00:00Late November 1999
00:18Lahore Police
00:21in a room for duty duty
00:22and they check their mail box
00:26so they have a letter
00:27A Confession
00:30My letter is 100 per
00:34end of the year
00:35My mission is complete
00:37My message will be complete
00:39My message will be complete
00:39I will be complete
00:41My mother will be complete
00:42I will be complete
00:43I will be complete
00:45in the future of the matter
00:47I will be complete
00:49A letter
00:51One victim's name
00:52was a victim's name
00:53and was a victim's name
00:55سب کچھ ڈیٹیل میں لکھا ہوا تھا
00:57کتنا ٹائم
00:58ایسٹ کو لگا
00:59اس کی باڈی ڈیزولف کرنے میں
01:00اور آخر میں
01:01ایک مکان کا پتہ دیا ہوا تھا
01:0316B
01:04Rawi Road
01:07Deputy Superintendent of Police
01:09Tariq Kembo
01:10اپنے ساتھ کچھ
01:11officers لے کر
01:12اس پتہ پر پہنچتے ہیں
01:13دروازہ کھٹ کھٹانے پر
01:15ایک شخص باہر آتا ہے
01:1630 سالہ
01:18جعوید اقبال
01:20پولیس اسے اس خط کے متعلق کچھ سوال کرتی ہے
01:22اور مزید ڈیٹیلز مانگتی ہے
01:24جعوید کا پرتاؤ بلکل بدل جاتا ہے
01:26اور اپنی سر پر بندوق رکھ کے
01:28پولیس کو دمکھاتا ہے
01:29کہ اگر وہ یہاں سے نہ آگئی
01:31تو وہ خود کو گولی مار دے گا
01:33پولیس بنا اس کو روکے
01:35بنا اسے کوئی مزید سوال پوچھے
01:37اور بنا گھر کی کوئی تلاشی لیے
01:39وہاں سے چلی جاتی ہے
01:40انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی مزاگ کر رہا ہے
01:42یہ آدمی کیا کسی کا قتل کرے گا
01:44اور وہ بھی سو بچوں کا
01:46They had no idea
01:48that they just walked away from the worst serial killer
01:51in Pakistan's history
02:10ڈیلی جنگ نیوزپیپر آفیس کے باہر ایک پیکج آتا ہے
02:31جو جمیل چشتی کے حوالے کر دیا جاتا ہے
02:33جو اس دوران کی چیف کرائم ریپورٹر تھے
02:36وہ پیکج کھولنے پر چشتی صاحب کو بچوں کی تصاویر ملتی ہیں
02:40اور ایک خط جس پر لکھا تھا
02:43آج میرے ایک سو بچوں کو قتل کرنے کا حدف پورا ہوتا ہے
02:46آپ کو ساتھ ان تمام بچوں کی تصاویر ملے گی
02:49کون ہیں وہ اور کہاں سے
02:51میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اخبار کے ذریعے دنیا کو بتاؤ
02:55کہ میں نے کیا کیا
02:57میں اپنی پتیس صفوں کی ڈائیری آپ کو دے رہا ہوں
02:59وہ میرے سو قتلوں کا مکمل کنفیشن ہے
03:02آپ میرے مکان پر جاؤ تو سب ثبوت مل جائے گا
03:05جب آپ کو معلوم ہوگا کہ میں نے کیا کام کی ہے
03:08تو پوری دنیا ہل کے رہ جائے گی
03:13چشتی صاحب کے سامنے دو پوسیبلیٹیز آتی ہیں
03:16یا تو جوید کو کوئی پھسانے کی کوشش کر رہا ہے
03:18اور یا تو اس نے واقعی یہ جرم کی ہے
03:20وہ بغیر وقت ضائع کیے اس مکان پر پہنچتے ہیں
03:23لیکن دروازے پر تالہ لگا ہوتا ہے
03:25چشتی صاحب دیوار پھلان کے داخل ہوتے ہیں
03:27تو سامنے انہیں پچاسی جوتوں کے پیر ملتے ہیں
03:30اور ایک بوری جس میں بچوں کے کپرے ہوتے ہیں
03:33ایک اور کمرے میں ایسیڈ کے ڈرم پرے ہوتے ہیں
03:36اور ان میں سے بدبودار سمیل آ رہی ہوتی ہے
03:38میں نے جب ڈرم کھولا تو آپ سوچ بھی سکتے ہیں میرے کیا حالت ہوئی
03:44اس میں لوٹھڑے تھے اور ایسیڈ سے میرے ہاتھ جل گئے
03:49تو وہ سارا کچھ جو جو بیدی قبال لگا سارا کرائیم چین اسی طرح تھا
