Skip to playerSkip to main content

Category

People
Transcript
00:00سویم بھگوان وشنو کے حوشتا بردئے جب ایک بھگت نے انہیں ایک ایٹ پھینک کر کہا
00:05اس پر کھڑے رہاو میں بعد میں آتا ہوں
00:07اور بھگوان وہ آج بھی اسی ایٹ پر کھڑے ہیں ہزاروں سال سے
00:12یہی ہے پندرپور کے وٹھل کی قطع
00:14اس بھگت کا نام تھا پندلک
00:16پہلے یہ انسان نہیں راکشس تھا
00:19بورحے ماں باپ سے نفرت کرتا تھا
00:21بیوی کے کہنے پر انہیں نوکر بنا رکھا تھا
00:23بولتا تھا بورحے ہو گئے ہو بس کھاتے رہو
00:26ایک دن پندلک پتنی کے ساتھ تیر تھے آترا پڑ نکلا
00:29ماں باپ کو بھی لے گیا
00:31پر سیوہ کے لیے نہیں بوجھ ڈھونے کے لیے
00:33رات کو جنگل میں رکے خود تو گرم کمبل میں سو گیا
00:36اور ماں باپ کو تھنڈ میں باہر چھوڑ دیا
00:38آدھی رات پندلک کی آنکھ کھلی
00:40اس نے دیکھا تین دیویستری آئیں
00:42ان کے کپڑے میلے تھے
00:44انہوں نے ماں باپ کے پیر دھوئے
00:46اور ایک چمتکار ہوا
00:47ان کے میلے کپڑے ایک دم ساف ہو گئے
00:49پندلک چونکا پوچھا
00:51ماتاؤں آپ کون ہیں
00:52ہم گنگا یمنا سرسوتی ہیں
00:55پاپی لوگ ہم میں نہاتے ہیں
00:57اس لیے میلی ہو جاتی ہیں
00:59پر ان وردھوں کی سیوہ سے
01:01ہم پھر پوطر ہو گئے
01:02بس اسی پل پندلک بدل گیا
01:05تیر تھے آترا چھوڑ دی
01:06اور دن رات بس ماں باپ کی سیوہ کرنے لگا
01:08خود بھوکا رہے انہیں کھلایا
01:10خود جاگے انہیں سلایا
01:12سال بیتے پندلک کی بھکتی کی چرچہ
01:15سورگ تک پہنچی
01:16تب بھگوان وشنو خود چل کر آئے
01:18بولے پندلک میں آیا ہوں
01:20پر پندلک ماں باپ کے پیر دبا رہا تھا
01:23اس نے پیچھے مڑ کر ایک ایٹ پھینکی اور بولا
01:25پربو اس پر کھڑے رہو
01:27سیوہ ختم کر کے آتا ہوں
01:28بھگوان مسکر آئے
01:30کمر پر ہاتھ رکھا
01:31اور ایٹ پر کھڑے ہو گئے
01:33جب ماں باپ سورگ سدھارے
01:34تب پندلک آیا
01:36بھگوان بولے
01:37مہا باپ کی سیوہ میری پوجہ سے بھی بڑی ہے
01:41میں یہی کھڑا رہوں گا
01:42تاکہ دنیا کو ہمیشہ یاد رہے
01:44آج پندرپور میں وٹھل مندر وہی جگہ ہے
01:47بھگوان کی مورتی آج بھی
01:49اسی ایٹ پر کھڑی ہے
01:50کمر پر ہاتھ
01:51کمنٹس میں جائے وٹھل اوشش لکھیں
Comments

Recommended