- 7 months ago
Hazrat Umar Ka Adal o Insaf Raza Saqib Mustafai
Category
📚
LearningTranscript
00:00اور حضرت عمر کی حکومت صرف انسانوں پر نہیں تھی
00:04عمر کی حکومت پانیاں پر بھی تھی
00:06عمر کی حکومت آگ پر بھی تھی
00:09عمر کی حکومت ہواوں پر بھی تھی
00:12اور عمر کی حکومت دھرتی پر مٹی پر بھی تھی
00:14آپ جانتے ہیں کہ مصر کے گورنر نے لکھا کہ یہاں تو عجیب کہانی آئے
00:19کیا ہوا؟
00:21کہا کہ دریائے نیل اتنی دیر تک چلتا نہیں
00:24جب تک ایک نوجوان لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے
00:28نیل میں ڈالا جاتا ہے پھر نیل چلتا ہے
00:31اور یہ برسہ برسہ رسم جائے
00:33حضرت عمر کے پاس جب یہ پیغام پہنچتا ہے
00:38تو حضرت عمر نیل کو خط لکھ رہے ہیں
00:41بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:43مصر کے نیل کے نام عمر کا خط
00:46پر آگے لکھتے ہیں اے نیل اگر تو اللہ کے حکم سے چلتا ہے تو چل
00:51ورنہ تیری کوئی ضرورت نہیں ہے
00:53اور رکا لکھ کر قاست کو دیا جا کے یہ دریائے نیل میں
00:58ڈال لو اللہ اکبر جن کے رکے دریائے بھی مانتے ہیں
01:02پانیوں پر بھی حکومت ہے
01:04اور نیل میں جب وہ رکا ڈالا گیا
01:08نیل ایسا چلا آج تک کبھی رکا ہی نہیں ہے
01:11پانیوں پر حکومت ہواوں پر حکومت
01:15مصر نبی کا ممبر ہے عمر خطبہ دے رہے ہیں
01:19عراق کے علاقہ نہامند میں جنگ ہو رہی ہے
01:22مدینہ سے ایک مہینے کی مسافت ہے
01:24ایک مہینہ مسلسل چلیں تو نہامند آتا ہے
01:28حضرت عمر خطبہ دیتے دیتے
01:30درمیان میں جملہ معترضہ کا
01:32یا ساری الجبل
01:34اے ساریہ پہاڑ نہ چھوڑنا
01:36لوگ حیران ہیں کیا ماجرہ ہوا
01:39کہ ہم سے مخاتبہ ہے
01:41ساریہ نہامند میں ہے
01:42اور کہا ساریہ پہاڑ نہ چھوڑنا
01:44ایک مہینے کے بعد جب وہاں سے قاسد آیا
01:47اس نے کہا اللہ نے فتح دے دی
01:49کہا کیسے
01:51کہا پہاڑ کو چھوڑ کر
01:52دشمن پر ٹوٹنے لگے تھے آگے بڑھنے لگے تھے
01:55ان پر حملہ آور ہونے لگے تھے
01:57اچانک عمر کی آواز آتی
01:59پہاڑ کو نہیں چھوڑنا
02:01چونکہ اگر ہم پہاڑ کو چھوڑ دیتے
02:03دشمن پیچھے سے حملہ آور ہونے کے لئے تیار کڑا تھا
02:06تو کہا بس ہم پہاڑ کو
02:07اپنی پشت پہ پھیر رکھا
02:09اور اللہ نے اسی دن ہمیں فتح اتا کر
02:10ہوائیں بھی ان کا پیغام پہنچاتی ہیں
02:14پانی بھی ان کا حکم مانتے ہیں
02:16اس زمانے میں فائر برگیٹ سسٹم نہیں تھا
02:19لیکن ایک
02:20آگ بھڑتی آ رہی ہے شہر کی طرف
02:23لوگوں نے حضرت عمر کو بتایا
02:25امیر المومنین
02:26آگ پھیلتی آگے بھڑتی چلی آ رہی ہے
02:28اور شہر کو اپنے قابو میں لینے والی ہے
02:31عمر اپنی چادر اتا رہی ہے
02:32اور حضرت تمیم داری کو دیتے ہیں
02:35کہا یہ چادر لے جاؤ
02:36اور ایسے ایسے کرو
02:38آگ پیچھے بھاگتی چلی جائے
02:39تو چادر ہلاتے جاتے ہیں
02:42حضرت تمیم داری
02:43اور آگ پیچھے بھاگتی چلی جاتی
02:45مٹی بھی حکم مانتی ہے
02:48ایک لونڈی
02:49کھڑی رو رہی ہے راستے میں
02:51کہا تجھے کیا ہوا
02:52کہا ٹھوکر لگی
02:53میرا تیل زمین میں بے گیا
02:55میری مالکہ بڑی سخت ہے
02:57وہ مجھے کہے گی
02:58تم نے یہ کیا کیا
02:59عمر درہ زمین پہ مارتے ہیں
03:01زمین
03:04عمر نے تیری چھاتی پیدل نہیں کیا
03:06تو عمر کے ہوتے ہوئے
03:09اس کا تیل پی جائے
03:10زمین تیل باہر نکال لیتی ہے
03:12فرماتے ہیں ڈال لے اپنے برطن میں
03:14تو یہ عمر کے
03:15ان کا حکم
03:16مٹی بھی مانتی ہے
03:18ان کا حکم ہوایں بھی مانتی ہیں
03:20دریا بھی مانتے ہیں
03:21ان کا حکم پانی
03:22اور آگ بھی مانتی ہے
03:24وہ عمر
03:24میرے حضور فرماتے ہیں
03:26اِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُوا مِنْ زِلِّ عمر
03:29میرا عمر وہ ہے
03:30جس کے سائے کو دیکھ کے
03:31شیطان بھی باگ جاتا ہے
03:33حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:35نے ایک بہتری نظم و نصب دیا
03:37اور امور سلطنت کو
03:40اس انداز سے منظم کیا
03:41ایک غیر مسلم مفقر کہتا ہے
03:44اگر اس امت کو
03:45ایک اور عمر مل جاتا
03:47پوری دنیا پر حکومت مسلمانوں کی ہوتے
03:49ایک دن حضرت عمر بیٹھ کے رو رہے تھے
03:51ایک دن حضرت عمر بیٹھ کے رو رہے تھے
03:51تو کسی نے کہا
03:52حضرت رو کیوں رہے ہیں
03:53فرمایا کہ میں اس لیے رو رہا ہوں
03:56کہ فلان پل سے
03:58بکریاں گزری ہیں
04:00تو پل کے اندر شکستگی تھی
04:03ٹوٹا ہوا تھا پل درمیان
04:04اس میں ایک بکری کی کٹانگ ٹوٹ گئی ہے
04:08تو میں ڈرتا ہوں کہ میرا رب یہ نہ پوچھے
04:10کہ عمر تُو نے پل صحیح تعمیر نہیں کروای تھے
04:13کہ ایک بکری کی کٹانگی ٹوٹی ہے
04:14یہ ہیں حضرت عمر
04:16رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:18اللہ اکبر
04:19تو اللہ تعالیٰ جللہ شانہونے حضرت سیدنا
04:22عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
04:24اسے جو کام لیا
04:25مختصر دور خلافت کے اندر
04:28دس سال چھ ماہ چار دن
04:30آپ نے خلافت فرمائی ہے
04:33لیکن کہاں سے چلے
04:35اور یہاں مکران تک
04:37بلوچستان کا عیسہ ہے
04:38یہاں تک آپ کے سلطنت کی حدود بسی
04:41ادھر آرمینیا تک جا پہنچیں
04:44حمص فتح کیا
04:46قادسیہ یرموک
04:48آپ ذرا دیکھئے
04:49کہ کہاں تک آپ کی
04:51فوجوں کے گھوڑے دھوڑتے رہے
04:54اور اللہ تعالیٰ جللہ شانہونے
04:56ان کو جو توانائی
04:57عدل و انصاف کی قوت عطا فرمائی
04:59اللہ اکبر
05:01جب زمین پہ عدل کیا ہو
05:02تو زمین بھی حکم مانتی ہے
05:04اور حضرت عمر وہ تھے
05:06جن کا حکم ہوائیں بھی مانتی تھی
05:08زمین بھی مانتی تھی
05:09جن کا حکم
05:11جو ہے وہ آگ بھی تسلیم کرتی تھی
05:13اور دریا بھی ان کا حکم مانا کرتے تھے
05:15مصر کے اندر
05:18یہ رسمیں بد جاری تھی
05:19کہ سال کے بعد
05:21ایک دو شیزہ کو
05:22زیورات پہنا کے
05:24اچھے لباس میں ملبوس کر کے
05:26دریا کی بھیڑ چڑھایا جاتا
05:28اس کی قربانی دی جاتی
05:29اس کا خون بہتا تو دریا چلتا
05:32جب مسلمانوں نے مصر فتح کیا
05:34تو گورنر نے لکھا
05:36کہ اسلام تو اس طرح کی
05:38رسوم کی اجازت نہیں دیتا
05:39لیکن خوشک سالی ہے
05:41لوگوں کی فصلیں
05:43ویران پڑی ہے
05:44تو حضرت کیا کیا جائے
05:45تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی
05:47حقاغذ کے ٹکڑے پہ لکھتے ہیں
05:49بسم اللہ الرحمن الرحی
05:51مصر کے نیل کی جانب
05:53عمر کا خط
05:54لکھتے ہیں
05:55اے نیل اگر تو
05:56اللہ کے حکم سے چلا کرتا ہے
05:58تو چل
05:59ورنہ ہمیں تیرے چلنے کی
06:00کوئی حاجت نہیں ہے
06:02اور قاسد کو کہا
06:03یہ خط لے جاؤ
06:04اور جا کے دریائے نیل میں پھینک دو
06:07قاسد جا کے خط
06:09دریائے نیل میں پھینک دیتا ہے
06:10پانی آتا ہے
06:12ایسا دریائے نیل چلا
06:13چودہ صدیان ہوئی ہیں
06:15آج تک کبھی بند ہی نہیں ہوا
06:16دریائے حکم مان دیں
06:19آگ نکلتی ہے
06:20لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالی
06:23انہو کے پاس آئے
06:24حضرت
06:24لاوہ پھوٹا ہے آگ نکلتی ہے
06:26اور مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے
06:28اب کیا کیا جائے
06:30فائر برگیٹ تو زمانے میں تھی نہیں
06:32عمر نے اپنی کمیز رتا رہی
06:34جس کمیز پہ سترہ پیواند لگے ہوئے تھے
06:37چمڑے کے
06:38کہا یہ کمیز لے جاؤ
06:39جدر آگ بڑھ رہی ہے
06:40آگے ڈھالنا آگ پیچھے بھاگ جاؤ
06:42زلزلہ آتا ہے
06:44تو زمین پہ درہ مارتے ہیں
06:46زمین رکھ جا
06:47کیا عمر نے تیری چھاتی پہ عدل نہیں کیا
06:50تو یہ عمر ہیں
06:52رضی اللہ تعالی عنہ
06:53کہ جن کے انصاف کی وجہ سے
06:55جن کے عدل کی وجہ سے
06:57اللہ تعالی کی رحمات
06:58اور اس کی براقات کا نزول ہوتا تھا
07:01اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کو
07:02وہ عابرو مند حکومت دی
07:04کائنات کی تاریخ کے اندر
07:06ایسی حکومت آپ نے نہیں دیکھی ہوگی
07:08جو حضرت عمر نے حکومت کی ہے
07:10اللہ اکبر
07:12فرمایا
07:13فرات کے کنارے پہ
07:15ایک کتہ بھی پیاسا مر گیا
07:17تو اس کا حساب بھی عمر سے
07:19باہر سے سفیر آتا ہے
07:21اور آ کے پوچھتا ہے
07:23کہ میں امیر المومنین کے
07:25مسلمانوں کے حکمران کے
07:26محل میں جانا ہے
07:28تو وہ مسکر آ کے کہتے
07:29ہمارے امیر کا تو کوئی محل نہیں ہے
