Skip to playerSkip to main content
Video Description:

Maulana Fazlur Rehman held an important press conference today, addressing the current political situation in Pakistan. He strongly criticized government policies, highlighted the urgent need to resolve public issues, and urged political parties to pursue dialogue for solutions. The opposition leader emphasized the importance of upholding democracy and the constitution, while voicing concerns over inflation and economic pressure on the people. Watch the full coverage for his statements on political accountability, governance, and the future of Pakistan’s democracy.

#b42newstv #MaulanaFazlurRehman #PressConferencePakistan #PakistanPolitics #OppositionLeader #GovernmentCriticism #DemocracyInPakistan #InflationPakistan #PoliticalUpdate #BreakingNewsPakistan #PublicIssues

Category

🗞
News
Transcript
00:00Alhamdulillah, Rabbil Alameen
00:03والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والنوسرين
00:09وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين
00:18أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:24بسم الله الرحمن الرحيم
00:27وما محمد إلا رسول
00:32قد خلت من قبله الرسل
00:37أفإن مات أو قتلا قلبتم على أعقابكم
00:43ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا
00:50وسيجزي الله الشاكرين
00:54صدق الله العظيم
00:57برادر مكرم
01:04حضرت مولانا
01:07قاري عبدالقادر صاحب
01:11برادر مكرم
01:15قاري شاكر رحمی صاحب
01:20اور حضرت قاري صاحب
01:23تمام صاحب زادگان
01:27اور ان کے خانوادے کے یہاں پر موجود
01:30تمام احباب
01:33علماء کرم
01:34میرے بزرگو
01:35دوستو اور بھائیو
01:37یہ بڑی اچھی روایت ہوتی ہے
01:47اگر ہم اپنے بزرگوں کو
01:51اور اپنے اقابر کو
01:53اس طرح کے اجتماعات
01:57ملتط کر کے
01:59یا اپنے اقابر کے
02:02حق میں کچھ
02:04کتابیں تحریر کر کے
02:05انہیں ہم زندے جعویر
02:09بنا سکتے ہیں
02:10حضرت قاري محمد طاہر صاحب
02:17رحمہ اللہ
02:18ان کا بہت زیادہ حق تھا
02:24ہمارے اوپر
02:24کہ ہم
02:29ان جیسے
02:31عالی مرتبت
02:35اور بلند پائے کے
02:38استاد اور عالم
02:42ان کا تذکرہ کرنے کے لیے
02:47اس طرح کے کوئی مجلس منقض کرتے
02:49یہ وہ شخصیت ہیں جو
02:54گمنامی میں
02:56بہت بڑی
02:58خدمت کر گئے
02:59میں جب سکول پڑھتا تھا
03:07ملتان میں
03:07تو میں سکول سے
03:11حسن قرارت کے مقابلوں میں
03:13شرکت کرتا تھا
03:14تو ایک دن
03:18مالے سامنے بٹھایا
03:19کہ تم نے تجویز پڑھی نہیں ہے
03:23مقابلے کیسے کرتے ہو
03:24اور پھر جیتتے کیسے ہو
03:26تو سناو
03:29جب میں نے سنایا
03:33تو انہوں نے قدم قدم پھر
03:34غلطیاں پکڑی
03:35اور غلطیاں پکڑی
03:36اور ان غلطیاں کے ساتھ
03:37مقابلے بھی کرتے ہو
03:38جیتتے بھی ہو
03:39دوسرے کا کیا حال ہوگا
03:42تو پھر انہوں نے
03:45قاری صاحب سے بات کی
03:47اور کہا
03:48کہ فضل الرحمن کو پڑھاؤ
03:49تو
03:55چھوٹے رسالیں
03:58جماعز القرآن
