00:00foreign
00:15samaaj ko sahhi disha dhikha kar, ushe sahhi rastate pere le jane ka kaman,
00:20samaaj me kai lo goes kratye hai.
00:22but there are few people who come to their community or their society
00:27to change their lives in their lives.
00:30This story was 25 years ago, Salma Kinnar.
00:36Salma Kinnar, who has 11 years of age,
00:39left her home and left her home,
00:43and left her home and left her community,
00:47and left her children's lives.
00:51We have now done the work of the government
00:58that we should become transgender.
01:00If our child leaves their home,
01:04then where will it go?
01:05Who will it go?
01:07We are very scared of some children,
01:11that there is no such a case,
01:13there is no police case.
01:15So this is a situation where we are very tired.
01:18So, one of the transgender people will be safe and one of the family will be safe.
01:25So, this is why we thought that we will be doing a house without a card.
01:34Then, we will ask the child, where did the child come from, how did the child come from, and how did the child come from.
01:41So, if we want to give the child to the child, then we will adopt the child.
01:50So, the child will be safe, eat, eat, eat, read, read, read, read, read, job, etc.
01:59So, the child will be safe.
02:02So, the whole country will be safe and the whole country will be safe.
02:10So, the small paragraph is that children will be safe and the children will be safe and the whole time we will be safe.
02:17So, for example, the child is a children's life.
02:22So, the child could also be safe and make an opportunity for children.
02:27So, the child is a child' life.
02:32foreign
03:02ڈیمانڈ سامنے رکھی اور پورا پرپوزل ان تک پہنچایا ہے اس پرپوزل پر کام شروع ہو کر یہاں کے جلا پرساسن تک چیزوں کو بھیجا بھی گیا اور جلا پرساسن اس دشاہ میں کام شروع کرتے ہوئے جمین کی تلاش بھی کر رہا ہے
03:13کل ملا جلا کر کہا جائے تو سلمہ کے پریاسوں سے اگر ورانسی میں پہلا کنر آشرم بنتا ہے تو ان یواؤں کے لیے ایک بڑا سارتھک پریاس ہوگا جو اس کمیونٹی میں نئے آ رہے ہیں اور اپنا گھر چھوڑ کر کنر سمودائے میں جانے کی سوچ رہے ہیں
03:31اگر سے ورانسی میں پہلی بار یہ شروع ہو گیا تو مجھے نہیں لگتا ہے کہ کہیں نہیں بن پائے گا ہر ایک ہندوستان کے کونے کونے میں ٹانر آشرم بنے گا
03:42ہماری بات آنندی بین پٹیل یوپی کی جو گورنر صاحب ہیں ان سے میری بات تھا انہوں نے ہمیں بلایا تھا اور ہم اس آگرہ پہ ملنے گئے
03:53انہوں نے ان سے ہمیں اپنی بات رکھی انہوں نے کچھ اپنے ہم سے بات رکھی پھر انہوں نے فائل ہماری دیکھی کھول کے انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے چیزیں
04:02تو انہوں نے پڑھا تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس سے اچھا کام کیا ہو سکتا ہے اگر سیاسترم بن جائے
