00:00ڈازن میڈرٹ میں ہونے والے امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی مذاکرات نے عالمی صدا پر توجہ حاصل کی
00:06کیونکہ ان مذاکرات نے نہ صرف دو عظیم طاقتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو واضح کیا
00:12بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل کے لیے بھی اہم اشارے دیئے
00:15یہ مذاکرات جو جنہ والندن اور اسپاو قوم میں ہونے والے پچھلے مذاکرات سے مختلف تھے
00:21اس بات کی اقاسی کرتے ہیں کہ چین نے اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن کو مضبوط کرتے ہوئے
00:26امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے زیادہ متوازن اور تعمیری ڈھاچے کی طرف لے جانے میں کامیابی حاصل کی ہے
00:33خاص طور پر تیریف کے تصور کی غیر موجود گیا
00:36ٹک ٹاک جیسے مسائل پر توجہ نے یہ ظاہر کیا کہ چین کی سفارتی حکمت عملی اور اسٹریٹیجک لچک نے امریکی پالیسیوں پر گہرہ اثر ڈالا ہے
00:45چین نے کس طرح اپنی اسٹریٹیجک صلاحیتوں اقتصادی لچک اور سفارتی حکمت عملی کے سریعے امریکہ کو اپنی پوزیشن پر نظرزانی کرنے پر مجبور کیا
00:55جس کے نتیجے میں تیریف کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا اور ٹک ٹاک جیسے مسائل مذاکرات کا مرکز بن گئے
01:01چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات سے قبل امریکی صدق جانرل ٹرم کی پالیسیوں کا محور تیریف کی چھڑی کو لہرانا تھا
01:09امریکہ نے چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے ٹیریف کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا
01:14تاہم میڈرک مذاکرات میں ٹیریف کا ذکر تقریبا غائب تھا
01:19اور اس کی جگہ زیادہ تقنیقی اور تعمیری موضوعات جیسے کہ
01:23سرمایہ گاری کی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور اقتصادی اور تجارتی تعافن کو فروغ دینا شامل ہوا
01:29چین نے اپنی اقتصادی لچک نایاب زمینی وسائل کی پیشکش بنیادی دھانچے کی ترخی
01:34اور عالمی مارکیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
01:39امریکہ کو اپنی یہ طرفہ پولیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا
01:44یہی وجہ ہے کہ اپنی حل کے بعد سے ٹیریف کا معاملہ پیچھے جاتا گیا
01:48چینی قیادت نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات اور غارباری اداروں کے حقوق کا دفع کرے گی
01:56بلکہ مارکیٹ کے اصولوں کی بنیاد پر مساوی مذاکرات کی حمایت بھی کرے گی
02:01اس دفعہ نظر نے امریکہ کو اپنی پولیسیوں پر نظر سانی کرنے اور زیادہ حقیقت پر زندانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا
02:09میٹرک مذاکرات کے دوران چین نے ٹک ٹاک کے معاملے کو ایک عملی اور قابل عمل فریم ورک کے ذریعہ حاصل کرنے کی تجویز پیش کی
02:17چینی حکومت نے واضح کیا کہ وہ ٹک ٹاک کی ٹیکنالوجی کی براندات اور دانشورانہ املاک کے حقوق کی اجازت کو قوانین اور زوابط کے مطابق مزہوری دے گی
02:27جبکہ کاروباری اداروں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے مارکیٹ کے اصولوں کی بنیاد پر مذاکرات کی حمایت کرے گی
02:34اس پوزیشن نے نہ صرف چین کے اصولوں کو مضبوط کیا بلکہ اس کی لچک کو بھی اجا کر کیا
02:40جو امریکی فریق کے لیے باوخار اختدام کا راستہ فراہم کرتا تھا
02:45ٹک ٹاک کے امریکی صرفین کے ڈیٹا اور مواد کی شگوٹی کے لیے ایک پارٹنر کو ذمہ داری سوپنے کا تصور
02:51جسے کلاود بیسٹ اکساس حل کے طور پر پیش کیا گیا
02:55اس بات کی اقاسی کرتا ہے کہ چین نے امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک عملی راستہ پیش کیا
03:01جبکہ اپنی خود مختاری اور مفادات کو بھی پرقرار رکھا
03:05چین نے اپنی نایاب زمینی تھاتوں بنیادی ڈھاچے اور سپلائی چین کی صراحیتوں کا بھرپور استعمال کیا
03:11تاکہ امریکی تیریف اور ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کنٹرول کے دباؤ کو ناکام بنایا جائے
03:17اس کے نتیجے میں امریکہ کو اپنی پالیسیوں کی بنیادی ٹیم کو تبدیل کرنا پڑا
03:22اور نسبتاً موتدل اور حقیقت پسند شخصیات نے چین مخالف جنوبی گروپ کی جھگہ لی
03:27یہ تبدیلی چین کی سٹریٹیجک سفارتکاری اور جوابی اقدامات کا نتیجہ تھی
03:32جس نے امریکہ کو اپنی پالیسیوں کو زیادہ متوازن اور تعمیری بنانے پر مجبور کیا
03:37چینی قیادت نے واضح کیا کہ وہ باہمی احترام، مسابات اور باہمی فائدہی کے حصولوں پر مهمنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے
03:44جو امریکی پالیسی سازوں کے لیے واضح پیغام تھا
03:48کہ چین اب یک طرفہ دباؤ کو قبول نہیں کرے گا
03:51صدر جانرڈ جمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی حال یا فون کال دونوں ملکوں میں جمعی برف بگلانے میں اہم پیش رفت ہے
03:59چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر جانرڈ جمپ سے بات چیت میں واضح کیا
04:03کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور عمل بقائے باہمی اور تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں
04:10انہوں نے تاریخی تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ دوسری عالمی جنگ میں اتحادی تھے
04:15اور چینی عمام امریکی حمایت کو کبھی نہیں بھولیں گے
04:19یہ بیان نہ سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کی اہمیت تو اجھاگر کرتا ہے
04:25بلکہ مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے
04:29شی جن پنگ نے امریکی فریق سے یک طرفات تجارتی پابنگیوں سے گریس کرنے کی اپیل کی
04:37تاکہ مذاکرات کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابیوں کو نقصان نہ پہنچے
04:41اس بیان سے چین کا پر اعتماد اور اصولوں پر مبنی موقع واضح ہوتا ہے
04:46جو امریکی پالیسیوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا
04:49ٹرم کی طرف سے چینی فوجی پریٹ کی تعریف اور مذاکرات کو نتیجہ خیص قرار دینا
04:54اس بات کی اقاسی کرتا ہے کہ امریکی خیادت اب چین کے عروج کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر رہی ہے
05:01ماہرین کا خیال ہے کہ تبدیلی چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اختصادی اور تقنیقی صراحیت
05:07ان کے سامنے امریکی پالیسیوں کے حدود کو تسلیم کرنے کا نتیجہ ہے
05:11فون کال کے بعد ٹرم کے بیانات میں ٹک ٹاک کے معاملے پر پیش رفت
05:15اور نور میں جنوبی گوریا میں ایشیا پیسیفیکٹ اکنومک کوپریشن فورم میں دونوں رہنماوں کی
05:21مجفز ملاقات کا ذکر اس بات یہ نشاندہ ہی کرتا ہے
05:24کہ امریکہ اب چین کے ساتھ کالوخات کو زیادہ تعمیری خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے
05:30ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کا معاملہ امریکہ کے لیے ایک فیس سیونگ کا موقع فرام کرتا ہے
05:35کیونکہ یہ ایک ایسا ایشو ہے جسے دونوں فریق اپنے اپنے مفادات کے مطابق حل کر سکتے ہیں
05:40بائٹ ڈانس جو ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی ہے
05:43نے بھی اس فریم ورک کی حمایت کی
05:45اور امریکی سارفین کے لیے ایپ کی سرویسز کو جاری رکھنے کے عظم کا اظہار کیا
05:51چین کی اقتصادی لچت آرمی مارکٹ میں اثر و رسوخ اور شفارتی حکمت عملی نے امریکہ کو یہ احساس دلایا
05:58کہ وہ چین کے عروج کو سست نہیں کر سکتا
06:01سرم کی طرف سے چین کی فوجی پریڈ کی تعریف اور مذاکرات کو مضبط قرار دینا اس بات کی اقاسی کرتا ہے
06:07کہ امریکہ اب چین کے ساتھ تعلقات کو زیادہ حقیقت پسندانا اور تعمیری بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے
06:14میٹرک مذاکرات اور اس کے بعد ہونے باری فون کال نے یہ ظاہر کیا
06:20کہ چین نہ صرف اپنے مفادات کے دفاع کرنے میں کامیاب رہا
06:23بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو زیادہ متفازن اور تعمیری گھاچے کی طرف لے جانے میں بھی کامیاب ہوا
06:29مستقبل میں چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی ترختی اس بات پر منحشر ہوگی
06:34کہ دونوں فریق کس طرح باہمی احترام اور مساوات کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں
06:39لیکن چین کی حالیہ کامیابیوں نے یہ واضح کر دیا ہے
06:43کہ وہ عالمی اسٹیج پر ایک مضبوط اور اعتماد کھلاری کے طور پر ابر چکا ہے
06:47اب تک کے لیے اتنا ہی مزید دلچسپ ویڈیوز کے لیے جوڑے رہیے ڈیلی پاکستان کے ساتھ
Comments