03:59فوائد مکیہ
04:00یہ میں نے ان سے پڑھے
04:02اور تجویز بھی انہوں نے
04:06میری اصلاح کی
04:07اب ظاہر ہے کہ یہ جو ایک سلسلہ ہے
04:12حضرت قاری محمد طاہر صاحب کا
04:16قاری رحیم بخش صاحب کا
04:17رحمہ اللہ
04:18قاری فتح محمد صاحب رحمہ اللہ
04:22یہ پانی پتی سلسلے کے لوگ ہیں
04:26تو کبھی بھی
04:31انہوں نے
04:33مجھے لہجہ تبدیل کرنے کا نہیں کہا
04:36لیکن یہ ہے کہ
04:40پڑھاتے بھی تھے
04:42پھر ساتھ ساتھ
04:44بلستان بوستان
04:46یہ بھی پڑھاتے رہے مجھے
04:47اور
04:51حضرت مارسہ رحمہ اللہ کو
04:53بہت ہی
04:55خواہش ہوتی تھی کہ
04:57رمضان شریف ہو تو پھر
04:59ترانی میں ختم قرآن قاری صاحبی کرائیں
05:02تو مسجد میں تو کراتے ہی تھے لیکن بعض اوقات
05:07میں نے دیکھا کہ
05:08والد صاحب کے لئے خصوصی وہ انتظام کرتے تھے
05:11اور جب مفتی صاحب وزیر علیہ بنے
05:15تو اس سال جب رمضان شریف آیا تو
05:17قاری صاحب کو پشاور بلایا
05:19اور وہاں چیپ وزر ہاؤس میں
05:22انہوں نے ختم قرآن کیا
05:24تو انتہائی ایک
05:27تعلق
05:29محبت اور ان کے علمی استعداد
05:31کو عالمی دین ہی جانتا ہے
05:33پھر جب مدینہ منورہ
05:41منتقل ہوئے یہاں سے تو
05:43ظاہر ہے یہ کہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں
05:45اور پھر وہاں مستقل رہنے کے غرص ہے
05:47تو کچھ مشکلات آتی تھی
05:52تو اس مشکلات میں
05:55وہ مجھ سے رابطہ بھی کرتے تھے
05:56اور میں ان سے پوچھتا تھا
06:00کہ قاری صاحب آپ کیوں مدینہ منورہ جا رہے ہیں
06:02یا تو ٹھیک نظام چل رہا ہے آپ کا
06:04کہتے ہیں نہیں
06:06میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا
06:08کہ پچاس سال کے بعد پھر میں مدینہ منورہ میں رہوں گا
06:11پھر مزید دنگی مدینہ کیا وعدہ کرتا
06:13اور وہ نبھایا
06:16تو جب بھی میں جاتا تھا ملاقات بھی ہوتی تھی
06:22اور انتہائی شفقت بھی فرماتے تھے
06:24اور یہ بھی بتاتے تھے
06:27کہ میں فلانے وقت کی جو نفل پڑتا ہوں
06:29اس میں فلانے روایت میں فلانے سپارے میں ہوں
06:32تحجد میں ہوتا ہوں
06:35تو اس میں فلانے روایت کے اندر
06:37میں فلانے سپارے میں ہوں
06:38اوابین پڑتا ہوں
06:41تو میں فلانے روایت کے تحجد فلانے سپارے میں ہوں
06:44یعنی مختلف
06:46روایات میں وہ سلسل
06:48ایک جا بیعک وقت ختم کر رہے ہوتے تھے
06:50تو یہ قرآن کریم کے ساتھ
06:54ان کا ایک تعلق
06:55اور اللہ کے کلام کے ساتھ
06:58جو آدمی جڑ جائے
06:59اس سے بڑی بات پھر تو اور ہو نہیں سکتی
07:03بہرحال
07:05دنیا میں جو بھی آیا
07:10وہ اپنی تمام تل صلاحیت ہوں
07:14وہ اپنی بڑائی کے ساتھ دنیا سے چل جاتا ہے
07:17اس کائنات میں اگر
07:24بقا کسی ذات کو حاصل ہے
07:27تو وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے
07:30بڑی بڑی شخصیات
07:35دنیا میں آتی ہیں
07:38شخصیات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
07:43اور انسانی معاشرے کو دو چیزیں چاہیے ہیں
07:51ایک
07:54قیادت
07:56اور دوسرا قانون
08:00قانون
08:05وہ دائم ہوتا ہے
08:07مسلسل چلتا ہے
08:09شخصیات اور قیادت
08:12کسی وقت وہ
08:14دنیا سے چلے جاتے ہیں
08:16پردہ کر جاتے ہیں
