہے
05:04تو جو ماترتو ہے میرا
05:06تو وہی مجھے یہاں تک لے کر آتا ہے
05:09اور مجھے اوپر والا سٹرنگ دیتا ہے
05:11میں بھگوان پہ سب چھوڑ کے رکھی ہوں
05:13تو اس لیے
05:14میں مطلب پوری پوزیٹیو
05:16آدھیات مکتہ سے ہی ہوں
05:18پہلی بار ہوا تھا
05:19تو میں خود بھی بہت شوق میں چلی گئی تھی
05:22اور مجھے سٹرونگ اس لیے بھی رہنا پڑتا
05:24کیونکہ میرے حسبرنٹ جیادہ پوزیسیو ہے
05:26اس معاملے میں
05:27وہ جلدی ٹھوٹ جاتے ہیں
05:28تو مجھے ان کو دیکھ کر
05:30اور تب میری بچی تین مہینے کی تھی
05:32جب مجھے پہلی بار ہوا تھا
05:34تو اس لیے مجھے تب سے سٹرونگ ہونا پڑا
05:37تو آج تک میں سٹرونگ ہوتی چلی گئی
05:39ہوتی چلی گئی
05:39پریم لطا اور راکھی کی طرح ہی ایک اور نرس ہیں
05:42سنیتا ڈوگرے
05:43سنیتا کو کینسر تو نہیں ہے
05:45لیکن ان کا جیون بھی اپنی بیماری کے چلتے
05:47کم سنگرش بھرا نہیں ہے
05:4847 سال کی سنیتا پچھلے 12 ورشوں سے
05:51رومیٹائیڈ آرثورائٹس سے پیڑے تھے
05:53سر سے لے کر پیاروں تک
05:55شریر کا ایک ایک جوائنٹ
05:57اس بیماری کی وجہ سے بے تہاشا درد دیتا ہے
05:59ہاتھوں کی انگلیاں تک تیڑی ہونے لگی ہیں
06:01چلنے پھرنے سے تکلیف ہوتی ہے
06:03لیکن پھر بھی ہر دن سنیتا
06:05ہزار بستر اسپتال کے
06:06اورتھوپیڈک ڈپارٹمنٹ میں
06:07ڈیوٹی کے لیے پہنچتی ہیں
06:09جیسے تکلیف ہوتی ہے
06:11تو
06:12ایسا لگتا ہے کہ بیٹھیں گے
06:15اور بیٹھے رہیں گے
06:16تو پھر تکلیف بڑھے گی
06:17تو اندر سے ایک فیلنگ آتی ہے
06:20کہ نہیں آپ کو اٹھنا ہے
06:21کرنا ہے
06:22تو پھر
06:23اندر سے ججب آتا ہے
06:26رومیٹائیڈ آرثورائٹس
06:27بہت زیادہ گمبیر ہے
06:29بہت زیادہ
06:30آپ میرے ہاتھ دیکھ پا رہے ہیں
06:33یہ پورے تیڑے ہو جاتے ہیں
06:36ہڈیوں کا پرابلم ہے
06:37جوائنٹ کا
06:37اس میں سارے جوائنٹ ایفیکٹ ہو جاتے ہیں
06:40رومیٹائیڈ آرثورائٹس میں
06:41اور سارے جوائنٹ
06:44یہاں تک کہ یہ جوائنٹ
06:45جب بڑے کا جوائنٹ ہے
06:47کھانے کھانے میں بھی کبھی کبھی دکھت آتی ہے
06:49کہ یہاں سے درد ہوتا ہے
06:52تو کھا بھی نہیں پاتے کبھی کبھی
06:53اتنی دکھت آتی ہے
06:55بس یہی کہ
06:56دنیا میں آئے ہیں
06:58تو کچھ تو اچھا کر کے جانا چاہیے
07:01تو سوچتے کم سے کم کسی کی سیوائی کر لیں
07:04ہاں
07:04ان کا بھی سپورٹ ہے پورا
07:06وہ بھی کہتے ہیں
07:08نہیں ویسے وہ زیادہ مجھے فورس نہیں کرتے
07:10کہ آپ جاؤ ڈیوٹی کرو کام کرو
07:12ایسا نہیں بولتے
07:13لیکن میں خود ہی کرنا چاہتی ہوں
07:15کہ نہیں
07:16میں کچھ کر کے جانا چاہتی ہوں
07:18اوپر والے کو بھی اپنے مو دکھانا ہے
07:21روگ اسپطال میں
07:23ان کے علاوہ بھی ایسی کئی نرسیں ہیں
07:24جو الگ الگ بیماریوں سے جوج رہی ہیں
07:26لیکن بابجود اس کے
07:27اپنے کام اپنی ڈیوٹی کو زیادہ مہتو دیتی ہیں
07:30اور پریم لطا
07:31راکھی
07:32اور سنیتا کا
07:33اپنے کام کے پرتی سمرپن اور جذبہ
07:35واقعی کابلے تاریف ہے
07:36جو اپنا درد بھلا کر بھی
07:38دوسروں کی تکلیف کرنے میں
07:40جھٹی ہوئی ہیں
07:41گوالیر سے پیوشری واسطف کی
07:42ریپورٹ
07:43ای ٹی وی بھارت
Comments