07:31کہاں کہاں ہے تمہارا امیر
07:33کہاں مسجد نبوی میں ہوگا
07:35یا بیت المال کی ہنٹوں کی دیکھ بال میں لگا ہوگا
07:39وہ جب گئے تو مسجد میں نہیں ہے
07:41اللہ اکبر
07:42وہاں گئے تو وہاں بھی نہیں ہے
07:44پھر کیا دیکھتے ہیں
07:46کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ
07:49جنت الوقی کے پاس
07:51ایک درخت کے نیچے
07:53اینٹ کا سرانہ رکھ کے زوئے گا
07:54تو اس نے کہا عمر
07:56تو نے عدل کیا ہے
07:57تجھے کچھی اینٹ پہ بھی نیند آگئے
07:59ہمارے حکمرانوں نے انصاف نہیں کیا
08:02اور وہ بد اور محفوظ
08:04کمروں کے اندر بھی
08:05سکون اور چین کی نیند نہیں سنسکتے
08:07حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ
08:10نے اس طرح ان
08:10امور سلطن نبائے
08:12آپ
08:13دن کو لوگوں کی دیکھ بھالی کرتے
08:16لوگوں کی ضروریات سنتے
08:17سمجھتے
08:18اور جب رات پڑتی
08:20لوگ سو جاتے
08:21عمر مدینہ کے گلیوں میں پہڑا دیتے
08:23کائنات نے کوئی ایسا بھی حکمران دیکھا ہوگا
08:26اللہ اکبر
08:28وہ مجاہد
08:29جو مختلف محاذات پہ گئے ہوئے ہوتے
08:32ان کے گھروں کی دیکھ بھالی کرتے
08:33ان کی ضروریات کا خیار لکھتے
08:35ان کی آبرو کا پہڑا دیتے
08:37راتوں کی تنہائیوں کے اندر
08:39حضرت عمر
08:40اٹھتے اور جا کے
08:41گشت کرتے
08:42چکر لگاتے
08:43دیکھتے کوئی آنک پر نم نہ ہو
08:45مفلسی کا کسی گھر میں ماتم نہ ہو
08:48حضرت محمد بن سیرین
08:50اور حضرت حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
08:52ان دونوں کا ایک زمانہ ہے
08:54اور یہ دونوں تابی ہیں
08:56ان میں سے ایک کا بسال ہوا
08:59انتقال ہوا
09:00حضرت محمد بن سیرین کا بسال ہوا
09:03یا حضرت حسن بسری کا بسال ہوا
09:06تو دوسرے تابی جو ہیں ان کے جنازے کے لئے نہیں گئے
09:10تو کسی نے ان کو پوچھا
09:12کہ آپ جنازے میں شامل نہیں ہوئے
09:13تو انہوں نے کہا کہ
09:15میری نیت کا استہزار نہیں تھا
09:18تو آج نیت کا استہزار تو دور کی بات ہے
09:23ہماری نیت ہی دوسری ہوتی ہے
09:25تو پھر آمال
09:29آمال خیر نہیں رہتے ہیں
09:31تو یہ بنیادی چیز ہے
09:32تو جو لوگ حج کرنے جا رہے ہیں
09:36وہ
09:36اپنی نیت کا استہزار
09:39اور نیت کی تنکی
09:41اس کو اپنے اوپر لازم قرار دیں
09:43کہ کوئی اور غلص شامل نہ ہو
09:46رضاِ الہی کا حصول
09:48یہ بنیادی نقطہ ہے
09:50حج کے مقاصد میں سے
09:52کہ بندہ اس لیے
09:53اللہ کے حضور حج کرنے کے لیے
09:56جا رہا ہے
09:57تو حجی تو وہ بن ہی جائے گا
10:00خود بخود ہی ہو جائے گا
10:02آجا کہی لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے
10:04کہ میں نے ایک حج کیا ہے
10:06تو حجی بن جاؤں گا
10:07اور زیادہ حج کیے جائیں گے
10:10تو پھر الحاج بن جاؤں گا