08:17ہمارے اکابر نے
08:23دین اسلام سے جو کچھ اخذ کیا اور ہمیں پڑھایا انہوں نے
08:32وہ یہی ہے
08:36کہ ہم اکابر کے نصب العیم کو سامنے رکھیں
08:42اور ان کے نصب العیم کو زندہ رکھیں
08:48کہ نصب العیم کو بقا حاصل ہے
08:55میں تو ایک طالب علم ہوں
09:04میں علماء اکرام کے سامنے بھی
09:10اس کا ذکر کرتا رہتا ہوں
09:11کہ غزوہ احد کے موقع پر
09:16جب صورتحال پلٹ گئی
09:20ستر صحابہ اکرام شہید ہو گئے
09:25خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
09:27دندان مبارک شہید ہو گئے
09:30چہرے سے خون آ گیا
09:31غار میں پناہ بھی لینی پڑ گئی
09:35اور کس کرب سے
09:37اس وقت وہ گزرے
09:39ایسے وقت میں
09:44حضرت ابو صفیان
09:49جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے
09:50مشرقین مکہ کی وہ
09:51کمان کر رہے تھے
09:53انہوں نے آواز دی
09:57افیکم محمد
09:58صحابہ اکرام نے
10:03عرض کیا
10:03یا رسول اللہ کیا جواب دیں
10:05فرمایے
10:06اللہ تجیبو
10:07جواب مطل
10:09پھر اس نے آواز لگائی
10:13افیکم ابو بکر بن ابی قحافہ
10:17ابو بکر بن ابی قحافہ زندہ ہے
10:23صحابہ اکرام نے کل پوچھا
10:27یا رسول اللہ کیا جواب دیں
10:28فرمایے اللہ تجیبو
10:29جواب مطل
10:30پھر اس نے آواز دی
10:34افیکم عمر بن خطاب
10:36پھر آپ نے فرمایے
10:41اللہ تجیبو
10:42جواب مطل
10:44جب ان تین شخصیات کے بارے میں
10:48جواب نہیں آیا
10:50تو پھر اس نے فتح کا نعرہ لگایا
10:54اعلوہ بل کا نعرہ لگایا
10:57یہ نعرہ لگایا تو آپ نے فرمایا
11:01جواب دو
11:02اللہ اعلی و جل
11:04پھر اس نے نعرہ لگایا
11:09لَنَا عُزَّا وَلَا عُزَّا لَكُمْ
11:13تو پھر آپ نے فرمایا
11:15کہ اس کا جواب دو
11:16اللہ مولانا وَلَا مُولَا لَكُمْ
11:19اب
11:23ہمیں تھوڑا سا سوچنا پڑتا ہے
11:26کہ پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دی رہا
11:31اور آخری دو آوازوں پر جواب دے دیا
11:35اس سے حاصل کیا ہوتا ہے
11:40ہم نے سبق کیا لینا ہے اس سے
11:45یہ ایک تعلیم ہے
11:49اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:54کی خاموشی بھی
11:55بعض مقامات پر حکمت کا تقاضہ ہوتا ہے
11:58امت کو تعلیم دے دی
12:03پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دیا
12:07اگر دے دیتے
12:10تو ہمیں یوں ذہن دیا جاتا
12:13ہمیں یوں تعلیم ملتی
12:15کہ جیسے ہمارا بقا اور دارمدار
12:18ان شخصیات پر رہیں یہ ہیں
12:20تو پھر امت ہے ولا نہیں
12:21تو اس موقع پر آپ نے خاموش ہی ظاہر کی
12:27تاکہ شخصیات کی اہمیت جیبر قرار رہے
12:31اور یہ کہ انہوں نے تو ہمیشہ نہیں رہنا
12:34تو امت کی بقا اور دین کی بقا کا دارمدار شخصیات پر نہیں ہے
12:38لیکن جب اس نے عقیدے کا اظہار کیا
12:47آپ نے فورا جواب دیا
12:49تعلیم دی ہمیں اور آپ کو اور امت کو
12:53کہ اس عقیدے توحید کے ساتھ امت زندہ رہی
12:56تو اسی طرح ہمارے اساتذہ ہمارے اکابر
13:04جن کے ہم تذکرہ کرتے ہیں
13:08تو وہ ہمارے لئے ایک حجت ہوتے ہیں
13:10حضرت قاری رحیم بخش صاحب
13:17رحمہ اللہ
13:19حسین اگاہی والی مسجد میں
13:22چھوٹی سی مسجد میں پڑھاتے تھے
13:23اور میں نے دیکھا کہ واضح صاحب
