00:00इस वक्त मेरी उमर 16 साल थी, घर में कोई नहीं था, अम्मी अब्बू रिष्टेदारों के हां गए हुए थे और मैं घर में अकेली थी, मैंने सुचा उस्ताद जी के आने से पहले नहा लूँ, फिर आराम से बैठ कर बढ़ाई करूंगी, मैं कमरे के अटैच बात्रूम में �
00:30होने की वज़ा से मेरे प्राइवेट हिस्से साफ नजर आ रहे थे, उस्ताद जी की जैसे ही मुझ पर नजर पड़ी, तो उनकी आँखें हैरत से पहल गई, क्योंके मैंने नीचे वाले कपड़े नहीं पहने थे, उस्ताद जी जवान आत्मी थे, मैं बे दिहानी में उस्त
01:00मिन्दा हो गई, मेरे जहन में एक शेतानी ख्याल आया, कि अगर थोड़ी सी महनत की जाए तो बात बन सकती है, मैंने जान पूछ कर अपनी किताब नीचे गरा दी, और जान पूछ कर नीचे जुकर किताब पकड़ने लगी, उस्ताद जी की नसरें मेरे सीने पर ऐसे जमी �
01:30आज तो वैसे भी पूरा घर खाली बड़ा हुआ था, और किसी को शक भी नहीं होना था, आखिरकार मैंने थोड़ी सी हिम्मत की और उस्ताद जी का हाथ पकड़ कर अपने सीने पर रख लिया, उस्ताद जी शायद पहले से ही इस बात के इंतजार में थे कि मैं कब इनकी द
02:00एक शर्त रखी, मेरी शर्त सुनते ही उस्ताद जी ने हामी भर कर कहा के मुझे तुम्हारी हर शर्त मनसूर है, जैसे उस्ताद जी ने हामी भरी तो मैंने सोफे पर ही इनके साथ, मेरा नाम नोरीन है, मेरी माँ को मेरा अकैडमी चाना पसंद नहीं था, क्योंके वो अमीर �
02:30کا انتظام کیا جو گھر آ کر
02:32مجھے پڑھاتا تھا
02:33وہ استاد مجھے پڑھانے کی
02:35بھاری فیسیں لے رہا تھا
02:38میری ماں فخر سے کہتی کہ
02:39اس نے اپنی بیٹی کے لیے
02:41قابل ٹیچر کا انتظام کیا ہے
02:43جو بہت زیادہ فیس لیتا ہے
02:46اور اس کی بیٹی کو
02:47بہت بہترین پڑھاتا ہے
02:49ویسے تو وہ ٹیچر ٹھیک تھا
02:52مگر مجھے اچھا نہیں لگتا تھا
02:54شاید اس لیے کہ میں
02:56ابھی تک اس بات کو
02:58قبول نہیں کر پائی تھی
02:59کہ میں اپنی باقی دوستوں کی طرح
03:02اکیڈمی میں جا کر نہیں پڑھ سکتی تھی
03:05بلکہ
03:06مجھے گھر پر رہ کر
03:07اس استاد سے پڑھنا تھا
03:10شروع شروع میں مجھے وہ استاد
03:12بالکل اچھا نہیں لگتا تھا
03:14اور نہ ہی مجھے اس کے پڑھانے
03:16کا انداز پسند آیا تھا
03:18مگر جب میں نے اپنی ماں سے
03:20یہ بات کی تو انہوں نے
03:22مجھے جھڑک دیا اور کہا
03:23کہ میں یہ بہانے بند کروں
03:25اور اپنی تعلیم کا مایار بہتر
03:28بناوں اور یہ بھول جاؤں
03:29کہ میں اپنی اور دوستوں کی طرح
03:32اکیڈمی جا سکتی ہوں
03:33اور بھی بہت ساری ہدایات
03:36مجھے دی گئیں
03:37تب میں چپ ہو گئی
03:39اور اپنی پڑھائی میں
03:40دل لگانے لگی
03:41دل میں میں بہت اداس تھی
03:43اور اپنے دوستوں کے ساتھ
03:45پڑھنا چاہتی تھی
03:46جبکہ میری ساری دوستیں
03:48اور باقی کے کلاس فیلوز
03:50مجھ پر رشت کرتے
03:52کہ میں اتنی امیر ہوں
03:53کہ مجھے گھر پر
03:54اتنا اچھا استاد پڑھانے آتا ہے
03:57ان کی باتیں سن کر
03:59میں بھی نخرے میں آنے لگی
04:00اور تب میں
04:01اپنا سارا افسوس بھولا کر
04:04اپنے استاد سے
04:05بہت اچھے سے پڑھنے لگی
04:07اور جب میں نے
04:08دل سے
04:09اس استاد کو قبول کیا
04:11تو مجھے معلوم ہوا
04:12کہ وہ واقعی
04:13ایک قابل استاد ہے
04:15اور مجھے بہت محنت سے پڑھاتا ہے
04:17اور اس کی محنت کی وجہ سے
04:19میں نے بہت کم دنوں میں
04:21اپنی پڑھائی بہتر کر لی
04:23اور اب کلاس میں
04:24ہر سبجیکٹ میں
04:26ٹاپ پار آ گئی تھی
04:27جس وجہ سے
04:28کلاس اور سکول میں
04:30میری خوب واہ واہ ہوتی
04:31جو سن کر
04:33مجھے بہت اچھا لگتا تھا
04:35ان تعریفوں کی وجہ سے
04:37میں آسمانوں میں
04:38اڑنے لگی تھی
04:39اور تب میں نے
04:41اپنے استاد کو بھی
04:42دل سے
04:43قبول کر لیا تھا
04:44اور ان سے
04:45بہت فری ہو گئی
04:47اور دل لگا کر
04:48ان سے پڑھتی تھی
04:49اور اپنی ہر بات
04:51شیئر کرتی
04:52تاکہ پڑھائی میں
04:53مزید بہتر ہو جاؤں
04:55اس وجہ سے
04:56میری ماں باپ بھی
04:57بہت خوش ہو گئے تھے
04:58کہ ان کی بیٹی
04:59پہلی پوزیشن پر رہتی ہے
05:01اور ان کا نام
05:03خوب اونچا
05:04کر رہی ہے
05:05استاد کی بھی
05:06دیمانڈ بھڑھنے لگی تھی
05:07اس نے اپنی فیس
05:09بڑھانے کا کہا
05:10جو میرے ماں باپ نے
05:12بینہ کوئی اعتراض کیے
05:14اس کی دیمانڈ پوری کر دی
05:16اس کے کچھ ٹائم بعد
05:18اس نے میرے باپ سے کہا
05:20کہ وہ شام میں
05:21مجھے پڑھانے آیا کرے گا
05:23کیونکہ دن میں
05:24اس کے پاس وقت نہیں ہوتا
05:26اس کی یہ بات بھی
05:27میرے ماں باپ نے
05:28مان لی تھی
05:29اور ان کو کوئی اعتراض نہیں تھا
05:32بلکہ کسی بھی بات پر
05:34کوئی اعتراض نہیں کرتے
05:36اور اکثر میرے ماں باپ کو
05:38رات میں باہر جانا پڑتا تھا
05:40اس وجہ سے انہوں نے
05:41اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی
05:44کہ میں کس طرح اور کیسے پڑتی ہوں
05:46میں خوش تھی
05:47کہ میں پڑھائی میں
05:48بہت اچھی ہو گئی ہوں
05:50مگر میں نے کبھی
05:51سوچا بھی نہیں تھا
05:53کہ مجھے ایسے وقت سے بھی
05:54گزرنا پڑے گا
05:56کہ میں جینے کے قابل بھی
05:58نہیں رہوں گی
05:59اور کل تک
06:01جو لوگ میرے آگے پیچھے
06:02گھومتے تھے
06:03اور مجھے
06:04حسرت سے دیکھتے تھے
06:06وہ بعد میں مجھ پر
06:07تھوکنا بھی پسند نہیں کریں گے
06:10اس شام
06:11جب وہ مجھے پڑھانے آیا
06:12تو حسب معمول
06:14میرے والدین
06:15پارٹی پر جانے کے لیے
06:17تیار تھے
06:18وہ تقریباً
06:20ہر شام
06:20یا پھر رات ہی
06:22کسی پارٹی
06:23یا کسی شادی میں جاتے تھے
06:25اور پیچھے
06:26میرے پاس
06:27دائی ماں
06:28اور ایک ملازمہ
06:29چھوڑ جاتی
06:30مگر اس روز
06:31دائی ماں
06:32اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی
06:33اور ملازمہ کی طبیعت
06:35خراب ہونے کی وجہ سے
06:37کوارٹر میں جا چکی تھی
06:38اور گھر میں میں
06:40اکیلی اور تنہا تھی
06:42اور تھوڑی دیر بعد
06:43استاد جی
06:44مجھے پڑھانے کے لیے
06:46آ گئے
06:47میں تھوڑی گھبرا رہی تھی
06:48میں بالکل اکیلی تھی
06:50مگر میرے والدین کو
06:51اس بات سے
06:52فرق نہیں پڑتا تھا
06:54اور میں خاموشی
06:55سے
06:56استاد جی سے
06:57پڑھنے بیٹھ گئی
06:58استاد نے مجھے
06:59پڑھانا شروع کیا
07:01سب سے پہلے
07:01انہوں نے مجھے
07:03نمبر حل کرنے کو کہا
07:04تو میں نمبر حل کرنے میں
07:06اتنی مصروف ہو گئی
07:08کہ پھر شاد بھی نہیں رہا
07:09کہ میں اس گھر میں
07:10اکیلی ہوں
07:11اور وہ استاد بھی
07:13میرے ساتھ بیٹھا ہے
07:14جو ویسے تو میرا استاد تھا
07:16نگر اس وقت
07:17اس کے دماغ پر
07:19شیطان سوار تھا
07:21اور پھر اچانک ہی
07:22اس نے مجھے
07:23اپنا بھیانک روپ دکھایا
07:25کہ بظاہر
07:26مہربان نظر آنے والا شخص
07:28حقیقت میں درندہ تھا
07:30اس درندے نے
07:31مجھے اکیلہ پا کر
07:33میرے ساتھ جو کیا
07:35اس کے بعد
07:35میں جوینے کے قابل بھی نہ رہی
07:37میں پڑھنے میں
07:38مصروف تھی
07:39تو اس نے
07:40اچانک مجھ پر
07:41حملہ کر دیا
07:42اور مجھے
07:43بھاگنے کی محلت نہیں ملی
07:45اس نے مجھے
07:47بالکل بے بس کر دیا
07:48اس نے میرے جسم سے
07:50سارے
07:50کپڑے اتار دیئے
07:52اور اپنی سختی کو
07:53میری ناسکی میں
07:54داخل کر دیا
07:55درد اور تکلیف کی وجہ سے
07:58میری آنکھوں سے
07:59آنسوں نکل رہے تھے
08:00مگر وہ انسان نہیں
08:01درندہ تھا
08:03اس نے مجھ پر
08:03بالکل ترس نہیں کھایا
08:05اور مجھے
08:06عذیتوں کے سمندر میں
08:07دھکیل دیا
08:08میں بے بس چڑیا کی طرح
08:10بس پھٹ پھڑا کر
08:11رہ گئی تھی
08:12وہ دگھنٹے
08:13میری زندگی کے
08:14سب سے عذیتناک تھے
08:16اس جنگلی جانور
08:18نے مجھے پوری طرح
08:19ہلا کر رکھ دیا تھا
08:20میں تکلیف کی شدت سے
08:22بے ہوش ہو گئی تھی
08:24مگر اس درندے نے
08:26مجھ پر پھر بھی
08:28ترس نہیں کھایا
08:29جب وہ ہوش میں آیا
08:31تو میری حالت
08:32بہت پوری تھی
08:33اور میں مرنے والی
08:34ہو رہی تھی
08:35جس پر وہ
08:36گھبرا گیا
08:37اور مجھے اس حالت
08:38میں چھوڑ کر
08:39وہاں سے بھاگ گیا
08:40میں بالکل
08:41بے ہوش ہو چکی تھی
08:43اور مجھے نہیں
08:44معلوم تھا
08:45کہ پھر کیا ہوا
08:46اور گیا نہیں
08:47پھر چانے
08:48کہ اتنی دیر تک
08:49میں بے ہوش پڑی رہی
08:50اور جب مجھے ہوش آیا
08:52تو میں
08:53حسبتال کے بیٹ پر
08:55موجود تھی
08:55اور ساتھ ہی
08:57میرے والدین
08:58بیٹھے رو رہے تھے
08:59پہلے تو
09:00مجھے سمجھ میں نہیں آیا
09:02کہ میں کہاں ہوں
09:03اور کیوں ہوں
09:04مگر پھر جب
09:05دیرے دیرے
09:06میرے ہواس چاکنے لگے
09:08تو وہ پورا منصر
09:09میری آنکھوں کے سامنے
09:10گھومنے لگا
09:11میں پھر سے چیخنے
09:13چلانے لگی
09:14میری حالت پر
09:15میرے والدین
09:16تڑپ رہے تھے
09:17اور مجھے
09:18پکار رہے تھے
09:19مگر مجھے
09:20کسی کی پکار
09:21نہیں سنائی دی رہی تھی
09:22میں بری طرح
09:24چیختی جا رہی تھی
09:25اور پھر
09:26بے ہوش ہو گئی تھی
09:27میری حالت پر
09:29میرے والدین
09:30دکھ اور پچتاوے
09:31میں جلنے لگے تھے
09:32پھر تقریباً
09:34چودہ دن بعد
09:35میں جب سمجھ
09:35تو میرے ماں باپ
09:36مجھے گھر لے آئے
09:37اب میں پہلے کی طرح
09:39چیختی
09:40چلاتی نہیں تھی
09:41مگر اب
09:42میں نے بولنا ہی
09:43چھوڑ دیا تھا
09:44اور اپنے والدین
09:45کی طرف
09:45تو میں بالکل
09:46بھی نہیں دیکھتی تھی
09:47مجھے ان سے
09:48نفرت ہو گئی تھی
09:49کاش وہ
09:50اتنے غافل
09:51اور لا پروانہ
09:53ہوتے
09:53تو میرے ساتھ
09:54یہ سب نہ ہوتا
09:55زندگی جینے والی
09:57لڑکی
09:57ہر چیز سے
09:58دور ہو گئی تھی
09:59میں نے
10:00سب سے
10:00ملنا جلنا
10:01چھوڑ دیا تھا
10:03یوں کمرے میں
10:04ہی پڑی رہتی تھی
Comments