03:53دیوار پر انہیں کارڈز چپکے ہوئے ملتے ہیں جس پر الگ الگ ڈیٹیلز لکھی ہوئی تھی
03:58کچھ باڈیز کو میں نے جان کے پوری طرح ڈیزول نہیں کیا
04:02تاکہ اتھورٹیز ان کی تصدیق کر سکیں
04:04اور میں اب دریائے راوی پر خودکشی کرنے جا رہا ہوں
04:08اخبار یہ خبر پبلک تک پہنچاتی ہے
04:12اور ساتھی ستاون بچوں کے نام اور پتہ
04:15جس کے بعد اس مکان کے باہر والدین کا رشت لگ جاتا ہے
04:18and they broke down in uncontrollable sobs
04:25when they recognized the clothes and shoes of their children
04:29Javed Iqbal was on the run
04:33and the biggest manhunt Pakistan has ever seen was launched
04:37Javed Iqbal ڈیلی جنگ اخبار کے دفتر پر دفتق دیتا ہے
04:52اور اندر داخل ہوتے ہی اپنا سرینڈر پیش کرتا ہے
04:56میں ہوں Javed Iqbal
04:59ایک سو بچوں کا قاتل
05:01مجھے اس دنیا سے نفرت ہے
05:03اور مجھے اپنے کیے پر کوئی گلہ نہیں
05:05میں مرنے کے لئے تیار ہوں
05:07Javed Iqbal اگلے کچھ گھنٹوں تک جرنلس سے بات کرتا ہے
05:11اور انہیں ایک ایک واقعے کی ڈیڈیلز دیتا ہے
05:14دفتر میں بیٹے لوگ authorities کو انفارم کرتے ہیں
05:40اور کچھ ہی منٹوں میں
05:42دیروں فوجی اور پولیس افسر اس بلڈنگ کو چاروں طرف سے گھیڑ لیتے ہیں
05:46انٹیروگیشن کرنے پر Javed نے بیچارگی کا اظہار تو کیا
05:49لیکن صرف اپنے لئے
05:51اس کا کہنا تھا کہ وہ پولیس سسٹم کی لا پروائی اور نا انصافی کا شکار تھا
05:55جاوید ایک ویلدی فیملی کی چھٹی اولاد تھی
06:06چار بہنیں اور پانچ بھائی
06:08اس کے والدین کے مطابق وہ بہت ذہین اور چلاک تھا
06:11لیکن اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مسلسل کمپیریزن کے قارن اس میں سویر اگریشن پیدا ہونے لگا
06:16وقت کے ساتھ وہ اپنی فیملی کے لیے پریشانی کھری کرنے لگا
06:19اور اکثر رات میں سب کو جگا کر ایک لائن میں کھرے ہونے کا کہتا تھا
06:23جاوید کے بھائی کے مطابق وہ اپنے من کی چیز لے کر رکھتا تھا
06:26اور اگر اس کا باپ منہ کرے تو خود پر تشدد شروع کرتے تھا
06:30اسلامیہ کالٹ سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد جاوید کے باپ نے اسے ایک لوہے کا بزنس سیٹ اپ کر کے دیا
06:36اور وہاں وہ موسٹلی بچوں کو ہائر کرتا تھا کیونکہ انہیں تنخواہ کم دینی پڑتی تھی
06:40لیکن اس ہائرنگ کے پیچھے ایک اور وجہ تھی
06:43جاوید وہ بچوں سے سیکشولی اٹریکٹ ہوتا تھا
06:49اس کے باوجود جاوید کی دو بار شادی ہوئی لیکن دونوں شادیاں صرف ایک سال تک رہی
06:55اس نے ایک آرکیڈ ویڈیو گیم شاپ کھولی اور جیسے ایک لولی پاپ پر مکیاں جمع ہوتی ہیں
07:01گلی کے بچے وہاں سارا دن جمع ہو کر گیم کھیلتے تھے
07:05جاوید نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور وہ زمین پر سو کا نوٹ رکھتا تھا
07:09اس امید میں کہ کوئی بچہ یہ نوٹ ضرور اٹھائے گا
07:12پھر وہ شک میں آ کر بچوں کو لائن میں کھڑا کرتا
07:14اور ایک ایک کر کے انہیں پرائیویٹ ٹروم لے جا کر تلاشی دینے کو کہتا
07:18اور ساتھ ہی ان بچوں کے ساتھ بیانک حرکتیں کرتا تھا
07:21بچوں کے والدین نے انہیں گیمنگ زون جانے سے منع کر دیا تھا
07:24جس کے بعد جاوید نے ایک جم اور ایکویڈیم کھولا
07:27ایکزیکلی اسی مقصد کے لیے
07:30بائی نائنٹین نائنٹی سیون جاوید کو شدید فائنینشل کرائیسز کا سامنا کرنا پڑا
07:36کیونکہ جن مقصد سے وہ بچوں کو اٹریکٹ کرتا تھا
07:39اس پر پیسے بہت لگتے تھے
07:41اس نقصان کے باعث اسے اپنی پروپٹی بیشنی پڑتی ہے
07:44اور وہ لاہور شہر کا رخ کرتا ہے
07:46جاوید کو اس شہر میں پرفیکٹ ہنٹنگ سپورٹ ملتا ہے
07:50داتا دربار جو ساؤت ایشیا کا سب سے بڑا صوفی شرائن ہے
07:54ادھر بے شمار بچے کھانے کی تلاش میں آتے تھے
07:57جاوید انہیں رہائش اور کھانے کے بہانے اپنے گھر لے آتا
08:00مزید کچھ بچے اسے بس کے اڈوں سے ملتے تھے
08:03جو اپنے گھر سے بھاگے ہوئے تھے
08:08جاوید اقبال کی لائف میں سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ تاباتا ہے
08:11جب وہ داتا دربار سے اٹھارہ سال کی بچے کو گھر لاتا ہے
08:16جاوید نے اس کے ساتھ خوب زیادتی کی
08:18لیکن رات کو جب جاوید بستر پر سو رہا تھا
08:21اس بچے نے جاوید کے سر پر رائفل کا ہینڈل مارا
08:24پورے محلے میں چیخنے چلانے کی آواز آئی
08:26پولیس کے پہنچنے پر جاوید زمین پر گرا ہوا تھا
08:29اور اس کے سر سے مسلسل خون بہرا تھا
08:31انکوائری کرنے کے بعد جاوید پر ریپ کا چارج لگتا ہے
08:34اور پولیس اسے سزا کے طور پر سو کورے مارتی ہے
08:40اس مار پیٹ کی وجہ سے جاوید بائیس دن کومے میں رہتا ہے
08:43جاوید کی فیملی اس کے میڈیکل بلز دینے سے انکار کر دیتی ہے
08:47لیکن اس کی ماں ہوتی ہے جو اس کے لیے خوب آنسو بہاتی ہے
08:52کلینکل سائیکولوجسٹ اکتر علی کا کہنا ہے
08:54کہ وہ واقعہ جاوید کے اندر کا راکشفت باہر لاتا ہے
08:58جاوید نے کبھی نہیں سوچا تھا
09:00کہ وایلنس اور اگریشن اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے
09:03جاوید کنٹینیو تو رن آؤٹ آف منی
09:05and that forced him to move to a rental house
09:0816B Raavi road
09:11and now
09:12جاوید was set for revenge
09:18مجھے اتنا مالا گیا
09:19کہ میرا سر کو چل دیا
09:21اور نام مجھ سے چلا گیا
09:22میں نے یہ سب اس کے بدلے میں کیا ہے
09:24میں ایک سو ماں کو رولاؤں گا
09:26بالکل جیسے میری ماں میرے لئے روئی تھی
09:29This gives us enough psychological explanation behind جاوید's evil actions
09:36سو کوروں کا بدلہ
09:38سو بچوں سے
09:41May 1999 سے جاوید اپنے بدلے کا سلسلہ شروع کرتا ہے
09:46اور صرف 147 دن میں پورے شہر سے سو بچے غائب ہوتے ہیں
09:53سب سے پہلے وہ بچوں کی تصویر لیتا تھا
09:56پھر وہ انہیں باہر اچھا سا کھانا کھلاتا
10:01گھر واپسی لانے کے بعد
10:03ان کے ساتھ گھنونی حرکتیں کرتا
10:05اور آخر میں ان کے گلے پر چیند باندھ کر مار دیتا
10:09پھر ان بوڈیز کو ایسٹ کے ڈرم میں ڈال دیتا تھا
10:12This continue to happen to 100 innocent children
10:17پولس کو یہ مکمل confession پیش کرنے کے بعد
10:24ان وکٹمز کی باڈیز کو identify کیا گیا
10:27اور پوئے لاہور میں صرف ماں کی رونے کی آواز تھی
10:31سرکیں خالی رہنے لگیں
10:33اور ماں باپ نے اپنے بچوں کو سکول جانے سے بھی روپ دیا
10:36ایک سو میں سے صرف 57 بچوں کی تصدیق ہو سکی تھی
10:39کیونکہ زیادہ تر بوڈیز ایسٹ میں پوری طرح ڈیزولو ہو گئی تھی
10:47February 18, 2000
10:50جعوید اقبال was formally inducted
10:53اور ساتھ ہی اس کے تین ساتھی
10:55ساجد جس کو 686 سال کی قید سنائی گئی
10:58اور باقی ندیم کو 186 سال اور سابر جو صرف 13 سال کا تھا
11:03اپنی زندگی کے اگلے 42 سال جیل میں دیکھ رہا تھا
11:07جعوید کا خود کو surrender کرنا
11:09جنگ کے دفتر تشریف لانا
11:11اور پولیس کو ثبوت کے ساتھ مکمل confession دینے کے باوجود
11:15وہ کوٹ میں اپنی innocence claim کرتا ہے
11:17اس کے claim کی مطابق اس نے صرف اس لیے confess کیا تھا
11:20تاکہ سرکوں پر رہنے والے بچوں کو attention مل سکے
11:23اور انہیں ایک اچھا محول دیا جائے
11:25اس کے بعد جعوید اپنی statement دوبارہ change کرتا ہے
11:28اور کہتا ہے کہ بیس لوگوں نے اس کے گھر آ کر ان بچوں کا قتل کیا
11:33اور وہ کسی کو نہ بچا سکا
11:35جس کے گلے میں آ کر اس نے یہ confession دیا
11:37however on 9th of March 2000
11:40جعوید changed his story yet again
11:43وہ کوٹ میں بتاتا ہے کہ actually کوئی بھی بچہ قتل نہیں ہوا
11:46اور یہ سب ایک publicity stunt تھا
11:48کوٹ میں موجود جج یہ تینوں statements کو reject کر دیتا ہے
11:51جج اللہ بھاک شرانجہ کے سر پر پورے ملک کا بوجھ تھا
11:55لوگ سارا دن کوٹ کے باہر ہرتال کرتے
11:58اور انصاف کی آواز بلند کرتے تھے
12:00جعوید کو وہ سزا سنائی جاتی ہے
12:02جو پاکستان کی تاریخ میں آج تک نہیں ہوا
12:07جعوید اقبال کو منارے پاکستان لے جا کر
12:10اسی چین سے پھانسی دی جائے گی
12:12جس سے اس نے بچوں کا قتل کیا
12:14اس کی باڈی کے سو ٹکرے کیے جائیں گے
12:17اور باری باری انہیں ایسڈ میں ڈبویا جائے گا
12:20یہ سزا کا اعلان سن کر نہ صرف پورا ملک بلکہ فورین انجیوز بھی الرٹ ہو جاتی ہیں
12:27اس دوران کے انٹیریئر منسٹر نے اس سزا کی مضمت کرتے ہوئے کہا
12:31کہ یہ سزا ہیومن رائٹس کی وائلیشن ہے
12:33اور کچھ فورین انجیوز بھی جعوید کی سپورٹ کو آ پہنچی
12:37جعوید اقبال کے ڈیفنس لوئر کو موت کی دمکیاں آنے لگیں
12:40اور انہیں سطیفہ دینا پڑا
12:41اور جعوید کو جو سزا سنائی تھی وہ اب کنفرم ہو چکی تھی
12:45As we are coming towards the conclusion of this story
12:49we ended up having more questions than answers
12:539th of October 2001
12:55In block 7 of the maximum security prison in court لگپت
13:00جعوید اقبال was found dead
13:02along with his accomplice ساجد
13:05initial report سے ظاہر ہوا
13:06کہ جعوید اور ساجد نے اپنی کمیز کا پھندہ بنا کر خودکشی کی ہے
13:10لیکن مزید investigation کے بعد پتہ چلتا ہے
13:13کہ رات 10 سے 2 بجے تک CCTV کیمراز بند تھے
13:17اور اس دوران گارڈ بھی سو رہا تھا
13:19دونوں مجرم کا ایک ہی طرح اور ایک ہی ٹائم پر مر جانا
13:23ہم ویورز کو صرف شک میں ڈالتا ہے
13:25کہ کیا انہوں نے واقعی اپنی جان لی
13:27اور یا انہیں مروایا گیا تھا
13:29اس واقعے کو بیتے 20 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں
13:36لیکن ان بچوں کے والدین کا صدمہ ابھی بھی تازہ ہے
13:40اس کیس کے پیچھے وجہ اور اس کے امپیکٹ کو
13:44انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کیا جا سکتا
13:46the horror, brutality and violence
13:48is still lingering in the public unconsciousness
13:51while also raising many questions
13:54for the departments of the country
13:56who had pledged to keep us safe
13:58one can only think of those boys and their families
14:04and hope that such atrocities never ever happen again
Comments