Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
The_Exploration_and_Colonization_of_Mars___Faisal_Warraich

Category

📚
Learning
Transcript
00:00یہ کومیٹ ہے، ایک دمدار ستارہ، لیکن یہ کوئی عام کومیٹ نہیں ہے۔
00:15اس کے اندر زندگی کے بیج ہے، اس میں زندہ خلیے ہیں اور یہ تاریخ میں کسی وقت مریخ سے اڑتا ہوا زمین کی طرف آیا اور پوری قوت سے ٹکرا گیا۔
00:26اس کے اندر جو زندگی کے خلیے تھے، انہیں سے زندگی نے زمین پر جن لیا اور پھر ایک خلیے سے بڑھتے بڑھتے یہ زندگی پورے قررہِ عرض پر چاروں طرف پھیل گئی۔
00:40یہ ایک سائنٹیفک تھیوری ہے۔
00:43اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ کچھ سائنسدانوں کے مطابق ہماری زمین پر شروع میں زندگی کے لیے مکمل ضروری ماحول نہیں تھا۔
00:53اس لیے ضرور زندگی یہاں پیدا نہیں ہوئی بلکہ کہیں اور سے یا زیادہ امکان ہے کہ مریخ سے یہاں آئی ہو۔
01:03کیونکہ مریخ پر تین ارب سال پہلے ایسے حالات تھے کہ وہاں زندگی پیدا ہو سکے۔
01:13اگر یہ تھیوری ثابت ہو جاتی ہے تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہم سب مریخی ہیں۔
01:19یا کم از کم ہم اس زمین پر پردیسی ہیں۔
01:22یہ تو جب ثابت ہوگا تب ہوگا۔
01:25لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی فور میں انسان مریخ پر جا رہا ہے۔
01:32لیکن مریخ پر تو درجہ حرارت منفی پچاس یا ساٹھ ڈگری کے قریب ہوتا ہے۔
01:38وہاں آکسیجن بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
01:41جان نیوار ایڈیشنز ہیں وہاں انسان رہے گا کیسے۔
01:44جہاں نہ کچھ بویا جا سکتا ہے اور نہ کاتا تو پھر وہاں انسان پھائے گا کیا؟
01:51ہم یہ سب اندازے لگائیں گے اور کہانی کو آگے بڑھائیں گے۔
01:55اسی سپیس کرافٹ وائیکنگ کے ساتھ جو مریخ پر پہنچ چکا ہے۔
02:00میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانوں کی کل کائنات دا یونیورس سیریز میں ہم آپ کو انسان کے مریخ پر رہنے کی کہانی دکھائیں گے۔
02:17وائیکنگ نے مریخ پر اترتے ہی جو پہلی تصویر زمین پر بھیجی تھی وہ یہ تھی۔
02:23اس میں وائیکنگ کا ایک پاؤں بھی نظر آ رہا ہے۔
02:26یہ انسان کی کسی بھی دوسرے سیارے پر پہلی کامیاب لینڈنگ تھی۔
02:31تو یہ تو تھی پہلی تصویر اور یہ رہی دوسری تصویر۔
02:35مریخ پر پتھر بالکل اسی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔
02:39جیسے ہماری نیلی زمین کے کسی بھی پتھرینے خوش کے علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں۔
02:45تصویروں کے بعد اب وائیکنگ کا امتحان تھا زندگی تلاش کرنے کا۔
02:52انہی پتھروں پر چلتے ہوئے وائیکنگ کو اسی پتھریلی زمین اور ہوا سے نمونے لینا تھے اور اپنی ننی منی لیبارٹری میں ان پر تجربات کرنا تھے۔
