- 3 months ago
Jinn Ki Shadi Unki Shadi Episode 15 - 27 Oct 2025 [Wahaj Ali & Sehar Khan] - HUM TV Drama -HD Review
Category
😹
FunTranscript
00:00I will tell you everything you want to hear.
00:11Matiyah.
00:16I love you very much.
00:20And only...
00:23I love you.
00:27I said to you, Azhar.
00:29Don't trust these people.
00:31But you don't want to say anything about me.
00:38Don't let me give up.
00:40I can't do anything about you.
00:43So you're going to watch this video.
00:47I didn't start to say anything about you.
00:52Okay.
00:54So you're also going to be my situation?
00:56You're not going to be my mind.
00:59I'm not going to be my mind.
01:01I'm not going to be my mind.
01:04What do you want to be my mind, Nadia?
01:06You will be afraid alone?
01:09You will be afraid of yourself.
01:10Now I'm not going to be afraid.
01:12I'm not going to be afraid of someone else.
01:27After the night, I had a tea tree in the morning.
01:34Oh, Ali, I had another tea tree.
01:38She told me to go to my face.
01:40But how do you interest your love in your life?
01:45Chumki, she told me to go to my face.
01:50What do you mean?
01:52What do you mean?
01:54Chumki means that you are free from your life
01:57and your heart is wrong from your heart.
01:59What can you mean by this?
02:03I know.
02:04I have to be free from it.
02:06What?
02:07But why?
02:11You have to give a big purpose to achieve it.
02:15What do you mean?
02:16I don't understand.
02:17I don't understand.
02:21How much is this so happy?
02:39Leah.
02:47They were inside,
02:50It was a really good time.
02:52They were nothing for us.
02:54They were full of books.
02:56They were in these texts.
02:57They were full of books.
02:59They were in a sense.
03:01And they could do everything.
03:02And those guides are in the habit of the day.
03:04They had to be able to arrive…
03:06So they could find them
03:07through your life.
03:09They were getting the reading of it.
03:10They could see them a lot ofre from their life
03:12and their religion.
03:14foreign
03:44We will not be able to enjoy that
03:45We will not be able to enjoy that
03:47Our family has been able to enjoy it
03:50You will only watch it
03:52If you are here, I will be able to enjoy it
03:53And we will not be able to enjoy it
03:56My family is not able to enjoy it
03:58What the hell?
04:07Is it our own family?
04:09He has been able to keep it
04:10What a clue is that there is a dark side
04:24It's how it is
04:25It's how it is
04:27It's how it is
04:28It's how it is
04:28It's how it is
04:29It's how it is
04:30If I can't even hear you
04:32It's how it is
04:32It's how it is
04:33It'll be a relationship
04:35That's how it is
04:36That LQ
04:37He was a friend
04:38She was a friend
04:38She's a friend
04:39Hello, viewers.
04:53Hello, viewers.
04:55کہ Shisha پر گرتی جا رہی تھی
04:57اور Aizah چپ چاپ
04:59سوکے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
05:01ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
05:04ریحان وہی ریحان
05:05جو اس کے زندگی کا خواب بھی تھا
05:07اور ادورا وعدہ بھی
05:09ریورز پانچ سال فیریا Aizah اور ریحان
05:11یونورسٹی کے ساتھی تھے
05:12دونوں کے خواب سوچ اور جذبے
05:15ایک جیسے تھے
05:15ریحان کہتا تھا
05:17Aizah میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
05:19بس میرے ساتھ دینا
05:21آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
05:23اور چھپ چار سر ہلا دیا تھا
05:25دونوں نے اپنی محبت چھپ کر جینے کے قسم کھائی
05:28کیونکہ ریحان کی گھر والے سخت مزاج تھے
05:31وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
05:33جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
05:36ویورز وقت گزرتا گیا
05:38ریحان اپنی فرائی مکمل کی
05:40اور ایک پلی کمپنی میں نوکری حاصل کی
05:43اس نے وعدہ کیا کہ جلحی
05:45اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
05:47مگر دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے
05:51پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
05:53آواز کھاپ رہی تھی
05:55آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
05:57اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
06:00میں تمہیں نہیں بول سکتا
06:02مگر میں انکار نہیں کر سکتا
06:04یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
06:07اس نے کچھ نہیں کہا بس پون بند کر دیا
06:09اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
06:12وہ اسکول میں فلاتی تھی
06:14مگر بچے کی مسکراہت سے
06:15ریحان کی یاد دلاتی
06:18تین سال گزر گئے
06:19ایک دن اسکول میں نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
06:23جناب ریحانہ
06:24آئیزہ کے ہاتھوں سے
06:25پہل گرگی وہی چہرہ وہی لگ جا
06:28مگر آنکوں میں ندامتی
06:29ریحان نے خاموشی سے کہا
06:31میں تمہیں ڈونتا رہا
06:33مگر تم اپنے پتہ ہی مٹا دیا تھا
06:35میرے شادی اب ختم ہو چکے ہیں
06:37ہلو ویورز
06:39بھارش کی بوندے گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
06:43اور آئیزہ چپ چاپ
06:44سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
06:47ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
