- 9 months ago
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00Pakistan's interior area where the mountains of the mountains would be
00:06and the mountains of the mountains would be a small village
00:08that would be a small village that is where they would be called
00:13the village of NourPour, but it has a jungle that was on a jungle
00:19which is the jungle of Bikram.
00:22The jungle of the mountains would have a good way to go
00:24and that it would be a natural village that would be a natural village.
00:27There was no one who had eyes, but it was a good thing in the middle of the summer, who was looking at the eyes.
00:33The people who said that the eyes of the eyes were in the shadows, that his heart was a good thing, but his heart was a good thing.
00:44But the love was a good thing because the people of the people of the world were not.
00:48The name of Zainab was the name of Zainab.
00:50Zainab کی عمر کوئی انیس برس کی ہوگی
00:53اس کی آنکھیں بادلوں کی طرح گہری تھی
00:55اور اس کی مسکان میں ایک عجیب سا جادو تھا
00:58جو ہر شخص کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا
01:01اس کے بال لمبے اور سیاہ تھے
01:03جو ہوا میں لہراتے ہوئے
01:05کسی ندی کی لہروں کی طرح نظر آتے تھے
01:07Zainab کی آواز میں ایک مٹھاس تھی
01:10جو سب کو اپنی اور آکرشت کرتی تھی
01:12مگر اس کی زندگی آسان نہ تھی
01:15اس کے والد ایک غریب کسان تھے
01:17جو کھیتوں میں دن رات محنت کرتے تھے
01:20اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا
01:22اور Zainab اپنے اببو کی اکلوتی سہارہ تھی
01:25ایک دن کی بات ہے
01:26سورج ڈوبنے کو تھا
01:28اور آسمان پر گلابی رنگ چھایا ہوا تھا
01:31Zainab اپنے اببو کے لیے کھیت سے پانی لینے گئی تھی
01:34دریا کا راستہ جنگل سے ہو کر گزرتا تھا
01:37گام والوں نے اسے منع کیا تھا
01:39کہ وہ جنگل کی طرف نہ جائے
01:41مگر اس دن دریا کا دوسرا راستہ سوپ گیا تھا
01:45مجبوری میں Zainab نے اپنے سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا
01:48ایک مٹکہ اٹھایا
01:50اور اللہ کا نام لے کر جنگل کی طرف چل پڑی
01:53اس کا دل ڈر سے کام رہا تھا
01:55مگر اس نے سوچا
01:56اببو کو پانی چاہیے
01:58میں جلدی لوٹ آؤں گے
02:00جنگل کا راستہ سنسان تھا
02:03پیڑوں کی چھاؤں میں اندھیرہ گہرا رہا تھا
02:05اور ہوا میں ایک تھنڈک تھی
02:06جو رونگٹے کھڑے کر دیتی تھی
02:08Zainab کے قدم تیز تھے
02:11مگر اس کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھی
02:13اسے ہر شاک کے پیچھے
02:15کوئی سایا نظر آ رہا تھا
02:17وہ دریہ کے کنارے پہنچی
02:19جہاں پانی کی ہلکی سی آواز آ رہی تھی
02:21اس نے مٹکے کو پانی سے بھرا
02:23اور لوٹنے کو ہوئی
02:24مگر تب ہی اسے ایک سر سراہت سنائی دی
02:27اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
02:29تو ایک بڑا سا سامپ اس کی طرف بڑھ رہا تھا
02:31اس کی آنکھیں چمک رہی تھی
02:33جیسے دو ستارے
02:41اس نے مٹکا چھوڑ دیا
02:42جو زمین پر گر کر ٹوٹ گیا
02:44وہ پیچھے ہٹی
02:45مگر اس کے پیر پتھر سے ٹکرا گئے
02:48اور وہ گر پڑے
02:49وہ ناک دھیرے دھیرے اس کے پاس آیا
02:51مگر اس کی نظروں میں غصہ نہ تھا
02:54ایک عجیب سی کشش تھی
02:55اس نے ایک انسانی آواز میں کہا
02:58اے انسانی بچی
02:59تو یہاں کیوں آئی
03:00کیا تجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں
03:03زینب کا جسم کانپ رہا تھا
03:06اس نے ہمت کر کے کہا
03:07میں
03:08میں اپنے ابو کے لئے پانی لینے آئی تھی
03:10مجھے جانے دے
03:12خدا کے باستے
03:13ناک نے ایک گہری سانس لی اور کہا
03:16خدا کا نام لیتی ہے تو
03:18میں یہاں کا رکھ والا ہوں
03:20میرا نام ہے سلطان
03:21میں انسانوں سے نفرت کرتا ہوں
03:23مگر تیری آنکھوں میں کچھ ایسا ہے
03:25جو مجھے روک رہا ہے
03:27زینب کی آنکھوں میں آنسو آگئے
03:29اس نے کہا
03:30مجھے معاف کر دو
