Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
मुस्लिम महिलाओं के अधिकारों की दिशा में केंद्र सरकार ने 1 अगस्त 2019 को तीन तलाक के खिलाफ कानून लागू किया था.

Category

🗞
News
Transcript
00:001 August 2019
00:30ڈین طلاق سے آزادی ملے اور جس طریقے سے دین طلاق کا چلن تھا وہ ختم ہو
00:35تو آئیے دیکھتے ہیں کہ پچھلے چھ سالوں میں مسلم محلاؤں کی کیا حالات
00:41بدلے ہیں دین طلاق کے کیسز میں کتنی کمی ہوئی ہے اور کیا مسلم محلاؤں
00:47کو سچ مچ میں انصاف ملا ہے آئیے ان محلاؤں سے ہی جانتے ہیں
00:53پارلیمنٹ نے اس کو illegal unconstitutional بنایا تھا اور یہ ایک لمبی
01:02لڑائی تھی میں کہوں گی کہ یہ پوری جو سٹرگل تھی وہ مسلم محلاؤں کی
01:06سٹرگل تھی جنہوں نے سڑکوں سے لے کر اپنی بات کو سنسط تک پہنچایا
01:12تھا اور اس کے بعد highest court of the land نے اس پڑے اچھی طرح سے قرآن
01:18کا بھی گہن ادھیان کر کے کہا تھا کہ قرآن میں بھی یہ کہیں نہیں
01:22لکھا ہے تو یہ unquranic تھا unislamic تھا unconstitutional تھا ان
01:26human تھا دیکھیں اسلام کی بھی غلط picture سامنے آ رہی تھی کیونکہ
01:30اسلام کسی زیادتی کو نہیں وہ کر سکتا ہے جائز نہیں قرار دے
01:36سکتا ہے تو یہاں پر کیا ہو رہا تھا کہ وہ triple طلاق کو قرار
01:40مطلب صحیح بتا رہے تھے اور یہی وجہ تھا کہ personal law
01:43board کو موکی کھانی پڑی تھی اور highest court محلاؤں کے ساتھ
01:47کھڑا ہوا تھا پوری طریقے سے دیکھیں چھے سال میں کیا تبدیل
01:50دیکھیں چھے سال میں میں تو یہ کہوں گی محلاؤں کو جیسے
01:53abandoned کر دیا جاتا تھا آپ لوگ کو پتا ہوا کہ ای میل سے
01:57طلاق دیا جاتا تھا فون پہ طلاق دیا جاتا تھا اور جس لوگ
02:03یہاں تک کہ میں نے کئی cases دیکھیں جب triple طلاق کے لیے
02:06ہم لوگ fight کر رہے تھے struggle کر رہے تھے کہ ایک قانون
02:09بنے تو اس وقت یہ بھی تھا کہ لفافوں میں ڈال کے بھی تین طلاق
02:13پھیک دیا جاتا تھا گھروں میں تو آپ دیکھیں عورت کو بالکل
02:16ایک community سمجھا جاتا تھا use and throw جو anti-islamic ہے
02:22میں پھر کہوں گی اسلام کا غلط picture پیش ہوتی تھی اس سے
02:25کہ اسلام میں کیا عورتوں کی یہ position ہے تو اس کے قانون
02:29بن جانے سے میرا ماننا کہ 25% تو کمی آئی ہے
02:34میرے پاس روز آنا دس کیسے آتے تھے یہ جو لوگ بیٹھی ہیں
02:37یہ لوگ گواں ہیں اس بات کی کہ دس عورتیں روز میرے پاس آتی
02:42تین طلاق والی کسی کے ساتھ چھے بچے کسی کے پاس چار بچے کسی
02:45کے پاس اور ایک حد تو کیس ایسا آیا تھا کہ اس میں لڑکی کے
02:49والد نے کہا کہ اگر تم بچوں کو گھومتی ندی میں پھیک
02:52کیا ہوگی تو ہم تمہیں رکھ لیں گے بچوں کے ساتھ نہیں
02:54رکھیں گے تو کونسی ماں ہے جو گھومتی میں بچوں کو پھیک
02:57دے گی ٹھیک ہے میں نے ایسے بہت سے کیس دیکھے اور اس کے
03:00بعد 2009 سے پھر پندرہ تک میں نے کوشش کی کہ یہ جو
03:04پرسنلہ بورڈ ہے اور جتے ہمارے علماء ہیں اور بڑے بڑے
03:07مولانا ہیں آپ کے سو کال میں سو کال لگاتی ہوں کیونکہ نہیں
03:11ہے کیونکہ وہ تکلیف سمجھتے ہی نہیں عورتوں کی ٹھیک ہے اور اس
03:15کے بعد 2015 آتے آتے اتنا میرا پارا ہائی ہو گیا تھا کہ میں
03:20نے زرانہ پارک میں میٹنگ بلائی وہاں پر ایک خط لکھا موڈی جی کے
03:24نام اسی وقت ڈی ایم کو بلائیا وہاں اور وہ خط میں نے ان کو
03:27پی ایم کو بھیج دیا اور اس کے اگلے دن انہوں نے شاید گوڑا میں اس
03:31کو کہا کہ ہم اس کے اوپر قانون بنائیں گے اس سے پہلے بھی کئی
03:36کیس سپریم کورٹ وغیرہ میں ایسے جا چکے تھے اور لوگ بھی اس میں
03:39کوشش کر رہے تھے لیکن میری بہت بڑے اپلپ دی ہے یہ تین طلاقہ
03:43قانون بنا تو آج میں جس نظریہ سے اس کو دیکھتی ہوں تو اس میں پروز
03:48بھی ہیں کونس بھی ہیں ٹھیک ہے پروز یہ ہے کہ میرے پاس عورتوں کی
03:51تعداد کم ہوئی ہے کیونکہ لوگ ڈرے مسلمان ڈرے اس بات سے کہ تین
03:56طلاقہ ہوگی تو پھر جیل ہوگی اور یہ سب ہوگا اور اس کے ساتھ ہی
04:00عورتوں کو انصاب بھی ملا جو ہمارے کئی عورتیں ایسی تھی جنہوں کو
04:03واقعے میں گھر ملا اور بچوں کو خرچہ ملا اور سب چیزیں ہیں لیکن
04:08اس کا جو مطلب پروز دیکھا جائے تو کونس یہ ہے کہ سماج میں جو ہم
04:15جوڑنا چاہتے ہیں اگر ایک بار ایف آئی آر درج ہو جیسے اب یہ آپ
04:18نے کہا آپ نے ایف آئی آر کیوں نہیں کرائی ایک بار ایف آئی آر درج
04:21ہونے کے بعد گھر میں وہ چیز نہیں رہ جاتی ہے ٹھیک ہے سوسرال میں
04:25پھر وہ عزت نہیں ملتی ہے یا شوہر وہ عزت نہیں دیتا ہے اور پھر
04:28اس کا نتیجہ بھی پھر یہ ہوتا ہے کہ لڑتے لڑتے آپ کو طلاق ہوئی
04:32جاتی ہے میری کوشش چکے بزمی خواتین کی یہ ہے کہ آپس میں رشتے
04:36برقرار رہے تو جو جھگڑیں ہیں اس کو ہم سولف کر دیں اور نپٹا
04:40لے ہیں ٹھیک ہے تو اس میں ایک ہتھیار یہ بھی ہے کہ میں تین
04:43طلاق کے بعد آپ کے ساتھ پھر پلیس کارروائی اگر کرتی ہے تو
04:46آپ کو جیل ہوگی ٹھیک ہے اس سے ایک خوف کا ماحول ہوا لیکن یہ
04:50ہے لڑکیوں کو انصاف ابھی بھی نہیں ملا بہت تکلیف ہوئی میری
04:54بیٹی کو وہ دینے کو نہیں تیار ہو رہا تھا کہہ رہا تھا نہیں تم
04:57کو میں صحیح بری میری بیٹی کے ابھی کم عمر تھی دو سال ہو شادی
05:02کو اس نے کسی طرح سے کھینچا مگر کھینچ نہیں پائی کیونکہ پہلے
05:05تو کہیں گے مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے صرف پڑی لکھی لڑکی
05:08چاہیے میں نے کہا چلو ٹھیک ہے پھر میری بیٹی ایکسیس بائنگ میں
05:12جواب کرتی تھی کہنے لگے نہیں اللہ کا شکر ہے میرے پاس
05:15سب کچھ ہے جواب چھوڑ دو جواب بھی اس نے چھوڑ دی اس کو ایک
05:19ایک چیز کے لیے ترسا دیا انہوں نے یہاں تک کہ موبائل میں
05:22ریچارج کرانے کے لیے بھی وہ ایک ایک مہینہ پندرہ پندرہ
05:25دن رہتی تھی پھر وہ اپنے ہی پاس سے جو پہلے جواب کرتی
05:28تھی وہ پیسے تھے اسی سے کراتی تھی مگر اس نے مجھ سے کچھ
05:31نہیں کہا یہ سب باتوں کے لیے بہت مشکل سے دیا اور وہ
05:37بھی جو ہم لوگ نے کہا جہز ہو تو کہہ کہا رہے ہیں کہ دو
05:40سال جو اس کو کھلایا اس کے سب پانچ ہلاک رو پر وہ دیجئے
05:43پہلے آپ ہمیں تو ہم نے نہیں بھی ہے تم ایسا ہے رکھ لو جہز
