00:00Filiam ki kahani şuruo hoti hai
00:02or hum dhekhtehain
00:03que khali saadk per
00:04e 4 gari chal raha hoti hai
00:06gari ek dam se moratti hai
00:07gari chalane vale se gari
00:09bekaboo hoti hai
00:10اور gari dmaya me gir giat qualité hai
00:12subah police vaha ayi hoti hai
00:14اور police ki chanabin
00:15شuru hoti hai
00:16jb accident hoa tha
00:17tib saadk per
00:18kuch log� machud thoi
00:19unn'meis eek benda bada ta hai
00:21que gari ne cut maara
00:22اور dmaya me guse ga
00:23اور eek benda bada ta hai
00:25que saadk per akheelhi gari
00:26thi
00:26اور saadk per kuch bhi nai tha
00:28That was just started,
00:30and it shows there is a film star here
00:35which is denied.
00:36The товarship Theatre is Tyra's Ali police player
00:39of the policeérials.
00:42It's giving out news from this event.
00:44This is actually the case in China by introducing
00:47motives in the police inspector very well.
00:49It's a plaintiff with her opinion has declared
00:55then a song came with a person hunt over there
00:58and we see it on the internet
01:01which has a name is a man first
01:03which is the name of the village
01:06and the king often shows a woman
01:07look at a man's way of taking care
01:09and there is a woman's name
01:11and the man-sbeer with a family
01:13which tells her a woman
01:15which tells her that she has a woman
01:17she is a woman named
01:21and she talks about her
01:23and she is getting married when she is today
01:24।
01:54।
02:24।
02:54।
03:24।
03:26।
03:28।
03:30।
03:32।
03:34।
03:36।
03:38।
03:40।
03:42।
03:44।
03:48।
03:50।
03:52।
03:54।
03:56।
03:58।
04:02और ये मुस्कुरा के बात करते हुए इनके घर में गुज जाती है
04:05जैसे इफरीनी को मोका मिलता है वो यहां कुछ ढूंडने लगती है
04:09और वो सुरी और रोशनी के मरे हुए बेटे की तस्वीर को देखके मुस्कुराती है
04:14इसका नाम होता है संजे खेजरीवाल और ये अर्मान का बचपन का दोस्त होता है
04:18सोनिया सुरी को बताती है कि उसे पता चला है कि अर्मान ने 20 लाक रुबे अपने अकाउंटेंट से लिए थे
04:25ये accountant से पूछताच करते हैं और वो बताता है कि एक हजार वले नोट थे और हरे रंग के बैग में थे
04:31और वो ये भी बताता है कि करीबन एक साल पहले अर्मान के कहने पे इसने होटल लीडो में 10 लाक पहुंचाए थे
04:38और होटल लीडो उसी इलाके में होता है जहां पे वो हाथसा हुआ होता है
04:42अब ये होटल लीडो में जाते हैं और एक आनद मुर्गन नाम के आदमी का पूछते हैं
04:47लेकिन मुर्गन यहां पे काम करना छोड़ चुका होता है
04:50today
05:02foreign
05:04foreign
05:15foreign
05:17foreign
05:19But the story is on the end of the day.
05:49Suri Rath کو گاڑی میں اکھیلہ ہوتا ہے اور وہ انہی یادوں میں ہوتا ہے
05:53اس کے پاس ایک لڑکی آتی ہے
05:55اس لڑکی کا نام Simran ہوتا ہے
05:57ظاہر ہے کہ Simran اس سے جسم کو بیچنے والی بات ہی کرتی ہے
06:00Simran Suri سے ہوتل لیڈو جانے کی بات کرتی ہے
06:03اور وہ بتاتی ہے کہ اس کی وہاں ریسپشنسٹ کے ساتھ سیٹنگ ہے
06:07Suri اس سے آنند مرگن کے بارے میں پوچھتا ہے
06:09اور Simran Suri کو بتاتی ہے کہ وہ میلور میں مر رہا ہے
06:13اسے ایڈز ہو گیا ہے
06:14Suri Simran سے گاڑی سے باہر جانے کا کہتا ہے
06:17اور Suri کے پوچھنے پہ Simran Suri کو اپنا نام روزی بتاتی ہے
06:21دیورت مرگن کو ڈونڈ لیتا ہے
06:23اور اس سے انہیں نام پتا چلتا ہے ششی کا
06:25قریباً ایک سال پہلے ارمان کپور کے اکاؤنٹنڈ نے
06:29ششی کے لیے اسے ایک بیگ دیا تھا
06:31Suri ششی کی گل فرنڈ ملی کا سے ششی کا پوچھتا ہے
06:34پر وہ بتاتی ہے کہ ششی صرف یہ بتا کے گیا تھا
06:37کہ سانگلی میں کوئی کام ہے
06:38اور اسے نہیں پتا کہ کام کیا تھا
06:40اور واپسی کا بھی کوئی پتا نہیں
06:42Suri کھوٹے والی کے پاس جاتا ہے
06:44اور اس سے ششی کے سانگلی والے گھر کا پوچھتا ہے
06:47Simran بھی یہی پہ ہوتی ہے
06:48Suri پولیس والا ہوتا ہے
06:50اس لیے اسے ششی کا گاؤں والا پتا مل جاتا ہے
06:53پر پھر دیورت بتاتا ہے کہ ششی تو سانگلی آیا ہی نہیں
06:56روشنی اب ایک سائیکیٹریسٹ کے پاس جا رہی ہوتی ہے
06:59تاکہ اس کی دماغی حالت ٹھیک ہو سکے
07:01اور وہ دوائیاں بھی کھا رہی ہوتی ہے
07:03پہلے کبھی یہ دونوں ہستے کھیلتے تھے
07:05لیکن اپنے بیٹے کے مرنے کے بعد سے
07:08ان کی زندگی اداسی ہو گئی ہوتی ہے
07:10اور یہ دونوں زیادہ بات بھی نہیں کرتے ہوتے
07:12Suri کو پتا چلتا ہے کہ تیمور ششی کا خاص آدمی ہے
07:16اور اب Suri ملتا ہے تیمور سے
07:18یہ تیمور کو تھانے لے جاتے ہیں
07:19اور یہاں تیمور کی ٹھکائی ہوتی ہے
07:21تیمور بتاتا ہے کہ اسے ششی کا نہیں پتا کہ ششی کہاں ہے
07:25اور یہاں یہ بات تیہ ہو جاتی ہے
07:27کہ اگر تیمور کو ششی کا فون آیا
07:29تو تیمور Suri کو فون کر کے
07:31اس بارے میں بتائے گا
07:32تیمور واپس جا کے ششی کا وہ سم کارڈ موبائی میں ڈالتا ہے
07:35جو اس نے اپنے پاؤں سے اٹھایا تھا
07:37اس سم میں تیمور کو جو فون نمبر نظر آتا ہے
07:40تیمور اس نمبر پہ فون کرتا ہے
07:42اور تیمور کی ایک آدمی سے بات ہو جاتی ہے
07:45جو فون پہ ہوتا ہے
07:46اسے یہی لگتا ہے کہ ششی نے فون کیا ہے
07:49اور وہ کہتا ہے کہ تجھے پیسے کل مل جائیں گے
07:51اور وہ آٹھ بجے میلے میں آنے کا کہتا ہے
07:54Suri کو سمرن دوبارہ سے ایک جگہ پہ نظر آتی ہے
07:57Suri سمرن کے ساتھ لفٹ میں جاتا ہے
07:59ان میں بات ہوتی ہے
08:00اور Suri اس سے ششی کا پوچھتا ہے
08:02یہ ششی کی لڑکیوں میں سے ایک ہوتی ہے