03:32میرے ابو کا کوئی سہارا نہیں
03:34سلطان نے اسے چپ چاپ دیکھا
03:36اور پھر اس کی پونچ سے
03:37ایک عجیب سی روشنی نکلی
03:39اس نے کہا
03:40جا
03:41مگر یہ مت بھول
03:42کہ تُو نے میرے علاقے میں قدم رکھا ہے
03:44میں تجھے پھر ڈھونڈوں گا
03:45زینب اٹھی اور دوڑ پڑی
03:47اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا
03:50کہ اسے لگا
03:51کہ وہ باہر نکل آئے گا
03:52جب وہ گاؤں پہنچی
03:54تو رات ہو چکی تھی
03:55اس کے ابو نے اسے دیکھا اور کہا
03:57بیٹی
03:58تُو اتنی دیر کہاں تھی
04:00پانی کہاں ہے
04:01زینب رو پڑی اور ساری بات بتا دی
04:04اس کے ابو کا چہرہ پیلا پڑ گیا
04:06انہوں نے کہا
04:07یہ جنگلے بیکراؤں کا ناک ہے
04:09لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنوں کی اولاد ہے
04:11تُو اب وہاں کبھی مت جانا
04:13مگر زینب کی دل میں ایک عجیب سا احساس جاگ اٹھا تھا
04:17اس ناک کی نظریں
04:18اس کی آواز
04:20وہ سب اس کے جھن میں بس گیا تھا
04:22دن گزرتے گئے
04:23مگر زینب کا دل چین نہ پا سکا
04:26وہ ہر رات اس ناک کو اپنے خوابوں میں دیکھتی
04:29اس کی آنکھوں کی چمک
04:30اس کی باتیں
04:31سب کچھ اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا
04:34ایک دن جب وہ مسجد میں نماز پڑ رہی تھی
04:36اس نے دعا مانگی
04:38یا اللہ
04:39میرے دل سے اس بے چینی کو دھوک کر
04:41یہ کیا ہو رہا ہے مجھے
04:43مگر اسے جواب نہ ملا
04:45اس کی سہیلی رکیہ نے اس کی حالت دیکھی اور کہا
04:48زینب
04:49تُو پریشان کیوں ہے
04:50مجھے سچ بتا
04:51زینب نے ہچکچاتے ہوئے کہا
04:53مجھے اس ناک کی یاد آتی ہے
04:56اس کی نظروں میں کچھ تھا
04:58جو مجھے بھولنے نہیں دیتا
05:00رکیہ نے ڈڑتے ہوئے کہا
05:02یہ شیطان کا جادو ہو سکتا ہے
05:04تُو مولوی صاحب سے بات کر
05:06اگلے دن
05:07زینب گام کے مولوی صاحب کے پاس گئی
05:10مولوی صاحب کی عمر ستر کے قریب تھی
05:12اور ان کی نظروں میں ایک گہرائی تھی
05:15زینب نے ساری بات بتائی
05:17مولوی صاحب نے گہری سانس لی اور کہا
05:20بیٹی یہ کوئی عام صاحب نہیں
05:22یہاں ایک جھن ہو سکتا ہے
05:24جو انسانوں کو اپنے جادو میں بھنساتا ہے
05:27تیرے دل میں جو احساس جاگا ہے
05:29وہ اس کی طاقت کا اثر ہے
05:31مگر اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے
05:33میں تجھے ایک تاویز دیتا ہوں
05:35اسے پہن
05:36اور ہر وقت قرآن کی آیتیں پڑھ
05:38زینب نے وہ تاویز لیا
05:40اور اپنے گلے میں پہن لیا
05:42اس نے سوچا کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا
05:44مگر ایک رات
05:45جب چاند پورا تھا
05:47اور اس کی روشنی گاؤں پر پڑ رہی تھی
05:49اسے پھر وہی سرسراہت سنائی تھی
05:51وہ اپنے گھر کی چھت پر تھی
05:53جب ایک سایا اس کے سامنے آیا
05:55یہ وہی ناک تھا
05:57سلطان
05:58اس کی آنکھیں اب بھی چمک رہی تھی
06:00مگر اس کی آواز میں ایک درد تھا
06:02اس نے کہا
06:03زینب میں تجھ سے دور نہیں رہ سکا
06:06تُو نے میرے دل میں ایک آگ لگا دی ہے
06:08میں انسانوں سے نفرت کرتا تھا
06:10مگر تیری محبت نے مجھے بدل دیا
06:12زینب کا دل دھک سے رہ گیا
06:14اس نے کہا
06:15یہ محبت نہیں ہو سکتی
06:17تُو ایک جھن ہے
06:18اور میں اللہ کی بندی ہوں
06:19یہ گناہ ہے
06:20سلطان نے کہا
06:22میں جانتا ہوں مگر یہ احساس میرے بس میں نہیں
06:25میں تجھے آجات چھوڑ سکتا ہوں
06:27مگر میرے دل کو کون آجات کرے گا
06:29زینب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
06:31اس نے کہا
06:32مجھے معاف کر دو سلطان
06:34یہ راستہ بلد ہے
06:35سلطان نے ایک گہری سانس لی اور کہا
06:38ٹھیک ہے
06:39مگر یہ یاد رکھنا
06:41کہ میں تجھ سے کبھی دور نہیں جاؤں گا
06:43یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا
06:44زینب زمین پر بیٹھ گئی اور رونے لگی
06:47اس کے دل میں ایک توفان اٹھ رہا تھا
06:49اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا
06:51کہ یہ محبت تھی یا شیطان کا دھوکہ
06:53اس نے اپنے تعویز کو چھوا
06:55اور اللہ سے دعا مانگی
06:56یا اللہ
06:58مجھے اس عذاب سے نجات دے
07:00مگر اس رات اسے نیند نہ آئی
07:02سلطان کی باتیں اس کی نظریں
07:04سب کچھ اس کے دل میں یاد آ رہا تھا
07:07اسے نہیں پتا تھا
07:08کہ یہ محبت اسے کہاں لے جائے گی
07:10مگر ایک بات پکی تھی
07:11یہ راستہ آسان نہ تھا
07:14اگلے دن نورپور میں صبح کی آجان گونج رہی تھی
07:16مسجد کی مینار سے
07:18موج جن کی آواز فیضہ میں پھیل رہی تھی
07:20اور گام والے اپنے اپنے گھروں سے نکل کر
07:22نماز کی طرف پڑھ رہے تھے
07:24مگر زینب کا دل
07:25اس سکون سے کوسوں دور تھا
07:27سلطان کی باتیں
07:29اس کی چمکتی آنکھیں
07:30اور اس کی آخری سیر نے
07:32اس کے ذہن کو بے قرار کر دیا تھا
07:34وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھی تھی
07:37جب آجان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی
07:39اس نے اپنے دپٹے کو ٹھیک کیا
07:41تعویز کو چھوا
07:42اور مسجد کی طرف چل پڑی
07:44اس کا دل دعا مانگنا چاہتا تھا
07:47مگر اس کا ذہن
07:48سلطان کی یادوں میں کھویا ہوا تھا
07:50زینب نے نماز پڑھی
07:51مگر اس کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی
07:54نماز کے بعد وہ مسجد کے کونے میں بیٹھ گئی
07:57اور اپنے سر کو ہاتھوں میں تھام گیا
07:59اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا
08:01کہ یہ کیا ہو رہا تھا
08:02سلطان ایک جھن تھا
08:04ایک ایسی مخلوقہ جو انسانوں سے جدہ تھی
08:06پھر بھی
08:07اس کی باتوں میں ایک سچائی تھی
08:09ایک درد تھا
08:11جو زینب کے دل کو چھو گیا تھا
08:13اس نے سوچا
08:14یا اللہ یہ محبت ہے
08:16یا شیطان کا جال
08:17مجھے راستہ دکھا
08:18تب ہی مولوی صاحب نے اسے دیکھا
08:20اور پاس آ کر کہا
08:21بیٹی
08:22تو پریشان لگ رہی ہے
08:24کیا بات ہے
08:25زینب نے پہلے تو ہچکچایا
08:27مگر پھر اس نے ساری بات بیان کر دی
08:30سلطان کی ملاقات
08:31اس کی باتیں
08:32اور وہ رات جب اس نے محبت کا ذکر کیا
08:35مولوی صاحب نے گہری سانس لی اور کہا
08:38زینب
08:39یہ کوئی عام واقعہ نہیں
08:41وہ سلطان ایک جن ہے
08:43اور جنوں کی محبت انسانوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے
08:46تیرہ دل اس کی باتوں میں پھنس رہا ہے
08:49مگر یہ راستہ گناہ کی طرف جاتا ہے
08:51اللہ نے انسانوں کو انسانوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے
08:55تجھے اپنے دل کو قابو میں کرنا ہو
08:57زینب کی آنکھوں میں آنسو آگئے
08:59اس نے کہا
09:00مولوی صاحب
09:02میں کوشش کر رہی ہوں
09:04مگر اس کی یادیں مجھے چین نہیں لینے دیتی
09:06میں کیا کروں
09:07مولوی صاحب نے کہا
09:09بیٹی
09:10اللہ کی عبادت میں پناہ مانگ
09:12ہر وقت قرآن پڑھ
09:14اور یہ آیتِ کرما
09:15ہمیشہ زبان پر رکھ
09:17انہوں نے اسے کچھ آیتیں سکھائیں اور کہا
09:20یہ تاویز کبھی مت اتارنا
09:22یہ تیری حفاظت کرے گا
09:24زینب نے وہ آیتیں یاد کی
09:26اور گھر لوٹ آئی
09:27مگر اس کا دل اب بھی الجھا ہوا تھا
09:30دن بیٹھتے گئے
09:31مگر سلطان کی یادیں زینب کے دل سے نہ گئی
09:34وہ دن رات بے چین رہتی
09:36کبھی وہ کھیتوں میں کام کرتے ہوئے
09:39اس کی آواز سنتی
09:40کبھی رات کو اس کی آنکھیں
09:42اپنے خوابوں میں دیکھتی
09:43اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا
09:46اور اس کی مسکان گائب ہو چکی تھی
09:48اس کے اببو نے اس کی حالت دیکھی اور کہا
09:50بیٹی
09:51تو بیمار سی لگ رہی ہے
09:53کیا بات ہے
09:54زینب نے مسکرانے کی کوشش کی اور کہا
09:57کچھ نہیں اببو
09:58بس تھکان ہے
09:59مگر وہ سچ نہیں بول رہی تھی
10:02ایک شام جب زینب دریا کے کنارے کپڑے دھو رہی تھی
10:05اسے پھر وہی سرسرہ ہٹ سنائی دی
10:07اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی
10:09مگر کچھ نہ دکھا
10:11اس نے سوچا شاید یہ ہے اس کا وہم ہے
10:13مگر تب ہی پانی میں ایک سایا نظر آیا
10:16وہ سلطان تھا
10:17مگر اس بار اس کی شکل بدلی ہوئی تھی
10:19وہ ایک انسان کی طرح نظر آ رہا تھا
10:22لمبا حسین اور اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی
10:25زینب کا دل دھک سے رہ گیا
10:27اس نے کہا
