Is video mein aapko milegi ek dil ko choo lene wali Video.
“Follow for more!”
#love #romantic #shayari #urduquotes #emotional #pyar #sadstatus
“Follow for more!”
#love #romantic #shayari #urduquotes #emotional #pyar #sadstatus
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00Bytne Kaya, Sonu Maree Bagal Se Hatt Kar, Maree Akdam Pichhe Aageya.
00:05Thoori dayr tuk tuk sab thik raha.
00:07Mager thoori dayr bade,
00:09Maree Mahsus Kiya Khi Sonu Train Ke Hilne Ka Bahana Lekar,
00:13Mujh Se Bari Bari Kuch Zyada Hih Chipak Ja Raha Tha.
00:16Maree Pichhe Khoda Honne Ki Vajah Se,
00:18Maree Tربooz Se Chipka Hua Tha.
00:21Ab Maree Somaj Gai Khi Sonu Maree Paas Aaker Kyo Khoda Hua Hai.
00:25Maree Bhi Kuch Nahin Kaha,
00:26और आराम से ऐसी खड़ी रही जैसे मुझे कुछ पता नहीं चल रहा है
00:30धीरे धीरे मेरे कुछ ना बोलने से सोनु की हिम्मत बढ़ती जा रही थी
00:35और अब उसने अपने आपको पूरी तरह मेरी तर्बूज से चिपका दिया था
00:40मैं उसके ओजार का उभार अपनी तर्बूज पर हलका हलका महसूस कर रही थी
00:45मैंने कुर्ती और पैंट पहन रखी थी और उपर एक जैकेट डाली हुई थी
00:49सोनु ने स्पोर्ट्स वाली लोवर फुल टी शिर्ट और उपर से जैकेट पहना हुआ था
00:55सोनु का दबाव मेरी तर्बूज पर बढ़ता रहा
00:58लेकिन अब मैंने महसूस कर लिया था कि सोनु का ओजार खड़ा हो गया है
01:03अपनी तर्बूज पर अपने भाई के ओजार को महसूस कर मुझे भी अलग फीलिंग हो रही थी
01:08सच कहूं तो अजीब सा मजा आ रहा था
01:11वहां बैठे सब दुबक कर बैठे उंग रहे थे
01:14ट्रेन की खिड़की से ठंडी ठंडी हवा आ रही थी
01:18और तर्बूज पर ओजार की हलकी हलकी चुभन से माहौल मस्त हो रहा था
01:23अब मुझे भी मजा आने लगा था
01:25मैंने भी अपनी तर्बूज से सोनू के ओजार पर हलका सा दबाव बनाया
01:30अब सोनू भी समझ चुका है कि मुझे उसकी हरकतों का पता चल चुका है
01:35और मेरी मौन सहमती उसे मिल चुकी है
01:37हम दर्वाजे के पास खड़े थे
01:40हमारे सामने एक बड़ा बॉक्स
01:42उसके उपर दो बड़े बड़े बैग
01:44फिर उसके उपर हमारा बैग होने की वजह से
01:47हम दोनों के सीने से नीचे का हिस्सा छिपा हुआ था
01:50जिसका फायदा हमें मिल रहा था
01:53और हमारी हरकतों को कोई देख नहीं पा रहा था
01:56train کے ہلنے کے ساتھ ہی
01:58سونو اب کھل کر
01:59اپنا آزار
02:00لور کے اندر سے
02:01میری تربوز پر رگڑ رہا تھا
02:04میں بھی ہلکے ہلکے
02:05اپنی تربوز کو ہلا کر
02:06مزے لینے لگی
02:07تھوڑی دیر تو ایسا ہی چلتا رہا
02:09پھر سونو تھوڑا پیچھے ہوا
02:11اور اپنا آزار
02:13میری تربوز سے ہٹا لیا
02:14دوستو
02:15میرا نام گریما ہے
02:17تو سب سے پہلے
02:18میں اپنا اور اپنے پریوار
02:19کا پریچے کرا دوں
02:20شروعات میں
