Skip to playerSkip to main content
NCCIA Nay Pakistan Ka Nam Kesy Pori Dunya Main Kharab Kia? | Yasir Shami Expose Big Names | Daily Pakistan
#NCCIA #FIA #Yasirshami #foryou #trending
Transcript
00:00NCCIA Ravel Pindi کے افسران نے ایک چائنیز شہری کو اغوا کیا
00:05اس کو لوہے کے راڈ سے مارا
00:08اتنا مارا کہ اس کی کمر بینگن کی طرح نیلی ہو گئی
00:11جب وہ مکمل طور پر نیلو نیل ہو گیا
00:14تو اس کی NCCIA کے ایک سب انسپیکٹر نے ویڈیو بنائی
00:18اور ویڈیو بنا کر اس چائنیز شہری کی بیوی کو سینڈ کر دی
00:22اور کہا کہ اگر تم نے ہمیں کروڑوں روپے نہ دیئے
00:25تو اس کو ہم مزید ماریں گے
00:27اور اس کے بعد اس کی پاکستانی قانون میں
00:30کسی بھی قسم کی کوئی بھی شنوائی بھی نہیں ہو سکے گی
00:34اس کی بیوی نے دقریباً دو کروڑ دس لاکھ روپے اکٹھے کیے
00:40NCCIA Ravel Pindi افسران کو دیئے
00:42اور اپنے ہزبنٹ کی جان بچائی
00:45یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو سننے کے بعد
00:47آپ اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے
00:50کہ یہ سرکاری ملازمین حکومتی خزانے کو ٹیکہ لگانے کے ساتھ ساتھ
00:54دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کو کس طریقے سے میلہ کر رہے تھے
00:59اور ریاست پاکستان کو دیمک کی طرح اندر سے حرام کی صورت میں
01:03کھا کھا کر کس حد تک کھوکلا کر چکے تھے
01:06ان کی تمام تر تفصیلات سن کر آپ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آئے گا
01:11یہ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ راولپنڈی NCCIA میں
01:17ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر تھے
01:20ان کی ٹیم سمیت NCCIA میں یہ بے شمار قسم کے لوگ ہیں
01:24جنہوں نے تقریباً 30 کروڑ روپے کے قریب کرپشن کی
01:28جس میں سے صرف 25 کروڑ روپے کی کرپشن شہزاد حیدر
01:32جو کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر تھے انہوں اور ان کی ٹیم نے کی
01:36اور یہ تمام تر مناظر آپ ایف آئی آر کے صورت میں اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں
01:41سپتمبر دو ہزار چوبیس کو شہزاد حیدر ایڈیشنل ڈائریکٹر
01:48NCCIA راولپنڈی کے طور پر جوائن کرتے ہیں اور کرپشن کرنا شروع کر دیتے ہیں
01:53اور ان کی یہ کرپشن ایپریل دو ہزار پچیس تک جاری رہتی ہے
01:57یعنی یہ پورے آٹھ مہینے بنتے ہیں
02:00یہ کرتے کیا تھے
02:01راولپنڈی اسلام آباد میں پندرہ غیر قانونی کال سینٹر چل رہے تھے
02:05اور یہ ہر کال سینٹر سے ون ون ملین منتلی لیتے تھے
02:09پندرہ کال سینٹر کا مطلب یہ ہے
02:11کہ پندرہ ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپیز
02:15جو کہ صرف ان پندرہ کال سینٹر سے یہ NCCIA کے افسران لے رہے تھے
02:20جس کی سرپرستی شہزاد حیدر ایڈیشنل ڈائریکٹر راولپنڈی NCCIA کر رہے تھے
02:26ایک کال سینٹر کی منتلی 10 لاکھ روپے تھی
02:30جس میں سے 5 لاکھ روپے شہزاد حیدر صاحب اپنے پاس رکھتے