13:27باقاعدہ جاتے تھے
13:29مسجد میں ان کے ساتھ محراب میں بیٹھ جاتے تھے
13:33طلبہ پڑھ رہے ہوتے تھے
13:35طلبہ کی
13:37تلاوت کی گونج میں
13:39آپس بھی حال احوال نہیں ہو سکتا تھا
13:41تو دونوں خاموش ایک گھنٹہ بیٹھے رہتے تھے
13:44اور قرآن سنتے تھے بچوں کا
13:47اور پھر رخصت ہو جاتے تھے
13:49تو ان حضرات کے ساتھ
13:59جو تعلق میں نے دیکھا
14:02میں نے اس کا مشاہدہ کیا
14:03اس تعلق کا ہمیں قدر کرنے چاہئے
14:10اور ماشاءاللہ
14:15ان کے اولاد میں
14:18تحفیز قرآن
14:21تجوید
14:24جو حضرت نے ان کو منتقل کی
14:29ان میں برکور صلاحیت و استعداد
14:34اللہ نے دیا
14:35اور وہ آج ان کے اولاد میں زندہ ہے
14:38اور وہ صلاحیت اللہ نے ان کو عطا کی
14:40اس قسم کے اجتماعات ہمارے اکابر کے
14:46حوالے سے ہونے چاہیں گے
14:48ہم کسی کے ارسل نہیں بناتے جائیں
14:53لیکن ہمارے نظر کوئی دن متعین ہے
14:58لیکن ایسے اجتماعات میں
15:02اگر ہم اپنے اکابر کے تذکرے کریں گے
15:04تو یہ تذکرہ بھی
15:07عقیدہ کی پختگی کا سبب بنتا ہے
15:09اور یہ سند بنتا ہے
15:12کیونکہ دین سند کا نام ہے
15:15ان لوگوں سے قرآن ہمیں منتقل ہوا ہے
15:20حدیث ہمیں منتقل ہوئی ہے
15:24تو ظاہر ہے
15:27کہ اگر ہم ان کے فیوز و برکات سے
15:31استفادہ کرنا چاہیں گے
15:33تو پھر تعلق جو عدب کا ہے
15:36اور احترام کا ہے
15:37وہ برقرار بکنے چاہے
15:38اللہ تعالیٰ ان کے ارواح کو
15:43تر و تازہ رکھے
15:46ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے
15:50کہ معلی فضل الرحمن عجیب کام ہوا ہے
15:53میرے ساتھ
15:54میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں
15:58اور جب میں ایک دن اتفاق سے
16:02ظاہر حرامیں گیا
16:04تو میں نے چاہا کہ میں یہاں دو رکات پڑھوں
16:08تو میری منزل جو تھی
16:12آج کی منزل شروع ہو رہی تھی
16:16اقرآ سے
16:16اور کہا پہلے مجھے علم نہیں تھا
16:20لیکن جب میں نے اپنی منزل کو دیکھا
16:23اور میں نے کہا کہ دو رکات پڑھوں گا
16:24تو اس میں کونسی صورت میں نے پڑھا
16:26تو میرے آغاز اقرآ سے ہو رہا تھا
16:29تو وہ کہتے ہیں بہت میں خوش ہوا
16:33کہ جہاں پہلی واحی آئی ہے
16:35اور میری منزل بھی آج یہیں سے شروع ہو رہی ہے
16:39تو یہ وہ لگاؤ تھا
16:44اور اس قسم کے لگاؤ کے بعد
16:48ان کی جو نورانی شخصیت
16:51میں تو مدینہ منورہ میں
16:53جب بھی جاتا تھا
16:54تو زیارت کے لیے حاضر ہوتا تھا
16:56اور جب وہ بیمار تھے
16:58تو گھر میں جا کر
17:00انہوں نے
17:01مجھے اجازت دی کہ آپ اندر آ جائیں
17:04تو آخری ملاقات وہی تھی
17:08اس کے بعد پھر وہ ہم سے جدا ہو گئے
17:11اور ہم
17:13آج ان کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ
17:15اتنے خوبصورت اجتماع میں
17:18ان کا ذکر کر رہے ہیں
17:20تو یہ تذکرے
17:22اپنے اکابر کے جاری رہنے چاہیے
17:24اور ان کی خدمات کو
17:27زندہ رکھنا چاہیے
17:28تاکہ امت کو
17:30رہبت ملے
17:31اور ان کے نصفرین کے ساتھ
17:34لوگ بابستہ ہو جائیں
17:35اللہ تعالی
17:37اس اجتماع میں شریک ہونے والے ہیں
17:39اللہ تعالی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended