00:00ڈاؤں کے سہن میں ایک خوبصورت مور اپنے رنگ برنگے پروں کو فخر سے پھیلا کر اتر رہا تھا
00:05ایک درخت کی شاخ پر بیٹھی چھوٹی سی چلیا خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی
00:11اس کی آنکھوں میں سوچ کی چمک تھی
00:13مور زور زور سے ہسا اور چلیا کا مزاک اڑانے لگا
00:18ہاں
00:19تم کتنی چھوٹی اور عام سی ہو
00:22کون تمہیں کبھی دیکھے گا
00:25چلیا نے سر جھکا لیا مگر دل ہی دل میں ایک چالا کی بھرا منصوبہ بنا لیا
00:31اچانک آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے اور زوردار بارش شروع ہو گئی
00:37چلیا تیزی سے اڑ کر ایک محفوظ درخت کے نیچے جا بیٹھی
00:41لیکن مور مشکل میں پھنس گیا اس کے بھاری پر کیچر میں علش گئے اور وہ حل نہ سکا
00:48بارش کے دوران محفوظ جگہ سے چلیا نے بھیگے اور شرمندہ مور کو دیکھا
00:54وہ نرمی سے بولی
00:56غرور انسان کو کمزور کرتا ہے مگر عقل اور سمجھ ہمیشہ بچا لیتی ہے
01:02بارش کے بعد آسمان پر قوس قضا نمودار ہوئی
01:07مور نے شرمندگی کے ساتھ سر جھکا دیا اور چلیا کی بات مان لی
01:12چلیا مسکرا کر خوش ہوئی مگر غرور نہ کیا
01:16سب جانور اکٹھے ہو گئے اور یہ سبق سیکھا
01:20غرور ہمیشہ گراتا ہے لیکن عقل اور آجزی انسان کو بچا لیتی ہے