03:02اسے دیکھنا تھا کہ کیا ان ذرات میں کہیں کوئی ایسا کیمیکل ہے جس سے پتا چلے کہ یہاں زندگی موجود ہے یا کبھی پہلے تھی۔
03:13کیا یہاں لاکھوں کروڑوں سال پہلے یا اب کوئی جامدار شے بھلے ایک خلیہ ہی کیوں نہ ہو وہ موجود ہے یا نہیں۔
03:22کیا پانی موجود ہے جو زندگی کی پہلی علامت ہوتا ہے۔
03:27لیکن ٹھہریے یہاں رکھئے اور پوچھئے کہ آج سے فورٹی تری یئرز بیک جب ٹیکنالوجیز اتنی سمارٹ نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔
03:37اس وقت زمین سے ساڑھے پندرہ کروڑ کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی مشین خود بخود کیسے تجربات کرتی ہوگی؟
03:46اس سوال کا جواب ہے وائیکنگ کے یہ دو کیمرے اور ایک بازو۔
03:51ان دو کیمروں سے وائیکنگ لینڈرز نے ہزاروں تصاویر بنائیں جنہیں اس انٹینے کی مدد سے وائیکنگ کے دوسرے حصے یعنی وائیکنگ اوربیٹر تک ٹرانسویٹ کیا جاتا تھا۔
04:03بھیجا جاتا تھا۔
04:04یہاں سے یہ زمین پر موجود اس ڈیپ سپیس نیٹورک اور پھر ناسا کے متعلقہ آفیس تک پہنچتی تھی۔
04:11اور یہاں انہیں ان ٹیپس میں محفوظ کر لیا جاتا تھا۔
04:15جبکہ یہ بازو وائیکنگ کی لیبارٹری کا وہ حصہ ہے جو مریخ کی سطح سے مٹی کے نمونے، سیمپلز اٹھا کر پیچھے بنی اس چھوٹی سی لیبارٹری میں ڈال دیتا تھا۔
04:26اس لیبارٹری میں خاص سینسرز تھے جو مریخ کی مٹی میں زندگی کی علامات کو ڈیٹیکٹ کرنے، معلوم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
04:35اور یہ ہے وہ منہ سائنٹینہ جس سے مریخ پر موسموں کے اتار چڑھاؤ کا پتہ چلایا جاتا تھا اور ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔
04:45یہ سب کچھ اس سیونٹی ٹو کلو گرام کے سپیس کرافٹ وائیکنگ کا حصہ تھا۔
04:51وائیکنگ ون کا مشن صرف نوے دن کا تھا۔
04:54لیکن اس نے اس سے بہت زیادہ کام کیا۔
04:57یہ چھے سال چار ماہ تک مریخ پر تجربات کرتا رہا۔
05:02اس نے پچاس ہزار سے زائد تصاویر زمین پر بھیجی جن میں سرخ مٹی تھی، میلوں تک پھیلے بنجر میدان اور ان میں بکھرے پتھر تھے، گھاٹیاں اور پہاڑ تھے، سب کچھ تھا۔
05:15لیکن زندگی نہیں۔
05:19زندگی وائیکنگ کو مریخ پر نہیں ملی۔
05:22نومبر نائنٹین ایٹی ٹو تک کام کرنے کے بعد وائیکنگ ون ریٹائٹ ہو گیا۔
05:28وہ ٹیکنیکلی تھک گیا تھا، وہ اپنی ساری توانائی کھو چکا تھا اور اب مریخ پر پتھروں کی طرح پتھر بنا پڑا ہے۔
05:37لیکن اس کے بعد بھی مریخ پر زندگی کی تلاش کا سفر ختم نہیں ہوا۔
05:42وائیکنگ ون نے اپنی تلاش کے دوران ایک ایسی تصویر بھیجی تھی جس سے مریخ پر زندگی کی تھوڑی بہت امید ابھی باقی تھی۔
05:52اور یہ تھی وہ تصویر۔
05:54اس میں یوں لگتا ہے کہ چٹانوں کے درمیان برف کی ایک پتلی سی تہ جمی ہوئی ہے۔
06:00یہ برف جمع ہوا پانی بھی ہو سکتا ہے اور فروزن کاربن ڈائیوکسائیڈ بھی۔