02:26میں گریما تے ہی سال کی ہوں
02:28میرے پتی روہت
02:29چھبیس سال کے ہیں
02:30میری ننط پائل
02:32بیس سال
02:33اور میرے سسر کی
02:34عمر پچاس سال ہے
02:35دوستو
02:36میں نے اپنی پہلی
02:37ٹھکائی کا مزا
02:38اپنے گھر پر لیا تھا
02:40میں ایک چھوٹے سے
02:41شہر کی ایک بےحد
02:42مدھیم پریوار سے ہوں
02:44میرے گھر میں
02:45مجھے چھوڑ کر
02:46کل تین لوگ ہی ہیں
02:47میرے پاپا
02:48ممی
02:49عمر اور میرا چھوٹا بھائی
02:50سونو
02:56جب میں 19 سال کی تھی
02:58سکول میں تھی
02:59تب ہی میں نے
03:00پہلی ٹھکائی کا
03:01پہلا آنند اٹھایا تھا
03:03اور میری پہلی ٹھکائی
03:05کا سو بھاگے ملا تھا
03:06میرے چھوٹے بھائی
03:07سونو کو
03:08سب سے پہلے میں
03:09اپنے بارے میں
03:10آپ لوگوں کو بتا دوں
03:11میں ایک گرلز
03:13سکول میں پڑتی تھی
03:14میں تب تک گفہ
03:15اور آزار کے رشتے کے بارے میں
03:17مجھے اچھی طرح جان چکی تھی
03:19جوانی کا رنگ بھی
03:21میرے اوپر تیزی سے چھڑ رہا تھا
03:23سکول جاتے وقت
03:24جب میں سکرٹ پہن کر
03:26گھر سے نکلتی تھی
03:27تو اکثر آنے جانے والوں کی نگاہیں
03:29میرے گوری گوری جانگوں پر
03:31ٹھہر جاتی تھی
03:32چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے
03:35سکول کے لیے کوئی بس نہیں تھی
03:37اس لیے میں رکشے سے
03:38سکول جاتی تھی
03:39جب میں رکشے پر بیٹھتی تھی
03:41تو جان بوجھ کر
03:43کبھی کبھی اپنی ٹانگوں کو
03:44تھوڑا سا پھیلا دیتی تھی
03:45جس سے میری گوری گوری جانگیں
03:48دکھائی دینے لگتی تھی
03:49جس کے بعد سامنے سے آنے والے
03:52یا کھڑے ہوئے لوگ
03:53رس ٹپکتے ہوئے
03:54میری جانگوں کو گھورتے رہتے تھے
03:56جس میں مجھے بڑا مزہ آتا تھا
03:59میری ایک بہت اچھی سہیلی جوتی تھی
04:01جو ہمارے پڑوس میں رہتی تھی
04:03ہم ایک سکول
04:05اور ایک ہی کلاس میں پڑتی تھی
04:07میں اس کے گھر جایا کرتی تھی
04:09اس کے گھر زیادہ جانے کی
04:11ایک وجہ یہ بھی تھی
04:12کہ اس کے پاس لیپ ٹاپ تھا
04:14جس میں ہم دونوں
04:15اکثر مست مووی دیکھتی تھی
04:17مووی دیکھتے سمیں
04:19ہم ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی سنترے
04:21جو دھیرے دھیرے بڑی ہو رہی تھی
04:23بھی ہنسی مزاک میں دبا دیتی تھی
04:25اتنا ہی نہیں
04:26ہم کبھی کبھی ایک دوسرے کو
04:28اپنی گفہ دکھاتی تھی
04:29اور سہلاتی بھی تھی
04:31اس میں بہت مزہ آتا تھا
04:34گھر میں میرے چھوٹے بھائی سونو سے
04:35بھی میری بہت اچھی دوستی تھی
04:37چونکہ وہ مجھ سے صرف
04:39ڈیڑھ سال ہی چھوٹا تھا
04:41تو ہم دونوں دوستوں کی طرح رہتے تھے
04:43اور ایک دوسرے سے
04:44ہنسی مزاک بھی خوب کرتے تھے
04:46ہم دونوں اپنے ہر بات
04:48ایک دوسرے سے سانجھا کرتے ہیں
04:50جس میں سکول
04:51دوست اور اپنی کالونی کے لڑکے
04:53لڑکیوں کی باتیں بھی شامل رہتی تھی