02:352 لاکھ روپے ان کا ڈیپٹی ڈائریکٹر حیدر عباس رکھتا
02:38اور 2 لاکھ روپے ان کا سب انسپیکٹر بلال رکھتا
02:42اب آپ سوچ رہے ہوں گے
02:43کہ یہ 10 لاکھ روپے میں سے ابھی بھی 50 ہزار روپے بچتے ہیں
02:46وہ گدھر جاتے تھے
02:47تو جناب شہزاد حیدر صاحب کی ٹیم نے ایک فرنٹ بین رکھا ہوا تھا
02:51جس کا نام امیر حسین تھا
02:53یہ 50 ہزار روپے اس کو دیے جاتے تھے
02:56یہ تو منتلی ہو گئی ایک کال سینٹر کی
03:00اب بات کرتے ہیں 15 کال سینٹر کی
03:02تو شہزاد حیدر صاحب 15 کال سینٹر سے منتلی
03:06اپنے گھر جو لے کر جا رہے تھے
03:08وہ 82 لاکھ 50 ہزار روپے تھے
03:11یہ بنے کس طریقے سے ہیں
03:13کہ آپ ان کی ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی
03:16جو منتلی ایک کال سینٹر سے تھی
03:18اس کو 15 کے ساتھ ضرب دے دیں
03:20تو جو اماؤنٹ آپ کے سامنے آپ کو نظر آئے گی
03:23وہ 82 لاکھ 50 ہزار روپے ہے
03:26شہزاد حیدر صاحب نے
03:29سپٹیمبر 2014 سے
03:31اپرل 2025 تک
03:338 مہینوں میں
03:34یہاں سے جو پیسے کل اکٹھے کیے
03:37اب وہ 82 لاکھ 50 ہزار کو
03:398 سے ضرب دے دیجئے
03:40تو یہ صاحب 6 کروڑ
03:4260 لاکھ روپے
03:43حرام کی کمائی کی
03:44مد میں
03:45اپنے گھر لے کر گئے
03:46جبکہ جو ان کے
03:47ڈیپٹی ڈیریکٹر
03:48انسپیکٹر
03:49اور ان کے فرنٹ پینڈ نے پیسہ لیا
03:51وہ بالکل
03:52الگ سے ہے
03:53ان کی کرپشن کی کہانیاں
03:56جب کھلی
03:57تو مئی 2025 میں
03:59ان کا ٹرانسفر کر دیا گیا
04:00اب ان کی جگہ
04:01ایک نئی پارٹی آ گئی
04:02اس کو میں نئی پارٹی
04:03اس لیے کہہ رہا ہوں
04:04کیونکہ وہ
04:05قانون نافذ نہیں کر رہے تھے
04:07وہ ریاست پاکستان کے
04:08مفاد کو
04:09مد نظر نہیں رکھ رہے تھے
04:10بلکہ انہوں نے بھی
04:12دونوں ہاتھوں سے
04:13ریاست کو
04:14لوٹنے کا فیصلہ کیا
04:15شہزاد حیدر
04:16اور ان کی ٹیم
04:17نے جس طریقے سے
04:18کرپشن کو
04:19وہاں پر
04:20چھوڑ کر
04:20ٹرانسفر لیا تھا
04:22لہذا
04:22نئے آنے والے
04:23ایڈیشنل ڈیریکٹر
04:24ڈیپٹی ڈیریکٹر
04:25اور سب انسپیکٹرز
04:26نے
04:26وہی پندرہ
04:27کال سینٹر سے
04:28ڈیرڑ کروڑ روپے
04:29منتھلی کا سسٹم
04:30جو ہے وہ جاری رکھا
04:31اور اس نئے آنے والی
04:32ٹیم کا جو پیچ اپ ہے
04:34ان کال سینٹر کے ساتھ
04:35غالباً
04:36شہزاد حیدر
04:36اور ان کی ٹیم
04:38نے ہی کروایا ہوگا
04:39اب اگلی ٹیم
04:40بھی کرپشن کرتی رہی
04:41اور یہ کرپشن
04:42کرتے کرتے
04:42تقریباً
04:43تین سو میلین
04:44تک پہنچ گئی
04:45جی ہاں
04:46تیس کروڑ روپے
04:47تک پہنچ گئی
04:48یہ پندرہ
04:51کال سینٹر
04:51چلا تو
04:52چائنیز شہری
04:53رہے تھے
04:53لیکن یہاں پر
04:54انہوں نے
04:54پاکستانی لڑکیوں
04:56اور لڑکوں کو
04:56کال سینٹر میں
04:57اچھی تنخواہوں
04:58پر رکھا ہوا تھا
04:59یہ تمام کے تمام
05:01لوگ
05:01انٹرنیشنل
05:02کمیونٹی کے ساتھ
05:03سکیم کرتے تھے
