00:00Alhamdulillah, Rabbil Alameen
00:03والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والنوسرين
00:09وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين
00:18أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:24بسم الله الرحمن الرحيم
00:27وما محمد إلا رسول
00:32قد خلت من قبله الرسل
00:37أفإن مات أو قتلا قلبتم على أعقابكم
00:43ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا
00:50وسيجزي الله الشاكرين
00:54صدق الله العظيم
00:57برادر مكرم
01:04حضرت مولانا
01:07قاري عبدالقادر صاحب
01:11برادر مكرم
01:15قاري شاكر رحمی صاحب
01:20اور حضرت قاري صاحب
01:23تمام صاحب زادگان
01:27اور ان کے خانوادے کے یہاں پر موجود
01:30تمام احباب
01:33علماء کرم
01:34میرے بزرگو
01:35دوستو اور بھائیو
01:37یہ بڑی اچھی روایت ہوتی ہے
01:47اگر ہم اپنے بزرگوں کو
01:51اور اپنے اقابر کو
01:53اس طرح کے اجتماعات
01:57ملتط کر کے
01:59یا اپنے اقابر کے
02:02حق میں کچھ
02:04کتابیں تحریر کر کے
02:05انہیں ہم زندے جعویر
02:09بنا سکتے ہیں
02:10حضرت قاري محمد طاہر صاحب
02:17رحمہ اللہ
02:18ان کا بہت زیادہ حق تھا
02:24ہمارے اوپر
02:24کہ ہم
02:29ان جیسے
02:31عالی مرتبت
02:35اور بلند پائے کے
02:38استاد اور عالم
02:42ان کا تذکرہ کرنے کے لیے
02:47اس طرح کے کوئی مجلس منقض کرتے
02:49یہ وہ شخصیت ہیں جو
02:54گمنامی میں
02:56بہت بڑی
02:58خدمت کر گئے
02:59میں جب سکول پڑھتا تھا
03:07ملتان میں
03:07تو میں سکول سے
03:11حسن قرارت کے مقابلوں میں
03:13شرکت کرتا تھا
03:14تو ایک دن
03:18مالے سامنے بٹھایا
03:19کہ تم نے تجویز پڑھی نہیں ہے
03:23مقابلے کیسے کرتے ہو
03:24اور پھر جیتتے کیسے ہو
03:26تو سناو
03:29جب میں نے سنایا
03:33تو انہوں نے قدم قدم پھر
03:34غلطیاں پکڑی
03:35اور غلطیاں پکڑی
03:36اور ان غلطیاں کے ساتھ
03:37مقابلے بھی کرتے ہو
03:38جیتتے بھی ہو
03:39دوسرے کا کیا حال ہوگا
03:42تو پھر انہوں نے
03:45قاری صاحب سے بات کی
03:47اور کہا
03:48کہ فضل الرحمن کو پڑھاؤ
03:49تو
03:55چھوٹے رسالیں
03:58جماعز القرآن
03:59فوائد مکیہ
04:00یہ میں نے ان سے پڑھے
04:02اور تجویز بھی انہوں نے
04:06میری اصلاح کی
04:07اب ظاہر ہے کہ یہ جو ایک سلسلہ ہے
04:12حضرت قاری محمد طاہر صاحب کا
04:16قاری رحیم بخش صاحب کا
04:17رحمہ اللہ
04:18قاری فتح محمد صاحب رحمہ اللہ
04:22یہ پانی پتی سلسلے کے لوگ ہیں
04:26تو کبھی بھی
04:31انہوں نے
04:33مجھے لہجہ تبدیل کرنے کا نہیں کہا
04:36لیکن یہ ہے کہ
04:40پڑھاتے بھی تھے
04:42پھر ساتھ ساتھ
04:44بلستان بوستان
04:46یہ بھی پڑھاتے رہے مجھے
04:47اور
04:51حضرت مارسہ رحمہ اللہ کو
04:53بہت ہی
04:55خواہش ہوتی تھی کہ
04:57رمضان شریف ہو تو پھر
04:59ترانی میں ختم قرآن قاری صاحبی کرائیں
05:02تو مسجد میں تو کراتے ہی تھے لیکن بعض اوقات
