Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago
How_Neptune_was_discovered_by_Newton_s_laws____Faisal_Warraich

Category

🤖
Tech
Transcript
00:00ایک جینئس ایسٹرانمر اوبونلی ویریے نے زندگی کا بڑا حصہ اوپر دیکھتے ہوئے گزارا۔
00:15وہ سیاروں اور ستاروں کی کھوج میں لگا رہتا تھا۔
00:19جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں تب انسان یہی سمجھتا تھا کہ سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں ساتھویں سیارہ، پلینٹ یورینس آخری سیارہ ہے۔
00:31اس کے بعد سورج کی سلطنت ختم۔
00:34لیکن کیا کیجئے تاریخ کے متجسس دماغوں کیوریس مائنڈز کا کہ ان کے ذہنوں میں سوالات جنم لینا ختم ہی نہیں ہوتے۔
00:44تو ایک دن اوبونلی ویریے نے نوٹ کیا کہ یورینس بھلے آخری سیارہ ہے لیکن اس کی حرکتیں بلکل ٹھیک نہیں۔
00:53یعنی جیسے باقی نظام شمسی کے چھے سیاروں کی حرکت نیوٹن لاز آف موشن قوانین حرکت کے مطابق ہوتی ہے ویسے ہی ایک خاص جگہ پر یورینس پلینٹ کی نہیں ہوتی۔
01:07اوبون نے نوٹ کیا کہ یورینس سورج کے گرد چکر کے دوران کہیں کہیں گیویٹیشنل لاز کو تو لفٹ ہی نہیں کرواتا۔
01:16اب ایسا تو ہماری کائنات میں ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی جسم کوئی باڈی ان قوانین سے انحراف کرے انہیں ڈیفائی کرے۔
01:25لیکن کیا کیجئے کہ ایسا ہو رہا تھا۔
01:28زمین سے ساڑھے چار ارب کلومیٹر دور یورینس پلینٹ اپنے مدار میں ایک خاص مقام پر پہنچ کر کچھ ٹیڑا میڑا گھومتا تھا۔
01:38اور کیوں گھومتا تھا؟
01:40یہ راز کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
01:43صرف اوبون ہی نہیں دوستو، ساٹھ سال سے باقی اسٹرونمرز بھی پریشان تھے کہ یا تو نیوٹن کے کوارین غلط ہیں۔
01:52یا پھر اس سیارے پر کسی بھوت کا سایا ہے۔
01:55کوئی نامعلوم راز ہے یہ۔
01:57لیکن راز ہے کیا؟
02:00اٹھارہ سو چالیس میں اس بھید سے پردہ اٹھ گیا مگر کیسے؟
02:05میں ہوں فیصل مڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی کل کائنات سیریز کے دسویں قسط میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے۔
02:13اٹھارہ سو چالیس کی بات ہے کہ پروفیسر اوبون لی ویریے نے اپنے ڈسک پر رکھے کاغزوں اور دیوار پر لگے تختہ سیاہ کو نمبرز اور ایکویشنز سے بھر دیا۔
02:33وہ سیارے یورنیس، پلانٹ یورنیس کی عجیب و غریب حرکتوں سے اسی طرح پریشان تھا جیسے باقی اسٹرونمس تھے۔
02:42لیکن اوبون لی ویریے کسی مایتھالوجی یا بھوت پریت یا اندیکھی طاقت کا نام لینے کے بجائے اصل راز جاننا چاہتا تھا۔
02:51اس نے حساب لگایا اور اندازہ کیا کہ جیسی حرکتیں یورنیس کی ہیں یعنی جس طرح وہ حرکت کرتا ہے وہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اس کے قریب کوئی بہت بڑا جسم، باڈی اور بھی موجود ہو۔