04:55جیسے کون لڑکا
04:57کس لڑکی پر لائن مار رہا ہے
04:59یا کون لڑکی کس کے ساتھ پٹی ہے
05:01ہم ایک دوسرے کو لے کر بھی
05:03اکثر مزاک کرتے تھے
05:05جیسے وہ مجھ سے پوچھتا
05:07کالونی میں کون کون لڑکے
05:09تجھے لائن مارتے ہیں
05:10تو میں نے کہا تھا
05:12تُو کون کون سی لڑکیوں کو لائن مارتا ہے
05:14ان لڑکیوں میں
05:15میری دوست جوتی بھی شامل تھی
05:17سونو اکثر مجھ سے پوچھتا تھا
05:20دیدی
05:21تم اتنی دیر دیر تک
05:22جوتی دیدی سے اس کے گھر جا کر کیا بات کرتی ہو
05:25میں بات کو ہنسی میں ٹال دیا کرتی تھی
05:28اور کہہ دیتی تھی
05:29ہم دونوں ساتھ پڑتی ہیں
05:31اور مزے بھی کرتی ہیں
05:33تو وہ پوچھتا
05:34پڑائی کے ساتھ کون سے مزے کیے جاتے ہیں
05:37مجھے بھی بتاؤ
05:38میں بھی ہنس کر جواب دیتی
05:41کچھ بھی کرتی ہوں گی
05:42تو تجھے کیا
05:43وہ کہتا
05:44جوتی دیدی سے کہہ دو
05:46کہ کبھی مجھے بھی بلالیا کرے
05:47ساتھ میں مزے کریں گے
05:49تو میں کہتی
05:50تو اسے دیدی بھی کہتا ہے
05:52اور لائن بھی مارتا ہے
05:53اس پر سونو ہنستے ہوئے کہتا
05:56ارے وہ تو دیدی
05:57تمہاری وجہ سے کہتا ہوں
05:59نہیں تو میں کونسا
06:01اسے اپنی بہن مانتا ہوں
06:02تم سے اتنی بار کہاں ہے
06:05کہ جوتی سے میری بات کرو
06:06تم اپنے بھائی کی
06:08اتنی سی مدد بھی نہیں کر پاتی
06:10اس پر میں کہتی
06:11کہ تم خود ہی پٹا لو
06:13میں کہتی
06:14تم کونسا کوئی لڑکا
06:16مجھے پٹا کر دیتے ہو
06:17جو میں تمہیں جوتی کو پٹا کر دوں
06:20تو وہ کہتا ہے
06:21تو کیا کرے گی لڑکا پٹا کر
06:23میں کہتی
06:25جو تو کرے گا لڑکی پٹا کر
06:27پھر ہم ہنس دیتے تھے
06:29حالانکہ ہم دونوں نے کبھی
06:31ٹھکائی کیا
06:32یا اس طرح کی کوئی بات
06:33ایک دوسرے سے نہیں کرتے تھے
06:35لیکن اپنے دوستوں کو لے کر
06:37اس طرح کے مزاک
06:39ایک دوسرے سے کر لیتے تھے
06:41ویسے میں گور کرتی تھی
06:42کہ سونو اکثر نگاہ بچا کر
06:44میری سنترے پر نگاہ مار لیتا تھا
06:46جیسا ہی میں دیکھتی
06:48وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا تھا
06:50جس پر میں من ہی من ہس پڑتی تھی
06:53میں نے یہ بھی محسوس کیا تھا
06:55کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے
06:57اپنے شریر کو مجھ سے
06:59ٹچ کرنے کی کوشش بھی کرتا تھا
07:01میں بھی جان بوجھ کر
07:02اس کے سامنے ایسی کھڑی ہوتی تھی
07:04کہ میری دونوں گول مٹول سنترے
07:07ٹی شرٹ میں اُبھر آتی تھی
07:08ہم جب بالکنی میں بات کرتے تھے
07:11تو میں بھی جان بوجھ کر
07:13بات کرتے کرتے
07:14کبھی کبھی اپنے شریر کو
07:15سونو سے ٹچ کرا دیتی تھی
07:17جس میں مجھے بڑا مزا آتا تھا
07:20مجھے لگتا تھا
07:21کہ سونو بھی اس بات کو سمجھتا تھا
07:23تب ہی وہاں کبھی کبھی گھر میں
07:25اگل بگل سے گزرتے ہوئے
