Skip to playerSkip to main content
  • 5 months ago
Sher Episode 32 | Review| P1 Danish Taimoor | Sarah Khan | 4 Sep 2025 [ENG SUB] Review Digital Drama

Category

📺
TV
Transcript
00:00Transcription by ESO. Translation by —
00:30Transcription by —
01:00Transcription by —
01:30Transcription by —
02:00Transcription by —
02:29Transcription by —
02:59Transcription by —
03:29Transcription by —
03:59
04:01
04:03
04:05
04:07
04:09
04:11
04:13
04:15
04:17
04:19
04:21
04:23
04:25
04:27
04:29
04:31
04:33
04:35
04:37
04:39
04:41
04:43
04:45
04:47
04:49
04:51
04:53
04:55
04:57
04:59
05:01
05:03
05:05
05:07
05:09
05:11
05:13
05:15
05:17
05:19
05:21
05:23
05:25
05:27
05:29
05:31
05:33
05:35
05:37
06:05
06:07
06:09
06:11
06:13
06:15
06:17
06:19
06:21
06:23
06:25
06:27
06:29
06:31
06:33
07:01
07:03
07:31
07:33
07:35
08:01
08:03
08:05
08:07
08:09
08:11
08:31
08:33
08:35
09:01
09:03
09:05
09:31
09:33
09:35
09:37
09:39
10:01
10:03
10:05
10:07
10:31
10:33
10:35
10:37
10:39
11:01
11:03
11:05
11:07
11:09
11:31
11:33
11:35
11:37
11:41
11:43
11:45
11:47
12:01
12:03
12:05
12:07
12:31
12:33
12:35
12:37
12:39
13:01
13:03
13:05
13:07
13:09
13:31
13:33
13:37
14:01
14:05
14:07
14:09
14:31
14:33
14:37
14:39
15:01
15:03
15:07
15:09
15:31
15:35
16:01
16:03
16:07
16:09
16:31
16:33
16:37
16:39
17:01do not forget to subscribe but
17:10subscribe and subscribe to my channel
17:14which will be king
17:17king
17:21has happened to talk about this
17:24so that she already has to be
17:28If you've gotcha, you can see me going there.
17:32But in this part, my heart will be in front of you.
17:35You will get little effort and will not leave you.
17:39He will not leave you going there.
17:40He will leave your mind there.
17:42This way he will be my father's side.
17:44Yes, that's the way he will leave you.
17:48So, I am in the middle of this.
17:49So, we will carry on his head.
17:52We will not leave you.
17:53But we will not leave you, too.
17:55But now, I'm not in good shape, but I'm not in good shape.
17:58She will tell me that I'm in good shape and say,
18:01I'd say that I'm in good shape and go now.
18:04I don't say that I'm really squeeze.
18:07I'm in good shape.
18:09So I'm in good shape, the bigcha is that I make sure that I'm feeling good.
18:14I think that I'm in good shape and get the Rizzo logo.
18:18So I'm in good shape.
18:19So I'm in good shape.
18:21The good Ass 착.
18:22I'm in good shape, no one will have a good shape.
18:24वो बदो से कहेगा अब देख रहाए शेने जो हमें फ़ेदा दिया है
18:28इस के जरीए हम इसे खत्म भी करेंगी
18:30यह शेन हमें अपने साथ शरीक समझता है
18:33लेकिन ऐसल सकेल तो अब शुरू होगा
18:35लेकिन वो नहीं जानता कि शेन पहले ही
18:37لکھے جالی اکاؤنٹس کے ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں
18:40اور ایک بڑے وار کی تیاریاں کر رہا ہے
18:43تو ناظرین فجر کی زندگی بھی
18:46ایک نئے موڑپا کھڑی ہوگی
18:48کاکہ صاحب کے جانے کے بعد
18:49وہ خود کو تنہا اور کمزور محسوس کرے گی
18:52سمرہ بار بار اسے سمجھائے گی
18:54اب وقت آ گیا ہے
18:55کہ تم اپنے دل کی سنو