05:07میں نے دیکھا کہ
05:08والد صاحب کے لئے خصوصی وہ انتظام کرتے تھے
05:11اور جب مفتی صاحب وزیر علیہ بنے
05:15تو اس سال جب رمضان شریف آیا تو
05:17قاری صاحب کو پشاور بلایا
05:19اور وہاں چیپ وزر ہاؤس میں
05:22انہوں نے ختم قرآن کیا
05:24تو انتہائی ایک
05:27تعلق
05:29محبت اور ان کے علمی استعداد
05:31کو عالمی دین ہی جانتا ہے
05:33پھر جب مدینہ منورہ
05:41منتقل ہوئے یہاں سے تو
05:43ظاہر ہے یہ کہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں
05:45اور پھر وہاں مستقل رہنے کے غرص ہے
05:47تو کچھ مشکلات آتی تھی
05:52تو اس مشکلات میں
05:55وہ مجھ سے رابطہ بھی کرتے تھے
05:56اور میں ان سے پوچھتا تھا
06:00کہ قاری صاحب آپ کیوں مدینہ منورہ جا رہے ہیں
06:02یا تو ٹھیک نظام چل رہا ہے آپ کا
06:04کہتے ہیں نہیں
06:06میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا
06:08کہ پچاس سال کے بعد پھر میں مدینہ منورہ میں رہوں گا
06:11پھر مزید دنگی مدینہ کیا وعدہ کرتا
06:13اور وہ نبھایا
06:16تو جب بھی میں جاتا تھا ملاقات بھی ہوتی تھی
06:22اور انتہائی شفقت بھی فرماتے تھے
06:24اور یہ بھی بتاتے تھے
06:27کہ میں فلانے وقت کی جو نفل پڑتا ہوں
06:29اس میں فلانے روایت میں فلانے سپارے میں ہوں
06:32تحجد میں ہوتا ہوں
06:35تو اس میں فلانے روایت کے اندر
06:37میں فلانے سپارے میں ہوں
06:38اوابین پڑتا ہوں
06:41تو میں فلانے روایت کے تحجد فلانے سپارے میں ہوں
06:44یعنی مختلف
06:46روایات میں وہ سلسل
06:48ایک جا بیعک وقت ختم کر رہے ہوتے تھے
06:50تو یہ قرآن کریم کے ساتھ
06:54ان کا ایک تعلق
06:55اور اللہ کے کلام کے ساتھ
06:58جو آدمی جڑ جائے
06:59اس سے بڑی بات پھر تو اور ہو نہیں سکتی
07:03بہرحال
07:05دنیا میں جو بھی آیا
07:10وہ اپنی تمام تل صلاحیت ہوں
07:14وہ اپنی بڑائی کے ساتھ دنیا سے چل جاتا ہے
07:17اس کائنات میں اگر
07:24بقا کسی ذات کو حاصل ہے
07:27تو وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے
07:30بڑی بڑی شخصیات
07:35دنیا میں آتی ہیں
07:38شخصیات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
07:43اور انسانی معاشرے کو دو چیزیں چاہیے ہیں
07:51ایک
07:54قیادت
07:56اور دوسرا قانون
08:00قانون
08:05وہ دائم ہوتا ہے
08:07مسلسل چلتا ہے
08:09شخصیات اور قیادت
08:12کسی وقت وہ
08:14دنیا سے چلے جاتے ہیں
08:16پردہ کر جاتے ہیں
08:17ہمارے اکابر نے
08:23دین اسلام سے جو کچھ اخذ کیا اور ہمیں پڑھایا انہوں نے
08:32وہ یہی ہے
08:36کہ ہم اکابر کے نصب العیم کو سامنے رکھیں
08:42اور ان کے نصب العیم کو زندہ رکھیں
08:48کہ نصب العیم کو بقا حاصل ہے
08:55میں تو ایک طالب علم ہوں
09:04میں علماء اکرام کے سامنے بھی
09:10اس کا ذکر کرتا رہتا ہوں
09:11کہ غزوہ احد کے موقع پر
09:16جب صورتحال پلٹ گئی
09:20ستر صحابہ اکرام شہید ہو گئے