08:04اور اسے بھی نہیں پتا ہوتا کہ ششی کہاں ہے
08:07یہ باتیں کرتے ہوئے Suri کو اپنی طرف رجا رہی ہوتی ہے
08:10تیمور نرملا کے پاس ہوتا ہے
08:12جسے تیمور پسند کرتا ہوتا ہے
08:14تیمور نرملا سے پوچھتا ہے
08:15کہ اگر وہ امیر ہو گیا
08:17تو کیا یہ اس کے ساتھ شادی کرے گی
08:19پر وہ تیمور کو ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیتی
08:22Suri کو اپنے خواد میں بھی اپنے بیڑے کے مرنے کا واقعہ نظر آتا ہوتا ہے
08:26روشنی کو اپنے گھر کے باہر ایک چھتھی ملتی ہے
08:29یہ چھتھی ایسی ہوتی ہے
08:30کہ مانو جیسے چھتھی لکھی فرینی نے اوپر
08:33الفاظ کرن کیوں
08:34اور اس چھتھی میں کرن فرینی سے کہہ رہا ہوتا ہے
08:37کہ اسے اپنے ماما اور پاپا سے بات کرنی ہے
08:40اور چھتھی میں کرن روشنی اور Suri تینوں کے نام لکھے ہوتے ہیں
08:43اور اب یہ جاتی ہے فرینی کے پاس
08:46فرینی ایسا کچھ کرتی ہے
08:47کہ مانو کا جیسے وہ کوئی منتر پڑھ رہی ہو
08:49فرینی ایک دم سے کاغذ پہ کچھ لکھنے لگتی ہے
08:52جبکہ وہ روشنی کو دیکھ رہی ہوتی ہے
08:55کاغذ پہ جو فرینی لکھ رہی ہوتی ہے
08:57مانو کے جیسے کرن کی الفاظوں
08:59بس لکھ فرینی رہی ہے
09:00کرن کے مطابق اسے اپنی ماں سے بات کر کے بہت اچھا لگا
09:03اور روشنی کو پتہ چلتا ہے
09:05کہ کرن اپنے پاپا سے بات کرنا چاہتا ہے
09:07روشنی کو فرینی کے پاس آ کر
09:09اپنے بیٹے کی باتیں پڑھنے پہ خوشی ہوتی ہے
09:12فرینی کاغذ پہ بلکل ایسے ہی لکھ رہی ہوتی ہے
09:15مانو کے جیسے کرن وہیں پہ ہے
09:16اور وہ بول نہیں رہا
09:18بلکہ فرینی کے ذریعے کاغذ پہ لکھ رہا ہے
09:20سوری ان باتوں کا سوچ رہا ہوتا ہے
09:22جو سمرن نے اس سے کہیں تھی
09:24سوری دیورت سے سارے مردہ گھروں
09:26اور اسپتالوں میں ششی کا
09:28ہلیا اور تصویریں بھیجنے کا کہتا ہے
09:30اور ان کو ششی کی لاش مل جاتی ہے
09:32ششی کو سنائپر رائفل سے
09:34سر میں گولی ماری گئی ہوتی ہے
09:36ششی کی جیب سے انہیں ایک ہوتل کے کمرے کی چابی ملی
09:39ششی نے ایک ہوتل میں
09:40کرشنا نائر کے نام سے کمرہ لیا ہوا تھا
09:43اس کے پاس ملے سمان میں
09:44سوری اب تلاشی لیتا ہے
09:46اور سوری جب کپروں والے بریف کیس کی تلاشی لیتا ہے
09:49تو اسے اس میں سے بہت سارا پیسہ ملتا ہے
09:51تیمور کو پتا چلتا ہے
09:52کہ ششی مر گیا ہے
09:53اور یہ بھی کہ ششی ایک میلے میں مارا گیا
09:56اسے یاد آتا ہے جو اس نے موبائل پہ
09:58اس آدمی کو کہتے ہوئے سنا تھا
10:00اس نے بھی آٹھ بجے میلے میں آنے کا کہا تھا
10:02ششی کی گرل فرنڈ کو دو آدمی
10:04ششی کی رہنے والی جگہ سے نکال لیتے ہیں
10:06اور پھر تیمور ششی کے گھر کی تلاشی لیتا ہے
10:09اور اسے ایک ڈی وی ڈی والی سی ڈی ملتی ہے
10:11اس سی ڈی میں ایک ویڈیو ہوتی ہے
10:13جس میں ارمان کپور
10:15ایک لڑکا اور سمرن نظر
Comments