06:49ریحان وہی ریحان جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
06:52اور ادورہ وعدہ بھی
06:54ویورز پانچ سال فیریا آئیزہ اور ریحان
06:57یونیورسٹی کے ساتھی تھے
06:58دونوں کے خواب سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
07:01ریحان کہتا تھا
07:02آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
07:05بس میرے ساتھ دینا
07:06آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
07:08اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
07:10دونوں نے اپنے محبت چپ کر جینے کے قسم کھائی
07:14کیونکہ ریحان کی گھر والے سخت مزاج تھے
07:17وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے
07:19جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
07:22ویورز وقت گزرتا گیا
07:24ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
07:26اور ایک پڑی کمپنی میں نوکری حاصل کی
07:29اس نے وعدہ کیا کہ جلہی
07:30اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
07:33مگر دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے
07:37پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
07:39آواز کھاپ رہی تھی
07:40آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
07:43اس نے میری شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
07:45میں تمہیں نہیں بول سکتا مگر میں انکار نہیں کر سکتا
07:49یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
07:52اس نے کچھ نہیں کہا بس پون بند کر دیا
07:54اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
07:58وہ اسکول میں فلاتی تھی
07:59مگر بچے کی مسکراہت سے
08:01ریحان کی یاد دلاتی
08:03تین سال گزر گئے
08:05ایک دن اسکول میں نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
08:08جناب ریحانہ
08:10آئیزہ کے ہاتھوں سے
08:11پہل گرگی فہی چہرہ
08:12مگر آنکو میں ندامتی ریحان نے
08:15خاموشی سے کہا
08:16میں تمہیں ڈونتا رہا
08:18مگر تم اپنے پتہ ہی مٹا دیا تھا
08:21میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
08:22ہلو ویورز
08:24بارش کی بوندے گڑکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
08:28اور آئیزہ چپ چاپ
08:29سوپے پر بیٹی پرانی تصویر کو دیکھ رہی تھی
08:32ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائی تا
08:34ریحان وہی ریحان
08:36جو اس کی زندگی کا خواب بھی تا
08:38اور ادورہ وعدہ بھی
08:39ویورز پانچ سال فیریا آئیزہ اور ریحان
08:42یونیورسٹی کے ساتھی تھے
08:43دونوں کے خواب سوچ اور جذبے
08:46ایک جیسے تھے
08:46ریحان کہتا تھا
08:47آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
08:50بس میرے ساتھ دینا
08:51آئیزہ نے اس کے آنکوں میں دیکھا
08:54اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
08:56دونوں نے اپنے محبت چپ کر جینے کے قسم کھائی
08:59کیونکہ ریحان کی گھر والے
09:01سخت مزاج تھے
09:02وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
09:04جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
09:07ویورز وقت گزرتا گیا
09:09ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
09:11اور ایک پڑی کمپنی میں
09:13نوکری حاصل کی
09:14اس نے وعدہ کیا کہ جلحی
09:16اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
09:18مگر دن مہینوں میں
09:20اور مہینے برسوں میں بدل گئے
09:23پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
09:24آواز کھاپ رہی تھی
09:26آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
09:28اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
09:31میں تمہیں نہیں بول سکتا
09:33مگر میں انکار نہیں کر سکتا
09:35یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
09:37اس نے کچھ نہیں کہا
09:39بس پون بن کر دیا
09:40اس دن کے بعد
09:41اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
09:43وہ اسکول میں فلاتی تھی
09:44مگر بچے کی مسکراہت سے
09:46ریحان کی عادت دلاتی
09:48تین سال گزر گئے
09:50ایک دن اسکول میں
09:52نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
09:54جناب ریحانہ
09:55آئیزہ کے ہاتھوں سے
09:56پہل گر گی
09:57وہی چہرہ
09:58وہی لگ جا
09:59مگر آنکو میں ندامت تھی
10:00ریحان نے خاموشی سے کہا
10:02میں تمہیں ڈونتا رہا
10:04مگر تم اپنے پتہ ہی
10:05مٹا دیا تھا
10:06میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
10:08ہلو ویورز
10:10بارش کی بوندے
10:11گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
10:13اور آئیزہ چپ چاپ
10:15سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
10:17ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
10:20ریحان وہی ریحان
10:21جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
10:23اور ادورہ وعدہ بھی
10:25بیورز پانچ سال فیریا
10:27آئیزہ اور ریحان
10:27یونیورسٹی کے ساتھی تھے
10:29دونوں کے خواب
10:30سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
10:32ریحان کہتا تھا
10:33آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
10:36بس میرے ساتھ دینا
10:37آئیزہ نے اس کے آنکوں میں دیکھا
10:39اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
10:41دونوں نے اپنے محبت
10:43چھپ کر جینے کے قسم کائی
10:44کیونکہ ریحان کی گھر والے
10:46سخت مزاج تھے
10:48وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے
10:50جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
10:53ویورز وقت گزرتا گیا
10:54ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
10:57اور ایک پڑھی کمپنی میں
10:58نوکری حاصل کی