09:25خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
09:27دندان مبارک شہید ہو گئے
09:30چہرے سے خون آ گیا
09:31غار میں پناہ بھی لینی پڑ گئی
09:35اور کس کرب سے
09:37اس وقت وہ گزرے
09:39ایسے وقت میں
09:44حضرت ابو صفیان
09:49جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے
09:50مشرقین مکہ کی وہ
09:51کمان کر رہے تھے
09:53انہوں نے آواز دی
09:57افیکم محمد
09:58صحابہ اکرام نے
10:03عرض کیا
10:03یا رسول اللہ کیا جواب دیں
10:05فرمایے
10:06اللہ تجیبو
10:07جواب مطل
10:09پھر اس نے آواز لگائی
10:13افیکم ابو بکر بن ابی قحافہ
10:17ابو بکر بن ابی قحافہ زندہ ہے
10:23صحابہ اکرام نے کل پوچھا
10:27یا رسول اللہ کیا جواب دیں
10:28فرمایے اللہ تجیبو
10:29جواب مطل
10:30پھر اس نے آواز دی
10:34افیکم عمر بن خطاب
10:36پھر آپ نے فرمایے
10:41اللہ تجیبو
10:42جواب مطل
10:44جب ان تین شخصیات کے بارے میں
10:48جواب نہیں آیا
10:50تو پھر اس نے فتح کا نعرہ لگایا
10:54اعلوہ بل کا نعرہ لگایا
10:57یہ نعرہ لگایا تو آپ نے فرمایا
11:01جواب دو
11:02اللہ اعلی و جل
11:04پھر اس نے نعرہ لگایا
11:09لَنَا عُزَّا وَلَا عُزَّا لَكُمْ
11:13تو پھر آپ نے فرمایا
11:15کہ اس کا جواب دو
11:16اللہ مولانا وَلَا مُولَا لَكُمْ
11:19اب
11:23ہمیں تھوڑا سا سوچنا پڑتا ہے
11:26کہ پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دی رہا
11:31اور آخری دو آوازوں پر جواب دے دیا
11:35اس سے حاصل کیا ہوتا ہے
11:40ہم نے سبق کیا لینا ہے اس سے
11:45یہ ایک تعلیم ہے
11:49اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:54کی خاموشی بھی
11:55بعض مقامات پر حکمت کا تقاضہ ہوتا ہے
11:58امت کو تعلیم دے دی
12:03پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دیا
12:07اگر دے دیتے
12:10تو ہمیں یوں ذہن دیا جاتا
12:13ہمیں یوں تعلیم ملتی
12:15کہ جیسے ہمارا بقا اور دارمدار
12:18ان شخصیات پر رہیں یہ ہیں
12:20تو پھر امت ہے ولا نہیں
12:21تو اس موقع پر آپ نے خاموش ہی ظاہر کی
12:27تاکہ شخصیات کی اہمیت جیبر قرار رہے
12:31اور یہ کہ انہوں نے تو ہمیشہ نہیں رہنا
12:34تو امت کی بقا اور دین کی بقا کا دارمدار شخصیات پر نہیں ہے
12:38لیکن جب اس نے عقیدے کا اظہار کیا
12:47آپ نے فورا جواب دیا
12:49تعلیم دی ہمیں اور آپ کو اور امت کو
12:53کہ اس عقیدے توحید کے ساتھ امت زندہ رہی
12:56تو اسی طرح ہمارے اساتذہ ہمارے اکابر
13:04جن کے ہم تذکرہ کرتے ہیں
13:08تو وہ ہمارے لئے ایک حجت ہوتے ہیں
13:10حضرت قاری رحیم بخش صاحب
13:17رحمہ اللہ
13:19حسین اگاہی والی مسجد میں
13:22چھوٹی سی مسجد میں پڑھاتے تھے
13:23اور میں نے دیکھا کہ واضح صاحب
13:27باقاعدہ جاتے تھے
13:29مسجد میں ان کے ساتھ محراب میں بیٹھ جاتے تھے
13:33طلبہ پڑھ رہے ہوتے تھے
13:35طلبہ کی
13:37تلاوت کی گونج میں
13:39آپس بھی حال احوال نہیں ہو سکتا تھا