03:07اس بڑے جسم کی کششی پلانٹ یورنیس کی موومنٹ کو، حرکت کو کچھ خاص تبدیل کر سکتی تھی۔
03:15لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یورنیس کے قریب کوئی اتنا بڑا جسم تھا، سیارہ یا کچھ اور تھا تو اسے نظر آنا چاہیے تھا نا۔
03:24تو کیا یہ کوئی پھر چھوٹی سی چیز تھی جس کی وجہ سے پلانٹ یورنیس کی حرکت میں تبدیلی آ رہی تھی؟
03:32نہیں ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ کوئی چھوٹا جسم یورنیس کی موومنٹ کو اس حد تک ڈسٹرم نہیں کر سکتا تھا جتنا کہ وہ ہو رہا تھا۔
03:43سو اوبول نیویریے نے میت کے ذریعے، اپنے کلم کے ذریعے یہ مشکل مہم سر کی۔
03:50اٹھارہ سو چھالیس میں اس نے برلن اوبزرویٹری کو ایک خط لکھا جس میں درخواست کی گئی کہ خلا میں اس خاص اینگل پر طاقتور دوربین سے تحقیق کی جائے۔
04:02کیونکہ وہ جسم وہ بڑا سا سیارہ یا باڈی جس کی وجہ سے پلانٹ یورنیس کی حرکت میں تبدیلی آتی ہے این اس وقت اسی جگہ پر ہونا چاہیے جو جگہ اور وقت اوبون بتا رہا تھا۔
04:16تئیس ستمبر اٹھارہ سو چھالیس، ٹونٹی تھرڈ ستمبر ایٹین فورٹی سکس کو یہ خط ڈاکٹر گیل کو برلن اوبزرویٹری میں ملا۔
04:26اسی رات کو ڈاکٹر گیل نے اپنے سینئرز کی مخالفت کے باوجود آسمان پر ٹھیک اسی اینگل پر دوربین سے کھوجنا شروع کر دیا جہاں اوبون نے پرڈکٹ کیا تھا پیشگوئی کی تھی۔
04:39وہاں بظاہر تو کچھ نہیں تھا لیکن جب بہت غور سے دیکھا تو گہرے سیاہ بیکراں خلا میں ایک گہرا نیلا بھوت تیر رہا تھا۔
04:51یہ بھوت اتنا بڑا تھا کہ اس کے جسم میں ہماری چار زمینیں سما سکتی تھی۔
04:57یہ دائرہ نمائے ایک بڑا سا گول جسم تھا اور صرف ایک ڈگری کے فرق سے ٹھیک اسی جگہ پر تھا
05:05جہاں اوبون لیویریے نے اپنے ریاضی کے فارمولوں سے معلوم کیا تھا۔
05:11لیکن دوستو یہ سیارہ لیویریے سے پہلے بھی ماہر فلکیات گنیلیوں نے دریافت کر لیا تھا لیکن اس سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ اسے ستارہ سمجھتا رہا۔
05:21یعنی وہ اسے پلینٹ نہیں ایک سٹار سمجھا تھا۔
05:24اس نے اپنے نقشوں میں اسے ڈرا تک کر لیا تھا، ایک بار نہیں، ایک سے زیادہ بار کیا تھا۔
05:30مگر ہر بار ستارے کی شکل ہی میں کیا تھا پلینٹ کی شکل میں نہیں۔
05:35اسی لیے یہ دریافت گلیلیو یا کسی اور کے حصے میں نہیں بلکہ اس کی دریافت اوبون لیویریے ہی کے حصے میں آئی۔
05:44اب سیارہ تو دوستو دریافت ہو گیا لیکن ابھی اس کا نام رکھنا باقی تھا۔
05:50آپ کو یقیناً معلوم ہوگا کہ ستاروں، سیاروں، کومنٹس، بیلٹس اور چاندوں کے ناموں پر سائنسدانوں میں بہت دلچسپ مقابلے ہوتے ہیں، لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں بعض اوقات میں۔