05:04جس کے بعد
05:04پاکستان کا نام
05:06پوری دنیا میں
05:07بدنام ہوتا تھا
05:08ہمارا بطور
05:09قوم تشخص
05:10جو ہے
05:10وہ ایک
05:11چار سو بیس
05:12نو سرباز کے طور پر ہے
05:13یہ چائنیز شہری
05:14جو تھے
05:15یہ کال سینٹر
05:15چائنہ میں نہیں
05:16چلا رہے تھے
05:17کیونکہ
05:17وہاں پر
05:18کرپشن کی
05:19سزا پھانسی ہے
05:20لیکن خوش قسمتی سے
05:21ان تمام
05:22پندرہ کال سینٹر
05:23کے چائنیز
05:24کو یہ سمجھ آ چکی تھی
05:25کہ پاکستان کی
05:26کچھ بیروکریسی
05:27ایک بکاؤ مال ہے
05:29یہاں کے
05:29افسران کو
05:30پیسے دے کر
05:31کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
05:32یہی وجہ ہے
05:33کہ انہوں نے
05:34ان تمام
05:35NCCIA کے
05:36افسران کو
05:37ڈیڑھ کروڑ روپے کی
05:38صورت میں
05:38منتھلی دینا
05:39شروع کر دی
05:40اور وہ
05:41ہماری ماں
05:42یعنی
05:42ریاست کو
05:43بھیج رہے تھے
05:44آپ کو یاد ہوگا
05:47اس سال کے شروع میں
05:48ایک ویڈیو
05:48وائرل ہوئی تھی
05:49کہ اسلام آباد میں
05:50چائنیز کول سینٹر پر
05:51FIA نے چھاپا مارا
05:53جس کے بعد
05:54پاکستانیوں نے
05:55ان کے لیپ ٹوپ
05:56ان کے کمپیوٹرز
05:58مونیٹرز
05:58ایج این ایوری ٹھنگ
06:00اٹھا کر
06:00وہاں سے بھاگ گئے
06:01اور انڈین میڈیا
06:02نے پاکستانیوں کو
06:03ڈاکو چور
06:05اور لٹیرا
06:05کہنا شروع کر دیا
06:06تب بھی یہ کول سینٹر
06:07ان NCCIA کے
06:09افسران کے
06:10ماتحت تھے
06:11اور میرے
06:11باو سوک
06:12ذرائع یہ کہتے ہیں
06:13کہ انہی
06:13NCCIA
06:14افسران نے
06:15وہ ویڈیو بنوائی
06:17اور لوگوں کو
06:18اندر بھیجا
06:18کہ آپ
06:19لوٹ مار کر لیں
06:20لیپ ٹوپ اٹھا لیں
06:21مونیٹر اٹھا لیں
06:22اور اس کے بعد
06:23اس ویڈیو کو
06:24انہی افسران نے
06:25وائرل کیا
06:25جب ہمارے دشمن ملک
06:27تک یہ ویڈیوز پہنچی
06:28ان کو موقع مل گیا
06:29انڈین ایکسپریس سے
06:30لے کر
06:31تمام بڑی بڑی
06:32انڈین ویب سائٹ پر
06:33ان خبروں کو
06:34پاکستانی چو
06:36لٹیرے
06:36ڈاکو
06:37اور نو سر بازوں
06:38کے طور پر
06:38پیش کیا گیا
06:39جو کہ
06:40آپ دیکھ سکتے ہیں
06:41اب یہ جو
06:43پندرہ
06:44کال سینٹر
06:44چل رہے تھے
06:45یہ پکڑے
06:46کیسے گئے
06:46یہ بہت
06:47دلچسپ ہے
06:47آپ
06:48ایف آئی آر میں
06:48دیکھیں
06:48کہ چودہ
06:49کال سینٹر
06:50جو چائنیز
06:50چلا رہے تھے
06:51ان کو
06:52ایف آئی اے
06:53نے گرفتار
06:53کر لیا
06:54جن میں
06:54ایک شخص
06:55کیلون بھی
06:55شامل ہے
06:56جو کہ
06:57ان تمام
06:58کال سینٹر
06:58کا
06:59فرنڈ بین
06:59تھا
07:00کالون نے
07:00پاکستان میں
07:01اپنے قدم
07:02جوانے کے لیے
07:03عریبہ نامی
07:03لڑکی کے ساتھ
07:04شادی کر لی تھی
07:05اب جو ہی
07:06کالون گرفتار
07:06ہوتا ہے
07:07تو سب انسپیکٹر
07:08اس کو
07:08لوہے کے
07:09روڈ کے ساتھ
07:10مارتا ہے
07:10اتنا مارتا ہے
07:11کہ اس کی کمر
07:12نیلی ہو جاتی ہے
