Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
A wolf take revenge of his childrens.

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں جہاں بلندوں بالا درخت آسمان سے باتے کرتے تھے
00:05اور ہر طرف خموشی چھائی رہتی تھی ایک جنگل آباد تھا
00:09اس جنگل میں کئی جانور رہتے تھے مگر سب سے زیادہ خوفناک مخلوق تھی
00:14سیاہ کوہستانی بیڑیا جسے مقامی زبان میں ڈاک ولف کہا جاتا تھا
00:20ڈاک ولف کا نام تھا غوران وہ طاقتور ذہین اور اپنی نسل کا سردار تھا
00:27اس کا قبیلہ پہاڑوں کے درمیان ایک غار میں رہتا تھا
00:30غوران کی زندگی اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ خوشی سے گزر رہی تھی
00:34لیکن ایک دن انسانوں کا ایک شکاری گروہ اس علاقے میں آیا
00:39ان کا مقصد صرف شکار نہیں بلکہ قیمتی کھالیں جمع کرنا تھا
00:44غوران کے قبیلے پر حملہ ہوا اس کی بیوی اور تینوں بچوں کو بے درتی سے مار دیا گیا
00:50غوران جب غار میں واپس آیا اور خون میں لطپت لاشے دیکھی
00:59تو وہ داڑے مار مار کر رویا
01:01اس کی آنکھوں میں صرف ایک بات تھی انتقام
01:06غوران نے اپنے قبیلے کے باقی افراد کو دوسرے پہاڑ پر بیج دیا
01:11تاکہ وہ محفوظ رہ سکے
01:13اب اس کا ایک ہی مقصد تھا
01:16ان انسانوں کو ڈھونڈا جنہوں نے اس کا سب کچھ چھیل لیا تھا
01:20وہ رات کو نکلتا انسانی بستیوں کا مشاہدہ کرتا
01:25قدموں کے نشان سنگتا اور بلاخر اس سے ان شکاریوں کا سراک مل گیا
01:30یہ شکاری پانچ تھے
01:32شکار خان گروہ کا سردار
01:35نواب زادہ آصف
01:37دولت کے نشے میں چور
01:39بلو خان ہنرمند نشان آباز
01:43کالا جمیل خاموش قاتل
01:46اور ڈاکٹر کمر
01:47جو مردہ جانوروں سے تجربات کرتا تھا
01:51یہ سب ایک پرانی حویلی میں مقیم تھے
01:53جو جنگل سے ملہکہ تھی
01:55غوران نے چھپ کر کئی دن ان کا مشاہدہ کیا
01:58ان کے معمولات کمزوریاں اور راستے یاد کر لیے
02:02اب وقت تھا ایک ایک کر کے انہیں ختم کرنے کا
02:05ایک رات جب جنگل میں دون چھائی ہوئی تھی
02:09غوران نے حملے کا آغاز کیا
02:11سب سے پہلا شکار ہوا بلو خان
02:13جو جنگل کے کنارے شکار کرنے گیا تھا
02:16غوران نے جھاڑیوں میں چھپ کر اس کا پیچھا کیا
02:19اور جب وہ تنہا ہوا
02:20ایک ہی جس میں اس پر حملہ کر دیا
02:23اس کی چیخے سننے والا کوئی نہ تھا
02:26اگلی صبح باقی شکاریوں نے اس کی لاش دیکھی تو خوف زدہ ہو گئے
02:33انہیں سمجھ نہ آیا کہ یہ کام انسان کا ہے یا درندے کا
02:36مگر غوران کی آنکھوں میں ابھی چار چہرے باقی تھے
02:41بلو خان کی پور سرار موت نے باقی چاروں شکاریوں کو ہلا کر رکھ دیا
02:46شکار خان جو اس گروہ کا سردار تھا جانتا تھا کہ جنگل معمولی جگہ نہیں
02:51اس نے فوراں اپنی بندوق بردار محافظ بڑھا دیے
02:55حویلی کے اردگرد طور سے جلا دی گئی اور دن رات پہرہ شروع ہو گیا
03:00نواب عاصف جو سب سے زیادہ بلزل تھا کہنے لگا
03:04مجھے لگتا ہے یہ کوئی جن یا بوت ہے
03:07ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیے
03:08مگر شکار خان نے اسے جاڑ دیا
03:11درپوک مت پنو یہ کسی درندے کا کام ہے
03:16ہوں گا جیسے سیکھنوں گا کیا ہے
03:18لیکن وہ ران کے ارادے شکاریوں سے زیادہ پکتا تھے
03:22اب کی بار اس کا نشانہ تھا کالا جمیل
03:26کالے جمیل کو لوگ خاموش قاتل کہتے تھے
03:29کیونکہ وہ بغیر آواز کیے شکار کو ختم کرتا تھا
03:33مگر اسے کیا خبر تھی کہ وہ خود شکار بڑھنے والا ہے
03:37ایک رات جب وہ جنگل کے کنارے ایک جال بچھا رہا تھا
03:40وہ ران نے اسے دور سے دیکھا اس بار اس نے فوراں حملہ نہیں کیا
03:45بلکہ پہلے اس کے اردگرد گیرا تنگ کیا
03:48جب کالا جمیل کو کسی کے موجودگی کا احساس ہوا
03:51وہ پیچھے آن پڑا اور اسی لمحے غران اس پر جپٹا
03:56ایک خوفناک جنگ چھڑی جمیل کی چھوڑی غران کے پہلوں میں لگی
04:02مگر وہ وار غران کے جنون کو نہ روک سکا
04:05لمحوں میں سب ختم ہو گیا
04:07اب حویلی میں تین شکاری رہ گئے تھے
04:13ڈاکٹر کمر ایک عجیب شخصیت کا مالک تھا
04:16وہ جانوروں پر تجربے کرتا اور ان کی خالے دانت اور ہڈیاں جمع کرتا
04:20اس کا دعویٰ تھا کہ وہ درندوں کی نفسیات سمجھتا ہے
04:24جب اسے خبر ملی کہ جمیل بھی مارا گیا ہے
04:27تو وہ غران کو قابو میں لانے کے خواب دیکھنے لگا
04:30وہ چاہتا تھا کہ غران کو زندہ پکٹ کر اس پر تجربات کرے
04:34اسی رات وہ خود جنگل میں نکلا اپنے ساتھ نیند آور ہتھیار لے کر
04:39مگر غران نے بھی اسے دیکھ لیا تھا
04:42وہ جانتا تھا کہ یہ انسان دوسروں سے زیادہ خطرناک ہے
04:45غران نے جاڑیوں میں چھپ کر اس پر حملہ نہیں کیا
04:49بلکہ ایک بیڑیے کی مخصوص آواز نکالی
04:56جس سے جنگل گونج اٹھا
04:58ڈاکٹر کمر چونکا جیسے ہی وہ پیچھے مڑا
05:01غران نے جپٹ کر اس پر حملہ کر دیا
05:03اس کی دوا کی شیشیاں زمین پر گری
05:06اور ایک زوردار چھیکنجی
05:08اب صرف دو شکاری باقی بچے تھے
05:11نواب آصف پاغلوں کی طرح ہو گیا تھا
05:14اسے دن رات غران کے خواب آتے
05:16وہ نہ سو سکتا تھا نہ سکون سے جی سکتا تھا
05:19اس نے کئی بار شہر جانے کی کوشش کی
05:22مگر بارش کیچڑ اور ہوف نے اس کے قدم روک دیئے
05:26ایک رات وہ بندوق لے کر حویلی کی چھت پر کھڑا تھا
05:29اسے لگا کہ وہ خود کو محفوظ رکھے گا
05:32مگر غران نے اسے نیچے سے دیکھا
05:35راستہ چنا اور پیچھے سے چھت پر چڑ گیا
05:38نواب آصف نے جب غران کی سرخ آنکے دیکھی
05:41تو بندوق چلانے کی کوشش کی
05:43مگر خوف سے ہاتھ کامتے لگے
05:45غران نے اس پر حملہ کیا
05:47اور چند ہی لمحوں میں وہ بھی اپنے انجام کو پہنچا
05:50اب صرف ایک رہ گیا تھا شکار خان
05:56شکار خان نے اپنے سب ساتھیوں کو کھو دیا تھا
05:59مگر وہ ڈڑنے والا نہیں تھا
06:02وہ فوجی تھا شکاری تھا بہادر تھا
06:05اس نے خود کو ایک بڑے کمرے میں بند کر لیا
06:07کئی بندوقیں بارود جال اور پھندے لگائے
06:12غران جانتا تھا کہ یہ سب سے مشکل دشمن ہے
06:19مگر وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا
06:21وہ چپچاپ حویلی میں داقل ہوا
06:23دیواروں سے ہوتا ہوا آگے بڑھا
06:25آخر کار دونوں آمنے سامنے آگئے
06:28ایک جانب انسان کی طاقت، ہتھیار، تربیت
06:32دوسری جانب ایک باپ کا انتقام، درندے کی جبلت اور زخموں سے بریدوں
06:37ایک طویل اور خونی جنگ ہوئی، غران زخمی ہوا
06:41مگر شکار خان بھی گولیوں کے باوجود کمزور پڑھنے لگا
06:44آخر کار غران نے اس کے گلے پر وار کیا
06:47اور وہ شکار جو پوری زندگی شکاری رہا اب شکار بن چکا تھا
06:57جب صبح ہوئی تو جنگل پر خموشی چھا گئی
07:00غران خون میں لطپت مگر سار اٹھائے واپس
07:03اپنی پہاڑی گار کی طرف لوٹا
07:05وہ جانتا تھا کہ اب اس کا خاندان واپس نہیں آ سکتا
07:09مگر اس کا انتقام مکمل ہو چکا تھا
07:12وہ چکچاپ غار کے باہر بیٹھ گیا
07:14آسمان کی طرف دیکھا اور ایک لمبی غراہت نکالی
07:22وہ غراہت نہ صرف جنگل کے جانروں نے سنی بلکہ انسانوں نے بھی
07:26اور یہ اعلان تھا جب فطرت پر ظلم ہوگا تو فطرت خاموش نہیں رہے گی
07:32pantalla
07:39موسیقی