06:01تو یہی یہاں بھی ہوا۔
06:03اوبون لیویریے نے اس نئے سیارے کا نام اپنے نام پر رکھنا چاہا۔
06:08فرانس کے دوسرے کئی اسٹرانومرز بھی اس کی حمایت کر رہے تھے لیکن فرانس کے باہر کے سائنسدان اسٹرانومرز نہیں مان رہے تھے۔
06:17کیونکہ روایت کے مطابق زمین کے علاوہ تمام سیاروں کے نام رومن یا گریگ دیوتاؤں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔
06:26ویسے بھی لیویریے سے صرف پینسٹھ برس پہلے نظام شمسی کا ساتویں سیارہ ایک جرمن میوزیشن اسٹرانومر ویلیم ہرشل نے دریافت کیا تھا۔
06:37لیکن اس سیارے کا نام ویلیم ہرشل کے نام پر نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اس کا نام اس کے نینے رنگ کی وجہ سے سمندروں کے یونانی دیوتا گریگ گاڈ کے نام پر یورنیس رکھا گیا تھا۔
06:50اس روایت کو بدلنے کے لیے لیویریے نے کوشش کی کہ یورنیس کا نام بھی بدل کر جرمن ماہر فلکیات کے نام پر ہرشل کر دیا جائے۔
07:00اور اس کے دریافت کردہ سیارے کا نام بھی اس کے نام پر لیویریے رکھ دیا جائے۔
07:06لیکن اس کے یہ خواہش دوستو پوری نہ ہو سکی۔
07:10سو اس نے فوراں سے پہلے سے سوچا ہوا ایک نام نیپچون بول دیا۔
07:15اب یہ نام وہاں کی سائنسی روایات کے مطابق تھا۔
07:19کیونکہ اگر یورنیس یونانی دیوتا تھا تو نیپچون رومم دیوتا تھا جو سمندروں میں طوفانوں کو ٹالتا اور موجوں پر حکمرانی کرتا تھا۔
07:29یہ نام تسلیم کر لیا گیا اور پوری دنیا میں آج تک اس آٹھویں سیارے کا نام تقریباً ہر جگہ پر سائنٹیفک کمیونٹیز میں نیپچون ہی بولا جاتا ہے۔
07:40لیویریے اس سیارے کو اپنے نام پر تو رکھنے کا عزاز حاصل نہ کر سکا۔
07:46لیکن ایک عزاز بہرحال اسے ملا اور اسی کی وجہ سے اس کا نام اس سیارے سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔
07:54وہ عزاز کیا تھا؟
07:56دوستو اس نئے دریافت ہونے والے گیس کے جناتی، تھنڈے سیارے کے گرد بھی سیٹرن اور یونینس کی طرح رنگز ہیں، دائرے ہیں۔
08:15لیکن سوچئے کہ جو سیارہ بزاتے خود دیکھنا ہی تقریباً ناممکن تھا، اس کے رنگز کیا خاک دکھائی دیں گے؟
08:24لیکن جانئے کہ ہمارے سپیس کرافت وائجر ٹو نے تقریباً چھ سو سیکنڈ کے دو ایکسپوزئرز سے نیپچون کے ان رنگز کی تصاویر بنائی تھی۔
08:36یہ دو حصوں میں بنی ہوئی تصویر دو لاکھ اسی ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے بنی تھی۔
08:43اور اس میں نیپچون کے پانچ رنگز دکھائی دے رہے ہیں۔
08:47اس رنگ سسٹم میں یہ دوسرے اور سب سے بڑے پرنسپل رنگ، دائرے کا نام، اس سیارے کو پین کی نوک سے دریافت کرنے والے سائنستان کے نام پر لیویریے رنگ کا نام دیا گیا ہے۔
09:02اور یہی وہ اعزاز ہے جو لیویریے کو ملا۔
09:06اگر آپ کبھی پیرس جائیں تو وہاں ماؤن پیراناس، قبرستان یا اسمیٹری ضرور جائیں۔