07:13اس کے بعد
07:14ویڈیو بناتا ہے
07:14اس کی بیگم
07:15عریبہ کو بھیجتا ہے
07:16اور مطالبہ کرتا ہے
07:17کہ پانچ کروڑ
07:18روپیہ دو
07:19ورنہ ہم
07:20اس کو
07:20مزید ماریں گے
07:21اور جو باقی
07:22ہم نے
07:23تیرہ کال سینٹر
07:24والے چائنیز
07:24پکڑے ہیں
07:25ان کے ساتھ
07:26بھی یہی حال کریں گے
07:27اور ان کو
07:27قانون شکنجے میں
07:28لے لے گا
07:29نیگوسیشن
07:31کرتے کرتے
07:32یہ ڈیل
07:32تقریباً
07:33دو کروڑ روپے میں
07:34ڈن ہوئی
07:35جو کہ آپ
07:35ایف آئی آر میں
07:36دیکھ سکتے ہیں
07:36ان دو کروڑ روپے میں
07:38سے
07:38اسی لاکھ روپے
07:39عریبا نے
07:40اپنے شہر کی
07:41بازیابی کے لیے دیئے
07:42باقی
07:42ایک کروڑ
07:43بیس لاکھ روپے
07:44تیرہ دوسرے
07:45کال سینٹر
07:46جن کو
07:46چائنیز چلا رہے تھے
07:47ان کی بازیابی
07:48کے لیے
07:48ادا کیے
07:49اور اس کے بعد
07:50انسی سی آئیے
07:51کہ انسپیکٹر
07:51نے دس لاکھ روپے
07:52عریبا سے
07:53مزید لے لیے
07:54اور اس طرح
07:54یہ ٹوٹل رقم
07:55دو کروڑ
07:56دس لاکھ روپے
07:57بنتی ہے
07:58جو کہ آپ
07:58ایف آئی آر میں
07:59دیکھ سکتے ہیں
08:00راولپنڈی
08:02اسلام آباد
08:03میں کال سینٹر
08:04کھولنا
08:04انتہائی
08:05آسان ہو چکا تھا
08:06کیونکہ
08:06انسی سی آئیے
08:07کے افسران
08:08ہر شخص سے
08:09آٹھ لاکھ روپے
08:10لیتے
08:10مٹھائی کے طور پر
08:11بھتے کے طور پر
08:12کوپریشن کے طور پر
08:13یا اس کو
08:14کسی بھی چیز
08:14کا نام دے دیں
08:15اور آٹھ لاکھ روپے
08:17دینے کے بعد
08:17آپ اپنا
08:18نیا کال سینٹر
08:19اسلام آباد
08:20راولپنڈی میں
08:20کھول سکتے ہیں
08:21پاکستان کا
08:22تشخص بدنام کر سکتے ہیں
08:24پوری دنیا میں
08:25آپ سکیمنگ کر سکتے ہیں
08:26اور یہ پاکستانی
08:27نہیں کر رہے تھے
08:28یہ چائنیز کر رہے تھے
08:29لیکن ان چائنیز
08:30شہریوں سے
08:31یہ سب کچھ کون
08:32کروا رہا تھا
08:32ریاست کے
08:33سرکاری لبادے میں
08:35چھپی ہوئی
08:35یہ کالی بھیڑیں
08:37نسی سی آئیے کے
08:40ایڈیشنل ڈائریکٹر
08:41راولپنڈی
08:42شہزاد حیدر سمیت
08:43ڈیپٹی ڈائریکٹر
08:44حیدر عباس
08:45اور سب انسپیکٹر
08:46محمد بلال سمیت
08:47یہ تمام کالی بھیڑیں
08:49ریاست پاکستان
08:50کے لیے
08:51کالا دھبا ہیں
08:52جن کو
08:52کیفرے کردار
08:53تک پہنچانے کے لیے
08:54میں موزز
08:55عدلیہ سے
08:56التماس کروں گا
08:57کہ ان لوگوں نے
08:58نہ صرف پاکستانی
08:59خزانے کو ٹیکہ لگایا
09:00پاکستان کی
09:01موریلٹیز کو
09:02پوری دنیا کے
09:02سامنے ڈاؤن کیا
09:04بلکہ ریاست پاکستان
09:05کے نکھرے ہوئے
09:06چہرے کو
09:07انہوں نے
09:08بدبودار چہرے کی
09:09صورت میں
09:09پوری دنیا کے
09:10سامنے پیش کیا
09:11ان کو کڑی سے کڑی
09:12سزا دی جائے
09:13اپنے مزبان
09:14یاسر شامی کو
09:15اجازت دیجئے
09:15اور دیکھتے ریڈلی پاکستان
09:17اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended