Skip to playerSkip to main content

Category

People
Transcript
00:00امیر حمزہ کی پیدائش
00:30کہ اسی زمانے میں بختک کے گھر میں بھی لڑکا پیدا ہوا
00:33بزج مہر نے اس کا نام بختیار رکھا
00:36نوشی روانے ایک رات بڑا عجیب خواب دیکھا
00:40جب آنکھ کھلی تو یہ خواب اسے اچھی طرح یاد تھا
00:44اب وہ اس کی طبیر جاننے کے لیے بے چین ہوا
00:47بزج مہر کو فوراں بلایا اور اس سے اپنا خواب یوں بیان کیا
00:51کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک ہرے بھرے میدان میں کھڑا ہوں
00:56تھنڈی تھنڈی ہوا چل رہی ہے
00:58صبح کا وقت ہے میں شاہی لباس پہنے ہوئے ہوں
01:02اور میرے سر پر تاج بھی رکھا ہے
01:04یکایک مشرق کی جانب سے ایک بہت بڑا اور خوفناک سورت
01:09کووہ اڑتا اڑتا ہوا آیا اور میرے سر پر سے تاج اتار کر لے گیا
01:14ابھی میں پریشان کھڑا اس قوے دیکھی رہا تھا
01:18کہ مغرب کی جانب سے ایک بہت خوبصورت قوے سے دوگنا بڑا
01:22سنہری پروں والا اقاب آیا اور قوے کی طرف لپکا
01:26وہ اسے مار کر تاج اپنی چونچ میں اٹھا کر لیا
01:29میرے سر پر رکھا اور جدھر سے آیا تھا
01:33ادھر ار کر نظروں سے غائب ہو گیا
01:35اب تم بتاؤ کہ اس خواب کی تبیر کیا ہے
01:39بزج مہر دیر تک سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا
01:42پھر اس نے کچھ حساب لگایا
01:44اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی
01:46اور چہرہ خوشی سے کھل اٹھا
01:48ہاتھ باندھ کر کہنے لگا
01:51جہاں پناہ آپ نے بڑا مبارک خواب دیکھا ہے
01:54اب اس کی تبیر عرض کرتا ہوں
01:56حضور
01:57مشرق کی طرف خیبر نام کا ایک شہر ہے
02:01وہاں ایک شخص پیدا ہوگا
02:03جس کا نام حشام رکھا جائے گا
02:06یہ بڑا ہو کر
02:07بڑی قوت اور نام دری پائے گا
02:09اور آہستہ آہستہ ایک طاقتور فوج تیار کر کے
02:13ایران پر حملہ کر دے گا
02:14اس جنگ میں حضور کی فوج شکست کھا جائے گی
02:18حشام آپ کا تخت اور تاج چھین لیے گا
02:21لیکن انہی دنوں مغرب کی جانب
02:23مکہ کے پاک شہر سے
02:25امیر حمزہ نام کا ایک جوان آئے گا
02:27اس کی حشام سے لڑائی ہوگی
02:30وہ اس ظالم کو مار ڈالے گا
02:32اور تخت دوبارہ حضور کے حوالے کر دے گا
02:35نوشی روا نے جب خواب کی تبیر کا پہلا حصہ سنا
02:38تو سخت گھبرایا
02:40لیکن امیر حمزہ کے آنے
02:42حشام سے جنگ کر کے
02:44اسے ہلاک کر دینے
02:45اور تاج بھو تخت واپس مل جانے کی خوش خبری سنی
02:49تو بزج مہر سے کہنے لگا
02:51خواجہ
02:52چاہتا ہوں
02:53کہ تم جلد سے جلد مکہ روانہ ہو جاؤ
02:56وہاں کے سردار خواجہ
02:58عبدالمطلب ہے
02:59جا کر ملو
03:00ممکن ہے
03:01وہ بچہ جس کا نام تم نے امیر حمزہ بتایا
03:04اب تک پیدا ہو چکا ہو
03:06اسے تلاش کر کے
03:07اس کے ماں باپ کو خوب مالبو دولت دینا
03:10اور کہنا
03:11کہ اس کی پرورش اچھی طرح کریں
03:13میں آج ہی سفر کی تیاری کرتا ہوں
03:16بزج مہر نے کہا
03:18خدا نے چاہا
03:19تو میں اس بچے کو تلاش کر لوں گا
03:21بادشاہ سے رخصت ہو کر
03:24بزج مہر اپنے گھر آیا
03:25سفر کا سامان بادھا
03:27مکہ کے امیروں
03:28اور دوسرے لوگوں کے لیے
03:30پھینٹی تحفے بھی ساتھ لیے
03:32اور پانچ سو غلاموں اور سپاہیوں کو لے کر
03:35مکہ کی جانب روانہ ہو گیا
03:36یہ قصہ اسلام سے پہلے کا ہے
03:39اس وقت ایرانی آگ کی پوجا کرتے تھے
03:42اور عرب بتوں کو پوجاتے تھے
03:44بزج مہر مکہ سے کچھ فاصلے پر رہ گیا
03:47تو ایک جگہ رکھ کر
03:49ایک خط مکہ کے سردار خواجہ
03:51عبد المطلب کے نام لکھا
03:53اور اپنے خاص غلام کے ذریعے بھیج دیا
03:55اس خط میں لکھا تھا
03:57برجناب آلی
03:59آپ پر خدا کی سلامتی ہو
04:01میرا نام بزج مہر ہے
04:03اور میں ایران کے بادشاہ نوش روان آدل کا وزیر آزم ہوں
04:07میں ایران کے لوگوں کی طرح
04:09آپ کو اپنا خدا نہیں مانتا
04:11بلکہ اس دین پر ایمان رکھتا ہوں
04:13جو حضرت ابراہیم علیہ السلام لائے تھے
04:16اور وہی دین آپ کا بھی ہے
04:18اب میری آرزو ہے
04:20کہ خانہ کعبہ کی زیارت کروں
04:22اور آپ سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہو
04:24اگر اجازت ہو
04:26تو شہر میں داخل ہو جاؤں
04:29خواجہ عبد المطلب نے
04:30بزج مہر کا خط پڑھا
04:31اور بہت خوش ہوئے
04:33وہ اس سے پہلے بھی
04:35بزج مہر کا نام سن چکے تھے
04:37انہوں نے اسی وقت
04:39مکہ کے کئی موزز آدمیوں کو ساتھ لیا
04:41اور شہر سے باہر گئے
04:43جہاں بزج مہر اور اس کے سپاہی پڑھاؤ ڈالے پڑے تھے
04:47بزج مہر اور خواجہ عبد المطلب
04:49پرانے دوستوں کی طرح
04:51ایک دوسرے سے گلے ملے
04:52اور پھر جلوس کی صورت میں
04:54مکہ کے اندر داخل ہوئے
04:56بزج مہر نے سب سے پہلے
04:59خانہ کعبہ کی زیارت کی
05:00اور اس کے گرد ساتھ چکر لگائے
05:03پھر خواجہ عبد المطلب
05:05اسے اپنے گھر لے گئے
05:06اور خوب خاطر کی
05:08جب سورج غروب ہوا
05:10اور دوسرے لوگ
05:11اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے
05:13تو بزج مہر خواجہ عبد المطلب سے کہنے لگا
05:16جناب خواجہ صاحب
05:19آپ سے مل کر میں بہت خوش ہوا ہوں
05:21آپ نے جیسی محبت کا سلوک کیا ہے
05:24اس نے مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
05:26آپ کا غلام بنا دیا ہے
05:28میں نے عربوں کی مہمان نوازی کے قصے سنے تھے
05:31اور ان پر یقین نہ آتا تھا
05:33لیکن اب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں
05:35واقعی جو کچھ سنا تھا
05:38آپ کو اس سے بھی بڑھ کر پایا
05:40خواجہ عبد المطلب نے کہا
05:43بھائی آپ کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا
05:45تب بھی ہم اس کی ایسی ہی عزت کرتے
05:48میں آپ کی ہر طرح خدمت کے لیے حاضر ہوں
05:51میرے گھر کو اپنا ہی گھر سمجھیں
05:54اور جب تک آپ کا جی چاہے یہاں رہے
05:56دیر تک اسی قسم کی باتیں ہوتی رہیں
06:00آخر بزج مہر نے خواجہ عبد المطلب کو
06:03نوشی روہ کا خواب اور اس کی تبیر کا قصہ سنایا
06:06اور کہا وہ لڑکا مکہ کے کسی گھر میں پیدا ہونے والا ہے
06:10بادشاہ نے مجھے حکم دیا ہے
06:12کہ اس کی پیدائش تک مکہ ہی میں رہوں
06:15اور جب وہ پیدا ہو جائے
06:16تو اس کا نام امیر حمزہ رکھوں
06:18یہ وہ لڑکا ہے
06:20جس کا نام ساری دنیا میں مشہور ہوگا
06:23بڑے بڑے بادشاہوں کو لڑائی میں شکست دے کر
06:26ان سے خراج وصول کرے گا
06:28اور اس کی طاقت کے سامنے
06:30کوئی پہلوان تھہر نہ سکے گا
06:32خواجہ عبد المطلب یہ سن کر
06:35حیران ہوئے
06:36اور کہا آپ نے عجیب داستان سنائی ہے
06:38لیکن یہ تو بتائے
06:40کہ آپ اس لڑکے کو پہچانے گے کیسے
06:43اس کی پیشانی دیکھ کر
06:45یہ بزج مہر نے جواب دیا
06:47میں علم نجوم جانتا ہوں
06:48اور اسی کے ذریعے میں بتا سکتا ہوں