09:12یہ قبرستان عجیب و غریب ہے۔ اس میں تاریخ کے نامور ترین فرانسیسی دفن ہے۔
09:18یہاں آپ کو بہت ہی غیر روایتی مونومنٹس دیکھنے کو ملیں گے۔
09:22کہیں مجسمہ ساز کی قبر پر گھوڑے کا مجسمہ ہے تو کہیں چارلز ہاتھ میں کاپی پینسل پکڑے اپنے بیڈروم میں بیوی کے پاس سونے کی تیاری کر رہا ہے۔
09:33کہیں ایک ایسا پرندہ ہے جو کبھی ایکٹوپس دکھائی دیتا ہے اور کبھی درخت۔
09:39اور کہیں ایک پتھر کی حسینہ نا جانے کب سے بیٹھی رو رہی ہے اور یہی پر ایک بلند سی قبر بھی ہے۔
09:47جس کے اوپر نیپچون سیارے کا موڈل نصب ہے اس قبر میں۔
09:52وہی شخص سو رہا ہے جس نے اپنے کلم کی نوک سے ایک سیارہ ڈھونڈ نکالا تھا۔
09:58یہاں زمین کے لیچے آب آن لی ویر یہ دفن ہے وہی جو آسمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے چلا کرتا تھا۔
10:06اٹھارہ سو چھالیس ایٹین فورٹی سکس میں اس سیارے کی دریافت اس صدی کی سب سے بڑی دریافت تھی اور اس نے ہمارے نظام شمسی کے نقشے ہی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
10:19کیونکہ اس سے پہلے سیاروں کی کل تعداد ساتھ ہی سمجھی جاتی تھی۔
10:24یہ سیارہ نپچون اب تک اس لیے نظر نہیں آیا تھا کیونکہ یہ بے انتہا مدھم تھا۔
10:30اتنا مدھم کے دور بھی ان کے بغیر جو ستارے سب سے مدھم، دم، لائٹ، فیٹ دکھائی دیتے تھے یہ ان سے بھی پانچ گناہ زیادہ مدھم تھا۔
10:42یہ زمین سے اتنا دور تھا کہ اس کا زمین سے فاصلہ زمین سے سورج کے فاصلے سے تیس گناہ زیادہ تھا۔
10:51دوستو زمین سے سورج کے فاصلے کو اگر ایک اسٹرونومکل یونٹ مانا جائے تو یہ سیارہ نپچون ہم سے آسٹن تیس اے یوں اسٹرونومکل یونٹ دور ہے۔
11:05پھر بھی ہمارے اور آپ کے سمجھنے کے لیے بتا دیں کہ نپچون اور زمین جب ایک دوسرے سے بہت قریب بھی ہوتے ہیں تو ان کا درمیانی فاصلہ چار ارب تیس کروڑ کلومیٹر کے قریب ہوتا ہے۔
11:19سورج سے اتنا دور ہونے ہی کی وجہ سے نپچون کا ایک سال زمین کے ایک سو پینسٹھ ون سکسٹی فائیو ایئرز کے برابر ہوتا ہے۔
11:32یعنی اگر آپ نپچون کے حساب سے دیکھیں تو اس سیارے کو دریافت ہوئے ابھی ایک ہی سال ہوا ہے۔
11:39کیونکہ اٹھارہ سو چھالیس میں یہ دریافت ہوا تھا اور اس کے بعد دوہزار گیارہ میں یہ سورج کے گرد چکر لگا کر دوبارہ اسی جگہ پہنچا تھا جہاں اسے پہلی بار دیکھا گیا تھا۔
11:52پلانٹ نپچون کی دریافت نے یہ راز بھی کھول دیا کہ آخر پلانٹ یورنیس کی حرکت میں ایک خاص جگہ پر کچھ تبدیلی کیوں آتی ہے۔
12:02یہ تبدیلی اس لیے اور اس وقت آتی تھی جب یہ نیا دریافت ہونے والا بھوت سیارہ نپچون پلانٹ یورنیس کے قریب سے گزرتا تھا۔
12:12یہ بھوت سیارہ اتنا مشکل اور چیلنجنگ پلانٹ ہے کہ اس کے لیے آپ کو ایک لیجنڈری سپیس کرافٹ کی کہانی سننا ہو۔