18:57نہ کہ اس دشمنی کی دیواروں کی
19:00شیر تمہارے ساتھ ہے
19:01اس کا ہاتھ تھام لو
19:02ورنہ تم بھی اپنی ماں کی طرح زندگی پر
19:04تنہا رہ جاؤ گے
19:06تو ناظرین فجر کے دل میں
19:08طفان برپا ہوگا
19:10وہ اپنی ماں کی نصیحتوں
19:12اور شیر کی محبت کے درمیان پھنس جائے گی
19:14آنے والے مناظر میں یہ سب دیکھنے کو ملے گا
19:17کہ مرجان کی سنو
19:18شکفتہ کو سب کے سامنے بے نکاب کرتی ہے
19:20شیر زمان آہد و بدر کے خلاف
19:22اپنی سب سے بڑی چال کی سنو
19:24چلتا ہے
19:25اور فجر کیا واقعی شیر کا ہاتھ
19:27ہامنے کی حمد کرے گی
19:28یا نہیں
19:29تو ناظرین اگر ابھی تک
19:30آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
19:32تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں
19:34اور بیل آئیکن کو پریس کریں
19:36کاکہ صاحب کی موت کے بعد
19:38حویلی کے محول میں
19:39سوک کی کیفیت چھائی رہتی ہے
19:40سب لوگ بظاہر گمکین نظر آتے ہیں
19:43لیکن اندر ہی اندر
19:44ہر ایک کے دل میں
19:45اپنی اپنی ساتھ سے چل رہی ہیں
19:46تاج بی بی کا رونا دونا
19:48سب بار باری پڑ رہا ہے
19:49وہ ہر وقت سب کو کوشتی ہے
19:51اور بار بار یہی دہراتی ہے
19:53کہ میں ہی ان کا خیارہ کرتی تھی
19:55باقی سب اپنی بے گیارتیوں میں لگے تھے
19:57اس وقت شجاعت و وجاہت
19:59کہ سبر کا بیمانہ لبریس ہونے لگتا ہے
20:02وہ کمرے میں بیٹھ کر
20:03آپس میں فیصلہ کرتے ہیں
20:04کہ اب حالات کو اپنے کابو میں لانا پڑے گا
20:07ورنہ شیر زمان سب کچھ ہتھیا لے گا
20:09تو ناظرین ادھر شیر زمان خموش
20:11مگر بہت خطرناک واہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے
20:14وہ احد کے ساتھ
20:14نئی دیر کے بہانے ملاقات دیا کرتا ہے
20:17اور اس ملاقات میں دیرے دیرے
20:19اس پر احسانات جتاتا ہے
20:21احد خوشی سے پھولہ نہیں سما رہا ہوتا ہے
20:24لیکن شیر کے چہرے پر
20:25ایک ایسا سکون ہوتا ہے
20:27جو صرف ایک شکاری کے شکار
20:29قریب آنے پر ہوتا ہے
20:31تو ناظرین مجان کی کہانی میں
20:32نئی دفعہ آنے والا ہے
20:34شگفتہ اپنی چلاکیوں کے ذریعے
20:35احد کے قریب ہونے کی کوشش کرتی ہے
20:38ایک رات جب احد نشے کی حالت میں
20:40کمرے میں آتا ہے
20:41تو شگفتہ موقع دے کر
20:43اسے بہکانے لگتی ہے
20:44مجان یہ سب دیکھ لیتی ہے
20:46وہیں دار کا بول اٹھتی ہے
20:48احد یہ عورت تمہیں برباد کر دے گی
20:50ہوش کے ناخن لو
20:51احد پہلے تو مجان کو ڈانڈتا ہے
20:54لیکن بعد میں مجان
20:56ناظرین اگر ابھی تک
20:58آپ نے ہماری چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
21:01تو ہماری چینل کو سبسکرائب کر لیں
21:02لیکن بعد میں مجان کے آنسو
21:04اس کے دل کو ہلا دیتے ہیں
21:06ہلا دیتے ہیں
21:07وہ اندر ہی اندر شگفتہ کو
21:08نیت پر شاک کرنے لگتا ہے
21:10شگفتہ کو اپنی نکامی کا اندازہ ہو جاتا ہے
21:13اور وہ مزید خطرنا قدم اٹھانے کا سوچتی ہے
21:16ادھر فجر کے دل میں بھی
21:17ایک نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے
21:19کاکہ صاحب کے آخری الفاظ
21:20اس کے کانوں میں گھونٹے ہیں
21:21کہ بیٹی اب تم اپنے فیصلے خود کرو
21:24فجر رات کو اکیلی جاکتی رہتی ہے
21:27کٹکی سے آسمان کو دیکھتے ہوئے سوچتے ہیں
21:29کہ اگر وہ شیر کا ساتھ قبول کر لے
21:31تو یہ سب کچھ کھانا جنگل میں بدل جائے گا
21:34مگر دل کے کسی کونے میں شیر کی محبت
21:36اور اس کا حسنا بار بار دستک دیتا ہے
21:38سمر اپنی بہن کو بار بار یہی سمجھاتی ہے
21:41کہ فجر سچائی کا ساتھ دو
21:43یہ دشمنیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی
21:45اگر تم اپنی خوشیوں کو قربان کرتی رہو گی
21:47شیر تمہارے لئے کھڑا ہے
21:49تمہیں باس ایک قدم اٹھانا ہے
21:51فجر کے چہر پر آنسو کے ساتھ
21:52ایک کشم کشن نظر آتی ہے
21:54اب ناظرین آنے والے سین میں تین بڑے دماکے ہونے والے ہیں
21:57مرجان صاحب کے سامنے شگفتہ کو
21:59بے نکاب کرنے کی کوشش کرے گی
22:01شیر زمان ہر و بدر کے جاری
22:03اکانس کا پردہ فاش کرے گا
22:05فجر ایک فیصلہ کو ان قدم اٹھانے کے قریب پہنچ جائے گی
22:08تو ناظرین یہ سب واقعہ
22:10حویلی کی فضاؤں میں
22:11ایسے طفان کھڑا کر دیں گے
22:14جو پرانی دشمنیوں کو مزید بڑکا دے گا
22:16تو ناظرین
22:17اب کہانی کے داگے اور بھی زیادہ
22:20الجنے والے ہیں
22:20ہر قردار اپنی اپسات چننے میں لگا ہوا ہے
22:24کھاکہ صاحب کے انتقال کے بعد
22:25حویلی کا سکوت ایک نئے طفان کا پیشے کھامہ بن رہا ہے
22:28بزاہت سب سب دمیں میں ہیں
22:30مگر اصل میں ہر ایک کے دل میں اپنی اپنی سازش ہے
22:33سجاد و وجاہت اپنے کمرے میں
22:35ایک بیٹے گسے میں کہتے ہیں
22:36آخر یہ دشمنی ہمارے باپ کے لالچ کی وجہ سے تھی
22:40تو اب ہم ایسے اپنی طاقت سے قیم رکھیں گے
22:42شیر زمان کو کبھی بھی حویلی کا قریب نہیں آنے دیں گے
22:45یہ الفاظ اس بات کا علان ہے
22:47کہ اب کھانا جائیں گی اور بھی تیز ہوگی
22:49تو ناظرین تو
22:51شیر زمان ایک نئے کھیل کی تیاری کر رہا ہے
22:53وہ آہد و بدر کے اعتماد کو
22:55اتنا مضبوط بنا دیتا ہے
22:56کہ وہ سب کو شیر کے حوالے کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں
23:00تو ناظرین شیر
23:01لیکن شیر نے ان کے جالی اکاؤنٹ سے جالی دستکتوں
23:04دستکتوں اور
23:05کالے دن دن کے سارے ثبوت
23:08اپنے پاس محفوظ کر لیے ہیں
23:09ایک رہا شیر اپنے کمرے میں بیٹھا کہتا ہے
23:12اب وقت قریب ہے
23:13آہد بدر تمہیں وہ بد
23:15وہ درد دھونکا جیس کا زیر نسلوں تک
23:18زہن نسلوں تک
23:20تمام کون میں شامع رہے گا
23:21مرجان کا دکھ بڑھتا جا رہا ہے
23:24شگفتہ نے اسے توڑ کا رخ دیا ہے
23:26مگر مرجان اب کموش نہیں رہنے والی
23:28وہ تحمینہ بیگم کو کہتی ہے
23:30امی یہ سب اسی عورت کی وجہ سے ہوا ہے
23:33اگر میں نے آج اس کا چہرہ
23:34بے نکاب نہ کیا تو کال وہ میرا گھر چھین لے گی
23:37تحمینہ بیگم کے چہرے پر
23:39تفسیر شبرنے لگتی ہیں
23:41اور وہ پہلی بار سوچتی ہے کہ مرجان
23:43شاید سچ کہہ رہی ہے
23:45تو ناظرین آہد اور شگفتہ کے درمیان
23:48تعلقات مزید پرشیدہ ہونے لگتے ہیں
23:50شگفتہ اپنی چلاکیوں سے
23:51آہد کے دل کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتی ہے
23:54لیکن مرجان کے آنسو
23:56آہد کے ضمیر کو جنجوڑتے رہتے ہیں
23:58ایک دن آہد مرجان کے کمرے میں آ کر کہتا ہے
24:01مرجان مجھے لگتا ہے کہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو
24:04یہ شگفتہ واقعی کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ رہی ہے
24:07مرجان کی آنکھوں میں پہلی بار
24:09جو امید چلکتی ہے
24:10کہ شاید آہد اس کا ساتھ دے
24:12دوسری طرح فجر کا دل بھی
24:13ایک کرناک امتحان سے گزر رہا ہے
24:16خاکہ صاحب کے آخری انفاظ
24:19اس کے دل پر ناکش ہو گئے ہیں
24:21وہ راتوں کو جا کر سوچتی ہے
24:22کاش بابا یہ بات پہلے مان لیتے
24:25میری زندگی اتنی آسان ہو جاتی ہے
24:26اگر میں شیر کا ساتھ دیتی ہوں
24:28تو یہ سب میرے خلاف کڑے ہو جائیں گے
24:30لیکن اگر میں خموش رہتی ہوں
24:32تو میری زندگی ایک قبر کے سوا کچھ نہیں
24:34اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں
24:38مگر دل کے کسی کونے میں شیر کی محبت کرنے سے روشنی دکھاتی ہے
24:42اور ناظرین اگر ابھی تاکہ آپ نے
24:45ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
24:47تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں
24:48سمرہ بار بار فجر کو سمجھاتے ہیں
24:51کہ مرجان صاحب کے سامنے شگفتہ کو
24:52رنگوں ہاتھیں پکڑنے کی کوشش کرے گی
24:55سے زمان احد اور بدر کے پیسوں کے کھیل کا
24:58راز کھول کا سب کے سامنے چھنکا دے گا
25:00تو ناظرین فجر کے دل کی کشمکش
25:02ایک بڑے فیصلے میں بدنے والی ہے
25:04یعنی آنے والی قسم میں ایک احسائیت
25:06کئی طفان برپا ہوں گے
25:07اور ہر کردار اپنی زندگی کی سب سے بڑی اطمائج سے گزرے گا
25:11تو ناظرین
25:12آگے کی کہانی اور زیادہ شدد
25:15اور ڈرامی رنگ اختیار کرنے جا رہی ہے
25:17مرجان اپنی خموشی
25:18خموش تماشا ہی نہیں رہتی
25:20ایک دن وہ سب کے سامنے شگفتہ کو
25:22بے نکاب کرنے کا فیصلہ کرتی ہے
25:24وہ تہمینہ بے ایک مراہد
25:27کو بلاتی ہے اور کہتی ہے یہ ورد
25:28جسے تم لوگ محسوم سمجھتے ہو
25:30اسی نے میرے بچے کی جان لی ہے
25:32احد پہلے تو
25:33برہم ہو جاتا ہے لیکن مرجان
25:36سب کے سامنے وہ بوتل دکھا دیتی ہے
25:38جس پر تیل لگا ہوا تھا
25:40اور جسے اس نے شگفتہ کے کمرے سے نکالا ہے
25:42حویلی میں ایک دم سناٹا چھا جاتا ہے
25:45شگفتہ اپنی صفائی میں روتی ہے
25:47مگر تہمینہ بے گم کی آنکھوں میں
25:49شک اتر چکا ہوتا ہے
25:50وہ اسے سخت لہجے میں کہتی ہے
25:52اگر یہ سب سچ نکلا
25:54تو تمہیں اس حویلی سے جانا بڑے گا
25:56تناظرین دوسری طرح شہر زمان
25:57اپنی آخری چار کہنے کی قریب ہے
25:59وہ آہد و بدر کو ایک بڑے مہادے کے لیے
26:02راضی کر لیتا ہے
26:03مہادے بعد دستگرد کے وقت
26:05شہر اچانک بینک کے ریکارڈ
26:06اوٹالی ارکانٹس کا ذکر چھیڑ دیتا ہے
26:10آہد و بدر کے چہروں کا رنگ گوڑ جاتا ہے
26:12شہر کے لہجے میں زہر گلا ہوتا ہے
26:15سوچا تھا تم لوگ شہر کو دھوکہ دے
26:17دے لوگے
26:18اب دیکھو شہر تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے
26:20یہ صاحب کیسی پنزر صاحب کے ہوش اڑا دیتا ہے
26:23ناتنین اسی دوران تاج بیبی کا گصہ
26:25ہاتھ سے بڑھنے لگتا ہے
26:27کعکا صاحب کے جانے کے بعد وہ ہر وقت
26:29شکوے اور الزام تراشی میں لگی رہتی ہے
26:32ایک دن وہ سمرہ کو صاحب کے سامنے
26:34کوسنے لگتی ہے
26:35کہ یہی لڑکی میرے بائی کی جائداد کھا گئی ہے
26:38سمرہ زبق خود دیتی ہے
26:40اور کہتی ہے تاج بیبی
26:42جائداد انسانیت سے بڑی نہیں ہوتی
26:44آپ کے بھائی نے اگر انصاف کیا
26:46تو اس پر آپ کو فقر ہونا چاہیے
26:48تانے نہیں
26:49یہ لفاظ حویلی کی دواروں میں
26:51زلزلہ پیدا کر دیتے ہیں
26:52تو ناظرین فجر کا دل
26:53اب مزید بوجھ برداشت نہیں کر باتا
26:56ایک دن وہ اپنے کمرے سے نکل کر
26:58حویلی کے لون میں آتی ہے
26:59وہاں شیر زمان کھڑا آسمان کے طرف دیکھ رہا ہوتا ہے
27:03فجر کامتی
27:03کوئی عباس میں کہتی ہے
27:05شیر میں نے بہت برداشت کیا
27:07مگر اب مزید برداشت نہیں کر سکتی
27:09اگر تو میرا ہاتھ تھامنے کے لئے تیار ہو
27:12تو میں بھی اب بیش نہیں ہٹوں گی
27:14تو ناظرین
27:15شیر میں نے بہت برداشت کیا
27:17مگر اب مزید برداشت نہیں کر سکتی
27:19اگر میرا ہاتھ تھامنے کے لئے تیار ہو
27:21تو میں بھی اب بیش نہیں ہٹوں گی
27:23شیر کی آخوں میں حیرت و خوشی کی چمک آتی ہے
27:26وہ آسیگی سے کہتا ہے
27:27فجر یہ وہ لمحہ ہے
27:29جس کا برسوں سے انتظار کر رہا تھا
27:31...
28:01ڈرین حویلی کے بڑے حال میں سب بیٹھے ہیں شکوتہ کے راز افشاں ہو چکے ہیں شاہد سج جکائب بیٹھا ہے تہمینہ بیگن خموش مگر گسے سے لرستی ہے مرجان کی آنکھوں میں ہر کسی جیت کی جلگ ہے شجاد میز پر مکہ مار کر کہتا ہے یہ سب ڈرامے ہیں شکوتہ چاہے کچھ بھی کرے مگر شیر کو اس حویلی کا حصہ ہم کبھی نہیں مانیں گے تو ناظرین شیر مسکراتے ہوئے اگر بڑھتا ہے شجاد تم چاہو یا نہ چاہو یہ حوی
28:31فتح ہے اور تماری جیت کے دن ختم ہو چکے ہیں اسی رمحے شیر ایک فائل میز پر پھینکتا ہے اس میں اہد اور بدر کے جالی کاروبار کے سارے ثبوت ہوتے ہیں یہ سب کے ہوش اڑی جاتے ہیں اہد پسینے میں شرابور بدر کے ہاتھ کام بنے لگتے ہیں تہمینہ بیگم باری لہجے میں کہتی ہے اہد یہ سب کیا ہے کیا واقعی تم نے اپنے باپ کے بعد اس خاندار کو اسوا کرنے کی قسم کھائی تھی تو ناظرین اہد خموش رہتا ہے خموش شیگفتہ روتے ہیں بھی اہد کو بچ
29:01صاحب کے دلوں میں اس کی چلاکی کا رہ دہل بیٹھ چکا ہے تراظرین اسی وقت فجر صاحب کے سامنے آتی ہے اس کا لہجہ لرستہ ضرور ہے مگر الفاظ بہت مضبوط ہیں ناظرین میں آج صاحب کے سامنے ایک فیصلہ سنانا چاہتی ہوں میں شیر سے نکاح کروں گی تو ناظرین یہ الانس ان کا باحال میں قیامت برپا ہو جاتی ہے تاج بی بی چیک پڑتی ہے یہ کیسے ممکن ہے ایک دشمن کے بیٹے سے نکاح یہ ہماری روایت کے مو پر تماشا ہے
29:30تو ناظرین شجاد گسے میں کرسی الٹ دیتا ہے اگر یہ نکاح ہوا تو اس حویلی میں کھون بہے گا اور سب سے پہلے کھون شیر کا ہوگا تو ناظرین شیر گسے سے آگے بڑھ کر شجاد کے قریب آتا ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے یاد رکھنا شجاد شیر کھون سے نہیں ڈرتا مگر اگر کھون بہا تو یہ تمارا ہوگا میرا نہیں تو ناظرین فجر شیر کے قریب کھڑی ہو جاتی ہے اس کی خاموشی ہی اس کے فیصلے کی مہر ثابت کر دیتی ہے
29:57اب ناظرین اگلی قسمیں تین بڑے دماغیں ہوں گے شجاد اور فجاہد شیر کے خلاف کھولی جنگ کا اعلان کریں گے فجر اور شیر کی نکاح کی تیاریاں سب کا مزید تقسیم کر دے گی ناظرین مرجان شگفتہ کے مزید راز کھول کر اس حویلی سے نکاننے کی کوشش کرے گی
30:12ناظرین شجاد اور فجاہد گسے سے ٹہر رہے ہیں ان کے ساتھ کچھ باثر دوست میں موجود ہیں شجاد اور دانت پیستے ہوئے کہتا ہے اگر یہ نکاح ہوا تو ہماری عزت مٹی میں مل جائے گی ہمیں کچھ کرنا ہی پڑے گا
30:26ناظرین اگر ابھی تاک آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں تو وجہد جواب دیتا ہے اب وہ وقت آگیا ہے کہ شیر کو قتم کر دیا جائے ورنہ یہ کل سب کچھ ہم سے شین لے گا تو وہ دونوں ایک سازش تیار کرتے ہیں کہ نکاح کی رات شیر پر حملہ کریں گے
30:46کہ مجان آئینے کے سامنے بیٹھی ہے اس کی آنکھوں میں گصہ اور دو خدونوں ہیں وہ تہمینہ بیگم کو کہتی ہے اگر آپ نے شگفتہ کو اس گھر سے نکالا تو یہ عورت کل کو ہمارے کھاندر کو بربار کر دے گی میں چپ چاپ نہیں بیٹھوں گی
31:01تہمینہ بیگم گہری سانس لے کا جواب دیتی ہے مجان تم ٹھیک کہتی ہو اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس عورت کا اصل چہرہ صاحب کے سامنے لائیں
31:10تو ناظرین شگفتہ آہد کو منانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ روتی ہے وہ کہتی ہے آہد سب مجھے غلط سمجھتے ہیں
31:17مگر تم تو جانتے ہو کہ میں نے جو کچھ کیا تمہارا لیے کیا آہد سخت لہجے میں جواب دیتا ہے بس شگفتہ اب وہ جھوٹ مت بھوڑنا
31:25میں جانتا ہوں کہ میرا بچہ تم نے چھینا ہے یہ الفاظ شگفتہ کو اندر سے توڑ دیتے ہیں
31:32تو ناظرین فجر اور شیر شاد پر بیٹھے ہیں چاندری رات ہے فجر اور راہوں میں آنسو دیئے شیر سے کہتی ہے
31:38شیر میں جانتی ہوں کہ یہ راستہ سا نہیں مگر میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اب میں پیچھے نہیں ہٹوں گی
31:44شیر فجر کا ہاتھ پکڑ کا کہتا ہے فجر یہ محبت نہیں یہ جنگ ہے اور اس جنگ میں تمہارا ساتھ ہوں میں تمہارا ساتھ ہوں
31:52چاہے دنیا میرا خون مانگے
31:54تو ناظرین تہمینہ بیگم صاحب کو جمع کر کے اعلان کرتی ہے میں نے فیصلہ کر دیا ہے فجر اور شیر کا نکاح اسی ہفتے ہوگا اور جو کوئی اس فیصلے کے خلاف گیا وہ اس حویلی کا فرد نہیں رہے گا
32:07تو ناظرین یہ اعلان سنکہ شجاعت و وجاہت کے چہرے سرکھ ہو جاتے ہیں وہ کمرے سے طفان کی طرح نکلتے ہیں وہ اپنے کارندوں کو جمع کرتے ہیں
32:15شجاعت کہتا ہے نکاح کی راج خون بہے گا شیر اس حویلی کا دولہ نہیں لاش بان کا اس گھر سے جائے گا سب لوگ سر حالاتے ہیں اور حویلی کی فضاء مزید خوفناک ہو جاتی ہے
32:26تو ناظرین اب ناظرین کے لئے اگلی قسم شیر اور فجر کا نکاح تاپا جائے گا یہ دیکھنے کو ملے گا شجاعت و وجاہت کا منصوبہ خون کی بو پھلائے گا
32:38مرجان شگفتہ کی راہ صاحب کے سامنے کھول کر اسے زلیر کرے گی یعنی اگلی قسم محبت اور دشمنی کا سب خطرناک تصادم شروع ہونے والا ہے
32:47تو جی ناظرین اب کہانی مزید شدد احتیاء کر رہی ہے اور ہر کردار اپنی زد اور اناکی جنگ میں الٹتا جا رہا ہے
32:57حویلی کا محول دن بے دن کشیدہ ہوتا جا رہا ہے
33:00تحمینا بیگم کی اعلان کے بعد بورے گھر میں ایک طفان سا برپا ہو گیا ہے
33:04شجاعت اور وجاہت اپنے کمروں میں بیٹھ کر اعتقام کی آگ میں جا رہے ہیں
33:09ان کے چہروں سے صاف چلک رہا ہے کہ وہ کسی بڑے فساد کی تیاری کر رہے ہیں
33:13دونوں بھائی یہ سوچ کا کامتے ہیں کہ اگر فجر کا نکاح شیر سے ہو گیا
33:17تو اس کی ساری محنت اور رسول رسول خاک میں مل جائے گا
33:21وہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ نکاح کے دن شیر کو راستے سے ہٹا دینا ہی سب سے بڑا حال ہے
33:26تو ناظرین دوسری طور فجر اپنی مار اور خاندن کے فیصلوں کو پسے پشت ڈال کا شیر کے ساتھ کھڑی ہے
33:33وہ راتوں کو جا کر سوچتی ہے کہ آخری سے دشمنی نے کتنی زندگیاں تباہ کر دی ہیں
33:38اور اب وقت آ گیا ہے کہ ناظرین اگر ابھی تک آپ نے ہماری چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
33:43تو ہماری چینل کو سبسکرائب کر لیں
33:45کہ ایک نئی ابتدا کی جائے فجر کا حوصلہ شیر کو مزید مضبوط بنا رہا ہے
33:50شیر اب کلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ اگر کون کی لہر بھی بہانی پڑے تو وہ بہا دے گا
33:55مگر فجر کا ہاتھ ہمیں بگا پیچھے نہیں ہٹے گا
33:57تو ناظرین مرجان کا دل ابھی تک سکون میں نہیں ہے
34:00وہ جانتی ہے کہ اس کے بچے کی موت ایک خاصہ نہیں بلکہ سازش تھی
34:04وہ اندر ہی اندر شگفتہ کو کوشتی ہے
34:06تحمینا بیگم کو یقین تلاتی ہے کہ یہ سب شگفتہ کا ہی کیا درہ ہے
34:11تحمینا بیگم بساہ سبر کا دامن تھامے بیٹھی ہے
34:14مگر دل ہی دل میں انہوں نے بھی شگفتہ کو بے نکاب کرنے کی تیاری کر لی ہے
34:20آنے والے دلوں میں شگفتہ کے لیے سکر میں رہنا مشکل ترین ہونے والا ہے
34:24تو ناظرین در احد کی حالت بھی عجیب ہے
34:27ایک طرف شگفتہ کا دھوکہ اسے اندر سے توڑ رہا ہے
34:30تو دوسری طرف شیر کی نئی جال اس کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے
34:35وہ جانتا ہے کہ شیر بظاہر اس کاروبار میں شراکت دار بنا رہا ہے
34:40مگر اصل میں یہ سب کسی بڑی سازش کا حصہ ہے
34:43آہد بدری سے مشورہ کرتا ہے
34:45اور دوروں اس طرح اس نتیجے پر پہنچتے ہیں
34:48کہ شیر پر نظر رکھنی پڑے گی
34:49ورنہ ان کی بنیادیں ہلا کا رکھ دے گا
34:53تو ناظرین کاکہ صاحب کی صحت بھی دن بر دن بگڑتی جا رہی تھی
34:57تو ناظرین اگر ابھی تاک آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
35:01تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں
35:02تو ناظرین کہانی اس نہجبہ پہنچ چکی ہے
35:05جہاں ہر موڑ پر خطرہ مندرہ رہا ہے
35:08ایک طرف عجر اور شیر کی محبت کی جنگ ہے
35:10تو دوسری طرف شجاعت اور وجاہت کا انتقام
35:13تیسی طرف مرجان کی آخوں میں شکفتہ کے لیے انتقام کی جنگاری ہے
35:17اور سب سے بڑھ کر آہد اور بدری کی چالیں شیر کے لیے
35:20نئے مشکلات پیدا کرنے والی ہیں
35:22اگلی قسم میں حویلی کی فضاء مزید سنگین ہوگی
35:25اور یہ تیہ ہو جائے گا کہ محبت جیتے گی
35:27یا دشمنت ناظرین
35:29کہانی اب اس عروج پر ہے
35:31اور ہر قدار اپنی زندگی کی سب سے پڑی اسمائی سے گزرنے والا ہے
35:35حویلی میں ہر طرف بے چینی اور بے سکون کا راج ہے
35:38ایک طرف عجر کے نکاح کی تیاریاں خموشی سے جاری ہیں
35:42مگر اس کی خوشی کے پیچھے ایک خوفنک سازش جنم لے رہی ہیں
35:46شجاعت اور وجاہت دن رات خفیہ منصوبیں بنا رہے ہیں
35:50وہ اپنے باعتماد کرندوں کو رات گے حفیلی کے پیچھے حصے میں بلا کر ہتھیار تقسیم کرتے ہیں
35:56شجاعت گسے سے کہتا ہے یہ نکاح اس خاندن کی بربادی کی آخری کڑی ہے
36:00اگر شہر زندہ رہا تو ہمارا وجود مٹ جائے گا
36:04نکاح کی رات اس کی لاش گرے گی
36:06اور یہی ہماری فتح ہوگی
36:07ان کے الفاظ سنکر سب کرندے سر جکا لیتے ہیں
36:11اور یہ فیصلہ پکا کر لیتے ہیں
36:13کہ خون بہائے بغیر یہ نکاح مکمل نہیں ہونے دینا
36:16تو ناظرین ادھر شہر اور فجر کی کیفیت بلکل مختلف ہے
36:20فجر اپنی ماں کے پاس جا کر ساری رات دعا کرتی ہے
36:24کہ اللہ انہیں لڑائی جیتنے کی حمد دے
36:27اس کی آنکھوں میں خوب بھی ہے
36:29مگر عظم زیادہ ہے
36:30وہ شہر سے ملکہ کہتی ہے
36:31میں جانتی ہوں کہ ہمارے راستے میں کانٹے بچائے گئے ہیں
36:35لیکن میں تمہارے ساتھ کھڑی ہوں
36:37چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو
36:39شہر اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتا ہوا کہتا ہے
36:42فجر یہ میرا وعدہ ہے
36:43کہ میں تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا
36:45چاہے میری جان چلی جائے
36:47مگر میں تمہارا سہاگ سلامت رہے گا
36:52تو ناظرین اگر ابھی تک
36:53آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
36:55تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں
36:56مرجان ابھی بھی شگفتہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں
36:59اس کے دل میں انتقام کی آگ مزید بڑک رہی ہے
37:02وہ تحمیلہ بیگوں کو صاف کہہ دیتی ہے
37:05ناظرین اگر ابھی تک
37:06آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
37:08تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں
37:10تو کاکہ صاحب کی
37:11تو ناظرین کاکہ صاحب کی موت کے بعد
37:14ہر کوئی اپنی چالنے کی کوشش کر رہا ہے
37:18تو ناظرین دوسری طرف
37:19آہد بدری کو ساتھ لے کر
37:21شیر کے کاروبار گئے کی
37:22کھوجنے میں لگ گیا ہے
37:23وہ بینک کی خفیہ کا آگستہ نکلواتا ہے
37:26وہ دیکھتا ہے کہ شیر نے
37:27بڑے بڑے جیلی اکونٹس بنوا رکھے ہیں
37:29آہد حران ہو کر کہتا ہے
37:31کہ یہ شیر بہت قطعناک ہے
37:33اس نے ہمارے ہی پیسے
37:34ہمارے خلاف استعمال کرنے کا
37:36منصوبہ بنایا ہے
37:37اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا
37:39تو یہ ہمیں برباد کر دے گا
37:42نکاہ کی رات قریب آتے ہی
37:43حویلی کی فضائیں
37:44خوف اور کشمکش سے بڑھ جاتی ہیں
37:47تو ناظرین ایک طرف
37:48دولن کے کمرے کی سجاوت ہے
37:50سجاوت ہے
37:51تو دوسری طرف
37:53خوف یا مصطوع پر
37:55ہتھیانوں کی جنجٹ
37:56سنائی دیتی ہے
37:58سب کی نظریں شیر اور فجر کے
37:59نکاہ پر جمعی ہیں
38:01مگر پردے کی پیچھے
38:02ایک ایسی طفان اٹھنے والا ہے
38:04جو بودھے خاندر کے
38:05بنیادے ہلاکہ رہ دے گا
38:07تو ناظرین آپ
38:08کہانی ایسے موڑ پر ہے
38:09جہاں محبت اور دشمنی کے
38:10سب سے بڑا تصادم ہونے والا ہے
38:12اگلی قسم میں فیصلہ ہوگا
38:14کہ آیا شیر اور فجر کا
38:15رشتہ قیم ہوتا ہے
38:16یا پھر حویلی ایک اور
38:18خون سے رنگین ہو جاتی ہے
38:20تو ناظرین
38:20کہانی اب ایک نہایت ہی
38:22نازوک اور سنسنی کے
38:24اس موڑ با پہنچ چکی ہے
38:25جہاں ہر کردہ کے دل میں
38:26خوف اور گسہ
38:27ایک ساتھ پر رہا ہے
38:28حویلی میں نکاہ کی تیاریاں
38:30ہو جا ہو
38:30تو جاری ہیں
38:32مگر ان تیاریوں کے بیچھے
38:35نفر سازش اور دشمنی کی
38:36آگ بڑک رہی ہے
38:38باہر سب کچھ
38:40خوشی کا تاثر دے رہا ہے
38:42مگر اندر سے
38:43ہر چہرے پر
38:45ایک نیا دفان چھپا ہوا ہے
38:46تو ناظرین شجاہت
38:47اور فجاہت
38:48کا گسہ دن با دن
38:49بڑھتا جا رہا ہے
38:51وہ دونوں بھائی
38:52بار با خوفیہ
38:53ملاقاتیں کرتے ہیں
38:54اور اپنے کرندوں کے ساتھ
38:55محصوبہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended