00:00Now,
00:30ڈیو پری کیسے ملے گی اس کے باپ نے بولا آپ چادر پینا کر نیچے ناران لے گیا جب ناران میں پہنچتا دوسری سے ہیلیوں نے جا کے دیو سفید کو بتایا دیو سفید جتا پری کاش ہے کہ مزاد مالکتہ کے پری ہم سے جدا ہو گئی ہے پتہ نہیں ہے جیل کے اندر ڈوب کے مر گی یا کسی چیز نے کھالی باہر کی بات نہیں بتائی کہ شہزادہ لے گیا دیو نے آ کر غصے کے ساتھ اپنی ایڈی لگا کر یہاں سے سارے جیل کو توڑ دیا خارج کر دیا
00:58کہ شاید میری پری کا پتہ چلے تو پہلے یہ آگے سے سارا بند ہی بند تھا بہت بڑا اقتلاب جیل تھا اور چھوٹی گروڑی کے پیچھے جو گیب جا رہا ہے وہاں سے پانی کا رستہ جاتا تھا یہ اوپر تاقتلاب تھا دیو نے یہاں سے توڑ دیا
01:11توفان گیا ناران کے پاس تو پری اور شہزادہ دونوں نے دعا منگی کہ اللہ میں بچہ توفان آ گیا
01:18اللہ کی قدرت سے ایک سرون بن گیا دائیں سیڑ سے بھی توفان گزر گیا اور بائیں سیڑ سے بھی پری اور شہزادہ دونوں بچ گیا
01:26سرونگ اب بھی موجود ہے ناران میں سیفر ملوک اٹل سے پانچ منٹ کا رستہ ہی جا کے دیکھ سکتے ہیں
01:31اور دیو نے غصے کے ساتھ یہاں سے ایک اور چھلانگ لگائی
01:35تو دواسعی میں لگا دیو کا سانس چلا گیا پری کے صدمے سے
01:39پری کو لے کے شہزادہ شہر مصر کو چلا گیا شہزادہ کا سیف نام تھا
01:44ملوک ملاقات سے کہتے ہیں یہاں پر پری اور شہزادہ کی ملاقات ہوئی ہے
01:48اس لیے اس جیل کا نام مشہور کی تے سیفر ملوک جیل اور اس کی داستان بنی ہے
01:53پھر لوگ آنے شروع ہوئے ان اس وقت انسان کی عبادی یہاں پہ نہیں تھی
01:57کو کافے پریستان تھا پریوں کا دیس تھا اور آپ اس وقت ساڑھے دس ہزار کی ہائیٹ پہ بیٹھے ہیں
02:03ستہ ایسے مندر سے وہ سامن ملکہ پربت برف والی جو آخری چھوٹی ہے
02:07اس کی سترہ انظرائیٹ ہے لیکن آج دن تک اس پاڑی کو کسی انسار نہیں کر پایا
02:12اس کے اندر سونے کا گھر بنا اور پریوں کا بسے میں کوئی جا نہیں سکتا ہے
02:16جو بندہ جاتا ہے پرییں گرا دیتی ہیں
02:18نانٹی ایٹ کا واقع ہے راشد بٹ لور کا ایک بندہ تھا
02:22وہ کہتا تھا کہ میں نے اس پاڑ کو سر کرنا ہے
02:25لوگوں نے اس کو منع بھی کیا تھا لیکن وہ چلا گیا
02:28جاتے ہوئے رستے میں گر کے مر گیا تھا
02:30تیرہ دن بعد اس کی ڈیٹھ باڑی ملی ہے مقامی لوگوں کو
02:33انہوں نے اٹھا کے نیچے بیجے
02:35چانڑی رات ہوتی ہے چانڑ کی جب چود میرات ہو
02:38تو پرییں یہاں پہ بھی اترتی ہیں ابھی بھی
02:40لیکن ان لوگوں کو نظر آتی ہیں کہ جو جلگزار لوگ ہوتے ہیں
02:44یہ عبادت کرنے والا بندہ ہر بندہ پر یہ نہیں دیکھ سکتے
02:47یہ ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ان پہاڑوں کے نظارے ہوتے ہیں
02:49اور آئی دن تک جلگی کی رائی کا اندازہ بھی کسے نے نہیں لے سکیا
02:53ایک انگریز آیا تھا اس نے پانچ من رسیل آئی تھی
02:56اس وقت گاڑییں نہیں چلتی تھی خچروں پہ
02:58آگے دس کلو کا لوہ بن کے اس کے درمیان