07:27جان بوجھ کر اپنا ہاتھ
07:28میری تربوز سے ٹکرا دیتا تھا
07:31میں بھی کچھ نہیں کہتی تھی
07:32جس سے اس کا حوصلہ اور بڑھ جاتا تھا
07:35بات ان دنوں کی ہے
07:36سکول میں پڑتی تھی
07:37ہمارے چھوٹے ماما کی شادی تھی
07:39شادی دسمبر کے مہینے میں تھی
07:41ہمارا ننیحال گام میں تھا
07:44اور شادی بھی وہیں سے ہونی تھی
07:45دسمبر میں پریقشہ ہونے کی وجہ سے
07:48شادی کی تاریخ ایسی رکھی گئی تھی
07:50کہ ہماری پریقشہ ختم ہو جائے
07:53تاکہ میں اور سونو بھی شادی میں جا سکیں
07:55تو جس دن ہماری پریقشہ ختم ہونی تھی
07:58شادی اس کے ہی اگلے دن تھی
08:00جس وجہ سے میں اور سونو
08:02تو پہلے نہیں جا سکے
08:03مگر ممی کچھ دن پہلے ہی چلی گئی
08:06پاپا کو آفیس سے زیادہ چھٹی نہیں ملی تھی
08:09تو انہیں شادی کے دن ہی پہنچانا تھا
08:11خیر ہمارا اگزام ختم ہوتے ہی
08:14میں اور سونو اسی دن شام کو
08:16اپنے ننیحال کے لیے جانے لگے
08:18جیسا میں نے بتایا تھا
08:20کہ ہمارا ننیحال شہر سے دور گام میں تھا
08:23تو ہمیں ٹرین سے جانا تھا
08:28وہاں سے شام چھے بجے ٹرین تھی
08:30پاپا ہمیں سٹیشن پر چھوڑنے آئے تھے
08:33ہمارے گاؤں کے پاس زیادہ گاڑیاں نہیں رکتی تھی
08:36بس ایک پیسنجر ٹرین رکتی تھی
08:38خیر ٹرین آ گئی
08:40لیکن شادی اور چھٹیوں کی وجہ سے
08:42ٹرین میں بھیڑ بہت تھی
08:44مگر ایک ڈبے میں ہم دونوں چھڑ گئے
08:47ڈبے میں بھیڑ ہونے کی وجہ سے
08:49بیٹھنے کی کوئی جگہ تو تھی نہیں
08:51اس لیے میں اور سونو دروازے کے پاس ہی
08:54ایک جگہ کھڑے ہو گئے
08:56ہمارے پاس کیول ایک بیگ تھا
08:59جس دروازے کے پاس ہم کھڑے تھے
09:01وہاں کسی نے اپنا بڑا سا لوہے کا ایک باکس رکھا تھا
09:04جس پر دو بڑی بڑی اٹیچی
09:06اور بیگ ایک کے اوپر ایک رکھے تھے
09:08جس وجہ سے اس نے دوسری طرف کا دروازہ بند کر دیا تھا
09:13ہم نے بھی اسی کے اوپر اپنا بیگ رکھا
09:15اور کھڑے ہو گئے
09:16باکس کے اس طرف بہت زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ
09:19سونو نے مجھے کہا
09:21دیدی تم باکس کے دوسری طرف دروازے کے پاس چلی جاؤ
09:25میں نے بھی دیکھا
09:26تو باکس اور دروازے کے بیچ کھڑے ہونے لائک جگہ تھی
09:29تو میں جا کر دروازے کی طرف کھڑی ہو گئی
09:32اور آرام سے بیگ کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی
09:36چونکہ دوسرا دروازہ بند تھا
09:38تو میں آرام سے وہاں کھڑی ہو گئی
09:39جس اسٹیشن پر اترنا تھا
09:42وہ ہمارے شہر سے قریب ستر کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا
09:46پیسنجر ٹرین ہونے کی وجہ سے قریب دو گھنٹے لگ جاتے تھے
09:51اور وہاں سات بجے تک ٹرین پہنچ جاتی تھی
09:54پھر وہاں سے ہمارے ماما کا گاو چار کلومیٹر دور تھا
09:58اور وہاں سے گاو تک جانے کے لیے
10:00کسی کو ہمیں لینے کے لیے سٹیشن تک آنا پڑتا تھا