11:00اس نے وعدہ کیا
11:01کہ جلحی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
11:03مگر دن مہینوں میں
11:05اور مہینے برسوں میں بدل گئے
11:08پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
11:10آواز کھاپ رہی تھی
11:11آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
11:13اس نے میری شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
11:16میں تمہیں نہیں بول سکتا
11:18مگر میں انکار نہیں کر سکتا
11:20یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
11:23اس نے کچھ نہیں کہا
11:24بس پون بند کر دیا
11:25اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں
11:28مصروف کر لیا
11:28وہ اسکول میں فلاتی تھی
11:30مگر بچے کی مسکراہت سے
11:32ریحان کی یاد دلاتی
11:35ایک دن اسکول میں
11:37نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
11:39جناب ریحانہ
11:40آئیزہ کے ہاتھوں سے
11:42پہل گرگی وہی چہرہ
11:43وہی لے جاں مگر آنکو میں
11:45ندامتی ریحان نے
11:46خاموشی سے کہا
11:47میں تمہیں ڈونتا رہا
11:49مگر تم اپنے پتہ ہی
11:51مٹا دیا تھا
11:51میری شادی اب ختم ہو چکی ہے
11:53ہلو ویورز
11:55بارش کی بوندے
11:56گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
11:59اور آئیزہ چپ چاپ
12:00سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو
12:02دیکھ رہی تھی
12:03ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ
12:05نمائے تھا
12:05ریحان وہی ریحان
12:07جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
12:09اور ادورہ وعدہ بھی
12:10بیورز پانچ سال فیریا
12:12آئیزہ اور ریحان
12:13یونیورسٹی کے ساتھی تھے
12:14دونوں کے خواب
12:15سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
12:17ریحان کہتا تھا
12:18آئیزہ میں تمہیں
12:20خوشی سے بردھوں گا
12:21بس میرے ساتھ دینا
12:22آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
12:25اور چھپ چار سر ہلا دیا تھا
12:26دونوں نے اپنے محبت
12:28چھپ کر جینے کے قسم کھائی
12:30کیونکہ ریحان کی گھر والے
12:32سخت مزاج تھے
12:33وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
12:35جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
12:38ویورز وقت گزرتا گیا
12:40ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
12:42اور ایک پڑھی کمپنی میں
12:43نوکری حاصل کی
12:45اس نے وعدہ کیا
12:46کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
12:49مگر دن مہینوں میں
12:51اور مہینے برسوں میں بدل گئے
12:53پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
12:55آواز کھاپ رہی تھی
12:57آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
12:59اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
13:01میں تمہیں نہیں بول سکتا
13:04مگر میں انکار نہیں کر سکتا
13:06یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
13:08اس نے کچھ نہیں کہا
13:09بس پون بن کر دیا
13:11اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں
13:13مصروف کر لیا
13:14وہ اسکول میں فلاتی تھی
13:15مگر بچے کی مسکراہت سے
13:17ریحان کی یاد دلاتی
13:19تین سال گزر گئے
13:21ایک دن اسکول میں
13:22نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
13:25جناب ریحانہ
13:26آئیزہ کے ہاتھوں سے
13:27پہل گرگی
13:28وہی چہرہ
13:29وہی لے جاں
13:29مگرانکوں میں ندامت تھی
13:31ریحان نے خاموشی سے کہا
13:33میں تمہیں ڈونتا رہا
13:35مگر تم اپنے پتہ ہی
13:36مٹا دیا تھا
13:37میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
13:39ہلو ویورز
13:40بھارش کی بوندے
13:42گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
13:44اور آئیزہ چپ چاپ
13:46سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
13:48ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
13:51ریحان وہی ریحان
13:52جو اس کے زندگی کا خواب بھی تھا
13:54اور ادورہ وعدہ بھی
13:56ویورز پانچ سال فیریا
13:58آئیزہ اور ریحان
13:58یونیورسٹی کے ساتھی تھے
14:00دونوں کے خواب
14:00سوچ اور جذبیک جیسے تھے
14:03ریحان کہتا تھا
14:04آئیزہ میں تمہیں خوشوں سے بردھوں گا
14:07بس میرے ساتھ دینا
14:08آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
14:10اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
14:12دونوں نے اپنے محبت
14:13چپ کر جینے کے قسم کہی
14:15کیونکہ ریحان کی گھر والے
14:17سخت مزاج تھے
14:18وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے
14:21جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
14:24ویورز وقت گزرتا گیا
14:25ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
14:33اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
14:34مگر دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے
14:38پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
14:40آواز کھاپ رہی تھی
14:42آئیزہ میں کمزوری پڑھ گیا ہو
14:44اس نے میری شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
14:47میں تمہیں نہیں بول سکتا
14:49مگر میں انکار نہیں کر سکتا
14:51یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
14:54اس نے کچھ نہیں کہا
14:55بس پون بند کر دیا
14:56اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
14:59وہ اسکول میں فلاتی تھی
15:01مگر بچے کی مسکراہت سے
15:02ریحان کی یاد دلاتی
15:05تین سال گزر گئے
15:06ایک دن اسکول میں نیا فرینسیبل کا تقرر ہوا
15:10جناب ریحانہ
15:11آئیزہ کے ہاتھوں سے
15:12پہل گرگی وہی چہرہ وہی لگ جا
15:15مگر آنکوں میں ندامتی ریحان نے
15:17خاموشی سے کہا
15:18میں تمہیں ڈونٹا رہا