06:06اگر کاربن ڈائیوکسائیڈ ہے تو مطلب یہاں اس جگہ تو زندگی نہیں ہے۔
06:11لیکن اگر یہ برف پانی کی ہے تو زندگی کا چانس ابھی باقی ہے۔
06:17سو اس کے لیے ٹیسٹ ضروری تھے لیکن وہ ٹیسٹ یہ سپیس کرافٹ وائیکنگ اب نہیں کر سکتا تھا۔
06:24اس کے لیے ایک نئی قسم کا سپیس کرافٹ چاہیے تھا، ایک کانکن سپیس کرافٹ لمبی چونچ والا۔
06:30اس بگلے جیسا سمجھ لیں بس۔
06:33اتنا مشکل کام لگتا ہے۔
06:35لیکن کہانی میں آگے بڑھنے سے پہلے سوچئے کہ آپ دو ہزار آٹھ میں کیا کر رہے تھے۔
06:43تو دو ہزار آٹھ میں ایک ایسا ہی سپیس کرافٹ فینکس مریخ پر اترنے والا تھا۔
06:49فینکس نے مریخ کی زمین کو کرید کر دیکھنا تھا کہ کیا اس کی سطح کے نیچے پانی یا پانی والی برف موجود ہے۔
06:57اور صرف دیکھنا ہی نہیں تھا بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ میں ثابت بھی کرنا تھا۔
07:02فینکس لینڈرز ناسا کے چند اہم ترین مشنز میں سے ایک تھا۔
07:07پچیس مئی دو ہزار آٹھ کو فینکس مریخ پر اترا۔
07:12چند لمحوں بعد ہی اس کے فولڈنگ آم نے حرکت کی۔
07:16مریخ کی صدا ایک پرندے کی چونچ کی طرح کرے دی اور یہ دیکھئے یہ کیا۔
07:22مریخ کی سرخ مٹی کے نیچے سفید سفید برف چمک رہی ہے۔
07:27اس مٹی اور برف کے ذرات کو جب فینکس نے اپنی لیبارٹری میں چیک کیا تو یہ ایک کاربن ڈائی اکسائیڈ نہیں بلکہ پانی تھا۔
07:37لیبارٹری ٹیسٹ میں اس پانی کے بخارات بھی بنے۔
07:40یہ پہلی بار تھا کہ ٹیلیسکوپ کے بعد براہ راست تجربے سے ثابت ہو گیا تھا کہ مریخ پر پانی موجود ہے اور وہ بھی بہت بڑی مقدار ہے۔
07:52مریخ پر پانی کے جمع ہوئے سمندر دریافت ہو گئے تھے فینکس ایک کامیاب مشن ثابت ہوا تھا۔
07:59مریخ پر پانی بھی مل گیا تھا۔
08:02زمین کی طرح اس کے پولز کتبین پر برف بھی موجود تھی۔
08:06مریخ کا دن چوبیس گھنٹے سیمتیس منٹ کا ہوتا ہے یہ بھی ہمارے علم میں آ چکا تھا۔
08:12زمین کی طرح مریخ بھی چاند رکھتا ہے اور وہ بھی ایک نہیں دو دو چاند۔
08:18تو جب اتنا کچھ زمین جیسا ہے تو اب اگلا خواب کیا ہونا چاہیے تھا؟
08:23کیوں نہ مریخ پر قدم رکھ دیا جائے؟
08:26کیوں نہ مریخ پر جا کر ایک بستی بسائی جائے لیکن کیسے؟
08:31ایلن مسک کی ایجنسی سپیس ایکس نے مریخ پر انسانی بستی بسانے کا اعلان کر دیا ہے۔
08:45اس کے لیے دو سٹیپس میں پلاننگ ہو رہی ہے۔
08:48پہلے مرحلے میں یہ ہوگا کہ دو سال بعد ٹوینٹی ٹو میں پہلا مارس مشن روانہ کیا جائے گا
08:55جو مریخ پر انسانوں کو بسانے کے لیے ضروری انتظامات کرے گا۔
08:59اس مشن میں کوئی انسان نہیں ہوگا، صرف ایک سپیس کرافٹ کو مریخ پر اتارا جائے گا۔
09:05دوسرے مرحلے میں دوسرا سپیس کرافٹ دو سال بعد، بیس سو چوبیس میں ٹونٹی ٹونٹی فور میں مریخ پر جائے گا۔
09:13صرف سپیس ایکس ہی نہیں، آپ حیران ہوں گے کہ دنیا میں اس وقت ایک سپیس ریس ہے، مارس ریس ہے
09:21کہ کون مریخ پر پہلے اور سب سے بڑی کالونی بناتا ہے، اس ریس میں ناسا ہے، سپیس ایکس ہے۔
09:28روس اور یورپی سپیس ایجنسز ہیں اور تو اور یو اے ای بھی ہیں۔
09:37جی ہاں یو اے ای نے تو مریخ پر سب سے بڑی انسانی بستی بسانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
09:43اور یو اے ای نے تو اس کی تیاری کے لیے ایک مصنوعی مریخ بھی بنایا جا رہا ہے۔
09:49جس میں سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسا کہ مریخ پر ہے اور یہاں مریخ پر بھیجے جانے والوں کو تربیت دی جائے گی۔
09:58اگلی بار آپ یو اے ای جائیں تو جتنا یہ بن گیا ہے اتنا ضرور دیکھیں۔
10:04تو سپیس ایکس، ناسا، یو اے ای، روس، یورپ یا بوئنگ میں سے کوئی بھی مریخ پر پہنچے۔
10:11بہرحال یہ انسانیت ہی کی ایک اور بلند چھلانگ ہوگی خلا میں۔
10:17جیسے جولائی 1969 میں چاند پر قدم رکھا گیا تھا۔
10:21لیکن اس بار شاید دو چیزیں فرق ہوں۔
10:24ایک یہ کہ چاند پر پہلا قدم ایک مرد نے رکھا تھا۔
10:28تو ممکن ہے اس بار مریخ پر پہلا قدم ایک عورت کا پڑے۔
10:33دوسرا یہ کہ چاند پر انسان پہلی بار محض چند گھنٹے ہی ٹھہرا تھا۔
10:38لیکن مریخ پر پہنچنے والے یہ انسان لمبے عرصے کے لیے وہاں رکیں گے۔
10:43وہاں انسانوں کی پہلی بستی بسائیں گے یہ لوگ۔
10:47پھر دو سال بعد ایک اور راکٹ مزید انسانوں کو لے کر مریخ پر جا سکے گا۔
10:53اور یوں دو دو سال بعد یہ شفٹیں چینج ہوتی رہا کریں گے۔
10:57لیکن یہ دو دو سال کا فرق کیوں؟
11:00وہ اس لیے کہ یہ دیکھئے۔
11:03یہ وہ چانس ہے جب مریخ ہماری نیلی زمین سے قریب ترین یعنی صرف ساڑھے پانچ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے۔
11:12اگر یہ چانس نکل جائے تو مریخ ہم سے اور پرے چلا جاتا ہے۔
11:18اتنا پرے کہ یہ ہوتے ہوتے زمین سے چالیس کروڑ کلومیٹر دور ہو جاتا ہے۔
11:24اور اسے پہلے والے یعنی قریب ترین مقام ساڑھے پانچ کروڑ کلومیٹر تک آنے میں پھر دو سال چاہیے ہوتے ہیں۔
11:33اس لیے ہر ایک کے بعد دوسرا مشن دو سال کے فرق سے ہی بھیجا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے نہیں۔
11:40لیکن یہاں ایک اور مزے کی بات بتائیں آپ کو۔ وہ یہ کہ جو پہلا مشن یا پہلے مشن مریخ پر جائیں گے یہ سیدھے مریخ پر نہیں اتریں گے۔
11:50بلکہ ان کا ایک پڑاؤ، راستے کا ایک اسٹیشن، ایک جنکشن چاند پر ہوگا۔ مون ڈیس بنے گی۔
11:58جی ہاں انسان ایک بار پھر چاند پر جا رہا ہے اور اس بار صرف چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے نہیں بلکہ ایک لمبے عرصے کے لیے بلکہ مستقل بیس کے لیے۔
12:14یہ ناسا کا مشن مون ہے جس میں چاند پر ایسی مستقل بیس بنائی جائے گی جو زمین اور مریخ کے راستے میں ایک اسٹیشن کا ایک پڑاؤ کا کام کرے گی۔
12:25جیسے ایک لمبی فلائٹ کے لیے درمیان میں ایک پڑاؤ ہوتا ہے بلکل اسی طرح۔
12:31مون بیس بنانے کے بعد مریخ پر 2020 میں جو مشن روبوٹس بھیجے جائیں گے وہ مریخ پر ایسی جگہ کا انتخاب کریں گے جہاں انسانی بستی بنانا ممکن ہو۔
12:42یہ روبوٹس وہاں ضروری تعمیرات کریں گے، کنسٹرکشنز وغیرہ کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ وہ انرجی پیدا کرنے کے لیے بجلی گھر بنائیں گے۔
12:51لیکن بجلی گھر کیسے؟ بجلی تو پانی کے ڈھیمز پر ٹربائن لگا کر بنائی جاتی ہے اور مریخ پر فی الحال کوئی ایسا ڈھیم تو ہے نہیں۔
13:00پھر کیا سورج کی روشنی سے بجلی بنائی جائے گی؟ نہیں۔
13:04مریخ پر سورج کی روشنی اتنی تیز نہیں جتنی زمین پر ہوتی ہے۔
13:08کیونکہ سورج زمین کی نسبت مریخ سے کروڑوں کلومیٹر زیادہ فاصلتا ہے۔
13:15اس لیے یہاں سورج کی تپش بہت کم ہوتی ہے۔
13:19بلکہ مریخ پر تھن ایٹموسفیر یعنی بہت لطیف آب و ہوا کی وجہ سے مٹی کے طوفان بھی گردش میں رہتے ہیں۔
13:27اور کئی کئی دن، ہفتے یا بعض اوقات مہینوں تک گرد کے طوفان مریخ کو لپیٹے رکھتے ہیں۔
13:33ایسے میں مریخ پر سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔
13:37تو پھر کیا فوسل فیول سے پیٹرل یا گیس سے بجلی پیدا کی جائے گی؟
13:42ہو سکتا ہے۔
13:43لیکن مریخ پر اتنا فیول آئے گا کہاں سے۔
13:46کئی سال کی ضرورت کا آئل یا کوئی بھی فوسل فیول زمین سے بھیجنا تقریباً ناممکن ہے۔
13:53تو پھر کیا کیا جائے؟
13:55حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمیں مریخ پر وہ کرنا ہوگا جو ہم زمین پر کرنے سے ڈرتے ہیں۔
14:02مریخ پر ایٹمی بجلی گھر بنائے جائیں گے۔
14:06تو ٹونٹی ٹونٹی میں جو پہلا مشن مریخ پر جائے گا وہ زمین سے ایٹمی بجلی گھر کا سارا سامان جیسے ایٹمی ریاکٹر اور نیوٹلئر فیول وغیرہ ساتھ لے کر جائے گا۔
14:17اگر یہ مشن کامیاب رہا تو اس بجلی گھر سے مریخ کی پہلی انسانی بستی کو کم از کم تین سال تک بجلی مل سکے گی اور وہ بھی بالکل فری۔
14:27کوئی بل نہیں آئے گا اس کو لیکن اگر بل بھیجنا بھی ہو تو کس کو؟
14:33بل تو تباہے گا نا جب انسان وہاں زندہ رہیں گے زندہ کیوں نہیں رہیں گے؟
14:38وہ اس لیے کہ مریخ پر ایوریج ٹیپریچر مائنس سکسٹی ڈگری ہوتا ہے۔
14:42اور وہاں کا ایٹموسفیر ایسا ہے کہ وہاں پانی مائنس ون ڈگری پر کھولنے لگتا ہے۔
14:49یعنی اس کو یوں سمجھیں کہ اگر انسان مریخ پر کھڑا ہو تو اس کے ساتھ تین کام بیق وقت ہوں گے۔
14:57ایک تو اسے اتنی سردی لگے گی کہ وہ جم کر رہ جائے گا۔
15:01دوسرا یہ کہ ویری تھن ایٹموسفیر بہت لطیف فضاء کی وجہ سے اس کا خون کھولنا اُبلنا شروع ہو جائے گا۔
15:09بلکل ویسے جیسے زمین پر سو ڈگری پر پانی برتن میں کھولنے لگتا ہے۔
15:14دیسرا کام یہ ہوگا کہ مریخ پر تو آکسجن ایک فیصد سے بھی کم ہے اس لیے انسان سانس ہی نہیں لے پائے گا۔
15:23اور چوتھا کام یہ ہوگا کہ اسے مریخ کی خطرناک ریڈییشنز ہی مار دیں گی۔
15:28کیونکہ مریخ پر کوئی ایسا مینگنیٹک فیلڈ نہیں ہے جیسا زمین کے گرد ہے۔
15:34اس لیے مریخ پر خلا اور سورج سے خطرناک ریڈییشنز براہیں راست پڑتی ہیں۔
15:39ہمیں زمین کے مینگنیٹک فیلڈ کا شکرمزار ہونا چاہیے کہ ہم اسی کی وجہ سے زمین پر حفاظت سے چل پھر رہی ہیں۔
15:47تو اگر انسان نے مریخ پر رہنے کا پلین بنا ہی لیا ہے تو ان چاروں مسائل پر وہ کیسے قابو پائے گا؟
15:58ان چاروں کا حل ہے ان دو چیزوں میں۔
16:06یہ سوٹس اور یہ اگلوز جیسے گھر انسان کو اٹموسفیرک پریشر انتہائی سردی اور خطرناک ریڈییشنز سے بچائیں گے اور آکسیجن پہنچائیں گے۔
16:17اور انسان مریخ پر اس طرح کی بیسیز اور پھر اس طرح کا شہر بسائے گا جس کے اندر زمین جیسا اٹموسفیر کریئٹ کیا جائے گا، ایک مصنوعی ماحول بنایا جائے گا۔
16:28یعنی تقریباً اتنی ہی آکسیجن اور سردی ان اگلوز جیسے گھروں میں اور ان سوٹس میں ہوگی جتنی انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔
16:36یہ بیسیز بھی اس طرح بنائی جائیں گی کہ ان میں ریڈییشنز اور مریخ پر موجود ان بہائی خطرناک چھوٹے چھوٹے ذرات اندر نہیں آسکیں گے۔
16:46ان بیسیز کو بنانے اور بچانے کے لیے سب سے اہم دو چیزیں مریخ پر پہلے سے ہی بہت بڑی مقدار میں موجود ہیں۔
16:56ایک جمی ہوئی فروزن کاربن ڈائیوکسائٹ اور دوسرا سرخ مٹی کی موٹی تہم۔
17:02سو یہ سب تو کر دیا ان دونوں چیزوں نے۔ لیکن انسان وہاں کھائے گا کیا؟ مریخ پر تو کچھ ہوگانا ممکن ہی نہیں۔
17:10تو اس کے لیے ایکوپونسک ٹیکنیک استعمال کی جائے گی۔
17:14یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں مچھلیاں اور سبزیاں ایک خاص انداز میں ساتھ یوں رکھی جاتی ہیں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔
17:22اب ہوتا یہ ہے کہ مچھلیوں کی ویسٹ سے پودے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مچھلیوں کا پانی پودے ساف کرتے ہیں۔
17:30یوں یہ سائیکل چلتا رہتا ہے۔
17:32مزے کی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ اس وقت دنیا میں کئی جگہوں پر بھرپور استعمال ہو رہا ہے۔
17:39مریخی انسان یہاں سے کھائے گا اور مریخ پر موجود برف کو پگلا کر پانی پیے گا۔
17:45یوں کھانے پینے کا بھی ایک حل نکالا جا چکا ہے۔
17:49تو اب وہاں رہنے، کھانے اور پینے کے مسائل کا حل ہمارے پاس آ گیا۔
17:55لیکن ابھی ایک اہم نفسیتی مسئلہ باقی ہے۔
17:59وہ یہ کہ وہاں رہنے والے روز ایک سی شکلیں دیکھ دیکھ کر اور ایک جیسے تجربات اور کام رپیٹ کر کر کے بور ہو جائیں گے۔
18:07ایک دوسرے کو زہر لگنے لگیں گے سب۔
18:10اس سے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
18:13اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جو مریخ پر پہلے راکٹ بھیجے جائیں گے وہ مریخ پر بھی ایک ایسی بیس تیار کریں گے۔
18:20جس سے مریخ سے زمین کی طرف ایک راکٹ لانچ کیا جا سکے تاکہ انسان کو مریخ سے دوبارہ واپس زمین پر بھیجا جا سکے۔
18:31ہر دو سال بعد مریخ کی بستی سے لوگوں کو زمین پر واپس بھیجا جائے گا اور ان کی جگہ نئے لوگ مریخی بستی میں کام کریں گے۔
18:40یوں بوریت کا ایک حل نکالا گیا ہے۔
18:43لیکن وہاں رہنے والوں کو ان دو سال کے درمیان اگر کوئی مسئلہ درپیش آ گیا تو یہ ہے کہ مریخ کی اس بستی کے ساتھ یہ مسئلہ رہے گا۔
18:53کیونکہ انہیں جو بھی مسئلہ درپیش ہوگا اس کی جو بھی مدد ملنا ہوگی وہ دو سال کے وقفے سے ہی مل سکے گی۔
19:01اتنی سلو ایمبولنس تو شاید کوئی نہ ہو۔ لیکن فیلحال مریخ پر یہی ممکن ہوگا۔
19:07اگر یہاں رہنے والے انسانوں کو کوئی حادثہ یا امرجنسی پیش آ گئی تو اس کے لیے ایک سہولت ہے۔
19:14وہ صرف آٹھ منٹ میں زمین پر پیغام بھیج سکیں گے اور جواب بھی انہیں تقریباً آٹھ ہی منٹ میں آ جائے گا۔
19:21بس یہ مدد۔ لیکن اصل مدد، ہیومن ایٹ اس کے لیے انہیں دو سال انتظار کرنا ہوگا اور اس ونڈو کا انتظار کرنا ہوگا جب مریخ زمین کے قریب ترین فاصلے پر آ جاتا ہے۔
19:34اس کے بعد ایوریج سات ماہ کا وقت ہے جو زمین سے مریخ پر جانے میں سپیس کرافٹ کو لگے گا۔
19:41تو مریخی بستی پر مدد پہنچتے پہنچتے اگر وہ سروائیو کر گئے بچ گئے تو ٹھیک۔
19:48ورنہ وہی ہوگا جیسا کہ احمد فراز کہہ چکے ہیں کہ اب بھی آئے ہو تو احسان تمہارا لیکن۔
19:55وہ قیامت جو گزرنی تھی گزر بھی گئی دوست۔
19:58تو خیر یہ ڈر تو رہے گا لیکن اگر انسانیت کو بچانا ہے تو اتنا رسک ٹھیک ہے لے لینا چاہیے۔
20:05آخر زمین کے علاوہ بھی تو انسان کو رہنے کی جگہیں تلاشنا چاہیے نا۔
20:11تو یہ تو تھے انسان کے مریخ پر جانے اور رہنے کے شورٹ ٹرم پلین۔
20:16یعنی انسان مریخ پر اترتے ہی زندہ کیسے رہے اور کیا تجربات کیسے کرے اور کیسے بستی بنائے۔
20:23لیکن کیا انسان خلا میں ہمیشہ انہی بند سوٹس اور ڈببوں میں رہے گا؟ نہیں۔
20:30لانگ ٹرن پلین یہ ہے کہ مریخ کو زمین ہی کی طرح نیلا اور سرسبز بنا دیا جائے کیونکہ ایسے پروفز ہیں کہ کبھی مریخ زمین جیسا یہ اس سے بھی اچھا تھا۔
20:41تو مریخ کو زمین جیسا یہ اس سے اچھا بنانے کے لیے ہمیں بہت سی ایسی فیکٹریاں لگانا پڑیں گی۔
20:47جو پیدا تو شاید کچھ نہ کریں لیکن آلودگی پھیلا پھیلا کر مریخ کے محول کو گرم کرتی رہے گی۔
20:54جیسا کہ ہم زمین کو گرم کر چکے ہیں۔ ہمیں اچھا خاصا تجربہ ہو چکا ہے اس کا۔
21:00پھر ایک مصنوعی مینگنیٹک فیلڈ پیدا کیا جائے گا۔
21:03پھر مریخ پر موجود کاربن ڈیوکسائیڈ کو بم مار مار کر یا کسی اور طریقے سے پکلایا جائے گا تاکہ اسے ہوا میں شامل کیا جا سکے۔
21:13اس سارے پروسس کو ٹیرا فارمنگ کہتے ہیں۔ اس پر بہت سے شکوک و شبات ہیں۔
21:19اگر یہ پلان کامیابی سے چلا تو صرف چند سو یا ہزار سال میں مریخ زمین جیسا بن جائے گا۔
21:26ہےنا بے حد بے پناہ مشس پلان۔
21:29لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک مشن ایسا ہے جو مشن مارس سے بھی زیادہ مشکل ہے؟
21:36مریخ پر انسانی بستی کا قیام، انسانی تہذیب اور تاریخ کا شاید سب سے مشکل مشن ہے۔
21:51اس سے مشکل صرف ایک مشن ہے جو زمین پر انسان کو درپیش رہا ہے اور وہ ہی کہ کیسے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے خیالات کو برداشت کیا جائے۔
22:02کیسے ایک دوسرے کو قبول کر کے کوئی اگزسٹ کیا جائے۔
22:05امن سے رہا جائے۔
22:07ہو سکتا ہے مریخ پر بستی بسانے کا مشن آج سے پانچ دس سال بعد کامیاب ہو جائے کوئی زیادہ دور کی بات تو نہیں۔
22:15اور پھر ہو سکتا ہے زمین پر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا خواب بھی ایک دن پورا ہو ہی۔
22:22مریخ پر ایک خواب کو زندہ چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔
22:26ہمیں کائنات کے سفر میں کہیں نہیں رکنا۔
22:29ہمیں کائنات کے آخری معلوم مقام تک جانا ہے اب ہمارے سامنے یہ خوبصورت سپیس کرافٹ جونو ہے جسے جلد از جلد اس گیس کے دیو کے پاس جانا ہے۔
22:40یہ گیس کا دیو کیا ہے؟
22:42اور یہ اس پیس کرافٹ کو آخر جونو ہی کا نام کیوں دیا گیا؟
22:47آئیے اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
22:51آخر یہ گیس کا دیو ایسا کیوں ہے کہ اس کی تہہ کا بلکہ اس کی سطح کا کوئی عطا پتہ ہی نہیں۔
22:59بہت ہی دلچسپ کہانی ہے یہ۔
23:02ہزاروں سال پہلے انسان اسے کیا سمجھتے تھے؟ آج اسے کیا سمجھا جاتا ہے اور کیوں؟
23:10کون کون یہاں گیا ہے؟ کون کون جا رہا ہے؟ یہ زبردست تاریخی علف لیلوی اور سائنسی کہانی بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن کل کائنات کی اگلی قسط ہے۔
23:22دوستو اگر یہ ویڈیو آپ کو اچھی لگی تو ہمیں تینکیو کہنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس ویڈیو کو لائک اور شیئر کر دیجئے۔
23:29چینل کو سبسکرائب اور بیل آئیکن پر کلک بھی کر دیں تاکہ ہماری ہر ویڈیو کا ایک نوٹفکیشن آپ کو فوراں مل جایا کریں اور ہاں ایک بات
23:38ہم نے اس قسط میں ایک بات بتائی کہ زمین سے کرونوں کلومیٹر دور روبوٹس زمین پر کیسے تصاویر اور پیغامات بھیجتے ہیں؟
23:47ہم نے آپ سے ڈیپ سپیس نیٹورک کا ذکر بھی کیا یہ کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟ یہ جاننے کے لیے یونیورسیریز کی قسط نمبر دو یہاں ضرور دیکھیں۔
23:57یہاں جانیے کہ انسان چاند پر کیسے پہنچا اور یہ رہی وہ سچی کہانی جس میں انسان سورج کو چھونے کے لیے نکلا تھا اور یہ ابھی کل کی بات ہے۔

Recommended