10:11تو یہ ایک عوام کی غلط فہمی ہے
10:14حاجی اور حاج
10:16ان دونوں کے اندر کوئی فرق نہیں ہے
10:18حاجی بھی اس میں فائل کا سیغہ ہے
10:20اور حاج بھی جو ہے وہ اسی معنی میں ہے
10:23تو حاجی ہو یا حاج ہو
10:26الحاج ہو
10:28الحاج الفلام تو معرفہ کے لیے لگ گیا
10:30تو اس سے یہ جو لوگوں کے اندر غلط فہمی ہے
10:33کہ حاجی ایک حاج کرنے والے کو کہتے ہیں
10:35اور الحاج
10:36کئی جس نے حاج کیے ہو جنے فرانا تو الحاج ہے
10:39یہ جس نے بہت سارے حاج کیے ہیں
10:41تو ایک حاج کرنے والا بھی لحاج ہو سکتا ہے
10:44اور متعدد حاج کرنے والا بھی حاجی ہے
10:47جس طرح ایک نماز پڑھنے والا بھی
10:49نمازی کہلا لیتا ہے
10:51اور روز نماز پڑھتا ہے وہ
10:53وہ بھی نمازی ہے
10:54تو اس کے لیے کوئی لگ سے لفظ نہیں ہے
10:57اور بعض لوگوں کا یہ خیال ہے
10:59کہ جو جمعت المبارک کے دن حاج آئے
11:01وہ حج اکبر ہوتا ہے
11:02اور باقی شاید چھوٹے حاج ہوتے ہیں
11:05تو یہ بات بھی غلط فہمی پر مشتمل ہے
11:08جمعت المبارک کے دن اگر کوئی حاج آ جائے
11:11تو ساہر جمع کی برکتیں بھی ساتھ شامل ہوگی
11:14لیکن حج اکبر
11:15یا حج اصغر کی یہ تقسیم نہیں ہے
11:17عمرے کو حج اصغر کہا گیا ہے
11:21اور
11:22جو حج ہے
11:24اس کو حج اکبر کہا گیا ہے
11:26تو ہر حج
11:28یہ حج اکبر ہی ہے
11:30اور حج اصغر
11:31العمرہ
11:32وہ عمرہ ہے
11:33تو یہ دو غلط فہمیاں ہم دور کر لیں
11:36کہ ایک تو حاجی اور حاج میں کوئی فرق نہیں ہے
11:39حاجی بھی اس میں فائل کا سیغہ ہے
11:41اور حاج بھی اسی معنی میں ہے
11:44تو اگر کسی کو یہ شوق ہو کہ میں نے زیادہ حج کی ہے
11:47تو میں الحاج کہلالوں گا
11:48تو وہ جناب ایک سے بھی لکھ سکتا ہے
11:50اس کو اگر اس لیے جانا ہے
11:52تو اتنے پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے
11:55وہ ایک حج سے بھی جو ہے وہ
11:57الحاج لکھ سکتا ہے
11:59تو یہ مقصد نہیں ہے
12:01کہ میں حاجی کہلاؤں ہوں
12:03یا الحاج کہلاؤں ہوں
12:04اگر یہ مقصد ہو گیا
12:07تو پھر یہ ساری کی ہوئی محنت
12:09ضائع چلے گا
12:10مقصد رضائے الہی کا حصول ہے
12:14اللہ تعالی جللہ شانہو یہ نصیب کرے
12:17اور یہ حج کے بنیادی
12:19مقاصد میں سے ایک مقصد ہے
12:21کہ اللہ کی رضاں کو حاصل کیا جائے
12:23فرمایا تمہارے گوشت
12:26تمہارے خون
12:27اللہ کو نہیں پہنچتے
12:28یہ جو تم قربانی عذابہ کرتے ہو
12:30نہ تو خون پہنچتا ہے
12:31نہ تمہارا گوشت اللہ کو پہنچتا ہے
12:34گوشت تم خود کھا جاتے ہیں
12:36خون نالیوں میں بہ جاتا ہے
12:37تو پھر اللہ کو کیا پہنچا
12:39نہ تمہارا خون پہنچا
12:40نہ تمہارا گوشت پہنچا
12:42نہ تمہارا پوست پہنچا
12:43فرمایا
12:44اللہ کو تمہارے دل کا
Be the first to comment