00:00This is a film.
00:30Mumbai
00:33and
00:37I
00:38I
00:40I
00:43I
00:46I
00:46I
00:49I
00:50I
00:50I
00:51I
00:52I
00:53I
00:53I
00:55I
00:56I
00:58I
00:59I
01:00।
01:30प्रिश्याइब बैल आके जब भी हमारी नई वीडियो आये तो आपको उसके बारे में पता चल जाए।
02:00इंस्पेक्टर मालवंकर इनको जेल में डाल देगा।
02:30जिसको खाने पे उसके बाई की तबीयत खराब हो जाती है।
03:00और चट के जंगले से एक रसी बांगता है।
03:02कि देखने से उसके पापा को यहीं लिखता है कि कोई घर में आया और उसके बेटे को घर में छोड़के चला गया।
03:08शोमू की 10 लाग की कोकेन का नुकसान हुआ था और इस तरह उसने अपने बाप से 20 लाग रुपे निकल वा लिये।
03:14और इसे 10 लाग का प्रोफिट यानिके मुनाफ़ा हासिल हुआ और अब यह सब भी यही करने का सोच रहे होते हैं।
03:44अरविंद माथूर होता है और यह एक इंस्पेक्टर होता है।
04:14अरविंद के इस केस को लेने के बारे में सरकारी कागजात में कोई जानकारी नहीं होगी।
04:36क्योंके अरविंद सस्पेंड हुआ होता है।
04:38अरविंद के पास एक टीम होती है और वो इस केस की चान बीन शुरू करता है।
04:42पर एक पुलिस वाला इस बारे में किसी को मैसेज कर देता है और इस वज़ा से ये खबर आ जाती है नियूज में।
04:48क्योंके अमी के पापा अमीर होते हैं इसलिए ये केस हाई पर फाइल होता है और मीडिया की आखें इस केस पर आ जाती है।
05:18əm iqe sath-sath aem iqe dhosta ko bhi dhuun dhuun dha ota hai arvind apne sath hi se baat kate huwe khe ta hai
05:23kye ye case mery band bajane ke liye mujhe dhia gya hai
05:26inspecctor mal wankar bhi is news ko dhekta hai
05:29nd yeh dhek ke woh bhi soch me pard jatah hai
05:32ab ne charn dhosta ke ghar walon ko bhi yehhi lag raha ho ta hai
05:35kye aem iqe sath-sath unke bachey bhi kidnap ho gai hai
05:38nd ab woh bhi police ke pats jathe hai
05:40nd is wajah se commissioner pere aur zada pressure a jata hai
05:43Irwin'd a young lady's who comes to
05:56Erwin'd a coach
05:59He booed
06:00Heprochen
06:03Emi and his friends
06:07We'll know
06:09Poor
06:10।
06:40and that's the end of the day.
07:10It was a couple of weeks ago, and it was a couple of weeks ago.
07:40ڈھونڈا دوستوں وہ مرنے والی جرمن
07:42ٹورسٹ 17 سال کی تھی اور
07:44اب ان کو ایمی کے لیے اور پریشانی
07:46ہو رہی ہوتی ہے انہیں ڈر ہوتا ہے
07:48کہ کہیں ایمی بھی نہ مر گئی ہو یہ
07:50سب دوست ایک سینما تھیٹر میں ہوتے ہیں
07:52تانیا سب سے زیادہ گبرائی ہوتی ہے
07:54کیونکہ اس کا ریپ ہوتے ہوتے بچا تھا
07:56تانیا کو پتا ہوتا ہے کہ زبین اسے
07:58پسند کرتا ہے وہ زبین سے روتے ہوئے
08:00یہاں سے نکلنے کے لیے مدد مانگتی ہے
08:02زبین اسے اپنا موبائل دیتا ہے
08:04تاکہ وہ اپنی بہن کو فون کر لے
08:06زبین ڈیکسی لینے کے لیے جانے لگتا ہے
08:08ڈیش مکڈونلڈز میں جاتا ہے
08:10اور مکڈونلڈز کے باتروم میں وہ
08:11ایمی کے پاپا کو کول کرتا ہے
08:13اور اب وہ ایمی کے پاپا سے 25 لاکھ روپے
08:16کے بجائے 50 لاکھ روپے مانگتا ہے
08:18دوستوں ڈیش انڈریجسٹرڈ سیم کارڈ
08:20سے فون کر رہا ہوتا ہے
08:21انڈریجسٹرڈ سیم کارڈ
08:23یعنی کہ وہ سیم کارڈ
08:24جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا
08:26ایمی تانیا کو موبائل چلاتے ہوئے پکڑ لیتی ہے
08:29اسے لگتا ہے کہ وہ پولس کو فون کر رہی تھی
08:31وہاں کسی آ جاتا ہے
08:33اور ایمی اسے بتاتی ہے کہ یہ پولس کو فون کر رہی تھی
08:36ان میں بحث ہوتی ہے اور بات بڑھ جاتی ہے
08:38اور کسی تانیا کا سر دیوار میں مار دیتا ہے
08:41جس وجہ سے تانیا بے ہوش ہو جاتی ہے
08:43اور اس کے سر سے کھون نکل لیں لگتا ہے
08:45زبین یہاں آ کر تانیا کو اس حالت میں دیکھتا ہے
08:48اور وہ یہاں سے بھاگ جاتا ہے
08:49اور پھر ڈیش آتا ہے اور وہ بھی یہ دیکھتا ہے
08:52اب یہ تینوں تانیا کو لیے بینا کہیں پہ جا رہے ہوتی ہیں
08:55اور زبین سڑک پہ بھاگ رہا ہوتا ہے
08:57اور زبین اپنے گھر پہ فون کرتا ہے
08:59ان کا پلان بلکل سمپل تھا
09:01پر اب معاملہ بہت زیادہ بگڑ چکا ہوتا ہے
09:04یہ ایک چلتے ٹینکر میں ہوتے ہیں
09:06اور کہیں جا رہے ہوتے ہیں
09:08یہیں سے حساب لگا لو کہ یہ کتنا چھپ رہے ہوتے ہیں
09:11اور نیوز والے ان کے گھروں تک پہنچ گئے ہوتے ہیں
09:13پولیس والوں کو چھان بین کرتے ہوئے پتا چل جاتا ہے
09:16کہ ایمی کے پاپا کو فیروتی کے لیے فون کرنے والا ڈیش ہے
09:20اور ابھی وقت ہوتا ہے فیروتی والے پیسوں کو وصول کرنے کا
09:23ایمی کے پاپا ڈیش کی بتائی ہوئے جگہ پہ ایک بیک چھوڑتے ہیں
09:34فیلڈنگ لگی ہوئی ہے
09:35اور یہ فیلڈنگ پولیس والوں کی ہی ہوتی ہے
09:38ڈیش کا بھیجا ہوا بندہ ڈیش کے پاس جاتا ہے
09:41اور ایمی کے پاپا کے ساتھ پولیس والے آئے ہوتے ہیں
09:43اور ڈیش کو اس بارے میں پتا چل جاتا ہے
09:46دوسری طرف یہ دونوں ایک چرچ میں چھپے ہوتے ہیں
09:48اور تیسری طرف تانیا اسپتال میں بے ہوش پڑی ہوتی ہے
09:51تانیا کی بہن تانیا کے پاس ہوتی ہے
09:54انسپیکٹر مالونکر اسے دیکھنے آتا ہے
09:56لیکن تانیا بات کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہوتی
09:59پولیس والوں کو زبین ائرپورٹ کے باہر مل گیا تھا
10:01زبین کا باپ زبین کو ممبئی سے باہر بھیج رہا تھا
10:05زبین اب ہوتا ہے
10:06اروند کے پاس اروند اس سے پوچھتاچ کرتا ہے
10:08اور زبین اس سے کہتا ہے
10:10کہ یہ سب پولیس کی وجہ سے ہوا ہے
10:12اصل میں یہ مالونکر کے رشوت مانگنے کے بارے میں بات کر رہا ہوتا ہے
10:16اور زبین اسے سب بتا دیتا ہے
10:18اروند اس بارے میں کمیشنر کو بتاتا ہے
10:20اور ایک اور پولیس والا یہاں آ کر بتاتا ہے
10:22کہ زبین کا دیا ہوا نمبر کسی گھوری مالونکر کا ہے
10:25یعنی کہ انسپیکٹر مالونکر کا
10:27یہ مالونکر کی رہنے والی جگہ پہ جاتے ہیں
10:30وہاں انہیں اس کی بیوی ملتی ہے
10:31اور پھر وہ اس کی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لے لیتی ہے
10:34مالونکر کی بیوی کی وجہ سے اروند کو مالونکر مل جاتا ہے
10:38اور اروند کو دیکھ کے مالونکر بھاگنے لگتا ہے
10:41اور اروند اس کے پیچھے بھاگتا ہے
10:42بھاگتے ہوئے مالونکر ایک چلتے ٹرک کے آگے آ جاتا ہے
10:45اور وہ ٹرک میں ٹھک جاتا ہے
10:47مالونکر زخمی ہو جاتا ہے
10:49اور اب یہ مالونکر کے ساتھ ایمبولنس میں ہوتے ہیں
10:51اروند کو فون آتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے
10:54کہ اس کی بیوی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے
10:55اور پھر اروند اپنے بیوی کو دیکھنے جاتا ہے
10:58are
11:26।
11:56।
12:26।
12:56।
13:26।
13:56।
14:26।
Comments