15:20مگر تم اپنے پتہ ہی مٹا دیا تھا
15:22میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
15:24ہیلو ویورز
15:26بھارش کی بوندے گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
15:30اور آئیزہ چپ چاپ
15:31سوکے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
15:34ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائی تا
15:36ریحان وہی ریحان جو اس کی زندگی کا خواب بھی تا
15:40اور ادورہ وعدہ بھی
15:41ویورز پانچ سال فیریا
15:43آئیزہ و ریحان یونورسٹی کے ساتھی تھے
15:45دونوں کے خواب
15:46سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
15:48ریحان کہتا تھا
15:49آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
15:52بس میرے ساتھ دینا
15:53آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
15:55اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
15:58دونوں نے اپنے محبت
15:59چپ کر جینے کے قسم کہی
16:01کیونکہ ریحان کی گھر والے
16:02سخت مزاج تھے
16:04وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
16:06جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
16:09ویورز وقت گزرتا گیا
16:11ریحان اپنی پڑائی مکمل کی
16:13اور ایک پڑی کمپنی میں
16:14نوکری حاصل کی
16:16اس نے وعدہ کیا
16:17کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
16:20مگر دن مہینوں میں
16:21اور مہینے برسوں میں بدل گئے
16:24پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
16:26آواز کھاپ رہی تھی
16:27آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
16:30اس نے میری شادی کے ہی عورتیں کر دی ہے
16:32میں تمہیں نہیں بول سکتا
16:35مگر میں انکار نہیں کر سکتا
16:37یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
16:39اس نے کچھ نہیں کہا
16:40بس پون بن کر دیا
16:41اس دن کے بعد
16:43اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
16:45وہ اسکول میں فلاتی تھی
16:46مگر بچے کی مسکراہت سے
16:48ریحان کی یاد دلاتی
16:50تین سال گزر گئے
16:52ایک دن اسکول میں
16:53نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
16:55جناب ریحانہ
16:57آئیزہ کے ہاتھوں سے
16:58پہل گرگی
16:59وہی چہرہ
17:00وہی لگ جا
17:00مگر آنکو میں ندامتی
17:02ریحان نے خاموشی سے کہا
17:04میں تمہیں ڈونتا رہا
17:05مگر تم اپنے پتہ ہی
17:07مٹا دیا تھا
17:08میری شادی اب ختم ہو چکی ہے
17:09ہلو ویورز
17:11بھارش کی بوندے
17:13گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
17:15اور آئیزہ چپ چاپ
17:16سوکے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
17:19ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
17:22ریحان وہی ریحان
17:23جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
17:25اور ادورہ وعدہ بھی
17:26بھارش پانچ سال فیریا
17:28آئیزہ اور ریحان
17:29یونیورسٹی کے ساتھی تھے
17:30دونوں کے خواب
17:31سوچ اور جذبے
17:33ایک جیسے تھے
17:33ریحان کہتا تھا
17:35آئیزہ میں تمہیں
17:36خوشی سے بردھوں گا
17:37بس میرے ساتھ دینا
17:39آئیزہ نے اس کے آنکوں میں دیکھا
17:41اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
17:43دونوں نے اپنے محبت
17:44چپ کر جینے کے قسم کائی
17:46کیونکہ ریحان کی گھر والے
17:48سخت مزاج تھے
17:49وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
17:51جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
17:54ویورز وقت گزرتا گیا
17:56ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
17:58اور ایک پلی کمپنی میں
18:00نوکری حاصل کی
18:01اس نے وعدہ کیا
18:02کہ جلحی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
18:05مگر دن مہینوں میں
18:07اور مہینے برسوں میں بدل گئے
18:09پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
18:11آواز کھاپ رہی تھی
18:13آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
18:15اس نے میری شادی کے ہی عورتیں کر دی ہے
18:18میں تمہیں نہیں بول سکتا
18:20مگر میں انکار نہیں کر سکتا
18:22یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
18:24اس نے کچھ نہیں کہا
18:26بس پون بن کر دیا
18:27اس دن کے بعد
18:28اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
18:30وہ اسکول میں فلاتی تھی
18:32مگر بچے کی مسکراہت سے
18:33ریحان کی عادت دلاتی
18:37ایک دن اسکول میں
18:39نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
18:41جناب ریحانہ
18:42آئیزہ کے ہاتھوں سے
18:43پہل گرگی وہی چہرہ
18:45وہی لگ جاں
18:46مگر آنکو میں ندامتی
18:47ریحان نے خاموشی سے کہا
18:49میں تمہیں ڈونتا رہا
18:51مگر تم اپنے پتہ ہی مٹا دیا تھا
18:53میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
18:55ہیلو ویورز
18:57بھارش کی بوندے
18:58گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
19:00اور آئیزہ چپ چاپ
19:02سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
19:04ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
19:07ریحان وہی ریحان
19:08جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
19:10اور ادورہ وعدہ بھی
19:12بھارش پانچ سال فیریا
19:14آئیزہ اور ریحان
19:14یونیورسٹی کے ساتھی تھے
19:16دونوں کے خواب
19:17سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
19:19ریحان کہتا تھا
19:20آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
19:23بس میرے ساتھ دینا
19:24آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
19:26اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
19:28دونوں نے اپنے محبت
19:30چپ کر جینے کے قسم کہی
19:31کیونکہ ریحان کی گھر والے