12:31انیس سو ستتر نائنٹین سیونٹی سیون میں جب لیجنڈری سپیس مشن وائجر ٹو کو خلا میں بھیجا گیا
12:38تو یہ بارہ سال بعد نپچون کے قریب پہنچ چکا تھا۔
12:43وائجر ٹو نے تمام آوٹر پلانٹس کی شامدار تصاویر لی لیکن اس سیارے نپچون کے قریب پہنچ کر وائجر ٹو کی بتی گل ہو گئی۔
12:53زمین سے تین گناہ بڑا سیارہ اس کے سامنے تھا اور اسے دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔
12:59لیکن وائجر ٹو ایک چست مشن تھا، ایک ایکٹیو مشن تھا، یہ اپنا کام بہانوں سے نہیں ٹالتا تھا۔
13:07کیونکہ زمین پر بیٹھی اس کی ٹیم بھی ایک زبردست ٹیم تھی۔
13:11اس ٹیم نے نپچون کی تصاویر لینا تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وائجر ٹو جس پر لگے کیمرے سے تصاویر لینا تھی وہ تو گولی سے بھی تیز رفتاری سے حرکت کر رہا تھا۔
13:23گولی کی عام رفتار دوست تو آدھا یا ایک کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے جبکہ وائجر ٹو انیس کلومیٹر فی سیکنڈ کی آست رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔
13:35پھر نپچون پر سورج کی روشنی اتنی کم پڑتی ہے کہ اگر اس کا زمین سے موازنہ کیا جائے تو یہ روشنی پوائنٹ زیرو زیرو ون پرسنٹ بنتی ہے، اشاریہ صفر صفر ایک فیصد۔
13:50اتنی کم روشنی میں گولی سے انیس گنا تیز بھاگنے والے سپیس کرافٹ نے پھر اتنی شامدار تصویر کیسے بنائی ہے؟
13:59دراصل وائجر ٹو کی ٹیم نے کیا یہ کہ انہوں نے سپیس کرافٹ کو نئے اینگل پر سیٹ کر دیا۔
14:06اس اینگل سے وائجر ٹو پر لگے کیمرے کو مسلسل چار گھنٹے تک پلانٹ نپچون کا ایکسپوئیر ملتا رہا۔
14:14یعنی وہ اس کی تصویر کے لیے روشنی چار گھنٹے تک اس کی طرف سے لیتا رہا۔
14:20پھر زمین پر لگے وہ اینٹی نے جن سے وائجر کو سگنلز بھیجے اور ریسیو کیے جاتے تھے انہیں دو سو تیس فٹ تک کئی گھنٹے مسلسل کھولے رکھا گیا۔
14:32یہ اینٹی نے سپین، جرمنی، نیکسیکو اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں نصب تھے۔
14:39ان سب کوششوں کے بعد جب وائجر ٹو نپچون کے تقریباً ففٹی سیون ملین کلومیٹر پانچ کروڑ ستر لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا تو اس نے چار گھنٹے میں نپچون کی یہ نیلی مدھم اور واحد تصویر بنا لی۔
14:58یہ تصویر اب تک کی سپیس کرافٹ سے بنائی گئی واحد تصویر ہے جو اس سیارے کی ہمارے پاس موجود ہے۔
15:06اس تصویر میں پلانٹ نپچون کے درمیان میں جو بڑا سا گہرا نشان گریٹ ڈارک سپارٹ نظر آ رہا ہے یہ نپچون پر اٹھے ہوئے کسی توفان کا نشان تھا۔
15:18لیکن یہ توفان جتنی جگہ پر آیا تھا اتنی جگہ پر تو ہماری پوری کی پوری زمین ہمارا نیلہ سیارہ سما سکتا تھا۔
15:27ہاں لیکن یہ انیس سو نواسی کی بات ہے۔
15:31اب یہ توفان تھم چکا بہت سے نئے توفان بھی اس کی سطح پر جنم لے چکے۔
15:37کیونکہ نپچون پر تو ہر عام توفان امرتے رہتے ہیں۔
15:41یہ ہمارے نظام شمسی سولر سسٹم کا سب سے توفانی سیارہ ہے۔
15:47نپچون پر ہوایں جمی ہوئی میتھین، ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسیز کو لیے دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چکر کاٹ رہی ہیں۔
15:57یہ رفتار سب سے بڑے سیارے جیوپیٹر مشتری کی ہواوں سے بھی تین گناہ تیز ہے جبکہ زمین پر چلنے والی ہواوں سے تو ان کی رفتار نو گناہ زیادہ ہوتی ہے۔
16:10اب یہ رفتار کتنی ہوتی ہے؟
16:13اس کا اندازہ یوں کیجئے کہ ہماری زمین پر تیز سے تیز توفان بھی چار سو کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے آتا ہے۔
16:21جبکہ نپچون کے گرد لپتے بادلوں کی رفتار کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔
16:27اب سوچئے کہ اس توفانی سیارے کے اوپر بپھرے توفان کے اوپر بھی ایک اور توفان۔
16:34کیسا ہوگا یہ توفان ایک کہرے آسمان؟ اسی کی ایک تصویر وائجر ٹو نے بنائی تھی۔
16:41ہے نہ حیرت کی بات، اس توفان میں توفان بلکہ توفان پر توفان کا سن کر اگر آپ حیران ہیں تو آپ کے لیے کچھ ایسا ہی سامان اور بھی ہے۔
16:52نپچون وہ سیارہ ہے جس پر ڈائمنڈز کی ہیروں کی بارش ہوتی ہے۔
17:08جی ہاں اس پر ہائیڈروجن اور کاربن مالیکولر فارم میں موجود ہے۔
17:13اور پھر یہاں دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ کاربن کرسٹلائز ہو کر ڈائمنڈ کی شکل دھار لیتا ہے۔
17:20جس کے بعد ڈائمنڈ کے کرسٹلز بارش کی طرح اس کے گہرے گاڑے سمندر نمائی اتموسفیر سے نیچے کور میں گرتے رہتے ہیں۔
17:30یہ ہیرو کی بارش آپ کو دوستو کتنا بھی لالچ دے لیکن ایک بات بتائیں آپ کو۔
17:37کیا آپ نے بچپن میں اے حمید کی کہانیاں پڑھی ہیں؟
17:41یا علی فلیلہ کی کہانیاں تو ضرور سنی ہوں گی؟
17:44ان کہانیوں میں خزانوں پر ایک سامپ بیٹھا ہوتا تھا جو خزانے کی حفاظت کرتا تھا۔
17:50تو دوستو ان کہانیوں کے خزانوں پر بیٹھے سامپ کو ہٹانا آسان تھا لیکن نیپچون کا خزانہ کسی ہزار رات کی کہانی کا خزانہ نہیں ہے۔
18:01اسی لیے یہاں سے ہیرے لانا فی الحال کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ دوستو پلینٹ نیپچون کسی بین کی آواز پر مدھوش نہیں ہوتا بلکہ اپنے من میں ہزاروں توفان سمیٹے مکمل ہوش میں رہتا ہے۔
18:18ویسے بھی یہ ہمارا پیارا سرحدی سیارہ ہے، ہمارے نظام شمسی کا آخری سیارہ۔
18:25یہ ہمارے سولر سسٹم کا سب سے توفانی، اندھیروں میں گم اور یخ بستا سیارہ ہے اس لیے یہاں زندگی کا کوئی امکان نہیں۔
18:35یہاں نہ تو زندگی پیدا ہو سکتی ہے، نہ ایوالو ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہم یہاں ٹھہر سکتے ہیں تو بس اب دوستو یہاں سے آگے بڑھتے ہیں۔