10:04سٹیشن ایک دم ویران جگہ تھا
10:06وہاں آس پاس کوئی بھی بستی نہیں تھی
10:09اور سٹیشن پر اکہ دکھا ہی کوئی اترتا تھا
10:13اس لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں ملتی تھی
10:15اس لئے پاپا نے ماں کو فون کر بتا دیا
10:18کہ سٹیشن پر کوئی ہم لوگوں کو لینے آ جائے
10:21پاپا نے ہم دونوں کو کہا
10:23جب سٹیشن آنے میں آدھا گھنٹا رہ جائے
10:26تو ماں کو فون کر دینا
10:27کوئی نہ کوئی تم لوگوں کو لینے چلا جائے گا
10:31ٹرین میں بھڑ کے کارن
10:32بھائی کو کھڑے ہونے میں پریشانی ہو رہی تھی
10:35میں نے سونو کو کہا
10:37اگر وہاں دکت ہے
10:38تو ادھر آ جاؤ
10:39تو سونو باکس کے اوپر چڑھ کے
10:42میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا
10:43مگر جگہ تھوڑی ہونے کی وجہ سے
10:46ہم ایک دوسرے سے سٹ کر کھڑے تھے
10:48مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا
10:50تب ہی دوبارہ وہ میری تربوز سے چپک گیا
10:53پینٹ کے اوپر سے مجھے ایسا لگا
10:56جیسے کوئی کڑی دیکھ چیز
10:57میری تربوز سے رگڑی جا رہی ہو
10:59میں سمجھ گئی
11:01کہ سونو نے اپنا اوزار
11:02لور سے باہر نکال لیا ہے
11:04یہ سمجھتے ہی کہ سونو اوزار
11:07باہر نکال کر رگڑ رہا ہے
11:08میری گفہ پنیا گئی
11:10اب میں ایک دم پیاسی ہوتی جا رہی تھی
11:12اور کھل کر مزے لینے کے موڈ میں آ گئی تھی
11:15میں اپنے سامنے رکھے بیک کا سہارا لے کر
11:18ہلکا سا آگے جھگ گئی
11:20اور اپنی تربوز کو تھوڑا سا پیچھے کر دیا
11:22اب میری تربوز اور سونو اوزار کے بیچ میں
11:25صرف میری پینٹ تھی
11:27سونو نے دھیرے سے اپنے ہاتھ سے
11:29میری کمر کو پکڑ لیا
11:30اور پینٹ کے اوپر سے ہی
11:32اپنے اوزار کو میری تربوز سے سٹھا کر ہلانے لگا
11:35میں بھی مست ہو کر
11:37ہلکے ہلکے اپنی تربوز ہلا رہی تھی
11:40ادھر میری گفہ ایک دم گیلی ہو چکی تھی
11:43سونو سمجھ رہا تھا
11:45کہ میں بھی اب کھل کر مزے لے رہی ہوں
11:47کیونکہ اس کے اندر کا ڈر بھی نکل چکا ہے
11:50اور وہاں بھی کھل کر مزے لے رہا تھا
11:52سونو اچانک دھیما ہوا
11:54اس نے اپنے دونوں ہاتھ
11:57جو میری کمر پر رکھے
11:58دھیرے دھیرے آگے کی طرف سرکایا
12:00پہلے تو میں سمجھ نہیں پائی
12:02مگر تب ہی اس کے ارادے سوچ کر
12:05میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
12:07دراصل سونو نے
12:08اپنا ہاتھ آگے لا کر
12:10میری پینٹ پر رکھ دیا
12:12پہلے تو میں نے سوچا
12:13کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک دوں
12:16مگر میں اتنی مدھوش ہو چکی تھی
12:18کہ منہ کرنے کی ستھی میں نہیں تھی
12:20سچ کہوں تو میرا تو من یہ کر رہا تھا
12:23کہ میں خود ہی اپنی پینٹ اتار کر
12:25اپنی تربوز کو بنا کپڑے کے کر دوں
12:28تب ہی سونو نے اپنا ہاتھ