06:51کہ آئندہ ملک عرب میں جتنے بچے پیدا ہوں گے
06:54ان میں سے امیر حمزہ کون ہوگا
06:56بزج مہر کو مکہ میں آئے ہوئے
06:59کئی روز گزر گئے
07:00اس عرصے میں کسی نہ کسی گھر میں
07:02لڑکا پیدا ہوتا
07:03اور اسے بزج مہر کے پاس لائے جاتا
07:06مگر وہ اس کی شکل دیکھتے ہی کہہ دیتا
07:08کہ یہ امیر حمزہ نہیں ہے
07:10آخر 21 دن
07:12خواجہ عبد المطلب صبح صبح
07:14بزج مہر کے پاس آئے اور کہنے لگے
07:17خدا کے فضل سے
07:19آج میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے
07:21آپ دیکھنا چاہیں تو لے آؤں
07:24ہاں ہاں ضرور لائیے
07:26بزج مہر نے کہا
07:27چند لمحے بعد خواجہ عبد المطلب
07:30ایک خوبصورت بچے کو کپڑے میں
07:32لپیٹے بزج مہر کے پاس لائے
07:34بزج مہر نے جو ہی بچے پر نظر ڈالی
07:37اس کا دل زور سے دھڑکا
07:39فوراں تازیم کے لیے
07:41کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا
07:43خواجہ عبد المطلب مبارک ہو
07:45یہ دولت تم ہی کو ملی
07:48یہ وہی لڑکا ہے
07:49پھر جھک کر ننہے امیر حمزہ کی
07:52پیشانی کو چوما
07:53انہیں اپنی گود میں لیا اور دیر تک دیکھتا رہا
07:56اس کے بعد
07:57خانہ کعبہ کی طرف موہ کر کے
07:59امیر حمزہ کی سلامتی کے لیے دعا مانگی
08:02پھر اشرفیو اور جوہرت سے بھری ہوئی
08:06بہت سی تھیلیاں
08:07خواجہ عبد المطلب کے سپریب کی
08:09اور کہا یہ دولت نوشی روانی
08:11امیر حمزہ کے لیے بھیجی ہے
08:13اور کہا ہے
08:14کہ اسی سے اس کی پرورش کی جائے
08:16خواجہ عبد المطلب نے شکریہ ادا کر کے
08:19وہ تھیلیاں لے لیں
08:21اس کے بعد شربت تیار کرنے کا حکم دیا
08:24لوگ شربت پینا چاہتے تھے
08:26کہ بزرج مہر نے ہاتھ کے اشارے سے
08:29روکا اور کہنے لگا
08:30ذرا رک جائیے
08:32مجھے دو اور لڑکوں کا انتظار ہے
08:34انہیں بھی آنے دیجئے
08:36یہ دونوں لڑکے
08:38امیر حمزہ کے وفادار دوست ہوں گے
08:40اور زندگی بھر اکٹھے رہیں گے
08:42ابھی بزرج مہر نے یہ باتیں پوری نہ کی تھی
08:46کہ خواجہ عبد المطلب کا ایک خادم
08:48جس کا نام بشیر تھا
08:50اپنی گود میں ایک لڑکے کو لیے ہوئے آیا
08:53اور عدب سے کہنے لگا
08:54آقا میرے گھر میں بھی
08:56آج صبح یہ بچہ پیدا ہوا ہے
08:58دعا کے لیے
09:00آپ کی خدمت میں آیا ہوں
09:02بزرج مہر نے جلدی سے
09:04اس بچے کو گود میں لیا
09:05اس کی پیشانی بھی چومی
09:08اور کہا
09:08ہم اس کا نام مقبل وفادار رکھتے ہیں
09:11یہ لڑکا تیر اندازی کے فن میں یکتہ ہوگا
09:14اور اس کی کمان سے نکلا ہوا تیر
09:17کبھی خالی نہ جائے گا
09:18بزرج مہر نے بشیر کو بھی
09:21اشرفیو کی تھیلیاں دیں
09:22اور وہ خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا
09:24راستے میں اس کی ملاقات
09:27امیعہ زمیری سے ہوئی
09:28جو اونٹ چرایا کرتا تھا
09:30امیعہ نے دیکھا
09:32کہ بشیر بڑا خوش ہے
09:34اور اشرفیو کی تھیلیاں ہوا میں
09:36اچھالتا جا رہا ہے
09:37خیرت سے پوچھنے لگا
09:39یہ اشرفیو کہاں سے چرا کر لائیا ہے
09:42سچ سچ بتا
09:43ورنہ ابھی جا کر
09:45خواجہ عبد المطلب سے کہتا ہوں
09:47میرے گھر میں آج لڑکا ہوا ہے
09:50بزرج مہر نے اسی لیے
09:52انام میں یہ اشرفیاں دی ہیں
09:54خواجہ عبد المطلب کے ہاں بھی لڑکا ہوا ہے
09:57بزرج مہر نے انہیں بھی
09:58بہت سی اشرفیاں دی
Comments

Recommended