18:45وائجر ٹو نے بھی اس سیارے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پانچ گھنٹے بعد نیپچون کے سب سے بڑے چاند ٹرائٹن کے اوپر سے پرواز کی تھی۔
18:55جب وائجر ٹو مون ٹرائٹن سے چاند ٹرائٹن سے صرف چالیس ہزار کلومیٹر اوپر تھا تو یہ تصویر کئی ٹکڑوں میں اس کے کیمرے نے بنائی تھی۔
19:07جسے پھر ایک موزیک کی صورت زمین پر ریسیو کیا گیا تھا۔
19:12یہ خوبصورت چاند بھی بے حد سرد ہے۔
19:16اس پر آسطاً منفی دو سو بتیس مائنس ٹو تھرٹی فائیو ڈگری سینٹی گریڈ ٹمپریچر رہتا ہے۔
19:22لیکن اس سرد تنین ٹمپریچر کے باوجود وائجر ٹو نے اس کی سطح سے بلکل سیٹرن اور یورنس کے چاندوں کی طرح پانی کے فوارے پھوٹتے دیکھے تھے۔
19:34مطلب یہ کہ این ممکن ہے اس کی سطح کے نیچے بھی ایک سمندر یا بہتا پانی موجود ہو جو بخارات اور فواروں کی شکل میں باہر آ رہا تھا۔
19:46دوستو اگر آپ اس کی سطح پر کھڑے ہوں تو آپ کو اپنے سامنے بس اتنا سا ہی سورج دکھائی دے گا۔
19:53ایک چھوٹا سا مدھم سا ٹمٹیماتا ستارہ۔
19:57جب آپ کے سامنے ہمارا مدھم سا سورج ہوگا تو آپ کے داہنے ہاتھ نیلا سیارہ نیپچون ہوگا، بائیں ہاتھ خلا اور پاؤں کے نیچے یخ بستا تھنڈا چام ٹرائٹن۔
20:11ٹرائٹن مون وہ آخری بڑا سالڈ جسم تھا جسے اس لیجنڈری سپیس کرافٹ وائجر ٹو نے وزٹ کیا تھا۔
20:19اس کے بعد اس کے راستے میں اب تک اتنا بڑا کوئی جسم نہیں آیا۔
20:25وائجر ٹو اب ہمارے سورج کی سرحد اس کی سلطنت یعنی آٹھ سیاروں کے مدار سے دور جا چکا ہے۔
20:33خلا کی بے انتہا تاریکی میں، بے انت، لا متناہی، لا محدود، بے کنار، بے قرآن اور چار سو پھیلی تنہائی میں زمین سے اربوں کلومیٹر دور وائجر ٹو راگ بھیروی میں گاتا جا رہا ہے۔
20:48گاتا جا رہا ہے، جات کہاں ہو۔
20:51جی ہاں یہ سخن ترازی نہیں، داستان گوئی نہیں، سچ ہے۔
20:55واقعی وائجر ٹو گاتا جا رہا ہے۔
20:58مگر کیسے؟
20:59یہ بھی ہم آپ کو دکھائیں گے دوستو لیکن دا یونیورس سیریز کی اگلی قسط میں۔
21:04یونیورس سیریز کو بے حد پسند کرنے پر آپ سب کا شکریہ اس کی اقساط آپ نے ملینز کی تعداد میں دیکھی ہے۔
21:12ہم دوستو کوشش کر رہے ہیں کہ تاخیر سے بچ کر اچھی سے اچھی ویڈیوز اس سلسلے کی آپ تک جلدی پہنچائیں۔
21:20آپ کے کمنٹس بھی ہم پڑھتے ہیں، کچھ کا جواب بھی دیتے ہیں۔
21:23آپ دیکھتے رہیے اور کمنٹس کرتے رہیے۔ ہمیں بہت اچھا لگے گا۔
21:27شکریہ لیکن جن دوستوں نے یونیورس سیریز شروع سے نہیں دیکھی وہ یہاں کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں۔
21:33یہاں جانیے کہ جدید دنیا کے سمبولک لیڈر ابراہم لنکن کی شاندار بائیوگرافی کیا ہے اور یہ رہی ٹیپو سلطان کی داستان ہے آنے۔
21:42موسیقی

Recommended