04:08تو اس سے لوگ جاگ رکھ ہوں گے اس سے لوگ پڑھنا دائک ہوں گے
04:12تو انہوں نے ڈی ایم کو ترند کال لگا کے برانسی ڈی ایم کو کال لگا کے کہا کہ جو سلمہ جی کہہ رہی ہیں ان کا کام آپ کیجئے
04:19پھر میں جب یہاں پہ آئی تو ڈی ایم صاحب نے مجھے سرکش ہاؤس میں بلایا انہوں نے ہم سے ساری باتیں پوچھی ان سے ہم سے لکھا پڑی مانگی کہ آپ جو بھی چیزیں آپ ہمیں دے دیجئے
04:28تو ہم نے تین ہزار سکار فٹ کی زمین کی مانگ کی ہے کہ وہ زمین دے اگر سے سرکار نہیں بنا پا رہی ہے
04:34تو کوئی ہم ندان لے کر ہم اس کو بنا لیں گے
04:38مگر سرکار کے پاس تو ایسی بہت سی فنڈس بھی ہیں اور بہت سی اس کے پاس پولیشی ہے کہ جو ٹرانزرنہ راسترم بنائی گی
04:46اس نے ہمارے اور ہماری کمیونٹی کے لئے کچھ کیا
04:49کیا ہے نا یہ سلمہ
04:51سلمہ ہمارے پاس آئی جب چھوٹی تھی بچپن میں
04:55تو ہم نے اس کو کہا کہ آپ ہمارے سماعت سے ہر دی کچھ کام کرو
05:00ناچنے گانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے
05:03آپ کی لائف ہے بچے ہو بھی
05:05آپ الگ ہٹ کے کام کرو
05:08چلی گئی پھر اپنے گھر میں
05:11پھر اپنا ان سے ملنا جلنا
05:14پھر نیتا لوگ سے ملنا
05:16تو پھر ملتے ملتے اپنا اپنا کام بڑھائی آگے
05:20تو اس کے پر ہم کو بھروسہ ہے ہمارے لوگ کے لیے
05:24یہ بہت کچھ کی ہے
05:26ہماری ملاقات ایسی بھی کہ ہماری ایک فرین تھی
05:29ان کے گھر کے پاس ان کا رہنا تھا
05:31تو ان کی ممی نہیں تھی
05:32تو ان کی ممی بچپن سے ہی سپائر کر گئی تھی
05:35تو وہ آتی جاتی تھی
05:36تو ان کا تھوڑا سا روپ رنگ
05:37ہم لوگ کو لگتا تھا
05:38ایسا کہ کنر کی جیسے لگتا تھا
05:40پھر ہماری ممی کی ساڑھی پہن لینا
05:42لے کے کر دینا
05:43وہ ایکٹین کرنا
05:44ایکٹیویٹی ان کی وہی تھی
05:45تو پھر ہم لوگ کو ایسا سمجھ میں آتا تھا
05:47پھر ہم لوگ کہتے تھے
05:48نہیں کوئی بات نہیں
05:48پھر ناچنے گانے لگنا
05:49بال وائکٹ تھا
05:50لیکن پھر دیرے دیرے بڑھنے لگنا
05:52پھر کہتے تھے
05:53ممی کی ساڑھی دے دو
05:54میں ناچوں گی
05:54ایسے گھر ہوں گی
05:55تو ایکٹیویٹی ان کی وہی تھی
05:57لڑکیوں والی
05:57تو پھر ہم لوگ کہتے تھے
05:58کہ سلمان جی وہی ہے
06:00پھر اس کا دیرے دیرے دیرے
06:01کر کے پوری ایکٹیویٹی
06:02بال وال بڑھ گیا
06:03پھر ہم نے بال نہیں کٹوانا ہے
06:04کہ آپ بولتے ہیں
06:04نہیں بال نہیں کٹوانا ہے
06:05پھر ان کی ایسے ہی ہوتی
06:07کہ ہی ہوتی کہ
06:07پھر اپنا یہ سماج میں
06:09پھر سب لوگ ان کو جاننے لگیں
06:11تو پھر میں نے ان کا نام رکھا
06:12کہ بھائی سلمان تھا
06:13تو پھر اپنے کہا
06:14سلمان کی نرک
06:15تم ہو جاؤ
06:15اور پھر جانے لگو
06:17پھر آنے لگو
06:17پھر اپنا یہ بدھائی وغیرہ
06:18تو جاتی نہیں تھی پہلے
06:19کچھ بھی مطلب ان کا نہیں تھا
06:21آنا جانا کہیں بھی
06:22لیکن سماج کے لیے کر رہی ہیں
06:23سماج کے لیے اور آگے بڑھیں
06:24سماج کے لیے کریں
06:25میرا بس یہی ہے
06:26کہ بہت آگے بڑھ جائیں گے
06:28واران عصیر کمرہ پرسن
06:29ملوچ کے ساتھ
06:30گوپال میش
06:30ای ٹی وی بھارت
Comments