13:41تو دونوں خاموش ایک گھنٹہ بیٹھے رہتے تھے
13:44اور قرآن سنتے تھے بچوں کا
13:47اور پھر رخصت ہو جاتے تھے
13:49تو ان حضرات کے ساتھ
13:59جو تعلق میں نے دیکھا
14:02میں نے اس کا مشاہدہ کیا
14:03اس تعلق کا ہمیں قدر کرنے چاہئے
14:10اور ماشاءاللہ
14:15ان کے اولاد میں
14:18تحفیز قرآن
14:21تجوید
14:24جو حضرت نے ان کو منتقل کی
14:29ان میں برکور صلاحیت و استعداد
14:34اللہ نے دیا
14:35اور وہ آج ان کے اولاد میں زندہ ہے
14:38اور وہ صلاحیت اللہ نے ان کو عطا کی
14:40اس قسم کے اجتماعات ہمارے اکابر کے
14:46حوالے سے ہونے چاہیں گے
14:48ہم کسی کے ارسل نہیں بناتے جائیں
14:53لیکن ہمارے نظر کوئی دن متعین ہے
14:58لیکن ایسے اجتماعات میں
15:02اگر ہم اپنے اکابر کے تذکرے کریں گے
15:04تو یہ تذکرہ بھی
15:07عقیدہ کی پختگی کا سبب بنتا ہے
15:09اور یہ سند بنتا ہے
15:12کیونکہ دین سند کا نام ہے
15:15ان لوگوں سے قرآن ہمیں منتقل ہوا ہے
15:20حدیث ہمیں منتقل ہوئی ہے
15:24تو ظاہر ہے
15:27کہ اگر ہم ان کے فیوز و برکات سے
15:31استفادہ کرنا چاہیں گے
15:33تو پھر تعلق جو عدب کا ہے
15:36اور احترام کا ہے
15:37وہ برقرار بکنے چاہے
15:38اللہ تعالیٰ ان کے ارواح کو
15:43تر و تازہ رکھے
15:46ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے
15:50کہ معلی فضل الرحمن عجیب کام ہوا ہے
15:53میرے ساتھ
15:54میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں
15:58اور جب میں ایک دن اتفاق سے
16:02ظاہر حرامیں گیا
16:04تو میں نے چاہا کہ میں یہاں دو رکات پڑھوں
16:08تو میری منزل جو تھی
16:12آج کی منزل شروع ہو رہی تھی
16:16اقرآ سے
16:16اور کہا پہلے مجھے علم نہیں تھا
16:20لیکن جب میں نے اپنی منزل کو دیکھا
16:23اور میں نے کہا کہ دو رکات پڑھوں گا
16:24تو اس میں کونسی صورت میں نے پڑھا
16:26تو میرے آغاز اقرآ سے ہو رہا تھا
16:29تو وہ کہتے ہیں بہت میں خوش ہوا
16:33کہ جہاں پہلی واحی آئی ہے
16:35اور میری منزل بھی آج یہیں سے شروع ہو رہی ہے
16:39تو یہ وہ لگاؤ تھا
16:44اور اس قسم کے لگاؤ کے بعد
16:48ان کی جو نورانی شخصیت
16:51میں تو مدینہ منورہ میں
16:53جب بھی جاتا تھا
16:54تو زیارت کے لیے حاضر ہوتا تھا
16:56اور جب وہ بیمار تھے
16:58تو گھر میں جا کر
17:00انہوں نے
17:01مجھے اجازت دی کہ آپ اندر آ جائیں
17:04تو آخری ملاقات وہی تھی
17:08اس کے بعد پھر وہ ہم سے جدا ہو گئے
17:11اور ہم
17:13آج ان کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ
17:15اتنے خوبصورت اجتماع میں
17:18ان کا ذکر کر رہے ہیں
17:20تو یہ تذکرے
17:22اپنے اکابر کے جاری رہنے چاہیے
17:24اور ان کی خدمات کو
17:27زندہ رکھنا چاہیے
17:28تاکہ امت کو
17:30رہبت ملے
17:31اور ان کے نصفرین کے ساتھ
17:34لوگ بابستہ ہو جائیں
17:35اللہ تعالی
17:37اس اجتماع میں شریک ہونے والے ہیں
17:39اللہ تعالی
Comments