19:33سخت مزاج تھے
19:35وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
19:37جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
19:40ویورز وقت گزرتا گیا
19:41ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
19:44اور ایک پلی کمپنی میں
19:45نوکری حاصل کی
19:47اس نے وعدہ کیا
19:48کہ جلہی
19:48اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
19:50مگر دن
19:51مہینوں میں
19:52اور مہینے
19:53برسوں میں بدل گئے
19:54پھر ایک دن
19:56ریحان کا پون آیا
19:57آواز کھاپ رہی تھی
19:58آئیزہ میں
19:59کمزوری پڑ گیا ہو
20:00اس نے میری شادی کے ہی عورتیں کر دی ہے
20:03میں تمہیں نہیں بول سکتا
20:05مگر میں انکار نہیں کر سکتا
20:07یہ سن کر آئیزہ کی
20:09دنیا رک گئی
20:10اس نے کچھ نہیں کہا
20:11بس پون بن کر دیا
20:12اس دن کے بعد
20:14اس نے خود کو کام میں
20:15مصروف کر لیا
20:16وہ اسکول میں فلاتی تھی
20:17مگر بچے کی مسکراہت سے
20:19ریحان کی یاد دلاتی
20:21تین سال گزر گئے
20:23ایک دن اسکول میں
20:24نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
20:26جناب ریحانہ
20:27آئیزہ کے ہاتھوں سے
20:29پہل گرگی
20:30وہی چہرہ
20:30وہی لگ جا
20:31مگرانکو میں ندامتی
20:32ریحان نے
20:33خاموشی سے کہا
20:34میں تمہیں ڈونتا رہا
20:36مگر تم اپنے
20:37پتہ ہی مٹا دیا تھا
20:39میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
20:40ہلو ویورز
20:42بھارش کی بوندے
20:44گلکی کی شیشے پر
20:45گرتی جا رہی تھی
20:46اور آئیزہ چپ چاپ
20:47سوپے پر بیٹی
20:48پرانی تصویروں کو
20:49دیکھ رہی تھی
20:50ہر تصویر میں
20:51ایک ہی چہرہ نمائے تھا
20:52ریحان وہی ریحان
20:54جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
20:56اور ادورہ وعدہ بھی
20:57ویورز پانچ سال فیرے
20:59آئیزہ اور ریحان
21:00یونیورسٹی کے ساتھی تھے
21:01دونوں کے خواب
21:02سوچ اور جذبے
21:04ایک جیسے تھے
21:04ریحان کہتا تھا
21:05آئیزہ میں تمہیں
21:07خوشی سے بردھوں گا
21:08بس میرے ساتھ دینا
21:09آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
21:12اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
21:13دونوں نے اپنی محبت
21:15چپ کر جینے کے قسم کھائی
21:17کیونکہ ریحان کی گھر والے
21:19سخت مزاج تھے
21:20وہ امیر گرانے سے
21:21تعلق رکھتے تھے
21:22جبکہ آئیزہ
21:23ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
21:25ویورز وقت گزرتا گیا
21:27ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
21:29اور ایک پڑی کمپنی میں
21:30نوکری حاصل کی
21:32اس نے وعدہ کیا
21:33کہ جلہی
21:34اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
21:36مگر دن
21:37مہینوں میں
21:38اور مہینے برسوں میں بدل گئے
21:40پھر ایک دن
21:41ریحان کا پون آیا
21:42آواز کھاپ رہی تھی
21:44آئیزہ میں
21:44کمزوری پڑ گیا ہو
21:46اس نے میری شادی
21:47کہی عورتیں کر دی ہے
21:48میں تمہیں نہیں بول سکتا
21:51مگر میں انکار نہیں کر سکتا
21:53یہ سن کر آئیزہ کی
21:54دنیا رک گئی
21:55اس نے کچھ نہیں کہا
21:57بس پون بن کر دیا
21:58اس دن کے بعد
21:59اس نے خود کو کام میں
22:00مصروف کر لیا
22:01وہ اسکول میں فلاتی تھی
22:02مگر بچے کی مسکراہت سے
22:04ریحان کی یاد دلاتی
22:06تین سال گزر گئے
22:08ایک دن
22:09اسکول میں
22:09نیا پرینسیبل کا
22:11تقرر ہوا
22:12جناب ریحانہ
22:13آئیزہ کے ہاتھوں سے
22:14پہل گر کی
22:15وہی چہرہ
22:16وہی لگ جا
22:16مگر آنکو میں
22:17ندامتی
22:18ریحان نے
22:19خاموشی سے کہا
22:20میں تمہیں ڈونتا رہا
22:22مگر تم اپنے
22:23پتہ ہی مٹا دیا تھا
22:24میرے شاید
22:24اب ختم ہو چکی ہے
22:26ہلو ویورز
22:28بارش کی بوندے
22:29گلکی کی شیشے پر
22:30گرتی جا رہی تھی
22:31اور آئیزہ چپ چاپ
22:33سوپے پر بیٹی
22:33پرانی تصویروں کو
22:35دیکھ رہی تھی
22:35ہر تصویر میں
22:36ایک ہی چہرہ نمائے تھا
22:38ریحان
22:39وہی ریحان
22:39جو اس کی زندگی
22:40کا خواب بھی تھا
22:41اور ادورہ وعدہ بھی
22:43بیورز پانچ سال فیریا
22:45آئیزہ اور ریحان
22:45یونیورسٹی کے ساتھی تھے
22:47دونوں کے خواب
22:48سوچ اور جذبے
22:49ایک جیسے تھے
22:50ریحان کہتا تھا
22:51آئیزہ میں تمہیں
22:52خوشی سے بردھوں گا
22:54بس میرے ساتھ دینا
22:55آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
22:57اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
22:59دونوں نے اپنی محبت
23:01چپ کر جینے کے قسم کائی
23:02کیونکہ ریحان کی گھر والے
23:04سخت مزاج تھے
23:05وہ امیر گرانے سے
23:06تعلق رکھتے تھے
23:07جبکہ آئیزہ
23:08ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
23:11ویورز وقت گزرتا گیا
23:12ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
23:14اور ایک پڑھی کمپنی میں
23:16نوکری حاصل کی
23:18اس نے وعدہ کیا
23:19کہ جلہی
23:19اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
23:21مگر دن
23:22مہینوں میں
23:23اور مہینے برسوں میں بدل گئے
23:26پھر ایک دن
23:26ریحان کا پون آیا
23:28آواز کھاپ رہی تھی
23:29آئیزہ میں
23:30کمزوری پڑ گیا ہو
23:31اس نے میری شادی
23:33کہیا اور تہہ کر دی ہے
23:34میں تمہیں نہیں بول سکتا
23:36مگر میں انکار نہیں کر سکتا
23:38یہ سن کر آئیزہ کی
23:40دنیا رک گئی
23:41اس نے کچھ نہیں کہا
23:42بس پون بن کر دیا
23:43اس دن کے بعد
23:44اس نے خود کو کام میں
23:46مصروف کر لیا
23:46وہ اسکول میں فلاتی تھی
23:48مگر بچے کی مسکراہت سے
23:50ریحان کی یاد دلاتی
23:52تین سال گزر گئے
23:53ایک دن اسکول میں
23:55نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
23:57جناب ریحانہ
23:58آئیزہ کے ہاتھوں سے
23:59پہل گرگی
24:01وہی چہرہ
24:01وہی لے جاں
24:02مگر آنکو میں
24:03ندامتی ریحان نے
24:04خاموشی سے کہا
24:05میں تمہیں ڈونتا رہا
24:07مگر تم اپنے
24:08پتہ ہی مٹا دیا تھا
24:09میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
24:11ہلو ویورز
24:13بارش کی بوندے
24:14گلکی کی شیشے پر
24:16گر دی جا رہی تھی
24:17اور آئیزہ چپ چاپ
24:18سوپے پر بیٹی
24:19پرانی تصویروں کو
24:20دیکھ رہی تھی
24:21ہر تصویر میں
24:22ایک ہی چہرہ نمائے تھا
24:23ریحان وہی ریحان
24:25جو اس کی زندگی
24:26کا خواب بھی تھا
24:27اور ادورہ وعدہ بھی
24:28بیورز پانچ سال فیریا
24:30آئیزہ اور ریحان
24:31یونیورسٹی کے ساتھی تھے
24:32دونوں کے خواب
24:33سوچ اور جذبے
24:34ایک جیسے تھے
24:35ریحان کہتا تھا
24:36آئیزہ میں تمہیں
24:38خوشو سے بردھوں گا
24:39بس میرے ساتھ دینا
24:40آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
24:42اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
24:44دونوں نے اپنے محبت
24:46چپ کر جینے کے قسم کھائی
24:48کیونکہ ریحان کی گھر والے
24:50سخت مزاج تھے
24:51وہ امیر گرانے سے
24:52تعلق رکھتے تھے
24:53جبکہ آئیزہ
24:54ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
24:56ویورز وقت گزرتا گیا
24:58ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
25:00اور ایک پلی کمپنی میں
25:01نوکری حاصل کی
25:03اس نے وعدہ کیا
25:04کہ جلہی
25:05اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
25:07مگر دن
25:08مہینوں میں
25:09اور مہینے برسوں میں بدل گئے
25:11پھر ایک دن
25:12ریحان کا پون آیا
25:13آواز کھاپ رہی تھی
25:14آئیزہ میں
25:15کمزوری پڑ گیا ہو
25:17اس نے میری شادی
25:18کہی عورتے کر دی ہے
25:19میں تمہیں نہیں بول سکتا
25:22مگر میں انکار نہیں کر سکتا
25:24یہ سن کر آئیزہ کی
25:25دنیا رک گئی
25:26اس نے کچھ نہیں کہا
25:27بس پون بن کر دیا
25:29اس دن کے بعد
25:30اس نے خود کو کام میں
25:31مصروف کر لیا
25:32وہ اسکول میں فلاتی تھی
25:33مگر بچے کی مسکراہت سے
25:35ریحان کی یاد دلاتی
25:37تین سال گزر گئے
25:39ایک دن اسکول میں
25:40نیا فرینسیبل کا تقرر ہوا
25:43جناب ریحانہ
25:44آئیزہ کے ہاتھوں سے
25:45پہل گرگی
25:46وہی چہرہ
25:47وہی لگ جا
25:47مگرانکو میں ندامتی
25:49ریحان نے
25:49خاموشی سے کہا
25:51میں تمہیں ڈونٹا رہا
25:53مگر تم اپنے
25:53پتہ ہی مٹا دیا تھا
25:55میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
25:56ہلو ویورز
25:58بھارش کی بوندے
26:00گلکے کی شیشے پر
26:01گرتے جا رہی تھی
26:02اور آئیزہ چپ چاپ
26:04سوپے پر بیٹی
26:04پرانی تصویروں کو
26:05دیکھ رہی تھی
26:06ہر تصویر میں
26:07ایک ہی چہرہ نمائے تھا
26:09ریحان وہی ریحان
26:10جو اس کی زندگی کا خواب بھی تا
26:12اور ادورہ وعدہ بھی
26:14ویورز پانچ سال فیرے
26:15آئیزہ اور ریحان
26:16یونیورسٹی کے ساتھی تھے
26:17دونوں کے خواب
26:18سوچ اور جذبے
26:20ایک جیسے تھے
26:20ریحان کہتا تھا
26:22آئیزہ میں تمہیں
26:23خوشی سے بردھوں گا
26:24بس میرے ساتھ دینا
26:26آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
26:28اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
26:30دونوں نے اپنے محبت
26:31چپ کر جینے کے قسم کھائی
26:33کیونکہ ریحان کی گھر والے
26:35سخت مزاج تھے
26:36وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے
26:38جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری
26:40ملازم کے بیٹی تھی
26:41ویورز وقت گزرتا گیا
26:43ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
26:45اور ایک پڑھی کمپنی میں
26:47نوکری حاصل کی
26:48اس نے وعدہ کیا
26:49کہ جلہی
26:50اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
26:52مگر دن
26:53مہینوں میں
26:54اور مہینے برسوں میں بدل گئے
26:57پھر ایک دن
26:57ریحان کا پون آیا
26:58آواز کھاپ رہی تھی
27:00آئیزہ میں
27:01کمزوری پڑ گیا ہو
27:02اس نے میری شادی
27:08کر سکتا
27:09یہ سن کر
27:10آئیزہ کی دنیا رک گئی
27:12اس نے کچھ نہیں کہا
27:13بس پون بند کر دیا
27:14اس دن کے بعد
27:15اس نے خود کو کام میں
27:16مصروف کر لیا
27:17وہ اسکول میں فلاتی تھی
27:19مگر بچے کی مسکراہت سے
27:20ریحان کی یاد دلاتی
27:23تین سال گزر گئے
27:24ایک دن اسکول میں
27:26نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
27:28جناب ریحان
27:29آئیزہ کے ہاتھوں سے
27:30پہل گر گئی
27:31وہی چہرہ
27:32وہی لگ جا
27:33مگر آنکو میں ندامتی
27:34ریحان نے
27:35خاموشی سے کہا
27:36میں تمہیں ڈونتا رہا
27:38مگر تم اپنے
27:39پتہ ہی مٹا دیا تھا
27:40میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
27:42ہلو ویورز
27:44بھارش کی بوندے
27:45گلکی کی شیشے پر
27:46گرتی جا رہی تھی
27:48اور آئیزہ چپ چاپ
27:49سوکے پر بیٹی
27:50پرانی تصویروں کو
27:51دیکھ رہی تھی
27:52ہر تصویر میں
27:53ایک ہی چہرہ نمائے تھا
27:54ریحان وہی ریحان
27:56جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
27:57اور ادورہ وعدہ بھی
27:59ویورز پانچ سال فیریا
28:01آئیزہ اور ریحان
28:02یونیورسٹی کے ساتھی تھے
28:03دونوں کے خواب
28:04سوچ اور جذبے
28:05ایک جیسے تھے
28:06ریحان کہتا تھا
28:07آئیزہ میں تمہیں
28:08خوشی سے بردھوں گا
28:10بس میرے ساتھ دینا
28:11آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
28:13اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
28:15دونوں نے اپنے محبت
28:17چپ کر جینے کے قسم کھائی
28:19کیونکہ ریحان کی گھر والے
28:20سخت مزاج تھے
28:22وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
28:24جبکہ آئیزہ ایک عام
28:25سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
28:27ویورز وقت گزرتا گیا
28:29ریحان اپنی پڑائی مکمل کی
28:31اور ایک پڑی کمپنی میں
28:32نوکری حاصل کی
28:34اس نے وعدہ کیا
28:35کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
28:38مگر دن مہینوں میں
28:39اور مہینے برسوں میں بدل گئے
28:42پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
28:44آواز کھاپ رہی تھی
28:45آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
28:48اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
28:50میں تمہیں نہیں بول سکتا
28:52مگر میں انکار نہیں کر سکتا
28:55یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
28:57اس نے کچھ نہیں کہا
28:58بس پون بن کر دیا
28:59اس دن کے بعد
29:01اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
29:03وہ اسکول میں فلاتی تھی
29:04مگر بچے کی مسکراہت سے
29:06ریحان کی عادت دلاتی
29:08تین سال گزر گئے
29:10ایک دن اسکول میں
29:11نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
29:13جناب ریحانہ
29:15آئیزہ کے ہاتھوں سے
29:16پہل گر گئی
29:17وہی چہرہ
29:17وہی لگ جا
29:18مگر آنکو میں ندامتی
29:20ریحان نے خاموشی سے کہا
29:21میں تمہیں ڈونٹا رہا
29:23مگر تم اپنے پتہ ہی
29:25مٹا دیا تھا
29:26میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
29:27ہلو ویورز
29:29بارش کی بوندے
29:31گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
29:33اور آئیزہ چپ چاپ
29:34سوپے پر بیٹی
29:35پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
29:43ویورز پانچ سال فیریا
29:46آئیزہ و ریحان
29:47یونیورسٹی کے ساتھی تھے
29:48دونوں کے خواب
29:49سوچ اور جذبے
29:51ایک جیسے تھے
29:51ریحان کہتا تھا
29:52آئیزہ میں تمہیں
29:54خوشی سے بردھوں گا
29:55بس میرے ساتھ دینا
29:56آئیزہ نے اس کے آنکوں میں دیکھا
29:59اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
30:01دونوں نے اپنے محبت
30:02چپ کر جینے کے قسم کھائی
30:04کیونکہ ریحان کی گھر والے
30:06سخت مزاج تھے
30:07وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
30:09جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
30:12ویورز وقت گزرتا گیا
30:14ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
30:16اور ایک پڑی کمپنی میں
30:18نوکری حاصل کی
30:19اس نے وعدہ کیا
30:20کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
30:23مگر دن مہینوں میں
30:25اور مہینے برسوں میں بدل گئے
30:28پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
30:29آواز کھاپ رہی تھی
30:31آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
30:33اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
30:36میں تمہیں نہیں بول سکتا
30:38مگر میں انکار نہیں کر سکتا
30:40یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
30:42اس نے کچھ نہیں کہا
30:44بس پون بن کر دیا
30:45اس دن کے بعد
30:46اس نے خود کو کام میں مصروف کر لیا
30:48وہ اسکول میں فلاتی تھی
30:49مگر بچے کی مسکراہت سے
30:51ریحان کی عادت دلاتی
30:53تین سال گزر گئے
30:55ایک دن اسکول میں
30:57نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
30:59جناب ریحانہ
31:00آئیزہ کے ہاتھوں سے
31:01پہل گر گئی
31:02وہی چہرہ
31:03وہی لکھ جاؤں
31:04مگر آنکو میں ندامتی
31:05ریحان نے خاموشی سے کہا
31:07میں تمہیں ڈونٹا رہا
31:09مگر تم اپنے پتہ ہی
31:10مٹا دیا تھا
31:11میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
31:13ہلو ویورز
31:15بارش کی بوندے
31:16گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
31:18اور آئیزہ چپ چاپ
31:20سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
31:22ہر تصویر میں
31:23ایک ہی چہرہ نمائے تھا
31:25ریحان وہی ریحان
31:26جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
31:28اور ادورہ وعدہ بھی
31:30بیورز پانچ سال فیریا
31:32آئیزہ اور ریحان
31:32یونیورسٹی کے ساتھی تھے
31:34دونوں کے خواب
31:35سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
31:37ریحان کہتا تھا
31:38آئیزہ میں تمہیں
31:39خوشی سے بردھوں گا
31:41بس میرے ساتھ دینا
31:42آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
31:44اور چھپ چار سر ہلا دیا تھا
31:46دونوں نے اپنے محبت
31:48چھپ کر جینے کے قسم کائی
31:49کیونکہ ریحان کی گھر والے
31:51سخت مزاج تھے
31:53وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
31:55جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
31:58ویورز وقت گزرتا گیا
31:59ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
32:02اور ایک پڑی کمپنی میں
32:03نوکری حاصل کی
32:05اس نے وعدہ کیا
32:06کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
32:08مگر دن مہینوں میں
32:10اور مہینے برسوں میں بدل گئے
32:12پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
32:15آواز کھاپ رہی تھی
32:16آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
32:18اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
32:21میں تمہیں نہیں بول سکتا
32:23مگر میں انکار نہیں کر سکتا
32:25یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
32:28اس نے کچھ نہیں کہا
32:29بس پون بند کر دیا
32:30اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں
32:33مصروف کر لیا
32:33وہ اسکول میں فلاتی تھی
32:35مگر بچے کی مسکراہت سے
32:37ریحان کی یاد دلاتی
32:39تین سال گزر گئے
32:41ایک دن اسکول میں
32:42نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
32:44جناب ریحانہ
32:45آئیزہ کے ہاتھوں سے
32:47پہل گر گی
32:48وہی چہرہ
32:48وہی لے جا
32:49مگر آنکوں میں ندامت تھی
32:50ریحان نے خاموشی سے کہا
32:52میں تمہیں ڈونتا رہا
32:54مگر تم اپنے پتہ ہی مٹا دیا تھا
32:56میرے شادی اب ختم ہو چکی ہے
32:58ہلو ویورز
33:00بارش کی بوندے گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
33:04اور آئیزہ چپ چاپ
33:05سوپے پر بیٹی پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
33:08ہر تصویر میں ایک ہی چہرہ نمائے تھا
33:10ریحان وہی ریحان جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
33:14اور ادورہ وعدہ بھی
33:15ویورز پان سال فیریا
33:17آئیزہ اور ریحان یونیورسٹی کے ساتھی تھے
33:19دونوں کے خواب
33:20سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
33:22ریحان کہتا تھا
33:23آئیزہ میں تمہیں خوشوں سے بردھوں گا
33:26بس میرے ساتھ دینا
33:27آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
33:30اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
33:32دونوں نے اپنی محبت چپ کر جینے کے قسم کھائی
33:35کیونکہ ریحان کی گھر والے
33:37سخت مزاج تھے
33:38وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
33:40جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
33:43ویورز وقت گزرتا گیا
33:45ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
33:47اور ایک بڑی کمپنی میں
33:48نوکری حاصل کی
33:50اس نے وعدہ کیا
33:51کہ جلہی
33:52اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
33:54مگر دن
33:55مہینوں میں
33:56اور مہینے برسوں میں بدل گئے
33:58پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
34:00آواز کھاپ رہی تھی
34:02آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
34:04اس نے میری شادی کہی عورتے کر دی ہے
34:06میں تمہیں نہیں بول سکتا
34:09مگر میں انکار نہیں کر سکتا
34:11یہ سن کر آئیزہ کی
34:12دنیا رک گئی
34:13اس نے کچھ نہیں کہا
34:14بسپون بن کر دیا
34:16اس دن کے بعد
34:17اس نے خود کو کام میں
34:18مصروف کر لیا
34:19وہ اسکول میں فلاتی تھی
34:20مگر بچے کی مسکراہت سے
34:22ریحان کی یاد دلاتی
34:24تین سال گزر گئے
34:26ایک دن اسکول میں
34:27نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
34:30جناب ریحانہ
34:31آئیزہ کے ہاتھوں سے
34:32پہل گر گئی
34:33وہی چہرہ
34:34وہی لے جا
34:34مگر آنکوں میں ندامت تھی
34:36ریحان نے
34:36خاموشی سے کہا
34:38میں تمہیں ڈونتا رہا
34:40مگر تم اپنے پتہ ہی
34:41مٹا دیا تھا
34:42میرے شاید اب ختم ہو چکی ہے
34:44ہلو ویورز
34:45بارش کی بوندے
34:47گلکی کی شیشے پر گرتی جا رہی تھی
34:49اور آئیزہ چپ چاپ
34:51سوپے پر بیٹی
34:51پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
34:53ہر تصویر میں
34:54ایک ہی چہرہ نمائے تھا
34:56ریحان وہی ریحان
34:57جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
34:59اور ادورہ وعدہ بھی
35:01ویورز پانچ سال فیریا
35:03آئیزہ و ریحان یونیورسٹی کے ساتھی تھے
35:05دونوں کے خواب
35:05سوچ اور جذبے ایک جیسے تھے
35:08ریحان کہتا تھا
35:09آئیزہ میں تمہیں خوشی سے بردھوں گا
35:12بس میرے ساتھ دینا
35:13آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
35:15اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
35:17دونوں نے اپنے محبت
35:18چپ کر جینے کے قسم کھائی
35:20کیونکہ ریحان کی گھر والے
35:22سخت مزاج تھے
35:23وہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے
35:26جبکہ آئیزہ ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
35:29ویورز وقت گزرتا گیا
35:30ریحان اپنی فڑائی مکمل کی
35:32اور ایک پڑی کمپنی میں
35:34نوکری حاصل کی
35:35اس نے وعدہ کیا
35:36کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
35:39مگر دن مہینوں میں
35:41اور مہینے برسوں میں بدل گئے
35:44پھر ایک دن ریحان کا پون آیا
35:45آواز کھاپ رہی تھی
35:47آئیزہ میں کمزوری پڑ گیا ہو
35:49اس نے میرے شادی کے ہی عورتے کر دی ہے
35:56یہ سن کر آئیزہ کی دنیا رک گئی
35:59اس نے کچھ نہیں کہا
36:00بس پون بند کر دیا
36:01اس دن کے بعد اس نے خود کو کام میں
36:03مصروف کر لیا
36:04وہ اسکول میں فڑاتی تھی
36:06مگر بچے کی مسکراہت سے
36:07ریحان کی یاد دلاتی
36:10تین سال گزر گئے
36:11ایک دن اسکول میں
36:13نیا پرینسیبل کا تقرر ہوا
36:15جناب ریحانہ
36:16آئیزہ کے ہاتھوں سے
36:17پہل گر گئی
36:18وہی چہرہ
36:19وہی لئی جا
36:20مگر آنکوں میں ندامت تھی
36:21ریحان نے خاموشی سے کہا
36:23میں تمہیں ڈونتا رہا
36:25مگر تم اپنے پتہ ہی
36:26مٹا دیا تھا
36:27میرے شاید اب ختم ہو چکی ہے
36:29ہلو ویورز
36:31بارش کی بوندے
36:32گلکی کی شیشے پر گرتے جا رہی تھی
36:35اور آئیزہ چپ چاپ
36:36سوپے پر بیٹی
36:37پرانی تصویروں کو دیکھ رہی تھی
36:39ہر تصویر میں
36:40ایک ہی چہرہ نمائے تھا
36:41ریحان وہی ریحان
36:43جو اس کی زندگی کا خواب بھی تھا
36:45اور ادورہ وعدہ بھی
36:46ویورز پانچ سال فیریا
36:48آئیزہ اور ریحان
36:49یونیورسٹی کے ساتھی تھے
36:50دونوں کے خواب
36:51سوچ اور جذبے
36:52ایک جیسے تھے
36:53ریحان کہتا تھا
36:54آئیزہ میں تمہیں
36:55خوشی سے بردھوں گا
36:57بس میرے ساتھ دینا
36:58آئیزہ نے اس کے آنکھوں میں دیکھا
37:00اور چپ چار سر ہلا دیا تھا
37:02دونوں نے اپنے محبت
37:04چپ کر جینے کے قسم کھائی
37:06کیونکہ ریحان کی گھر والے
37:07سخت مزاج تھے
37:09وہ امیر گرانے سے تعلق رکھتے تھے
37:11جبکہ آئیزہ
37:12ایک عام سرکاری ملازم کی بیٹی تھی
37:14ویورز وقت گزرتا گیا
37:16ریحان اپنی پڑھائی مکمل کی
37:18اور ایک پڑھی کمپنی میں
37:19نوکری حاصل کی
37:21اس نے وعدہ کیا
37:22کہ جلہی اپنے گھر والوں سے بات کرے گا
37:25مگر دن مہینوں میں
37:26اور مہینے برسوں میں بدل گا
Comments