05:49دیکھیں گے تمہیں کتنے کام آیا میں نے کہا دیکھو زیور دے دو
05:53تو بہ مشکل تمام جب ایک وکیل کو بیچ میں رکھا انہوں نے
05:58دباؤ ڈالا پریشر کی لڑکی کوئی بہت کچھ کر سکتی ڈر آیا
06:01تب اس نے زیور دے دیا اور کچھ نہیں دیا
06:05تین طلاق کیا دیا ایک ساتھ تین طلاق دی دیا
06:09مطلب اس نے کھلا دیا طلاق نہیں دیا بہت مشکل سے جب سب
06:15طرف سے پریشر ہوا تو اس نے یہی عیدگاہ میں وہاں اس نے کھلا دیا
06:21کانون کا سہارہ دیکھئے اس لیے دیکھئے ان لوگ کی حالت کیا ہے
06:26وہیں کہ وہیں ہیں کوئی فائدہ نہیں بس یہ کہ ہمارے میاں ریٹائر
06:30ہم لوگ میڈل کلاس لوگ سکون چاہتے ہیں چار دن کی زندگی صرف
06:35پریشان ہوتے سرکار کیا کرتی ہے کچھ نہیں کتنے کتنے ہیں میرے
06:40کیاں شہناز اپا کیاں سے لوگ آتے ہیں ہم دیکھتے ہیں بیس بیس سال
06:44سے وہ عورتیں سٹرگل کر کے اپنے بچوں کو پڑھا دیا جوان کر دیا
06:48مگر ان کی جو پرابلم تھی آج تک سو الفی نہیں ہوئی نہ ان کو
06:53پیسے ملے تو ہم نے کہنے لگے یہ جو ہے یہاں سے تم گھرم دیے دے
06:59بیچ رہے ہیں تو نکل جو ہم نے کہا جو میرا ہے وہ ہم پوئی
07:01ملنا چاہیے آدھا ہم نے خریدا تو اس کو کریں تمہارا کچھ
07:05نہیں ہی آگر تم نے دے دے طلاق ہم سے کوئی جب ہم کوئی ایسے
07:09بھی کچھ نہیں ملا تو پایدہ کیا طلاق ہوئی نہ ہو تو آپ نے
07:12بتایا نہیں کہ تین طلاق عوید ہے وہ تو پتا ہے یہ قانون بھی
07:17ہے ہم لوگوں کے مشہرہ میں بھی ہے لیکن جو عمل کون کرتا
07:21مسلم ملاؤں کی تو استطیق وئی کی وئی ہے بہت زیادہ کچھ
07:25بدلاؤ نہیں آیا بس ہاں یہ ہو گیا ہے کہ جو بچیاں پہلے
07:29مطلب لڑنا نہیں جانتی تھی اب تھوڑا سا مطلب وہ دھمکی دیتی
07:34ہیں اپنے آدمیوں کو کہ مطلب کیس کر دیں گے تھوڑا سا اس سے
07:37لڑائی جھگڑے سے تھوڑا سا چھوٹکارہ ملا ہے لیکن استطیق اب یہ
07:42ہو گئی ہے کہ وہ مسلم ملاؤں کا صرف نام مت لیجے یہاں پر
07:47ہماری غیر مسلم ملاؤں بھی بہت ساری ایسی ہیں ہمارے یہاں
07:51تو چلو کھلا لے کے چھوٹکارہ لے لیتی ہیں ان کے یہاں تو کھلا
07:54لے کے چھوٹکارہ نہیں لیتی ہیں اس میں بھی ان لوگوں کو اتنی
07:57پریشانیاں ہیں کہ مطلب شادی کر لی دوسری جگہ اور بچے بھوکے
08:01مر رہے ہیں پیاسے مر رہے ہیں تو بہت دیانی استطیق
08:05ہمارے ہاں ہم لوگ خود لڑ کے خود جو کام کر رہے ہیں وہی کر
08:09سکتے ہیں باقی اگر یہ سوچیں سرکار سے یا قانون سے ہمیں
08:13کوئی سہتہ ملے تو کچھ بھی کوئی سہتہ نہیں اگر ہم آج ایک
08:17اگزامپل کے طور پر اگر کوئی ہماری بچی ہے اور اگر اس کا
08:20وعد بی وعد ہے اگر ہم کوٹ میں جاتے ہیں تو دس بیس سال سمجھ
08:24جیجے کوٹ پہ ہی لگ جائیں گے ہمارے ہم اگر چاہیں بھی چاہ کر
08:28بھی ہم اس کی بچی کی دوسری شادی نہیں کر سکتے اس کا بھوش
08:30خراب ہو جائے گا کیونکہ دس سال اگر وہ کیس لڑے گی اس کے
08:34بعد اس کو اگر انصاف ملے گا تو کس کام کرے اس کی تو زندگی
08:36خراب ہو گئی ای ٹیو بھارت کے لیے ویڈیو جنرلسٹ ویجی برما کے
08:40ساتھ خرشید احمد لخناؤں
Be the first to comment
Add your comment

Recommended