00:00لاکھوں کروڑوں سال قدیم فوسلز کھودے تو قرآن کی کونسی آیت سامنے آگئی؟
00:04آپ نے دیکھا ہوگا اکثر آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران لاکھوں سال پرانے جانوروں کی ہڑیاں فوسلز کی صورت میں برامد ہوتی ہیں جو بالکل پتھر بنے ہوتے ہیں۔
00:13فوسلز کا علم یہ بتاتا ہے کہ زمین کے نیچے پیریٹائزیشن کی وجہ سے ان جانوروں کی ہڑیاں مکمل طور پر پتھر یا لوہے کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔
00:22مگر چادہ سو سال پہلے قرآن دیکھیں اس عمل کی طرف سورہ بنی اسرائیل میں کیسے کمال انداز میں اشارہ فرما رہا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ہڑیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا دوبارہ پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟
00:35کہہ دو کہ ہاں چاہے تم پتھر یا لوہہ بن جاؤ۔
00:38سبحان اللہ بے شک قرآن سائنس کی جدید سے جدید ترین تحقیق کے مقابلے میں آج بھی زمانے سے آگے کی بات کرتا ہے۔
Be the first to comment