12:29میری کمر پر رکھا
12:31اور دونوں طرف سے
12:32اس کے ہاتھوں کی انگلیاں
12:34میری پینٹ کے اندر چلی گئی
12:35میں سمجھ گئی
12:37کہ سونو میری پینٹ نیچے خسکانے والا ہے
12:39میرے دل کی دھڑکن
12:41ایک دم سے بڑھ گئی
12:43پھر وہی ہوا جو میں نے سوچا تھا
12:45سونو تھوڑا سا پیچھے ہٹا
12:47اور دھیرے دھیرے میری پینٹ
12:49اور پینٹی دونوں کو
12:50ایک ساتھ نیچے خسکانے لگا
12:52پینٹ ٹائٹ ہونے کی وجہ سے
12:54تھوڑا زور لگانا پڑا
12:55اور آخر اس نے پینٹ
12:57اور پینٹی کو کھینچ
12:58کر گھٹنوں تک کر دیا
12:59اب میری تربوز
13:01ایک دم بنا کپڑے کے ہو چکی تھی
13:03سونو نے اپنے ہاتھ سے
13:05میری بنا کپڑے کے تربوز کے درار میں
13:08ہلکا پھیلایا
13:09اور اپنے اوزار کو
13:10درار کے بیچ میں ڈال دیا
13:12جیسے ہی سونو کا
13:13مست لمبا اوزار
13:14میری تربوز سے ٹکرایا
13:16میرے شریر میں
13:17ہلکی سی سیہرن دوڑ گئی
13:19سونو نے دونوں ہاتھوں سے
13:21میری کمر کو پکڑا
13:22اور جھک کر
13:23ہلکا ہلکا
13:25اپنے کمر کو ہلانے لگا
13:26اس کا اوزار
13:27میری تربوز سے ہوتے ہوئے
13:29میری پنیا چکی
13:30گفہ سے ٹکرانے لگا
13:32میں تو جیسے ساتویں آسمان میں تھی
13:35حالانکہ میں کئی بار
13:36بینگن اور مولی
13:37اپنی گفہ میں ڈال کر
13:39پلوا چکی تھی
13:40مگر آج پہلی بار
13:42کوئی اوزار
13:42میری گفہ سے ٹکرا رہا تھا
13:44اور وہ بھی
13:45میرے سگے بھائی کا اوزار
13:46میں بھی آگے جھک کر
13:48اپنا سر بیک پر رکھ دیا
13:50اور اپنی تربوز کو
13:51اٹھا کر ہلانے لگی
13:52اب سونو نے میری کمر
13:54کو پکڑ کر
13:55اپنے اوزار کو
13:56میری گفہ سے رگڑنا
13:58شروع کر دیا تھا
13:59اور تیزی سے
14:00اپنے کمر کو ہلا رہا تھا
14:02میں بھی اپنی تربوز
14:03کو تیزی سے ہلا ہلا کر
14:05اس کا ساتھ دے رہی تھی
14:06مجھے لگا جیسے
14:08میری تربوز بھٹنے جا رہی ہیں
14:09میں اور تیزی سے
14:11اپنی تربوز ہلانے لگی
14:13وہیں سونو نے بھی
14:14اچانک اپنی سپیڈ بڑھا دی
14:16اور میری تربوز کو
14:17اپنی کمر سے پورا چپکا لیا
14:19وہ تیز جھٹکے لینے لگا
14:21تب ہی اس کا گرم گرم رس
14:23میری گفہ اور جانگوں پر نکلنے لگا
14:25مجھے بھی لگا
14:27جیسے میرا شریر اکڑ گیا ہے
14:29اور میری تربوز گئی ہے
14:30اور میری گفہ نے بھی
14:32اس وقت پانی چھوڑ دیا
14:34ہم دونوں ساتھ جھڑ گئے
14:36سونو اپنا سر میری پیٹ پر رکھ
14:38تیزی سے سانس لے رہا تھا
14:40میں بھی نڈھال ہو کر
14:41بیگ پر اپنے سر رکھ کر
14:43اپنی سانسوں کو کابو میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی
14:46ادھر سونو کے اوزار کا رس
14:48اور میری گفہ کا رس
14:50دونوں میری جانگوں پر بہ رہے تھے
14:52قریب پانچ منٹ بعد سونو کھڑا ہوا
14:55اور اس نے اپنے رومال سے
14:56دھیرے سے میری
Comments
3