10:28تو یہاں کیوں آیا
10:31میں نے تجھ سے دور رہنے کو کہا تھا
10:33سلطان نے اداس دہجے میں کہا
10:35زینب میں کوشش کر رہا ہوں
10:39مگر تیرا خیال مجھے جینے نہیں دیتا
10:41میں نے اپنے سیکڑوں سالوں کی زندگی میں
10:43کبھی ایسا احساس نہیں محسوس کیا
10:45میں جانتا ہوں کہ یہ غلط ہے
10:48مگر میرے دل کو کون سمجھائے
10:50زینب کی آنکھیں نم ہو گئی
10:52اس نے کہا
10:53سلطان یہ محبت نہیں ہو سکتی
10:56تو ایک جھن ہے
10:57اور میں انسان
10:58ہمارے راستے جدہ ہیں
11:00سلطان نے کہا
11:01میں تجھ سے کچھ نہیں مانتا
11:03بس اتنا چاہتا ہوں
11:05کہ تُو مجھے ایک بار اپنے دل سے یاد کرے
11:08زینب کا دل پکھلنے لگا
11:10اس نے کہا
11:11یہ گناہ ہے سلطان
11:12میں اللہ کی بندی ہوں
11:15مجھے ماف کر دوں
11:15مگر سلطان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
11:18اس کا جسم تھنڈا تھا
11:20مگر اس میں ایک عجیب سی گھر
11:22اس کی سانسیں تیز تھیں
11:23اور اس کا تابیز چمک رہا تھا
11:25سلطان نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی
11:28بھبس کھڑا اسے دیکھتا رہا
11:30اور اس کی آنکھوں میں ایک درد تھا
11:32جو زینب کو بھی محسوس ہوا
11:34جب وہ گھر پہنچی
11:36تو اس نے اپنے کمرے میں دروازہ بند کیا
11:38اور رونے لگی
11:39اسے لگ رہا تھا
11:41کہ وہ دو راہوں کے بیچ پھنس گئی تھی
11:43ایک طرف اس کا ایمان تھا
11:45اور دوسری طرف
11:46وہ احساس جو سلطان نے اس کے دل میں جگا دیا تھا
11:50اس نے قرآن کھولا
11:51اور آیتیں پڑنا شروع کیا
11:53اس کی آواز میں گھوراہٹ تھی
11:55مگر وہ رکی نہیں
11:56اس نے اللہ سے دعا مانگی
11:58یا اللہ
12:00میرے دل کو صحیح راستہ دکھا
12:02مجھے اس گناہ سے بچا
12:04ایسے ہی دن گزرتے گئے
12:06پھر کچھ دن بعد
12:07گاؤں میں ایک عجیب واقعہ ہوا
12:09ایک رات
12:10جب زینب سو رہی تھی
12:12اس کے کمرے میں ایک روشنی پھیل گئی
12:14اس نے آنکھیں کھولیں
12:16تو دیکھا کہ سلطان اس کے سامنے کھڑا تھا
12:18اس بار وہ پوری طرح انسان کی شکل میں تھا
12:21اس نے کہا
12:22زینب
12:23میں نے ایک فیصلہ کیا ہے
12:24میں اپنے جن ہونے کا وجود چھوڑنا چاہتا ہوں
12:27میں انسان بننا چاہتا ہوں
12:29تاکہ تجھ سے محبت کر سکوں
12:31زینب نے حیرانی سے کہا
12:33یہ کیسے ممکن ہے
12:35تو ایسا کیوں کر رہا ہے
12:36سلطان نے کہا
12:37میں نے ایک پرانے فقیر سے ملاقات کی
12:40جو جنگل کے اس پار رہتا ہے
12:42اس نے کہا
12:43کہ اگر میں سچے دل سے
12:44اللہ سے توبہ کروں
12:45اور اپنی طاقت چھوڑ دوں
12:47تو شاید مجھے انسان کی زندگی مل سکتی ہے
12:50مگر اس کے لئے
12:51مجھے ایک بڑا امتحان دینا ہوگا
12:52زینب کی آنکھیں پھیل گئیں
12:54اس نے کہا
12:55سلطان یہ خطرناک ہے
12:57تجھے اپنی زندگی داؤں پر نہیں لگانی چاہیے
13:00مگر سلطان نے کہا
13:01تیرے بنا میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں
13:04میں یہ کروں گا
13:06چاہے جو ہو
13:06زینب کا دل ٹوٹ رہا تھا
13:08اسے سلطان کی سچائی پر یقین ہو رہا تھا
13:11مگر اس کا ایمان اسے روک رہا تھا
13:14اس نے کہا
13:14مجھے وقت چاہیے سلطان
13:16مجھے سوچنے دے
13:18سلطان نے کہا
13:19ٹھیک ہے
13:20میں تجھے وقت دوں گا
13:22مگر یہ یاد رکھ
13:23کہ میری محبت سچی ہے
13:25یا کہہ کر وہ غائب ہو گیا
13:27زینب نے اپنے تابیز کو مضبوطی سے پکڑا
13:30اور رونے لگی
13:31اسے لگ رہا تھا
13:32کہ وہ ایک ایسی راہ پر کھڑی تھی
13:34جہاں ہر قدم پر خطرہ تھا
13:36اگلے دن اس نے پھر مولوی صاحب سے بات کی
13:38مولوی صاحب نے کہا
13:40بیٹی یہ شیطان کا دھوکہ ہو سکتا ہے
13:43جن اپنی باتوں سے انسانوں کو ہساتے ہیں
13:45مگر اگر وہ سچا ہے
13:47تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا
13:50تجھے اپنے ایمان پر قائم رہنا ہوگا
13:52زینب نے کہا
13:53مولوی صاحب
13:54اگر وہ سچ میں توبہ کر لے
13:56تو کیا یہ محبت جائز ہو سکتی ہے
13:59مولوی صاحب نے کہا
14:00اگر وہ انسان بن جائے اور اسلام قبول کر لے
14:04تو اللہ کی رحمت میں سب ممکن ہے
14:06مگر یہ راستہ آسان نہیں
14:08زینب کا دل اب اور علج گیا تھا
14:11اسے سلطان کی سچائی پر یقین تھا
14:13مگر اس کا ڈر اسے روک رہا تھا
14:16کیا وہ سلطان کو ایک موقع دے
14:17یا اپنے دل کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دے
14:20یہ سوال اس کے ذن میں گونج رہا تھا
14:23اور اس کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہ لے رہے تھے
14:26نورپور میں اب بھیجہ بدل چکی تھی
14:28آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے
14:31اور ہوا میں ایک عجیب سی تھنڈک تھی
14:33زینب کا دل اس توفان کی طرح علجہ ہوا تھا
14:37جو باہر اور اندر دونوں جگہ میں چل رہا تھا
14:40سلطان کی باتیں اس کے ذن میں بار بار گونج رہی تھی
14:43وہ جھن جو اپنی طاقت چھوڑ کر انسان بننا چاہتا تھا
14:48صرف زینب کی محبت کے لیے
14:50اس کی آنکھوں میں جو درد تھا
14:52وہ زینب کو بھی بیچین کر رہا تھا
14:54مگر اس کا ایمان اسے بار بار چہتاونی دے رہا تھا
14:58کہ یہ راستہ گناہ کی طرف جا سکتا ہے
15:00وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی
15:02قرآن کی آیتیں پڑ رہی تھی
15:04مگر اس کی نظریں بار بار کھڑکی کی طرف اٹھ رہی تھی
15:07جیسے سلطان کا سایہ اسے پکار رہا ہو
15:10زینب نے فیصلہ کیا
15:12کہ وہ اس الجھن کو اور برداشت نہیں کر سکتی
15:15اس نے اپنے اببو سے کہا
15:17اببو مجھے کچھ دنوں کے لیے
15:20اپنی کھالا کے گاؤں جانا ہے
15:21میرا دل بہت بے چین ہے
15:23اس کے اببو نے اس کی حالت دیکھی اور کہا
15:25ٹھیک ہے بیٹی مگر جلدی لوٹ آنا
15:28زینب نے سوچا کہ شاید کچھ دن دور رہنے سے
15:31اس کا دل چین پالے
15:33اس نے اپنا سامان باندھا
15:35تاویز کو گلے میں پہنا
15:36اور اگلی صبح ایک تانگے پر سوار ہو کر
15:39اپنی کھالا کے گام
15:41شاد آباد کی طرف نکل پڑی
15:43شاد آباد نورپور سے کچھ کوس دور تھا
15:46جہاں ہریالی اور کھیتوں کی خوبصورتی
15:49دل کو سکون دیتی تھی
15:50زینب کی کھالا ایک مہربان عورت تھی
15:53جن کی باتوں میں ہمیشہ بھلائی چھپی ہوتی تھی
15:55جب زینب وہاں پہنچی
15:57تو خالا نے اسے گلے لگایا
15:59اور کہا
16:00بیٹی تیرے چہرے کی رونک کی کیوں گائب ہے
16:03کیا بات ہے
16:04زینب نے پہلے تو ڈالنے کی کوشش کی
16:07مگر خالا کی شفقت بھری نظروں نے
16:09اسے مجبور کر دیا
16:10اس نے ساری کہانی بیان کر دی
16:12جنگل کی ملاقات
16:14سلطان کی محبت
16:15اور اس کا انسان بننے کا فیصلہ
16:17خالا نے گہری سانس لی
16:19اور کہا
16:23جنہ اور انسان کی محبت قدرت کے خلاف ہے
16:26مگر اگر وہ سچے دل سے
16:28توبہ کر رہا ہے
16:29تو اللہ اس کی مغفرت کر سکتا ہے
16:31تجھے اپنے ایمان پر قائم رہنا ہوگا
16:34زینب نے کہا
16:35خالا میرا دل اس کی سچائی پر یقدین کرنا چاہتا ہے
16:39مگر میرا ڈر مجھے روکتا ہے
16:41میں کیا کروں
16:42خالا نے کہا
16:44بیٹی اللہ سے دعا مان
16:45وہی تیرے لیے راستہ بنائے گا
16:47اس رات زینب نے خالا کے ساتھ مل کر
16:50نفل نماز پڑھی
16:51اور اپنے دل کی الجھن کو
16:53اللہ کے سامنے رکھ دیا
16:55مگر سلطان اتنی آسانی سے پیچھا چھوڑنے والا نہ تھا
16:59ایک رات جب زینب شاداباد میں
17:01اپنی خالا کے گھر کی چھت پر سو رہی تھی
17:03اسے پھر وہیں سرسرات سنائی تھی
17:05اس نے آنکھیں کھولی تو دیکھا
17:07کہ سلطان اس کے سامنے کھڑا تھا
17:09اس بار اس کی شکل میں ایک عجیب سی کمزوری تھی
17:12اس کی آنکھوں کی چمک پھیکی پڑ رہی تھی
17:15اور اس کا جسم کانپ رہا تھا
17:17زینب نے ڈرتے ہوئے کہا
17:18سلطان تو یہاں کیوں آیا
17:21میں نے تجھ سے دور رہنے کو کہا تھا
17:23سلطان نے کمزور آواز میں کہا
17:25زینب میں اس فقیر کے پاس گیا تھا
17:29اس نے مجھے توبہ کا راستہ بتایا
17:30میں نے اپنی طاقت چھوڑ دی ہے
17:32اب میں نہ جن ہوں نہ انسان
17:34میں ایک بیچ کی حالت میں ہوں
17:36یہ امتحان میرے لئے آسان نہیں
17:38مگر میں یہ سب تیرے لئے کر رہا ہوں
17:41زینب کی آنکھیں نم ہو گئیں
17:43اس نے کہا
17:44سلطان یہ کیوں
17:45تجھے اپنی زندگی داؤں پر نہیں لگانی چاہیے تھی
17:48سلطان نے کہا
17:50تیرے بینا میری زندگی کا کوئی معنی نہیں
17:52میں چاہتا ہوں کہ اگر انسان بنوں
17:54تو تجھ سے جائز محبت کر سکوں
17:57زینب کا دل ٹوٹ رہا تھا
17:59اس نے کہا
18:00یہ راستہ خطرناک ہے
18:01اگر تجھے کچھ ہو گیا
18:03تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی
18:05سلطان نے مسکرانے کی کوشش کی اور کہا
18:08اگر اللہ نے میری توبہ قبول کی
18:11تو میں تیرے سامنے ایک انسان کی شکل میں آؤں گا
18:14اگر نہیں
18:14تو میں ہمیشہ کے لئے غائب ہو جاؤں گا
18:17بس تو میرے لئے دعا کر
18:18یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا
18:20زینب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
18:23اسے سلطان کی سچائی پر پورا یقین ہو گیا تھا
18:26مگر اس کا ڈر
18:28اب بھی باقی تھا
18:29اگلے دن زینب نے خالہ کو یہ بات بتائی
18:32خالہ نے کہا
18:33بیٹی یہ اللہ کا انتحان ہے
18:36تیرے لئے بھی اور اس جن کے لئے بھی
18:38اگر اس کی توبہ سچی ہے
18:40تو اللہ اسے راہ دکھائے گا
18:43مگر تجھے اپنے دل کو قابو میں رکھنا ہوگا
18:45زینب نے کہا
18:46خالہ میں چاہتی ہوں
18:49کہ وہ کامیاب ہو
18:50مگر مجھے ڈر ہے کہ یہ سب ایک دھوکہ نہ ہو
18:53خالہ نے اسے گلے لگایا اور کہا
18:55اللہ پر بھروسہ رکھ
18:57وہی ہر دل کا حال جانتا ہے
18:59کچھ دن بعد زینب نور کو لوٹ آئی
19:01گاؤں میں سب کچھ ویسا ہی تھا
19:04مگر اس کا دل اب پہلے سے بھی زیادہ بے قرار تھا
19:07وہ ہر رات سلطان کے لئے دعا مانگتی
19:09اور ہر صبح اس کی راہ دیکھتی
19:11ایک دن جب وہ مسجد سے لوٹ رہی تھی
19:14اسے جنگل کی طرف سے ایک عجیب سی روشنی دکھی
19:17اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا
19:19اس نے اپنے تاویز کو چھوا
19:21اور جنگل کی طرف چل پڑی
19:23اسے لگا کہ شاید سلطان کا امتحان پورا ہو گیا ہو
19:26جنگل میں وہ اس جگہ پہنچی
19:29جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی
19:31وہاں ایک شخص زمین پر پڑا تھا
19:34اس کی شکل سلطان سے ملتی چلتی تھی
19:36مگر وہ اب پوری طرح انسان لگ رہا تھا
19:39اس کا جسم کمزور تھا
19:41اور اس کی سانسیں دھیمی تھی
19:42زینب نے دوڑ کر اسے اٹھایا اور کہا
19:45سلطان یہ تو ہے
19:47دجھے کیا ہوا
19:48اس شخص نے آنکھیں کھولی اور کمزور آواز میں کہا
19:52زینب
19:53میں نے توبہ کر لی
19:54اللہ نے میری سن لی
19:56میں اب انسان ہوں
19:58مگر یہ امتحان میری جان لے رہا ہے
20:00زینب کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
20:03اس نے کہا
20:04سلطان
20:05تُو نے یہ میرے لیے کیوں کیا
20:07تجھے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں تھی
20:09سلطان نے کہا
20:10تیرے بنا میری زندگی بیکار تھی
20:13میں چاہتا تھا کہ اگر مروں
20:15تو ایک انسان کی طرح مروں
20:16تیرے قریب زینب نے اسے
20:19اپنے کندے کا سہارا دیا اور گاؤں کی طرف
20:21چل پڑی
20:21اس کا دل ٹوٹ رہا تھا
20:23اسے یقین تھا کہ سلطان کی سچائی نے
20:26اسے انسان بنا دیا تھا
20:27مگر اس کی حالت دیکھ کر اسے ڈر لگ رہا تھا
20:30کہ شاید وہ اب زیادہ وقت نہ بچے
20:32جب وہ گاؤں پہنچی
20:34تو اس نے سلطان کو اپنے گھر لے جا کر
20:36چارپائی پر لٹایا
20:37اس کے اببو نے حیرانی سے پوچھا
20:39یہ کون ہے بیٹی
20:40زینب نے روتے ہوئے کہا
20:42اببو یہ وہی ہے جس نے میرے لیے
20:46اپنی زندگی داؤں پر لگائی
20:47یہ اب انسان ہے
20:48اس کے اببو نے مولوی صاحب کو بلایا
20:51مولوی صاحب نے سلطان کو دیکھا اور کہا
20:53یہ چمتکار ہے
20:55اگر اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے
20:58تو اللہ نے اسے قبول کر لیا
21:00مگر اس کی حالت ٹھیک نہیں
21:01ہمیں دعا کرنی ہوگی
21:03اس رات گاؤں میں ایک خاص دعا کا انتظام ہوا
21:06زینب سلطان کے پاس بیٹھی تھی
21:08اس کا ہاتھ تھامے ہوئے
21:10اس کی آنکھوں سے بار بار آنسو آ رہے تھے
21:12سلطان نے دھیمی آواز میں کہا
21:14زینب اگر میں نہ بچوں
21:17تو مجھے ماف کر دینا
21:18میں نے تجھ سے سچی محبت کی تھی
21:21زینب نے روتے ہوئے کہا
21:22سلطان
21:23تو مجھ سے وعدہ کر کی تو بچے گا
21:26میں تجھے کھونا نہیں چاہتی
21:27مگر سلطان کی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہو رہی تھی
21:30اور اس کی سانسیں کمزور پڑ رہی تھی
21:33زینب کا دل ٹوٹ گیا
21:35اسے لگ رہا تھا کہ اس کی محبت ابھی شروع ہوئی تھی
21:38اور ختم ہونے کی کگار پڑ تھی
21:40کیا سلطان بچ پائے گا
21:42یا یہ محبت ادھوری رہ جائے گی
21:44یہ سوال اس کے ذہن میں گونج رہا تھا
21:47اور اس کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہ لے رہے تھے
21:50سلطان چارپائی پر لیٹا تھا
21:52اس کی سانسیں دھیمی تھی
21:53اور اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا
21:56اس کی آنکھیں اب بھی زینب کو ڈھونڈ رہی تھی
21:58جیسے وہ اپنی آخری سانس تک اسے دیکھنا چاہتا ہو
22:02گاؤں والے مسجد میں جمع تھے
22:04سلطان کی سلامتی کے لیے دعا مانگ رہے تھے
22:07مولوی صاحب قرآن کی آیتیں پڑ رہے تھے
22:09اور ان کی آواز میں ایک عجیب سی طاقت تھی
22:12جو فضا کو تھامے ہوئے تھی
22:14مگر زینب کا دل ٹوٹ رہا تھا
22:16اسے لگ رہا تھا کہ وہ سلطان کو کھونے والی تھی
22:19اور یہ خیال اسے اندر سے توڑ رہا تھا
22:22زینب سلطان کے پاس بیٹھی تھی
22:24اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے
22:26اس کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہ دے رہے تھے
22:30اس نے سلطان سے کہا
22:31سلطان تو مجھ سے وعدہ کر کی تو بچے گا
22:34میں نے تجھے ابھی ابھی پایا ہے
22:36تجھے کھونا نہیں چاہتی
22:38سلطان نے کمزور مسکان کے ساتھ کہا
22:40زینب میں نے اپنی زندگی تیرے لیے دعاو پر لگائی
22:45اگر اللہ نے میری توبہ قبول کی
22:47تو میں بچ جاؤں گا
22:49اگر نہیں تو میری محبت تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی
22:52یہ سن کر زینب کی سسکیاں تیز ہو گئی
22:55اس نے کہا
22:56یہ محبت ادھوری نہیں رہ سکتی سلطان
22:59تو نے میرے لیے سب کچھ چھوڑ دیا
23:01مولوی صاحب دعا ختم کر کے زینب کے گھر آئے
23:04انہوں نے سلطان کو دیکھا اور کہا
23:06بیٹی یہ اللہ کا امتحان ہے
23:09اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے
23:11اور اپنی طاقت چھوڑ کر انسان بننے کی راہ چنی ہے
23:14اب سب اللہ کے ہاتھ میں ہے
23:17زینب نے روتے ہوئے کہا
23:19مولوی صاحب کیا کوئی راستہ نہیں
23:21میں اسے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی
23:23مولوی صاحب نے کہا
23:25دعا کر بیٹی
23:26اللہ کی رحمت سے بڑھ کر کچھ نہیں
23:28پھر انہوں نے سلطان کے سر پر ہاتھ رکھا
23:31اور کچھ آیتیں پڑھی
23:32سلطان کی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہو گئی
23:36اور اس کی سانسیں اور دھیمی ہو گئی
23:38زینب نے چیخ مار کر کہا
23:40نہیں سلطان
23:41مجھے چھوڑ کر مجھا
23:43اس کے ابو نے اسے گلے لگایا
23:45مگر اس کا درد کم نہ ہوا
23:47تب ہی کمرے میں ایک ہلکی سی روشنی پھیل گئی
23:50سب نے حیرانی سے چاروں طرف دیکھا
23:52وہ روشنی سلطان کے جسم سے نکل رہی تھی
23:55مولوی صاحب نے کہا
23:57یہ اللہ کی نشانی ہے
23:59شاید اس کی توبہ قبول ہو گئی
24:01مگر سلطان کی سانسیں
24:03اب بھی کمزور تھی
24:04زینب نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا
24:07اور کہا
24:08یا اللہ
24:09اگر تُو نے اس کی توبہ سنی ہے
24:11تو اسے زندگی دے
24:12میں اسے کھونا نہیں چاہتی
24:14کچھ پل بعد سلطان کی امیلی آنگ ہلی
24:17اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے کھلی
24:19اور اس نے زینب کو دیکھا
24:21اس کی آواز کمزور تھی
24:23مگر اس میں ایک سکون تھا
24:25اس نے کہا
24:25زینب میں بچ گیا
24:28اللہ نے میری سن دی
24:29زینب کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے
24:32اس نے کہا
24:33سلطان تُو سچ میں بچ گیا
24:35یہ خباب تو نہیں
24:37سلطان نے کہا
24:38نہیں یہ حقیقت ہے
24:40میں اب انسان ہوں
24:41اور تیرے قریب ہوں
24:43مولوی صاحب نے کہا
24:44یہ اللہ کی رحمت کا چمتکار ہے
24:47اس نے اپنی محبت کو جائز بنانے کے لیے
24:49سب کچھ قربان کر دیا
24:50سلطان کی حالت دھیرے دھیرے بہتر ہونے لگی
24:53گام والوں نے اسے ایک نئی زندگی کا نام دیا
24:57اس نے مولوی صاحب سے اسلام قبول کیا
24:59اور اپنا نام سلطان سے بدل کر سلیم رکھ لیا
25:02اس نے کہا
25:03میں اب سلطان نہیں
25:05سلیم
25:06ایک انسان
25:07جو اللہ کا بندہ ہے
25:09زینب کی آنکھیں نم تھی
25:11مگر اب یہ آنسو دکھ کے نہیں
25:13بلکہ خوشی اور سکون کے تھے
25:15اس نے سلیم سے کہا
25:17تو نے میرے لیے اپنی دنیا چھوڑ دی
25:19میں تیری اس محبت کو کبھی نہیں بھولوں گی
25:22کچھ مہینے بعد
25:23سلیم پوری طرح ٹھیک ہو گیا
25:24اس نے گاؤں میں ایک چھوٹا سا گھر بنایا
25:27اور کھیتوں میں کام شروع کیا
25:29زینب کے ابو نے اسے اپنی بیٹی کے لیے قابول کر لیا
25:32گاؤں والوں نے بھی سلیم کو اپنایا
25:34کیونکہ اس کی کہانی اب سب کی زبان پر تھی
25:37ایک دن مولوی صاحب نے زینب اور سلیم کا نکاح پڑھایا
25:41مسجد میں سادگی سے یہ رسم ہوئی
25:44مگر ہر شخص کی آنکھیں نم تھی
25:46زینب نے سلیم کو دیکھا اور کہا
25:49یہ محبت اللہ کی رحمت سے پوری ہوئی
25:52میں نے کبھی نہیں سوچا تھا
25:54کہ ہمارا ملن ممکن ہوگا
25:56سلیم نے کہا
25:57یہ تیرے ایمان اور میری توبہ کی جیت ہے
26:00کچھ سال بعد زینب اور سلیم کا ایک بیٹا ہوا
26:03جس کا نام انہوں نے نور رکھا
26:06نور کی آنکھوں میں وہی چمک تھی
26:08جو کبھی سلطان کی آنکھوں میں ہوا کرتی تھی
26:11گاؤں والے کہتے تھے
26:13کہ یہ سلیم کی پرانی زندگی کی نشانی ہے
26:15جو اب نور کی شکل میں ان کے ساتھ ہے
26:18زینب اور سلیم نے اپنی زندگی
26:21اللہ کی عبادت اور ایک دوسرے کی محبت میں گزارے
26:24مگر ہر بار جب زینب جنگلے بیکراؤں کی طرف دیکھتی
26:27اسے وہ پہلی ملاقات یاد آتی
26:29وہ نارد اس کی آنکھیں
26:31اور وہ محبت جو ناممکن سے ممکن بن گئی
26:34ایک رات جب چاند پورا تھا
26:37اور اس کی روشنی نور پر پڑ رہی تھی
26:39زینب اور سلیم اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے
26:42نور ان کی گود میں سو رہا تھا
26:44زینب نے سلیم سے کہا
26:45سلیم کیا تجھے کبھی اپنی پرانی زندگی کی یاد آتی ہے
26:49سلیم نے مسکرہ کر کہا
26:51زینب وہ زندگی ایک سایہ تھی
26:54تو نے مجھے اصلی زندگی دی
26:56اگر میں جن بن کر سیکڑوں سال جیتا
26:58تو کیا
26:59تیرے ساتھ یہ چند سال اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں
27:02زینب کی آنکھیں نم ہو گئی
27:05اس نے کہا
27:05یہ محبت میرے لیے اللہ کا تحفہ ہے
27:08تب ہی ہوا میں ایک ہلکی سی سرسراہت ہوئی
27:11زینب اور سلیم نے ایک دوسرے کو دیکھا
27:13انہیں لگا کہ شاید یہ جنگل کی کوئی پرانی یاد تھی
27:17جو انہیں پکار رہی تھی
27:18مگر اب وہ خوف نہیں
27:20بلکہ ایک سکون تھا
27:22زینب نے سلیم کا ہاتھ تھاما اور کہا
27:24یا اللہ تیری رحمت کا شکریہ
27:27تُو نے ہماری محبت کو جائز بنایا
27:30سلیم نے کہا
27:31اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کے لیے چنا
27:34یہ اس کی مہربانی ہے
27:35اس رات جب وہ سونے گئے
27:38زینب کو ایک خواب آیا
27:39اس نے دیکھا کہ ایک نوری شخص
27:41ان کے گھر کے پاس کھڑا تھا
27:44اس کی شکل صاف نہ تھی
27:45مگر اس کی آواز میں ایک ٹھہراب تھا
27:47اس نے کہا
27:48زینب سلیم
27:50تم نے اللہ کی راہ چنی
27:52تمہاری محبت اب ہمیشہ کے لیے مکمل ہو گئی
27:55زینب کی آنکھیں کھلی
27:57اور اس نے سلیم کو دیکھا
27:59جو اس کے پاس سو رہا تھا
28:01اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے
28:02یہ آنسو اب درد کے نہیں
28:04بلکہ خوشی
28:06محبت
28:07اور اللہ کی رحمت کے تھے
28:08نورپر میں یہ کہانی سالوں تک یاد رکھی گئی
28:11لوگ کہتے تھے کہ یہ محبت کا
28:14وہ واقعہ تھا
28:15جو شیطان کے سائے سے شروع ہوا
28:17اور خدا کے نور پر ختم ہوا
28:19زینب اور سلیم کی محبت ایک مثال بن گئی
28:23ایک ایسی محبت جو ناممکن تھی
28:25مگر اللہ کی رحمت نے اسے مکمل کر دیا
28:28تو دوستو
28:29یہ کہانی آپ کو کیسی لگی
28:31کمنٹ باکس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا
28:35ایسی ہی دلچسپ کہانی سننے کے لیے
28:37ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کریے گا
28:39شکریہ